Karachi Nights

آرٹیکل 149 کا نفاذ اور اُس کے سیاسی مضمرات

معروف یونانی فلسفی پلیٹو کسی تعارف کا محتاج نہیں، اِ س کی شخصی تعریف کے لیئے تو بس اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ وہ سقراط کا شاگرد اور ارسطو کا اُستاد تھا۔ پلیٹو کو کم سے کم الفاظ میں بڑے بڑے مسائل کی وضاحت کرنے میں خاص ملکہ حاصل تھا،اُس کی مختصر مگر حکمت آمیز باتوں کی آج تک دنیا معترف چلی آرہی ہے۔اِسی مشہور فلسفی پلیٹونے ایک بار کہا تھا کہ ”قانون تشکیل دینے والا طبقہ جب قوانین کی تشکیل دے رہا ہوتا ہے تو کائنا ت کا مالک اُن سے کوئی نہ کوئی ایسی غلطی ضرور کروادیتا ہے کہ جس سے قانون بنانے والوں کا اپنا مفاد کمزور ہونا شروع ہوجاتاہے“۔ شاید ایسا ہی کچھ اٹھارویں ترمیم لانے والوں کے ساتھ بھی ہوچکاہے۔اپنی دانست میں تو اٹھارویں ترمیم کرکے صوبائی خود مختاری کے دعوے داروں نے آئین پاکستان میں ایک نہیں بلکہ 180 ایسے چھوٹے چھوٹے روزن بنادیئے تھے۔جن میں سے آہستہ آہستہ وفاق کی ساری طاقت رَس رَس کر صوبائی حکومتوں کو منتقل ہونا شروع ہوگئی تھی۔ جبکہ یہ عظیم الشان آئینی کارنامہ انجام دینے کے بعد صوبائی خودمختاری کے علمبرداروں نے اپنے تئیں یہ بھی سوچ لیا تھا کہ بہت ہی جلد وفاق ِ پاکستان، اٹھارویں ترمیم کی بدولت صوبائی حکومتوں کے درِ دولت پر سجدہ ریز ہونے پر مجبور ہوجائے گا۔مگر شاید کاتبِ تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا اور آئین پاکستان سے 180 ترمیموں کو چُن چُن کر نکالنے والے ایک اہم ترین آرٹیکل 149 کو نکالنا بھول گئے اور آج یہ ہی واحد آرٹیکل 149 خبر دے رہا ہے کہ اگر وفاقِ پاکستان چاہے تو اٹھارویں ترمیم کی دست برد سے بچ رہ جانے والے اِس چھوٹے سے آرٹیکل کی مدد سے صوبوں کو تفویض کئے گئے اپنے سارے اختیارات واپس سے کشید کرسکتاہے۔

فی الحال صرف آرٹیکل 149 کے نفاذ کی تجویز وفاقی وزیر برائے قانون جناب فروغ نسیم کی طرف سے سامنے آئی ہے اور وفاقی حکومت کی طرف سرکاری طور پر آرٹیکل 149پرکوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔لیکن وفاقی وزیرِ قانون کی جانب سے تجویز کے سامنے آنے کے بعد سندھ حکومت اور پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے آرٹیکل 149 کے سندھ میں نفاذ کے حوالے سے زبردست بحث و مباحثہ کا آغاز ہوگیا ہے اور پی پی پی کے بعض رہنماؤں نے تو فروغ نسیم سے مستعفی ہونے کامطالبہ بھی کردیا ہے۔دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت نے آرٹیکل 149 کے نفاذ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یعنی سندھ کی شہری و دیہی سیاسی قیادت آرٹیکل 149 کے معاملہ پر مکمل طور پر تقسیم نظر آتی ہے۔اِس کا صاف مطلب یہ ہی لیا جاسکتا ہے کہ سندھ کے حالیہ سیاسی منظر نامہ میں آرٹیکل 149 کے فوری نفاذ کا فیصلہ کرنا اِتنا آسان کام نہیں ہے،جتنا کہ فروغ نسیم سمجھ بیٹھے تھے۔اِس وقت آرٹیکل 149 کے معاملہ پر سندھ کا سیاسی محاذ آتش فشاں کی طرح اُبلنے کو ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ آرٹیکل وفاق کو صرف صوبے کو ہدایات دینے کا اختیار دیتا ہے،جس کے بعد اِن ہدایات پر عمل کرنا یا نہ کرنا مکمل طور پر صوبوں کی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔جبکہ چند لوگوں کی رائے میں یہ آرٹیکل وفاق کو صوبوں کے اختیارات میں مداخلت کا بھی مکمل اختیار فراہم کرتا ہے۔ ویسے سندھ حکومت کا جارحانہ ردعمل دیکھتے ہوئے زیادہ قرین قیاس بھی موخرالذکر رائے ہی لگتی ہے کیونکہ اگر آرٹیکل 149 واقعی ایک بے ضرر سا آرٹیکل ہوتا تو پھر شاید پاکستان پیپلزپارٹی فقط تجویز کے سامنے آنے کے بعد اس قدر شدید ردعمل کا مظاہر ہ نہ کرتی کہ جناب بلاول بھٹو زرداری کو اِس آرٹیکل کے نفاذ کے معاملہ کو سندھو دیش کے تعصبانہ نعرے کے ساتھ نتھی کرنا پڑتا۔



دلچسپ بات یہ ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 149 کا جلی عنوان ہی ”بعض صورتوں میں صوبوں کے لیے ہدایات ” درج کیا گیاہے۔جس میں چار ذیلی شقیں شامل کی گئی ہیں۔جس کی پہلی شق یہ ہے کہ ہر صوبہ اپنے اختیارات اس طرح سے استعمال کرنے کا پابند ہوگا کہ وہ وفاق کے عاملانہ اختیار میں حائل نہ ہو سکے یا اسے نقصان نہ پہنچاسکے اور وفاق ااپنے انتظامی اختیار کو کسی صوبے کو ہراُس جگہ ہدایات دینے کے لیئے استعمال کرسکتا ہے،جہاں بھی وفاقی حکومت ضروری سمجھتی ہو۔دوسری شق میں درج ہے کہ وفاق اپنا انتظامی اختیار کسی صوبے کو، اس صوبے میں کسی ایسے وفاقی قانون پر عمل درآمد کرانے کی ہدایت دینے کے لیئے بھی نافذ کرسکتاہے جس کا تعلق مشترکہ قانون سازی کے کسی بھی معاملہ سے ہو۔آرٹیکل 149 کی تیسری ذیلی شق کے مطابق وفاق اپنے اختیار ات کسی صوبے میں ذرائع مواصلات کی تعمیر و ترقی اور نگہداشت کے لیے بھی استعمال میں لاسکتاہے۔اِس آرٹیکل کی چوتھی شق میں وفاقِ پاکستان کو یہ بھی اختیار تفویض کردیا گیا ہے کہ کسی صوبہ میں امن و امان یا اقتصادی معاملہ میں درپیش کسی سنگین خطرے کے انسداد اور روک تھام کے لیئے بھی وفاق کی طرف سے مداخلت کی جاسکتی ہے۔ یعنی پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 149 کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی صوبائی حکومت کو محض ”انتظامی ہدایات“ جاری کرنے کاہی قانونی حق حاصل نہیں ہے بلکہ اگر وفاقی حکومت چاہے تو صوبہ میں اَمن و اَمان،مخدوش معاشی صورتحال یا اِس جیسی کوئی اور غیرمعمولی ہنگامی حالت پیش آنے کا جواز پیش کر کے صوبائی حکومت کے اختیارات میں جب چاہے براہ ِ راست مداخلت کرسکتی ہے۔

پاکستان لیگل ڈائجسٹ 1998 کے مطابق سپریم کورٹ کے کیس نمبر 388 میں جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت میں آرٹیکل 149 کی تشریح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ”آئین کی یہ شق مخصوص حالات میں صوبے اور وفاق کے درمیان بنیادی رشتے کا تعین کرتی ہے اور کسی بھی انتظامی معاملے پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے وفاق کو صوبے کو انتظامی ہدایات جاری کرنے کا مکمل حق فراہم کرتی ہے۔ جبکہ اس آرٹیکل کا مقصد کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر پر عمل در آمد یقینی بنانا بھی ہے تاکہ وفاق اور صوبے کے مابین پیدا ہونے والی کسی بھی آئینی کشمکش جیسی بحرانی صورتحال کا بروقت سدِ باب کیا جاسکے“۔ اِس عدالتی فیصلہ سے ہمیں یہ سمجھنے میں بھی مددملتی ہے کہ آرٹیکل 149 گو کہ وفاقی حکومت کو گورنر راج جتنے اختیارات تو فراہم نہیں کرتا،لیکن یہ آرٹیکل گورنر راج کی تہمت اپنے سر لیئے بغیر ہی وفاقی حکومت کو وہ خصوصی اختیار ضرور دے دیتا ہے کہ جس کا سہارا لے کر وفاقی حکومت کچھ مخصوص سیاسی و انتظامی حالات میں کسی صوبائی حکومت کے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے صوبہ میں کام کرنے والے انتظامی ادارروں کو براہ راست احکامات جاری کرسکتی ہے۔

خیال رہے کہ اِس وقت جبکہ سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے سندھ کارڈ کھیلنے کی کوئی راہ بھی تلاش کی جارہی ہو۔ ایسے مخدوش سیاسی حالات میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے لیئے سندھ میں آرٹیکل 149 کے نفاذ کا فیصلہ ایک کڑا امتحان ہوگا۔ اِس تناظر میں ہمارا مخلصانہ مشورہ تو یہ ہی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو سندھ میں آرٹیکل 149 کے نفاذ سے قبل صوبہ میں ایک بار اپنے تمام اتحادیوں سے مشاورت ضرور کرنی چاہیئے،کیونکہ سندھ میں تحریک انصاف کی حکومت اپنے اتحادیوں خاص طور پر جی ڈی اے کی مدد و تعاون کے بغیر آرٹیکل 149 کا نفاذ کامیابی کے ساتھ کسی صورت نہیں کر پائے گی۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 19 ستمبر 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں