Indian Army Chief

بھارتی آرمی چیف کی کنواری دھمکیاں

ایک باربھارتی آرمی چیف جنرل بی پین راوت کو اطلاع ملی کہ لوگ اسے پیٹھ پیچھے فضول فضول قسم کے ناموں سے یاد کرتے ہیں،جنرل بی پین راوت نے نے تحقیق کرنے کی غرض سے ایک جوان کو بلایا اور اس سے دریافت کیا کہ لوگ اسے،اُن کی غیر موجودگی میں کیا کہتے ہیں؟ جوان نے جواب دیا:”کنوارا“جنرل بی پین راوت یہ سُن کر بہت خوش ہوا اور بولا: ”کنوارا“کہنا تو کوئی اتنی بُری بات نہیں ہے۔میں تو جانے کیا سمجھے ہوئے تھا“۔جوان نے جنرل بی پین راوت کو وضاحت کرتے ہوئے بتایا: ”سر! وہ آپ کو ”کنوارا“اِن معنوں میں کہتے ہیں کہ آپ ہر معاملے میں بالکل کورے ہیں“۔یہ واقعہ بھارت کے مایہ ناز مصنف اور محقق خوشونت سنگھ نے اپنی ایک کتاب میں درج کیا ہے،جس کے راوی اُن کے ایک دوست جو جنرل بی پین راوت کے بھی قریبی رفیقِ کار رہے ہیں۔ خوش قسمتی سے یہ وہ ہی جنرل بی پین راوت ہیں جو آج کل بھارتی افواج کے سپہ سالار یعنی چیف آف آرمی اسٹاف ہیں۔جب بی پین راوت کے ”کورا“ ہونے میں جب اُن کے اپنے ساتھیوں کو کوئی شک نہیں ہے تو ہمیں کیسے ہوسکتاہے بلکہ ہمیں تو پختہ یقین ہے کہ جنرل بی پین راوت کو ”کورا“ ہونے کی واحد خصوصیت کی بنا پر ہی بھارتی فوج کا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا گیا ہے کیو نکہ حسنِ اتفاق سے انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی بھی ایک سرٹیفائیڈ کنوارے یعنی بالکل ”کورے“ شخص ہیں اور یہ صرف ہم ہی نہیں کہتے بلکہ اس کی تصدیق دنیا ئے انٹرنیٹ کے سب سے مقبول سرچ انجن کی طرف سے بھی بارہا کی جاتی رہی ہے اگر آپ کو یقین نہ آتا ہو تو آپ ابھی گوگل سرچ انجن پر جاکر صرف اتنا تحریر کردیں Most Stupid Prime Minster in the World اور آپ کی اسکرین پر نریندر مودی کا بیوقوفانہ چہرہ نمو دارجائے گا۔ ویسے گوگل کے مطابق دنیا کے واحد قاتل مجرم وزیراعظم بھی یہ ہی موصوف ہیں۔اب ایسا کنوارا یعنی ”کورا“ شخص اپنے جیسے ہی کسی بالکل کورے کو اپنی ملک کی فوج کا سپہ سالار مقرر نہ کرے تو اور کیا کرے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ عام طور پر دنیا بھر کے صرف سربراہِ مملکت،وزیراعظم یا وزراء ہی کرپشن کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں لیکن بھارت واقعی ایک عجیب و غریب ملک ہے جہاں وزیراعظم نریندر مودی اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل بی پین راوت دونوں ہی بیک وقت کرپشن کے ایک نئے اسکینڈل میں پھنس گئے ہیں یعنی بھارت کی صرف حکومت ہی نہیں بلکہ ریاست بھی بدعنوان ہے۔ کرپشن کے اس میگا اسکینڈل کی تصدیق فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولاند نے کر کے تو مودی کے سیاسی تابوت میں آخری کیل بھی ٹھوک دی ہے۔فرانس کے صدر کا ا پنے ایک اعترافی بیان میں کہنا ہے کہ”ہندوستان نے 2016 ء میں 11کھرب روپے مالیت کے 36 رافیل جنگی لڑاکا طیارے کی خریداری کیلئے بزنس مین انیل امبانی کی دیوالیہ کمپنی کو پارٹنربنانے کی نہ صرف تجویز دی تھی بلکہ اس شرط کے قبول کیئے بغیر خریداری سے مکمل معذوری ظاہر کردی تھی جس کے باعث فرانسیسی حکومت کے لیئے کوئی اور راستہ نہ بچا تھا کہ وہ بھارتی وزیراعظم کی کرپشن پر خاموشی اختیار کرلے۔ صرف یہ ہی نہیں اس معاہدے میں فرانسیسی کمپنی کی جانب سے بھارتی کمپنی کے ساتھ مل کر بھارت میں طیارے کے پرزے بنانے کا کارخانہ لگانے کی شق بھی زبردستی شامل کروائی گئی تھی،جبکہ ان لڑاکا طیاروں کی قیمت اصل سے کئی گنا زیادہ ادا کی گئی تھی تاکہ بھارتی وزیراعظم کو منہ مانگا کمیشن دیا جاسکے، جس کے بعد ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا،پس ہمیں یہ دباؤ قبول کرنا پڑا“۔ سابق فرانسیسی صدر کے انکشافات کے بعد ہندوستانی سیاست میں زبردست ہلچل پیداہوگئی ہے۔اپوزیشن رہنما اور کانگریس کے صدر راہول گاندھی بھی مودی سرکار پر برس پڑے ہیں۔ راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ”انیل امبانی کی کمپنی 45ہزار کروڑ روپے کے قرض میں ڈوبی ہوئی تھی اوراس کی مدد کیلئے ہی نریندر مودی نے رافیل طیاروں کے معاہدے کا سہارا لیا جبکہ عشروں سے اس کام کا تجربہ رکھنے والی،بھارتی سرکاری کمپنی ’ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ‘ کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے معروف بھارتی بزنس مین انیل امبانی کی کمپنی ’ریلائینس ڈیفنس‘ کو یہ ٹھیکہ صرف اس لیئے دیا گیا کہ تاکہ بھاری کمیشن کمایا جاسکے“۔ رافیل طیاروں کے معاہدے پر بھارت میں تہلکہ مچا ہوا ہے۔اس وقت ”میرا وزیر اعظم چور ہے“ اور ”ہمارا آرمی چیف چور ہے“ جیسے نعرے بھارت میں سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن چکے ہیں،بھارتی شہریوں نے بازؤوں پر میرا وزیراعظم چور ہے لکھ کر تصویریں سوشل میڈیا پر شائع کرنا شروع کردیں ہیں۔بھارت کی عوام کی طرف سے مودی، امبانی اور جنرل بی پین راوت کے گٹھ جوڑ کو بھارتی فوج پر سرجیکل اسٹرائیک قرار دیا جارہا ہے۔معاملہ سے واقف بھارت کے اپنے ذرائع کا کہنا ہے کہ مودی سرکار رافیل طیاروں کے سودے کی ہڈی کو اتنی آسانی سے نہ تو نگل سکے گی اور نہ ہی اگل سکے گی۔سارے اسکینڈل کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں بھارتی آرمی چیف جنرل بی پین راوت کے ملوث ہونے نے بھارتی فوج کامورال بُری طرح سے تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ بھارتی آرمی چیف اپنے اُوپر کرپشن کے لگنے والے الزامات کے جوابات دینے کے بجائے پاکستان سے جنگ کرنے کے بلند و بانگ دعوے کر رہے ہیں،اب اس ”کنوارے“ یعنی بالکل کورے آرمی چیف کو کون سمجھائے کہ جس فوج کا سپہ سالار ہی گھٹنوں گھٹنوں تک کرپشن کی دلدل میں دھنسا ہوا ہو، وہ فوج جنگ شروع تو کرسکتی ہے،جیت نہیں سکتی کیونکہ جنگیں جیتنے کے لیئے عسکری طاقت کے علاوہ اخلاقی قوت بھی چاہیے ہوتی ہے، جو کم ازکم آج کے دن تک تو نہ بھارتی وزیراعظم کے پاس ہے اور نہ ہی بھارتی آرمی چیف کے پاس۔ان سب کے باوجود بھی اگر بھارتی قیادت کے دل میں اپنی فوج ”جنگ کے شعلوں“ میں جھونکنے کا شوق سمایا ہوا ہے تو،سو بسم اللہ! بلاشبہ پاکستانی فوج بھارت کو ہرقسم کی جنگ کا بھرپور جواب دینے کے لیئے پوری طرح تیار ملے گی۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 11 اکتوبر 2018 کے شمارے میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں