Job For Good Sleeper

ملازمت ہو تو ایسی ہو

آپ نے یہ جملہ تو اکثرو بیشتر ضرور سُنا ہی ہوگا کہ ”نوکر کی تے نخرہ کی“پنجابی زبان کے اِس محاورہ کا سلیس اُردو میں ترجمہ یہ بنتا ہے کہ ”جب نوکری ہی کرنی ہے تو بھر نخرے کیاکرنے“ یعنی نوکری کرنے والے نخرے نہیں کیا کرتے۔لیکن ضروری نہیں ہے کہ دنیا بھر میں ہر شخص ملازمت کے بارے میں یہ ہی رائے رکھتا ہوکیونکہ ہماری اِس عجیب و غریب دنیا میں حسنِ اتفاق سے کئی ایک ایسی ملازمتیں بھی پائی جاتی ہیں جن میں ملازم کے کام پر نظر رکھنے کے بجائے اُلٹا ملازمین کے”ناز نخرے“ نہ صرف پورے اہتمام کے ساتھ اُٹھائے جاتے ہیں بلکہ اُن کے”نخروں“ کے عوض ملازمین کو اچھی خاصی تنخواہ کے ساتھ ساتھ دیگر پُرکشش مراعات کی بھی ادائیگی کی جاتی ہے۔ایسی ہی چند ناز،نخروں سے بھرپور ملازمتوں کا چنیدہ اور منتخب احوال پیشِ خدمت ہے۔

ناخنوں پر نیل پالش لگائیں،ماہانہ لاکھوں کی تنخواہ پائیں
نت نئے فیشن کی شائق خواتین کے لیئے اِس سے اچھی ملازمت ہوہی نہیں سکتی بالکل اِس زبان زدِعام محاورہ کے مصداق کہ”ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ چوکھا آئے“۔سچی بات ہے کہ اگر صرف اپنے ناخنوں پر نیل پالش لگانے کے بدلے سالانہ 35 ہزار برطانوی پاؤنڈ (تقریباً63 لاکھ26 ہزار پاکستانی روپے) کی ملازمت مل رہی ہو تو کون سی ایسی خاتون ہے جو اِس ملازمت کو کرنا نہ چاہے گی۔ Nailbox نامی کمپنی جوناخن پالش بنانے والی دنیا کی ایک مایہ ناز کمپنی ہے، نے جون 2015 میں اِس انوکھی ملازمت کی پیشکش ایک اشتہار کی صورت میں کی تھی۔ملازمت کا اشتہار کچھ یوں تھا کہ ”Nailbox“کمپنی نیل پالش ڈلیوری کا کام کرتی ہے اور اسے نیل پالش ٹیسٹ کرنے کے لئے ایک مستقل ملازم کی ضرورت ہے۔ اگر آپ اپنی موجودہ ملازمت سے بیزار ہیں یا اپنے ناخنوں کو نیل پالش سے سجانے کے ساتھ ساتھ مفت ملنے والے یگر تحائف بھی لینا چاہیں گے تو 35 ہزار پاؤنڈ کی ملازمت آپکی منتظر ہے۔ ملازمت کی درخواست میں 100 یا اس سے کم الفاظ میں یہ وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ آخر آپ ہی اس دلکش ملازمت کے لئے بہترین انتخاب کیوں ہیں۔ منتخب امیدوار کو ہر ماہ 50 عدد نیل پالشز اور دیگر میک اپ کا سامان اس کے گھر پر پہنچایا جائے گا جسے استعمال کر کے اس کی رپورٹ تیار کرنا ہو گی۔ ملازمت قبول کرنے والے کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ نیل پالش کی ٹیسٹنگ کے دوران کوئی گھریلو کام کاج خصوصاً برتن یا کپڑے دھونے اور گھر کی صاف ستھرائی جیسے کام نہ کرے تا کہ نیل پالش کو ان کاموں سے کوئی نقصان نہ پہنچے“۔کمپنی کی طرف سے ملازمت کا اشتہار سامنے آتے ہی آسان نوکری کے متلاشی دیوانے ہو گئے تھے اور کمپنی کو دیکھتے ہی دیکھے65 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوگئیں۔ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر نکولس وٹمور نے امیدواروں کے جوش و خروش کے بارے میں بات کرتے ہوئے کمپنی کے آفیشل ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ”اگرچہ انہیں پہلے ہی سے معلوم تھا کی یہ پیشکش عوام میں کافی مقبول ہو گی کیونکہ اس میں اچھی تنخواہ کے ساتھ مفت نیل پالش اور ڈھیروں دیگر تحائف کی پیشکش بھی کی جا رہی ہے لیکن بہرحال انہیں یہ اندازہ بالکل بھی نہیں تھا کہ اس قدر زیادہ درخواستیں آئیں گی“۔حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اس ملازمت کے حصول کے لئے کمپنی کو یونان، برازیل، امریکا اور افریقی اور ایشیائی ممالک سے بھی درخواستیں موصول ہو ئیں تھیں، باوجود اِس کے کہ کمپنی اپنے اشتہار میں صاف صاف واضح کرچکی تھی کہ درخواست گذاروں کا برطانیہ میں مقیم ہونا ضروری ہے۔



کھائیں،پئیں عیش کریں اور کیا۔۔۔!
عموماًدفاتر میں ملازمین کے لیئے لنچ بریک کے علاوہ کھانا،پینا ایک معیوب کام سمجھا جاتاہے لیکن اِس کے باجود ہر دفتر میں ایک دو ملازم ایسے ضرور موجود ہوتے ہیں جو ہمہ وقت دفتر میں کچھ نہ کچھ تناول فرماتے ہی رہتے ہیں۔اپنی اِس عادت کی بنا پر انہیں سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے مگر یہ کسی بات کی پروا نہیں کرتے کیونکہ اِن کا ماننا ہوتا ہے کہ وہ کھائے پیئے بغیر کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کرسکتے۔ایسے ہی پیٹو حضرات کی دلچسپی کے لیئے ہم بتائے دیتے ہیں کہ دنیا بھر میں وقتاً فوقتاً ایسی ملازمتیں بھی مشتہر ہوتی رہتی ہیں جو آپ سے ماہانہ تنخواہ کے عوض صرف کھانے پینے کی توقع ہی رکھتی ہیں۔ایسی ہی ایک امریکی کمپنی رونلڈ ریپ بھی ہے جو ہر سال باقاعدگی کے ساتھ ایک بہت ہی دلچسپ ملازمت کا اعلان کرتی ہے۔اِس ملازمت میں کامیاب ہونے والے ملازم کو کرنا بس یہ ہوتا ہے کہ پورے ملک میں سفر کر کے باربی کیو کھانا یا چکھنا ہوتا ہے۔ اِس کام کے عوض بطور تنخواہ 13 لاکھ روپے پاکستانی دیئے جاتے ہیں۔ معروف امریکی جریدے یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق امریکہ کی مشہور کمپنی رونلڈ ریپ نے اِس منفرد ملازمت کے لیئے کچھ عرصہ پہلے جو شتہار دیا تھا،وہ کچھ یوں تھا کہ”رونلڈ ریپ کمپنی کو چیف گِرلِنگ آفیسر (سی جی او) کی فوری ضرورت ہے۔ کمپنی کا اِس افسر کو پورے امریکہ میں گھوم کر مشہور ریستورانوں کے باربی کیو کو کھانا یاچکھنا ہوگا اور ان کے بارے میں اپنی رائے دیناہوگی۔ ملازمت کا دورانیہ صرف دو ہفتے پر محیط ہوگا، جس میں کھانے اور سفر کے تمام اخراجات کمپنی برداشت کرے گی اور تنخواہ کے طور پر دس ہزار ڈالر بھی ادا کیئے جائیں گے۔ اس طرح سی جی او کا بنیادی ذمہ داری صرف شہر شہر گھومنا پھرنا اور کھاناپینا ہوگا۔ اس ملازمت کے حصول کیلئے امیدواروں پر لازم ہے کہ وہ 100 الفاظ میں خود کو اس ملازمت کا اہل ترین فرد ثابت کریں اور ساتھ ہی بہترین بار بی کیو کی تصویریں اور طریقے بھی فراہم کریں“۔

جی بھر کے ”سونے“ کی نوکری
صبح سویرے ملازمت پر جانے کے لیئے گہری نیند سے بیدارہونا کس قدر مشکل ہوتاہے،یہ بات کسی بھی ملازمت پیشہ خاتون یا مرد کو سمجھانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ روز صبح اُٹھتے ہوئے اِن سب ہی کے دل میں ایک بار تو یہ خیال ضرور مچلتا ہی ہوگا کہ”کاش تھوڑی سی دیر،نیند اورکرلیتے۔۔۔“لیکن چند خوش قسمت ملازمتیں ایسی بھی ہیں جن میں بنیادی کام ہی جی بھر کے سونا ہوتاہے۔بظاہر سننے میں تو یہ بات کافی عجیب سی لگتی ہے لیکن ہے بالکل سچ۔دنیا کے معروف خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا(NASA) کو ہر سال کچھ ایسے اشخاص کی بطور ملازم تلاش ہوتی ہے جو مسلسل 70گھنٹے سو سکتے ہوں۔ناسا کے اعلان کے مطابق اپنی اِس ملازمت کے دورانِ مسلسل 70 گھنٹے سونے پر 12 ہزار ڈالر بطور معاوضہ دیئے جاتے ہیں۔یہ ملازمت ناسا کے تحقیقاتی مشن کا ایک اہم ترین حصہ خیال کی جاتی ہے۔ جس کی مدد سے ناسا کے ماہرین بستر پر آرام کرنے کے دوران اپنے ملازم کو ایک مصنوعی ماحول فراہم کر کے اُس کے جسم میں وزن کی کمی سمیت دیگر تبدیلیوں کا خصوصی مطالعہ کرتے ہیں۔اگر آپ بھی ناسا میں اِس ملازمت کو انجام دے کر واقعی بارہ ہزار ڈالر حاصل کرنا چایتے ہیں تو اچھی طرح ذہن نشین رکھیئے گا کہ آپ کو ہر کام بستر پر لیٹے لیٹے ہوئے ہی کرنا پڑے گا۔اس مطالعاتی ملازمت میں شامل ہونے کے لیے آپ کو بستر پر لیٹے ہوئے ایک ہی پوزیشن میں کھانا پینا یہاں تک کہ نہانا بھی پڑے گا۔اس ملازمت کا مقصد صرف اور صرف انسانی جسم کا مطالعہ کرنا ہے اور اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔آپ کی اِس ملازمت کے نتیجے میں حاصل کی گئی معلومات سے خلائی مشن کے دوران خلائی مسافروں کو بطور خاص مدد ملے گی جنہیں خلائی زمین پر سونے کے لیئے زمین جیسا سازگار ماحول اور نرم و گدازبستر نہیں ملتا۔لہذا اگر آپ 12ہزار ڈالر کمانا چاہتے ہیں تو اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھائیں۔اچھی بات یہ ہے کہ اِس ملازمت کے لیئے دنیا کے کسی بھی ملک کی شہریت رکھنے والا شخص ناسا کی آفیشل ویب سائیٹ پر اِس ملازمت کے مشتہر ہونے کے بعد باآسانی درخواست دے سکتاہے۔ناسا کے علاوہ ہارورڈ میڈیکل اسکول بھی تحقیق کے لیئے تواتر کے ساتھ گھنٹوں ”سونے“ والی ملازمتوں کی پیشکش کرتا ہے۔رواں برس کی ملازمتوں کے لیئے آن لائن درخواستوں کی حتمی تاریخ اور دیگر شرائط کے لیئے مندرجہ ذیل مختصر لنک سے آفیشل ویب سائیٹ ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ http://bit.ly/2I47rpo

قطار میں کھڑے ہونے کی ملازمت
ویسے تو قطار میں کھڑا ہونا کسی کو بھی پسند نہیں لیکن اگر یہ کہا جائے کہ آپ کو قطار میں کھڑے ہونے کے عوض معقول ماہانہ تنخواہ ملے گی تو کیا آپ پھر بھی قطار میں کھڑے ہونے سے انکار کریں گے؟ اُمید ہے کہ اکثر کا جواب نفی میں ہی ہوگا کیونکہ کون بے وقوف ہے جو صرف قطار میں کھڑا ہونے کی ملازمت کر کے اپنی تنخواہ کھری نہ کرے۔اٹلی اور یوکرین دنیا کے وہ ممالک ہیں جہاں پر لوگوں کو قطار میں کھڑا ہونے کے لیئے باقاعدہ ملازمتیں فراہم کی جاتی ہیں کیونکہ اِ ن دونوں ممالک میں سرکاری بیوروکریسی کی طرف سے دفتری و انتظامی اُمور کو انتہائی سست رفتاری سے نمٹایا جاتاہے۔عام شکایت ہے کہ یوکرائن اور اٹلی میں سرکاری دفاتر کا عملہ اپنے کام کا متعین وقت پورا نہیں کرتا۔ اس لئے بیوروکریٹس کے پاس جانا لوگوں کے لئے ایک عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ اگر یوکرائن میں کسی کو اپنی گاڑی رجسٹر کروانی ہو، تو اسے پندرہ دستاویزات پر مختلف دفاتر سے مہریں لگوانا پڑتی ہیں۔جس کی وجہ سے یہاں کے اکثر سرکاری مقامات پر طویل قطاریں دکھائی دینا ایک عام سی بات ہے۔ایک سروے کے مطابق صرف اٹلی میں اطالوی شہری سالانہ 400 سے زائد گھنٹے فقط قطاروں کی نذر کردیتے ہیں۔جو مجموعی طورپر 44 بلین روپے کے معاشی نقصان کے برابر ہے۔یہی وہ وجہ ہے کہ یہاں لوگ اپنا قیمتی وقت بچانے کے لیئے قطاروں میں کھڑے ہونے کے لیئے باقاعدہ ملازم رکھتے ہیں جن کا کام ہی قطاروں میں کھڑے ہوکر مختلف قسم کے بلزاور ٹیکسز جمع کرانا ہوتا ہے۔اس ملازمت کو اطالوی زبان میں ”کوڈیسٹا“ کہتے ہیں۔ جس کا انگریزی میں متبادل لفظ Queuer یا Queuingہے۔Queuing یا دوسروں کے لئے قطار میں کھڑے رہنے کا طریقہء کار بہت آسان ہے۔ مثال کے طور پر چار یا پانچ ڈالر کے عوض ایک شخص کسی کے لئے قطار میں لگتا ہے، پھر جب اس پیشہ ور Queuer کی باری قریب آتی ہے تو وہ اس فرد کو بلا کر اسے اُس کی باری سونپ دیتا ہے۔یوکرائن میں تو ملازمتیں فراہم کرنے والی کئی مستند کمپنیاں بھی لوگوں کو قطار میں کھڑے ہوکر انتظار کرنے کی کوفت سے بچانے کے لئے پیشہ ورانہ Queuers یعنی قطار میں کھڑے ہونے والے افراد کی خدمات فراہم کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ دنیا کے مشہور ترین شہر نیویارک میں بھی متمول افراد میوزک کنسرٹ ٹکٹس،گاڑی کی رجسٹریشن اور بچت بازاروں سے مختلف چیزوں کے حصول کے لیئے قطاروں میں کھڑے ہونے کے لیئے لوگوں کو پرکشش قسم کی ملازمتیں آفر کرتے ہیں۔نیویارک میں اِس طرح کے ملازموں کو Line-Sitters کے نام سے پکارا جاتاہے۔

پسندیدہ پروگرام دیکھیں اور مَن چاہی تنخواہ پائیں
”ناؤ ٹی وی“(NowTv) برطانیہ،آئرلینڈ اور اٹلی میں کیبل نشریات فراہم کرنے والی ایک مشہور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ہے۔جس نے حال ہی میں ایک دلچسپ ملازمت کے لیئے آن لائن اشتہار جاری کیا ہے۔ جس کے مطابق اس ملازمت کے لیئے کامیاب اُمیدوار کو اپنے گھر پر ایک سال کے لیئے ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھ کر صرف مختلف نشر ہونے والے پروگراموں کو دیکھنا ہوگا۔ جس کے بدلے میں 35 ہزار برطانوی پاؤنڈز کی خطیر رقم جس کی پاکستانی کرنسی میں کُل مالیت تقریباً 63 لاکھ26 ہزار روپے بنتی ہے، جس کی ادائیگی 5 لاکھ 27 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کے حساب سے ایک سال میں کی جائے گی۔ناؤ ٹی وی کی انتظامیہ کی طرف سے شرط ہے کہ اس ملازمت کے لیئے باقاعدہ درخواست دینے سے قبل اپنی ایک عدد تصویر یا ویڈیو کمپنی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ضرور پوسٹ کی جائے اور ساتھ ہی بھی بتایاجائے کہ آپ اِس ملازمت کے لیئے خود کو اہل کیوں سمجھتے ہیں۔اس سے پہلے کہ آپ اِس ملازمت کو حاصل کرنے کے لیئے اپنا ذہن بنائیں آپ کو خبردار کرتے چلیں کہ یہ پیشکش صرف برطانیہ میں مقیم افراد کے لیئے ہے،اگر آپ کو کوئی عزیز برطانیہ میں مقیم ہے تو اُسے ضرور اِس ملازمت کی بابت بتایا جاسکتاہے۔ملازمت کی دیگر تفصیل کے لیئے اس مختصر لنک پر وزٹ کریں۔ http://bit.ly/2HX4RRX

اِک ملازمت تنہا تنہا سی۔۔۔!
اکثر قارئین یہ تو جانتے ہی ہوں گے ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ کو اُن کے مقدس پیشہ کی مناسبت سے ہرجگہ خصوصی عزت و احترام حاصل ہوتاہے لیکن امریکہ کی کئی ریاستوں میں درس و تدریس کے پیشے سے منسلک افرد کو سرکاری سطح پر ایک ایسی سہولت بھی حاصل ہے،شاید جس کی مثال مشکل ہی سے دنیا کے کسی اور ملک میں مل سکے۔امریکہ کی کئی ریاستوں میں اساتذہ کو دورانِ تدریس کسی کوتاہی یا غفلت کا مرتکب ہونے کے باوجود بھی اُنہیں فوری طور پر اُن کی ملازمتوں سے بے دخل نہیں کیا جاتا بلکہ اُنہیں اپنی غلطی سدھارنے یا کسی انتظامی واخلاقی کمی کو پورا کرنے کے لئے اُنہیں مختلف ”ربر رومز“ (Rubber Rooms)میں بھیج دیا جاتاہے۔”ربر رومز“ کو آپ سادہ لفظوں میں ایسے اصلاحی کمرے کہہ سکتے ہیں جن میں بھیجے جانے والے اساتذہ کے لیئے کرنے کے لیئے تو کسی بھی قسم کا کوئی خاص کام نہیں ہوتا لیکن سوچنے کے لیئے بہت ساری تنہائی ضرور میسر ہوتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ”ربر رومز“ میں بھیجے جانے والے اساتذہ کی نہ صرف تنخواہ یا مراعات میں ذرہ برابر بھی کمی بیشی نہیں کی جاتی بلکہ اُن کی محکمہ جاتی ترقی کا سفر بھی بدستور جاری رہتا ہے۔ عام طور پر ایک اُستاد کو کئی سال بھی ”ربر رومز“ میں گزارنے پڑ سکتے ہیں۔قانون کے مطابق”ربر رومز“ سے اخراج کا حتمی حکمنامہ اُس وقت تک جاری نہیں ہوسکتا جب تک کہ یہاں آنے والا اُستاد اپنی اُس خامی یا کمی کو پوری طرح سے درست نہیں کرلیتا جس کے باعث اُسے یہاں بھیجا گیا ہے۔”ربر رومز“ میں سالہا سال گزارنے والے اساتذہ بھی اس لحاظ سے مطمئن ہی پائے گئے ہیں کہ وہ ”ربر رومز“ میں چاہے جیسی بھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں لیکن اُن کی ماہانہ تنخواہ اور دیگر سہولیات بدستور اُنہیں دستیاب رہتی ہیں۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ ایکسپریس کے سنڈے میگزین میں 03 نومبر 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں