Israel Palestine Disputed And Gaza Under The Attack

مسئلہ فلسطین، حقائق اور مغالطے

اگر آپ کا جانی دشمن کبھی سرراہ مل جائے لیکن اُس کی پشت پر ہتھیار بند، دو درجن کے قریب حمایتی بھی کھڑے ہوں جبکہ آپ تن تنہا اور بالکل نہتے ہوں،تو کیا آپ پھر بھی اپنے جانی دشمن کو خود سے دو بہ دو مقابلہ کرنے کے لیئے للکاریں گے؟۔ غالب امکان یہ ہی ہے کہ آپ کی نفرت و نخوت اپنے دشمن کے خلاف بھلے ہی آخری درجے پر کیوں نہ ہو، لیکن اپنی بے سروسامانی اور مقابل کی وسیع تر افرادی قوت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے، آپ اپنے جانی دشمن کے ساتھ معرکہ آرائی کے جذبہ کو اُس دن تک دبا کر رکھیں گے کہ جب تک آپ کی قوت اور مقابل کی طاقت کا عددی تفاوت برابر نہ ہوجائے۔یادرہے کہ آپ کا یہ طرز عمل حکمت وتدبیر کی کسی بھی لغت میں بزدلی نہیں بلکہ دوراندیشی کہلائے گا۔کیونکہ بے وقوف سا بے وقوف شخص بھی یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ کسی تن تنہا اور نہتے شخص کا، کسی ہتھیار بند جتھے کو لڑائی کے لیئے للکارنا سراسر خودکشی اور اپنے دشمن کے عزائم پورا کرنے کے مترادف ہے۔ اس چھوٹی سے مثال کا اطلاق فلسطین کی حالیہ صورت حال پر بھی کیا جاسکتاہے۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: اسرائیل کی آبادی، حجاز مقدس کی بربادی

واضح رہے کہ فلسطین میں اسرائیلی استبداد کے ہاتھوں گزشتہ چند ہفتوں سے فلسطینیوں پر بہیمانہ ظلم و ستم کا ایک ناختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے، جس نے صرف اہلِ مسلم ہی نہیں بلکہ ہر دردِ دل رکھنے والے انسان کو مضطرب اور مستقل بے چینی میں مبتلا کررکھاہے۔ دنیا بھر میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف مسلمان اقوام سراپا احتجاج ہیں لیکن اسرائیل کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔مسلمانوں کی بے بسی کا ایسا منظر آسمان کائنات نے کم کم ہی ملاحظہ کیاہے کہ جب دنیا کے کسی خطے میں مسلمانوں کا ناحق خون پانی کی طرح بہہ رہا ہو مگر مسلمان اُن کی عسکری امداد تو ایک طرف مالی و طبی امداد بھی نہ کرسکتے ہوں۔ایسے میں اگر مسلم ممالک میں رہنے والے عوام اپنے حکمرانوں سے فلسطینیوں کو اسرائیلی افواج کے پنجہ استبداد سے بچانے کے لیئے اسرائیل پر حملے کا مطالبہ کریں تو اُن کی یہ مانگ اور خواہش اُن کے اذہان اور قلوب میں پنپنے والے جذبات کی بالکل درست ترجمانی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اگر ترکی،ایران اور پاکستان میں سے کسی بھی ایک ملک کا حکمران واقعی اسرائیل پر اپنی پوری عسکری صلاحیت کے ساتھ حملہ آور ہوجائے تو اس کے نتیجے میں کیا فلسطینیوں کی آزاد فلسطینی ریاست کا خواب پورا ہوجائے گا؟۔ یہ وہ سوال ہے جس کا حتمی جواب اسرائیل پر حملے سے قبل تلاش کرنا ہوگا ناکہ بعد میں۔

عوام کے ایک حلقے کے ذہن میں یہ رائے پوری طرح راسخ ہوچکی ہے یا چند عاقبت نااندیش رہنماؤں کی جانب سے کردی گئی ہے کہ اسرائیل چند لاکھ نفوس پر مشتمل ایک چھوٹا سا ملک ہے،جسے کسی بھی مسلمان ملک کی فوج چند گھنٹوں کی فضائی اور زمینی کارروائی کے بعد باآسانی فتح کر کے فلسطینیوں کی جھولی میں ڈال سکتی ہے۔ یہ وہ مغالطہ ہے جو سننے میں تو ہمارے کانوں کو بھی بہت بھلالگتا ہے،لیکن جب اس نقطہ نظر کو عقل کی کسوٹی پر،پرکھیں تو منکشف ہوتا ہے کہ اس رائے جیسا بودا سیاسی عقیدہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ بلاشبہ اسرائیل 90 لاکھ آبادی والا ایک مختصر سے رقبہ پر قابض دنیا کا ایک چھوٹا سا ملک ہی ہے، جس میں یہودیوں کی تعداد 74 فیصد ہے۔لیکن اسرائیل کی اصل عسکری طاقت اور قوت اسرائیلی افواج یا مقبوضہ سرزمین نہیں ہے،بلکہ اُن کی اصل قوت دنیا کے وہ 97 طاقت ور ترین ممالک ہیں، جو اسرائیل کو اپنا بغل بچہ سمجھتے ہیں۔اسرائیل کے پشت پناہ، اِن ممالک میں امریکا،برطانیہ، آسٹریلیا،جاپان اور یورپ کے تمام قابل ذکر ممالک سرفہرست ہیں۔ جن کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نقطہ اسرائیل پر حملہ کرنے والے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانا کے علاوہ کچھ نہیں۔

یعنی پاکستان کو تو آپ تھوڑی دیر کے لیئے ایک طرف ہی رکھ دیں لیکن اگر ترکی کے صدر طیب اردوان اور ایران کے صدر حسن روحانی میں سے بھی کوئی ایک مسلم رہنما اپنی دینی حمیت کے تحفظ اور فلسطینی سرزمین سے یہودیوں کو بے دخل کرنے کے جذبہ سے مغلوب ہوکر اسرائیل پر لشکر کشی کردے تو اگلے چند ہی گھنٹوں میں دنیا کے 97 طاقت ور ترین ممالک اُس ملک پر بھیڑیوں کی طرح چاروں طرف سے حملہ آور ہوجائیں گے۔ جس کا آخری نتیجہ یہ برآمد ہوگا کہ ابھی تو اسرائیلی بربریت کا صرف 47 لاکھ فلسطینی ہی شکارہیں لیکن بعد ازاں اس میں ترکی کے 8 کروڑ اور ایران کے 9 کروڑ معصوم مسلمانوں کا بھی اضافہ ہوجائے گااور یوں اسلام مخالف قوتوں کو ظلم و ستم کی مشق کرنے کے لیئے مسلم خون کچھ مزید ارزانی سے دستیاب ہوجائے گا۔ یہ ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث ترکی اور ایران حزب اللہ کی خفیہ امداد تو ضرور کرتے ہیں لیکن اسرائیل پر اعلانیہ حملہ کرنے سے حتی المقدور اجتناب برتنے کی غیر مقبول مگر دانش مندانہ پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

یہاں بعض اہلِ درد افراد، ترکی اور ایران کو اُن کی مذکورہ بالا مجبوریوں کی رعایت دیتے ہوئے مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت پاکستان سے مطالبہ کرسکتے ہیں اوریاد رہے کہ سوشل میڈیا پرتو پورے شد و مد کے ساتھ مختلف پوسٹوں میں پاکستانی اربابِ اقتدار سے سوال کیا بھی جارہا ہے کہ ”ایٹم بم آخر کس لیئے بنایا تھا؟ کیا ہما را ایٹم بم اسرائیل کو نیست و نابود کرکے فلسطینیوں کو یہودیوں کے ظلم و جبر سے نجات نہیں دلاسکتا؟“۔ایسی یا اس جیسی دیگر جذباتی پوسٹیں پڑھنے کے بعد اَب تو ہماری سادہ لوح عوام کی اکثریت بھی سوچنے لگی ہے کہ آخر پاکستان اپنے سینکڑوں ایٹم بموں سے کوئی ایک بڑا سا ایٹم بم، تل ابیب کا نشانہ لے کرچلا کیوں نہیں دیتا۔چلیں ایک لمحہ کے لیئے فرض کرلیتے ہیں کہ پاکستانی حکومت اپنے ایک سب سے چھوٹے ایٹم بم کو غوری یا غزنوی میزائل میں بٹھا کر اسرائیلی دارلحکومت کی جانب روانہ کردیتی ہے اور وہ صحیح سلامت مطلوبہ ہدف پر کامیابی کے ساتھ سجدہ ریز بھی ہوجاتا ہے تو پھر کیا ہوگا؟۔

شاید ایٹم بم اسرائیلی سرزمین پر گرانے کا مشورہ دینے والوں نے اس بارے میں نہ سوچا ہوتو اُن کی معلومات میں تصیح کے لیئے ہم بتائے دیتے ہیں کہ ہمارا پھینکا گیا ایک چھوٹا سا ایٹم بم بھی تمام اسرائیل،پوری فلسطینی ریاست، آدھے سے زیادہ عرب ممالک اور خاکم بدہن بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کو ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں صفحہ ہستی سے مٹا دے گا۔ کیونکہ ایٹم بم ضرور ہمارے پاس ہے لیکن ایٹم بم کی ہولناک تباہی کو محدود،کم یا زیادہ کرنے کی سائنس دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس موجود نہیں ہے۔ لہٰذا ہمارا غلطی یا مرضی سے چلایا گیا ایٹم بم یہودیوں اور فلسطینیوں کو الگ الگ شناخت کرنے کی ”تیکنیکی صلاحیت“ سے یکسر محروم ہونے کے باعث پورے خطہ عرب پر ہی ایک ہولناک قہر بن کر اُترے گا۔ یہ تو وہ مثال ہوئی کہ اگر چار پانچ اغواکاروں نے کسی عمارت میں 200 یا 300 بے گناہ و معصوم افراد کو یرغمال بنایا ہوا ہے تو ریاست یرغمالیوں کو بحفاظت بازیاب کرنے کا مشکل اور صبر آزما راستہ تلاش کرنے کے بجائے مٹھی بھر اغواکاروں کا قصہ تمام کرنے کے لیئے پوری عمارت کو مع یرغمالیوں کے بم سے اُڑاکر اگلے روز بیان جاری کردے کہ ”دیکھیں جی! ہم نے معصوم افراد کو اغوا کرنے والوں کو سزا دے کر ریاست کا قیمتی وقت اغوا کاروں سے مذاکرات میں ضائع ہونے سے بچا لیا ہے“۔اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ چونکہ پاکستان کے ساتھ اسرائیل یا فلسطین کی سرحدیں نہیں ملتی، اس لیے لشکرکشی کے لیئے زمینی یا فضائی کارروائی کرنا ہمارے لیئے صرف کارِ محال ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ ہاں! اگر اسرائیل کے ساتھ متصل عرب ممالک جنگ کی بساط بچھالیں،تو یقینا اُس میں پاکستان کی ایک اہم مہرہ ضرور ثابت ہو سکتا ہے۔

مگر اَب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا کہ آخر عرب ممالک کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود اسرائیل کو عبرت ناک ”عسکری سبق“ سکھانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟۔ جبکہ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان بھی فقط سوشل میڈیا پر ہی نہیں بلکہ اپنے اپنے ملک میں کیے جانے والے احتجاجی مظاہروں میں بھی عرب حکمران اور عوام کو بزدلی، کم ہمتی اور ایمان فروشی کے صبح و شام طعنے دے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود نہ تو عرب حکمران اور نہ ہی عرب عوام فلسطینیوں کے حق میں ہلکی سی صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے کہیں دکھائی دیتے ہیں۔ کیا اہلِ عرب! واقعی اتنے سخت دل اور کھٹور ہوچکے ہیں کہ انہیں اپنے پڑوس میں چیختے چلاتے مظلوم فلسطینیوں کی آہیں اور سسکیاں سنائی نہیں دیتیں؟۔ سچ تو یہ ہے کہ عربوں کا چونکہ فلسطینیوں کے ساتھ خون اور زمین کا رشتہ بھی ہے،اس لیے یقینا انہیں فلسطینیوں کے دکھ اور درد پر ہم سے زیادہ تکلیف ہوتی ہوگی۔ واضح رہے کہ اگر عربوں کو سرزمین فلسطین کی پرواہ نہ ہوتی تو وہ آخر کیوں اسرائیل کے خلاف ایک بار نہیں بلکہ تین بار جنگ کا میدان سجاتے۔

مزید یہ بھی پڑھیں: فلسطینیوں کا نیا دورِ ابتلا۔۔۔!

جی ہاں! عرب فلسطینیوں کی محبت میں تین بار پراکسی یا خفیہ نہیں بلکہ اعلانیہ جنگ کرچکے ہیں۔لیکن ہر بار اسرائیل اور اُس کے اتحادی فقط اس لیے کامیاب و کامران رہے کہ عرب ممالک عسکری میدان میں ریت کی دیوار ثابت ہوئے تھے اور یوں اسرائیل فاتح اور عرب مفتوح قرار پائے۔ نیز عرب ممالک کے ہر حکمران کو ہم سے زیادہ اچھی طرح سے ادراک ہے کہ فلسطین اور یروشلم کے بعد اسرائیل کے قدم اُن کی سرزمین پر قابض ہونے کے لیئے ہی بڑھیں گے۔ لیکن اہل عرب ماضی کی تین جنگوں میں اسرائیل کے ہاتھوں اتنے زخم خورہ اور مفلوج ہوچکے ہیں کہ اُن میں اَب اسرائیل کا سامنا کرنا تو کجا، اسرائیل کو خشمگیں نگاہ سے دیکھنے کی بھی ہمت باقی نہیں رہی ہے۔ اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تومنکشف ہوگا کہ عرب ممالک اور فلسطین یکساں طور پر اسرائیل کے محکوم ہیں۔یعنی فلسطینی جسمانی طور پر اسرائیلیوں کی دسترس میں ہیں لیکن اِن کے ذہن مکمل طور پر آزاد ہیں۔ جبکہ عرب ممالک ذہنی طور پر اسرائیل کے سامنے مکمل طور پر سرنگوں ہوچکے ہیں،بظاہر اِن کے جسم اور علاقے آزاد دکھائی دیتے ہیں۔ اَب یہاں اہم ترین سوالات یہ پیدا ہوتے ہیں کہ عرب ممالک ہوں یا فلسطین انہیں اسرائیل کے پنجہ استبداد سے رہائی کون دلائے گا؟۔ یا مسئلہ فلسطین کا مبنی بر حقائق،ممکنہ حل کیا ہوسکتاہے؟۔اور اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کا سب سے مؤثر حکمت عملی کیا ہونی چاہیئے؟۔اِن تمام اشکالات کے جوابات اگلے کالم میں تلاش کرنے کی عاجزانہ سی کوشش کی جائے گی۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 20 مئی 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں