Prime Minister of New Zeeland

سانحہ کرائسٹ چرچ اور اسلاموفوبیا

برینٹن ٹیرنٹ جس نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع دو مسجدوں میں 50 نمازیوں کو شہید اور 48 سے زائد معصوم افراد کو زخمی کردیا۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس شقی القلب آسٹریلوسی نژاد دہشت گرد کا تعلق دنیا کے کس مدرسہ سے ہے؟ شاید آپ کو جان کر حیرت ہو مگر سچ یہ ہی ہے کہ برینٹن ٹیرنٹ نے اپنے مذموم دہشت گردانہ فعل کی تمام تر تربیت ”مدرسہ سوشل میڈیا“ سے حاصل کی تھی۔جی ہاں! ”سوشل میڈیا“ دورِ جدید میں دنیا کا واحد ایسا سب سے بڑا ”آزاد خیال مدرسہ“ ہے جو نفرت انگیز،نسل پرستانہ اور دہشت گردی پر اُکسانے والے مواد سے مکمل طور پر بھرا ہوا ہے۔ برینٹن ٹیرنٹ کو بھی مسلمانوں کے خلاف اکسانے میں سب سے اہم کردار سوشل میڈیا کے اِسی ”لبرل مدرسہ“ نے ادا کیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ موصوف نے اپنی دہشت گردانہ کارروائی کے لیئے اسلحہ بھی سوشل میڈیا کی مدد سے آن لائن خریدا جبکہ کارروائی سے قبل اپنا منشور بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا۔حد تو یہ ہے کہ پورا واقعہ براہِ راست سوشل میڈیا پر مکمل اطمینان کے ساتھ بلاکسی روک ٹوک کے نشر بھی کرتا رہا۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا جدید دور کا ایک ایسا بے لگام عفریت بن چکاہے جو فی الحال اپنے بنانے والوں کے کنٹرول میں بھی نہیں ہے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب سوشل میڈیا کی مدد سے ”اسلاموفوبیا“ کے نظریے کو مسلمانوں کے خلاف ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت ہو، شام کے پناہ گزینوں کی دلسوز جعلی ویڈیوز ہوں،بلیک فرائیڈے جیسی چلائی جانے والی کاروباری مہم ہویا پھر می ٹو جیسی اخلاق باختہ ہیش ٹیگ کمپین۔اِن سب کے پیچھے ہمیشہ ایک ہی مقصد کارفرما رہا ہے کہ کسی طرح سوشل میڈیا کو ”اسلامو فوبیا“ کی نشر و اشاعت کا مؤثر ترین ذریعہ بنایا جاسکے۔

یہاں ہمیں سب سے پہلے یہ جاننا چاہیئے کہ اصل میں اسلاموفوبیا ہے کیا؟اور دنیا بھر میں اس اصطلاح سے کیا مراد لیا جاتا ہے؟دورِ جدید کے سب سے بڑے انسائیکلو پیڈیا یعنی آزاد دائرۃ المعارف وکی پیڈیا کے مطابق دراصل”اسلامو فوبیا“ لفظ اسلام اور یونانی لفظ ”فوبیا“ یعنی ڈر جانا کا مجموعہ ہے۔اس لفظ سے غیرمسلم اسلامی تہذیب سے ڈرنا اور نسلیت پرست ”مسلم گروہ سے ڈرنا“مراد لیتے ہیں۔اکثر غیر مسلموں کو اس لفظ کا استعمال کر کے مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں اسلام کا خوف داخل ہوجاتا ہے۔ اس عمل کو اسلاموفوبیا کہا جاتا ہے۔اسلامو فوبیا یعنی اسلام سے دشمنی یا اسلام کا خوف۔یہ نسبتاً ایک جدید لفظ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیئے تخلیق کیا گیاہے۔ جس کا مفہوم بے جا طرفداری،نسلی امتیاز اور لڑائی کی آگ بھڑکانا مراد لیا جاتا ہے۔مسلمانوں کے خلاف اس لفظ کاسب سے پہلے استعمال1987 سے شروع ہوتا ہے جبکہ1997 میں اس اصطلاح کی تعریف کرنے کی باقاعدہ کوشش کی گئی جب برطانوی لکھاری ”رونیمیڈ ٹروسٹ“نے کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں اس لفظ کی تعریف بیان کی کہ ”اسلاموفوبیا یعنی اسلام سے بے پناہ خوف اور نتیجتاً ایک ایسا ڈر جو لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور عداوات کو جنم دیتا ہے“ جبکہ فرانسیسی مصنفین کے مطابق اس لفظ کا استعمال سب سے پہلے مالیہ ایملی نے ”ثقافت اور وحشت“ کے عنوان پرلکھے گئے اپنے ایک مقالہ میں کیا جس کو1994میں فرانس کے ایک اخبار ”لیمینڈا“ نے شائع کیا اور1998 میں صہیب بن الشیخ نے اپنی کتاب  میں اس لفظ کو ایک باب کے عنوان کے طور پر لیا۔ بیسویں صدی کی 80 اور90 کی ابتدائی دہائیوں میں اس لفظ کا استعمال بہت ہی کم رہا۔ عالمی پیمانہ پر اس لفظ کاکثرت سے استعمال11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ڈرامائی حملوں کے بعدشروع ہوا۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ فوبیا ایک نفسیاتی بیماری کو کہاجاتا ہے ایسی بیماری جوکسی چیز کے شدید خوف کو ظاہر کرتی ہے۔دنیا میں اسلاموفوبیا کے عام ہونے کا مطلب یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ مغربی دنیا کے لوگ اسلام کے متعلق شدید خوف میں مبتلا ہیں۔مگر خوف کسی انتہائی طاقتور چیز سے محسوس کیا جانا چاہیئے جیسے عام طور پر انسان خدا سے ڈرتا ہے کیونکہ وہ خدا کو ایک انتہائی طاقت ور سمجھتا ہے۔انسان جنوں اور بھوتوں سے بھی خوف زدہ ہوتا ہے اسی لیئے کہ وہ ان تمام کو اپنے سے ہزار گنا زیادہ قوت کا حامل خیال کرتا ہے۔شاید کچھ ایسا ہی تعلق اسلام اور مغربی دنیا کا ہے وہ لاشعوری طور پر اپنے خیال میں اسلام کو انتہائی طاقتور، دلکش اور اثر انگیز محسوس کرتے ہیں۔حالانکہ اس وقت اسلام کے پاس نہ سیاسی طاقت ہے،نا عسکری صلاحیت اور اس کے پاس نہ سائنس و ٹیکنالوجی کے معجزے ہیں اور نہ معاشی طاقت کے کمالات۔حتی کہ مسلمانوں کا کردار بھی کچھ ایساقابلِ فخر نہیں ہے کہ کوئی اس سے متاثر ہو۔چونکہ اس کے باوجود اسلام اب تک مغربی دنیا میں لاکھوں اہلِ مغرب کو مسلمان بنا چکا ہے۔ شاید یہ ہی وہ بنیادی خوف ہے جو کچھ تشکیک زد ہ مغربی اذہان میں پیدا ہوتارہتا ہے کہ اسلام اور مسلمان اس قدر کمزوری کی حالت میں اگر یہ سب کچھ کر سکتے ہیں تو وہ طاقت کی حالت میں کیا کچھ نہیں کرسکتے۔اہلِ مغرب کا یہ ہی وہ لاشعوری خوف ہے جو انہیں اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح مختلف حیلوں بہانوں سے اپنے لوگوں میں اسلام کا خوف پیدا کرتے رہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اسے اُبھارتے بھی رہیں تاکہ اسلام اُن کے عام شہریوں کے نوخیز ذہنوں کو متاثر نہ کرسکے۔
”اسلاموفوبیا“کا یہ تازہ طوفان فقط سانحہ کرائسٹ چرچ پر ہی تھمنے والا نہیں ہے بلکہ بلکہ ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ اِس طوفان کی شدت میں مزید اضافہ ہوگا۔کیونکہ دنیا میں جب تک ڈونلڈ ٹرمپ،نیتن یاہو اور نریندر مودی جیسے انتہا پسند حکمران موجودر ہیں گے، اُس وقت تک ”اسلامو فوبیا“سوشل میڈیا پر بطور ہتھیار استعمال ہوتا رہے گا۔اَب تو آپ کو سمجھ میں آہی گیا ہو گا کہ جب بھی کسی مسلم ملک میں سوشل میڈیا کے کسی حصہ کو حدودو قیود میں رکھنے یا ممنوع قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے تو مغربی دنیا کی چیخیں نکلنا کیوں شروع ہو جاتی ہیں۔کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ سوشل میڈیا کا انقلاب مصر، تیونس،لیبیا، شام اورعراق جیسے کئی مسلم ممالک کو تو باآسانی نگل چکا ہے لیکن یہی سوشل میڈیائی انقلاب آج تک کشمیر اور فلسطین کے مظلوموں کی آواز بن کر بھارت یا اسرائیل کا ایک بال بھی بیکا نہیں کرسکا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور کے شمارہ 28مارچ 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں