Irfan Siddique Arrested

سانحہ کرایہ داری ایکٹ

ہم تو فقط اِتنا جانتے ہیں کہ بے و قوف سے بے وقوف شخص بھی اگر شیر کے شکار کے لیئے جنگل کا رُخ کرے گا وہ اپنے ہمراہ خطرناک آتشیں اسلحہ لے کر ضرور جائے گا۔چہ جائکہ آپ اپنی دانست میں گھر سے تو نکلیں شیر کو شکار کرنے کے لیئے،لیکن اپنے ساتھ بطور ہتھیار بس لکڑی کا ایک فٹ لمبے ڈنڈے کے علاوہ کچھ اور حفاظتی بندوبست کر کے نہ جائیں۔اِس طرح سے شیر کے شکار پر جانے کامطلب تو یہ ہی لیا جائے گا نا کہ آپ شیر کا شکار کرنے نہیں جارہے بلکہ شیر کو شکار کا تحفہ جنگل میں اُس کی کچھار تک بہم پہنچانے جارہے ہیں۔ایسی ہی ایک حرکت پچھلے دنوں تحریک انصاف حکومت کے کسی عالی دماغ مشیر نے بھی کرنے کی کوشش کی ہے اور عین حسبِ حال نتیجہ بھی انتہائی سرعت کے ساتھ برآمد کروالیا۔یعنی آپ اندازہ لگائیں کہ مذکورہ مشیر با تدبیر کو معرکہ درپیش تھا عرفان صدیقی جیسے مسلم لیگ ن کے ببر شیر کے سیاسی شکار کا اور وہ موصوف نہ جانے کن خیالوں میں ببر شیر کا شکار کرنے کے لیئے کچے دھاگے سے بُنا گیا ایک بوسیدہ سا ”کرایہ داری ایکٹ“ کا جال بچھا کر سمجھ بیٹھا کہ عرفان صدیقی اِس جال میں اُلجھ کر اُن کے یا اُن کی حکومت کے بے دام غلام بن جائیں گے۔ اَب صورت حال یہ ہے کہ عرفان صدیقی کے سیاسی شکار کے لیئے بچھائے جانے والے ”کرایہ داری ایکٹ“ نامی جال کے بخیہ اُدھیڑ دیئے گئے ہیں اور اَب سب کو یعنی تحریک انصاف کی حکومت کو،سول سوسائٹی کو،صحافی برادری کو،مسلم لیگ ن کو،بیوروکریسی کو صرف اُس فاترالعقل شکاری کی تلاش ہے جس نے سوئے ہوئے ببر شیر پر ”کنکر زنی“ کر کے اُسے ایک بار پھر سے بیدار کردیا ہے۔

عرفان صدیقی کے پاس تعارفی اسناد کی کمی نہیں ہے کیونکہ وہ بیک وقت ایک اُستاد، کالم نگار، سیاح اور کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔اِس لیئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اِن میں سے کوئی ایک بھی تعارف عرفان صدیقی کی شخصیت،فن اور مقام کی درست تفہیم کے لیئے کافی و شافی ہے لیکن اِس کے باوجود گزشتہ چند برسوں سے سب جب کبھی عرفان صدیقی کسی ٹی و ی پروگرام کی اسکرین کے اُفق پر جلوہ افروزہوئے تو اُن کے نام کے ساتھ بطور تعارفی لاحقہ کے ”مشیر وزیراعظم پاکستان“ لکھا صاف صاف نظر آتا تھا اور میاں نواز شریف کی سابقہ دورِ حکومت میں اِس لاحقہ کا استعمال جناب عرفان صدیقی کے شخصی تعارف کے لیئے اِس تواتر اور بے دردی کے ساتھ کیا گیا کہ اکثر لوگ عرفان صدیقی کا بنیادی تعارف ہی ”مشیر میاں محمد نواز شریف“ ہونا سمجھنے لگے تھے۔مقامِ حیر ت ہے کہ بعض ناعاقبت اندیشن تو آج بھی جب میڈیا پر عرفان صدیقی کو کرایہ داری ایکٹ میں گرفتاری پر اپنا موقف پیش کرنے کے لیئے دعوتِ کلام دے رہے ہیں تو ٹی وی اسکرین پر اُن کے نام کے ساتھ جلی حروف میں ”مشیر سابق وزیراعظم پاکستان“ ہی لکھنے پر اکتفا کر رہے ہیں۔ حالانکہ میرے نزدیک عرفان صدیقی کے لیئے باربار فقط سیاسی تعارفی لاحقہ کا استعمال کرنا کچھ”علمی زیادتی“ سی ہے۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ اِس پُر خارسیاسی راہ گزر کا انتخاب چند برس قبل عرفان صدیقی صاحب نے خود اپنی مرضی سے ہی کیا تھا۔ شاید اُن بھلے وقتوں میں عرفان صدیقی نے سوچا ہو گا کہ بطور اُستاد انہوں نے ہر شعبہ حیات میں اپنے کامیاب اور قابل شاگردوں کی فخریہ پیشکش کی بدولت تو خوب داد سمیٹ ہی لی ہے تو اَب کیوں نا ایک ”بادشاہ“ کی سیاسی تربیت کر کے راج دربار سے نہ صرف ”بادشاہ گر“ کا سیاسی خطاب حاصل کیا جائے بلکہ ستر برسوں سے ایک رہنما کی منتظر پاکستانی قوم کو ایک باصلاحیت”قومی رہنما“بھی تیار کر کے دے دیا جائے۔ہمیں توعرفان صدیقی کی نیت اور مردم ساز صلاحیتوں پر ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے کہ انہوں نے بطور ایک سیاسی مشیر اور اُستاد کے میاں محمد نوازشریف کی تربیت و رہنمائی میں کوئی کوتاہی برتی ہوگی۔مگرمیاں محمد نوازشریف کے عرفان صدیقی کے حلقہ مشاورت اور تربیت میں آنے کے بعد مسلم لیگ ن کے عروج سے زوال کا سفر جس سرعت کے ساتھ طے ہونے لگا، اُسے دیکھ کر تو یقینا عرفان صدیقی جیسا نابغہ روزگار بھی ایک بار تو ضرور یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوگا کہ کچھ چیزیں خالقِ کائنات نے لوحِ ازل پر اِس طرح سے لکھ رکھی ہوتی ہیں کہ اُنہیں تبدیل کرنا شاید کسی”سیاسی اُستاد“کے لیئے بھی ممکن نہیں ہوتا۔



قصہ کوتاہ نہ تو عرفان صدیقی اپنی تمام تر علمی وجاہت اور لفظی بلاغت کے بل بوتے پر میاں محمد نوازشریف کو پانامہ کے قہر سے بچا سکے اور نہ ہی تحریک انصاف کی حکومت کے مشیر باتدبیر عرفان صدیقی کو چند گھنٹوں کے لیے پابند ِ سلاسل کر کے اُن کے ایک اُستاد،کالم نگار، سیاح اور مصنف ہونے کے امتیازی اوصاف کی چمک دمک گہنا سکے۔اگر کوئی واقعی غور کرنا چاہے تواِس سانحہ کرایہ داری ایکٹ میں ہم سب کے لیئے کئی یادگار اسباق موجود ہیں۔حکومت کے لیئے بھی،عرفان صدیقی کے لیئے اور اِن دونوں سے ہمدردی رکھنے والے ہم جیسے مبتدیوں کے لیئے بھی۔ حکومت کے لیئے تو یہ ہی ایک سبق کافی ہے کہ ہتھکڑی کی طاقت سے اہلِ دانش و بنیش کے کان مروڑنے میں وہ ماضی بعید میں کبھی کامیاب نہ ہوسکی اور نہ ہی مستقبل قریب میں اُس کی کامیابی کا کوئی امکان دُور دُور تک نظر آتا ہے۔اِس لیئے عقل پر پہرے بٹھانے کے لیئے یقینا حکومتی نظم و نسق سنبھالنے والوں کو کوئی دوسرا طریقہ ہائے ستم ایجاد کرنا ہوگا اور جب تک وہ طریقہ ایجاد نہ ہو،اُس وقت تک ہتھکڑی کی طاقت کے منہ زور گھوڑے کو کم ازکم اہلِ دانش وبنیش سے کوسوں دُور ہی رکھا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔جبکہ عرفان صدیقی صاحب کے لیئے اِس سارے واقعہ میں یہ قیمتی راز پنہاں ہے کہ اُنہیں اگر آج راج دربار میں کسی نے دیوار میں چُن دیئے جانے سے بچایا ہے تو وہ اُن کا واحد وصفِ اُستاد،کالم نگار اور مصنف ہونا ہی تو ہے۔یاد رہے کہ پاکستان کے لوگ اِس سیاسی رعب میں آ کر عرفان صدیقی کے پیچھے نہیں کھڑے ہوئے کہ وہ کبھی،کسی سابق حکمران کے صاحبِ خلوت مشیر ہوا کرتے تھے بلکہ فقط اِس لیئے مشکل وقت میں اُن کی مدد کو آئے کہ پاکستانی قوم اپنے اُستاد اور قلم کار کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑتی۔ اِس لیئے عرفان صدیقی کو بھی بازارِ اقتدار میں حاشیہ برداروں کی صف میں کسی بادشاہ کے آگے اُس کی آنکھ،کان اور زبان بن کر کھڑے ہونے کے اپنے پرانے رویہ پر نظر ثانی ضرور کرنا ہوگی۔تاکہ کوئی آئندہ دوبارہ سے ”عرفان“ کو اپنے مذموم سیاسی مفادات کے لیئے بطورِ ایندھن نہ استعمال کرسکے۔بقول بشیر بدرؔ
مجھ سے کیا بات،لکھانی ہے کہ اَب میرے لیئے
کبھی سونے، کبھی چاندی کے قلم آتے ہیں

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر یکم اگست 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں