Iran And Amrica War

ایران امریکہ تنازع تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد عالمی منظرنامہ تشویش ناک حد تک متاثر ہوا ہے اور اِس مخدوش صورت حال میں یہ کہنا کہ اِس واقعہ سے فقط خلیجی ممالک پر ہی جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں، بالکل ایک سطحی سی بات ہے کیونکہ اگرایران اور امریکہ کے مابین کسی بھی قسم کی روایتی یا غیر روایتی جنگ شروع ہو جاتی ہے تو اِس جنگ کے شعلوں کی حدت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی بالواسط یا بلاواسطہ طور پرضرور محسوس کی جائے گی۔ اِس تناظر میں عالمی برادری کی پہلی اور بنیادی ذمہ داری تو یہ ہی بنتی ہے کہ جس حد تک بھی ممکن ہو سکے دونوں ممالک کو جنگ کی آگ مزید بھڑکانے سے روکا جائے، لیکن عالمی برادری کی یہ کوشش اُس وقت تک کسی بھی صورت کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی جب تک کہ عالمی برادری امریکہ پر خاطر خواہ سفارتی دباؤ ڈالتے ہوئے اُسے کٹہرے میں کھڑا کر کے یہ دریافت نہیں کرتی کہ آخر کیا وجہ تھی اُسے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو بغیر اپنے اتحادیوں کی مشاورت سے تن تنہا اپنے انتقام کا نشانہ بنانا پڑااور اَب جبکہ امریکی کارروائی کے بعد ایران نے بدلہ لینے کا اعلان کردیا ہے تو امریکہ کی طرف سے بیانات داغے جارہے ہیں کہ ساری دنیا ایران کے مقابلے میں امریکہ کی پشت پناہی کرے۔کیا عالمی دنیا کا صرف یہ ہی ایک کام رہ گیا ہے کہ امریکہ کی جب،جس سے اور جہاں مرضی ہو جنگ کرتا پھرے اور عالمی دنیا امریکی ساکھ کو بچانے کے لیئے اُس کے ساتھ عالمی اتحاد بنا کر اُس کے دشمنوں سے نبرد آزما ہوتی رہے۔ مگر شاید اِس بار ایسا ہونا اتنا آسان نہیں ہوگاجتنا امریکہ سمجھ رہا ہے کیونکہ گزشتہ دو تین دہائیوں سے امریکہ کی جنگیں لڑنے کے بعد ایک بات تو اچھی طرح سے عالمی برادری کو بھی سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ امریکہ جنگوں میں امریکہ کا ساتھ دینے والا ممالک ہمیشہ خسارے میں ہی رہتے ہیں۔

ایران کے اس دعوی کے بعد کہ امریکہ کی 35 عسکری تنصیبات اور اسرائیلی شہر تل ابیب کو وہ اپنے نشانے پر لے چکے ہیں کہ جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردیا ہے کہ اگر اُن کی عسکری تنصیبات پر ایران نے حملے کیئے تو امریکہ 50 ایرانی مقامات پر تیزرفتار اور تباہ کن حملے کرے گا۔ دنیا کے بیشتر ممالک نے اِن بیانات کو سننے کے بعد کسی ایک ملک کا ساتھ دینے کے بجائے مکمل طور پر غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِس صورت حال نے جہاں ایران کے سفارتی حوصلوں کو کچھ ہلکی سی تقویت بخشی ہے وہیں امریکہ کو کافی سے زیادہ پریشانی اور عالمی تنہائی سے دوچار کردیا ہے۔ لگتا یہ ہی ہے کہ اِس بار عالمی دنیا امریکہ کو اکیلے لڑتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہے۔ بظاہر امریکہ اور ایران کی عسکری صلاحیت کا دُور دُور تک بھی کوئی مماثلت یا موازنہ پیش نہیں کیا جاسکتا۔اس لیئے اکثر عسکری ماہرین کا یہ خیال ہے کہ امریکہ کے ساتھ روایتی جنگ کی صورت میں ایران کے آپشن بہت ہی زیادہ محدود ہوجائیں گے۔



گو کہ ایران کی روایتی فوج کی کل نفری پانچ لاکھ سے زائد ہے لیکن یہ ایک ناکارہ فوج تسلیم کی جاتی ہے،جو کم ازکم جنگ کے لیئے کسی بھی طرح سے موزوں نہیں ہے۔ایران کی اصل قوت پاسداران انقلاب ہے جو ایرانی فوج کے متوازی طور پر بنائی گئی تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ حملہ کا نشانہ بننے والے جنرل قاسم سلیمانی بھی پاسداران انقلاب کے ہی کمانڈر تھے۔ عموماً ایران میں جنگی ماحول بنانے کے لیئے ایرانی و عالمی میڈیا پر پاسدارانِ نقلاب کو ہی بہ طور اصل ایرانی آرمی کے پیش کیا جاتا ہے۔ مگر پاسدارانِ انقلاب کی نفری دو لاکھ سے کچھ کم ہے جو روایتی جنگ کے لیئے بلحاظ تعدار بالکل ہی ناکافی ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی نیوی پرانے جہازوں پر مشتمل ہے اور ایرانی فضائیہ بھی پرانے جہازوں اور جدید لڑاکا طیارے نہ ہونے کے باعث شدید ترین بحران کا شکار ہے۔ ایران کی اصل عسکری طاقت اس کے میزائل اور ڈرون ہیں۔یہ وہ واحد عسکری ٹیکنالوجی ہے جس میں ایران نے چند ہی برسوں میں بہت زیادہ تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے۔ایران کے جدید عسکری ٹیکنالوجی سے لیس میزائل اور جنگی ڈرون خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں موجود امریکی بحری بیٹروں کو باآسانی نہ صرف نشانہ بناسکتے بلکہ انہیں شدید ترین تباہی سے دوچار بھی کرسکتے ہیں۔جس کے باعث آبنائے ہرمز ایک طویل عرصہ تک کے لیئے مکمل طورپر بند ہوسکتی ہے لیکن آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے امریکہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے والا بلکہ اِس کا تمام تر نقصان چین،جاپان اور یوپین یونین کو ہو گا۔ فی الحال لگتا بھی یہ ہی کہ امریکہ ایران کے ہاتھوں سے آبنائے ہرمز بند کروا کے چین کو ملنے والی 80 فیصد تیل کی سپلائی فوری طور پر بندکروانا چاہتاہے۔

جہاں تک ایران کی اِس دھمکی کا تعلق ہے کہ وہ اسرائیلی شہر تل ابیب کو اپنے میزائلوں کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایران کا دعوی اپنی جگہ لیکن اِ س بات کے بالکل بھی امکانات نظر نہیں آتے کہ ایران اسرائیل پر میزائل حملہ کردے گا۔ کیونکہ پچھلے دو برسوں کے دوران اسرائیل نے عراق میں پچاس کے قریب ایرانی اڈے تباہ کیئے ہیں اور اسرائیل کی اِن عسکری کارروائیوں میں ایران کا بے پناہ اسلحہ،گولہ بارود اور بہت سے ایرانی فوجی و رضاکار بھی مارے گئے لیکن ایران نے کبھی بھی اسرائیل کی کسی بھی عسکری تنصیبات کا نشانہ بنانے کی کوشش نہیں کی۔ماضی کے یہ شواہد گواہی دیتے ہیں کہ ایران کی اسرائیل پر حملہ کرنے کی دھمکی سنجیدگی سے نہیں لی جاسکتی۔ اس لیئے زیادہ امکان یہ ہی ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ جنگ سے ہرممکن حد تک گریز کرے گا یہاں تک کہ امریکہ کے صدارتی الیکشن گزر جائیں گے۔اس دوران ایران کی پوری کوشش ہوگی کہ وہ عراق میں امریکی فوجی اڈے پر کیئے گئے میزائل حملہ پر ہی اکتفا کرتے ہوئے مختلف سیاسی پروکسیز کے حمایت سے امریکہ کو مسلسل چھوٹے،بڑے نقصان پہنچا کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرلے۔ جیسا کہ ایران اپناپہلا ہدف عراق سے امریکی فوجی انخلاء کروا کر حاصل بھی کر چکا ہے۔ اس وقت عراق میں صرف پانچ ہزار امریکی فوجی موجود رہ گئے ہیں۔جبکہ عراقی پارلیمنٹ اگلے چند دنوں میں امریکہ کے ساتھ فوجی اشتراک جاری رکھنے یا نہ رکھنے کے حوالے سے بھی کوئی فیصلہ کرنے والی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ امریکہ ہو یا ایران دونوں ہی اِس وقت تاریخ کے عین دہرائے پر کھڑے ہیں۔ اِس نازک وقت میں لیا گیا اِن کا درست یا غلط فیصلہ ہی عالمی دنیا میں اِن کے حتمی مستقبل کا تعین کرے گا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 16 جنوری 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں