Tayyab Edogan and Imran Khan Bilboard

زبانِ عمران مَن ترکی

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے حالیہ دورہ ترکی سے بہت سے لوگوں کا کم از کم یہ مغالطہ تو ضرور رفع ہوگیا ہوگا کہ ترکی کے تعلقات پاکستان کی ریاست سے زیادہ پاکستان کے سابقہ حکمرانوں سے ہیں۔جس طرح سے ترکی میں طیب اردوان کی جانب سے عمران خان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا اور اُنہیں ترکی کے قومی و نجی میڈیا میں جس غیر معمولی حد تک اہمیت دی گئی، اُس نے یقینا شریف خاندان خاص طور پر مسلم لیگ ن کے حلقوں کو تو سخت مایوسی سے دوچار کیا ہوگا،کیونکہ مسلم لیگی متوالے عمران خان کے دورہئ ترکی سے یہ اُمید لگائے بیٹھے تھے کہ ترکی،کی طرف سے عمران خان کو بطورِ وزیراعظم پاکستان کوئی خاص لفٹ نہیں ملنے والی بلکہ اُلٹا عمران خان پر دباؤ ڈالا جائے گا کہ وہ شریف خاندان کو کرپشن کے معاملات میں ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کرنے میں اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کریں۔اس ضمن میں کئی دنوں سے شریف خاندان سے قربت کی شہرت رکھنے والے تجزیہ کاروں کی طرف سے الیکٹرانک میڈیا میں یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش کی جارہی تھی کہ ترکی کے صدر طیب اردوان شریف خاندان سے اپنے دیرینہ تعلقات کی بناء پر اِن کی رہائی کا یقینی بندوبست کرنا چاہتے ہیں۔جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے تو یہ خامہ فرسائی بھی فرمائی جارہی تھی کہ شریف خاندان کو سیاسی پناہ فراہم کرنے کے لیئے ہی عمران خان کو ترکی کے سرکاری دورے کی دعوت دی گئی ہے۔وہ کہتے ہیں نا کہ ”بڑاشور سنتے آئے تھے پہلو میں دل کا، جو چیرا تو اِک قطرہ ئ خوں نہ نکلا“ تمام سیاسی تجزیوں اور اندازوں کے برعکس طیب اردوان کا وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ساتھ روا رکھا گیا موجودہ رویہ ظاہر کرتاہے کہ ترکی پاکستان سے صرف بطور ریاست تعلقات کو ہی اہمیت دیتا ہے جبکہ ذاتی پسند و ناپسند کی بنیادپر پنپنے والے دو خاندانوں کے تعلقات دو ریاستوں کے آپسی معاملات میں رکاوٹ کا باعث نہیں بن سکتے۔

حالیہ دورہ ترکی کی ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ ترکی کے عمران خان کی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات تحریک انصاف کی حکومت کے لیئے آنے والے دنوں میں زبردست فائدے کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ ترکی کے صدر طیب اردوان کے میاں نواز شریف سے تعلقات صرف کہنے کی حد تک نہیں بلکہ حقیقت میں انتہائی ذاتی نوعیت کے رہے ہیں۔اس لیئے اگر طیب اردوان عمران خان کی حمایت میں کھل کر کھڑے ہوجائیں تو بین الاقوامی دنیا میں شریف خاندان کی سیاسی حمایت کا آخری سہارا بھی چھن سکتاہے جبکہ طیب اردوان مسلم لیگ ن کے دیگر اہم ترین رہنماؤں پر بھی اپناکافی ذاتی اثرو رسوخ رکھتے ہیں جنہیں وہ جب چاہیں اور جیسے چاہیں تحریک انصاف کی حکومت کی مدد کے لیئے بروئے کار لاسکتے ہیں۔یہ تو وہ فوائد ہیں جو ملک کی موجودہ سیاسی گرما گرمی میں وہ عمران خان کی حکومت کو فوری طور پر پہنچا سکتے ہیں تاکہ عمران خان ملک میں کرپشن کے خلاف اپنی مہم کو بلا کسی تعطل کے جاری رکھ سکیں۔اس کے علاوہ طیب اردوان اپنے ملک میں سیاسی و سماجی اصلاحات کا ایجنڈا انتہائی کامیابی کے ساتھ نافذ کرنے کا زبردست تجربہ بھی رکھتے ہیں اور وہ جانتے ہیں مفاد عامہ کے اہم ترین اُمور طاقتور اپوزیشن کی موجودگی میں کیسے جلد ازجلد نمٹائے جاسکتے ہیں۔ چونکہ پاکستان میں عمران خان بھی سیاسی و سماجی اصلاحات پر مشتمل عوامی خواہشوں کا آئینہ دار اپنا ایک مخصوص ایجنڈالے کر ہی اقتدار میں آئے ہیں۔اس لیے اس ایجنڈے کی تکمیل کے لیئے ترکی کی موجودہ قیادت اگر چاہے تو بے پناہ معاونت فراہم کرسکتی ہے جیسا کہ ترکی کی طرف سے پاکستان میں پانچ ملین گھر وں کی تعمیر میں معاونت کا عندیہ ظاہر بھی کیاگیا ہے۔یہاں ہم اپنے قارئین کی دلچسپی کے لیئے بتاتے چلیں کہ طیب اردوان اپنے ملک میں غریب عوام کے لیئے کم خرچ بالا نشین کے زریں اُصول کے تحت لاکھوں گھروں کی تعمیر کے منصوبے کو انتہائی کم وقت میں مکمل کرنے کا کام پہلے ہی بخوبی انجام دے چکے ہیں۔اس لیئے اُمید کی جاسکتی ہے کم خرچ گھروں کو تعمیر میں ترکی کی طرف ملنے والی ہر قسم کی معاونت پاکستانی عوام کو چھت فراہم کرنے کے خواب کی عملی تعبیر فراہم کرنے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔

دفاعی حوالے سے پاکستان اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی بات کی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ بلاشبہ ترکی دفاعی ساز و سامان کی تیاری میں درکار جدید ٹیکنالوجی پر بھی کافی دسترس رکھتا ہے،خاص طور پر ترکی کا تیار کردہ جدید ترین میزائل سسٹم کا حصول ہماری افواج کی حربی صلاحیت میں زبردست اضافہ کا باعث بن سکتاہے۔ نیز ترکی سے پی آئی اے کو اپنے قدموں پر کھڑے کرنے کے حوالے سے بھی کافی مدد لی جاسکتی ہے جبکہ جدید ترین ائیرپورٹس کی تعمیر بھی ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ہمارے ماہر انجینئرز اگر چاہیں تو ترکی انجینئرز کے ساتھ مشترکہ پروجیکٹ پر کام کرکے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔نیز ہماری موجودہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ ترکی کے ساتھ افرادی قوت کے تبادلے کا بھی کوئی معاہدہ ضرور طے کرے تاکہ ہمارے ڈاکٹرز،اُستاد،انجینئرز وغیرہ کو بھی ترکی میں سرکاری سرپرستی میں اپنے ہنر کے جوہر دکھانے کا موقع میسر آسکے۔بدقسمتی سے پچھلی حکومتوں نے پاکستان اور ترک عوام کے درمیان آپس کے روابط قائم کرنے کی زبردست حوصلہ شکنی کی تھی۔جس کے باعث ترکی کی چند کمپنیاں میٹروبس سروس چلاتی اور لاہور میں کچرا اُٹھاتی تو ضرور دکھائی دیتی تھیں لیکن پاکستانی ہنر مند افراد کو ترکی بھیجنے کا کبھی کوئی خاطر خواہ اہتمام نہیں کیا گیا،حالانکہ اگر پاکستانی عوام ترکی کی سیاحت پر بھی نہ جائیں تو پھر کدھر جائیں گے۔
جو ذوقِ نظر ہو تو ترکی میں جاکر
حیاتِ عظیمہ کے آثار دیکھو

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 07 جنوری 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں