IMF Chief and Imran Khan

عمران خان اور آئی ایم ایف کی شراکت؟

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں تین صفات ایسی ہیں جو اگر عورت میں ہوں تو اس کی بہترین خوبیاں ہوں گی اور اگر مرد میں ہوں تو اس کی بدترین خامیاں ہوں گی۔پہلی صفت ہے ”غرور“یعنی جب عورت متکبر ہو تو گفتار میں اپنے شوہر کے علاوہ کسی بھی مرد سے لطافت اور مہربانی سے بات نہیں کرے گی۔دوسری صفت ہے ”کنجوسی“یعنی کنجوس عورت اپنے اور شوہر کے مال کو بغیر کسی وجہ اور فضول کاموں میں خرچ نہیں کرے گی۔تیسری اور سب سے اہم صفت ہے ”بزدلی“ عورت اگر بزدل ہوگی تو وہ ہر اس چیز سے دور رہے گی جس کا اسے خوف ہو کہ یہ چیز اس کے اور شوہر کے درمیان دوری کا سبب بن سکتی ہے۔جب کہ ا س کے برعکس مرد اگر مغرور ہوگا تو لوگ اسے برا جانیں گے،دوست چھوڑ دیں گے اور دشمن زیادہ بنیں گے۔اگر مرد بزدل ہوگا تو زمانے میں ذلیل و رسوا ہوگا،جبکہ کنجوس مرد سے اس کے بیوی بچے عزیز رشتہ دار سب ہی تنگ رہیں گے اور وہ کبھی عزت نہیں پائے گا،نہ اپنوں میں اور نہ بیگانوں میں۔علم و حکمت میں گندھی ہوئی یہ بات واضح کرتی ہے کہ ایک شئے اگر کسی کے ہاتھ میں نقصان کا باعث بن سکتی ہے یہ ہی شئے کسی دوسرے شخص کے ہاتھ میں آنے کے بعد فیض رساں بھی بن جاتی ہے۔

یہ ہی مثال کچھ آئی ایم ایف اور ہمارے حکمرانوں پر بھی صادق آتی ہے۔آئی ایم ایف کے پاس زرداری یا نواز شریف کی حکومتیں قرضہ لینے جائیں تو ریاست پاکستان کے لیئے بہت بُرا ہے،جیسا کہ وقت نے ثابت بھی کیا ہے۔ لیکن اگر عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف کے پاس جائے گی تو اسے بلاشبہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیئے نیک شگون قرار دیا جاسکتاہے۔اس کے دلیل آئی ایم ایف کی ترجیحات اور ہمارے سابقہ سیاسی رہنماؤں کی ترجیحات کے مابین پایا جانے والازمین اور آسمان کا فرق ہے۔آئی ایم ایف کسی بھی ملک کو قرض دیتے وقت اُس ملک کے اقتصادی نظام کی بہتری و ترقی کے لیئے چار بنیادی نوعیت کی شرائظ پیش کرتی ہے،جنہیں اگر اُن کی روح کے عین مطابق پورا کیا جائے تو نہ صرف اُس ملک کے معاشی نظام میں حیران کُن بہتری آجاتی ہے بلکہ مستقبل میں آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔اس بات کا ثبوت وہ بے شمار ممالک ہیں جنہوں نے آئی ایم ایف کی مدد سے ماضی میں شاندار معاشی استحکام حاصل کیا۔مگر مصیبت یہ ہے کہ آج سے پہلے ہمارے جن بھی حکمرانوں نے آئی ایم ایف سے قرضے لیئے وہ جان بوجھ کر آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرنے میں تیکنیکی دھوکہ دہی کے مرتکب ہوتے رہے تاکہ آئی ایم ایف سے لیا ہوا قرضہ کا ایک بڑا حصہ پاکستان سے باہر موجود اُن کے اور اُن کے اہل و عیال کے غیر ملکی اکاؤنٹس میں بحفاظت منتقل کیا جاسکے، تاہم اگر اس بار عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف سے قرضہ لے گی تو پہلی بار ہمارے ملک کی عوام کو پتہ لگے گا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے صرف نقصانات ہی نہیں بلکہ اَن گنت فائدے بھی ہوتے ہیں۔ایسا اس لیئے ممکن ہو سکے گا کہ عمران خان کی حکومت اور آئی ایم ایف کی شرائظ میں فطری مطابقت پائی جاتی ہے،جو بلاشبہ ریاست پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔مثلاً آئی ایم ایف قرضہ دینے سے پہلے کسی بھی ملک کے سامنے جو پہلی شرط پیش کرتاہے وہ غیر ضروری اخراجات میں کمی ہے۔ سادہ لفظوں میں اسے ریاستی کفایت شعاری بھی کہا جا سکتا ہے۔ غیر ترقیاتی یا انتظامی اخراجات میں کمی سے نہ صرف قومی خزانے کی بچت ہوتی ہے بلکہ عوام میں بھی ایک طرح سے بچت کا پیغام جاتا ہے لیکن گزشتہ چار دہائیوں میں آئی ایم ایف پاکستان میں اپنی اس شرط پر عمل کروانے میں صرف اس لیئے ناکام رہا کہ ہمارے پچھلے تمام حکمران بچت کو ”چھوت کی بیماری“ سمجھتے تھے اس لیئے وہ اس سے کوسوں دور ہی رہتے تھے۔ جبکہ پچھلے حکمرانوں کے برعکس غیر ضروری اخراجات میں کمی عمران خان کا خاصا پرانا بیانیہ ہے۔یعنی عمران خان اپنے بیانیے کے مطابق سرکاری حکام کے ”اللے تللے”۔ یعنی حکومت چلانے کے ہوشربا اخراجات کم کریں گے اور اس کے ساتھ آئی ایم ایف کی پہلی شرط بھی پوری ہوجائے گی۔

آئی ایم ایف کی دوسری بنیادی نوعیت کی شرط اداروں میں اصلاحات کر کے اُنہیں عوام دوست بنانا ہے یہ بھی ایک ایسی شرط ہے جو تحریک انصاف کے علاوہ پاکستان کی کسی اور سیاسی جماعت کے سربراہ کے ذاتی مفاد سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ میاں محمد نواز شریف ہوں یا جناب آصف علی زرداری یہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں ملکی ادارے ان کے دربار یوں کے سامنے حاضرہونے کے بجائے خود مختار ہوجائیں کیونکہ اگر پاکستان اسٹیل ملز، پاکستان ریلویز اور پی آئی اے جیسے ادارے بھی خود مختار ہوگئے تو پھر ان اداروں میں میرٹ کا قتلِ عام کیسے ممکن ہو سکے گا اور وہ لاکھوں گھوسٹ ملازمین کدھر جائیں گے جنہیں گزشتہ چار دہائیوں میں صرف سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر ان اداروں میں ملازمت دی گئی تھیں۔مگر اس بار عمران خان کی حکومت اور آئی ایم ایف دونوں مل کر پاکستان کے ہر سرکاری ادارے میں عظیم الشان اصلاحات کا آغاز کرسکتے ہیں۔آئی ایم ایف کی تیسری بنیادی شرط معاشی استحکام کو یقینی بنانے کا مطالبہ ہوتا ہے۔ اس لیئے آئی ایم ایف کے ماہرین جو شرائط نامہ قرض کی رقم کے ساتھ قرض خواہوں کے ہاتھ میں تھماتے ہیں اس میں فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے جو معاشی عدم استحکام کو، جس میں بیرونی قرضوں اور اندرونی اخراجات کی ادائیگی وغیرہ شامل ہے، ختم کیا جا سکے۔اپنی اس شرط کی بدولت آئی ایم ایف نے تاریخ میں دنیا کے کئی ممالک کو بحرانوں سے نکالا ہے لیکن پاکستان میں آئی ایم ایف اس لیئے کامیاب نہ ہوسکا کہ گزشتہ چاردہائیوں سے ہمارے حکمران ملکی عدم استحکام میں ہی اپنا سیاسی استحکام تلاش کرتے آئے ہیں یہ پہلا موقع ہوگا کہ عمران خان کی حکومت اور آئی ایم مل کر ایسی معاشی پالیسیاں بنا سکتے ہیں جو مستقبل میں وطنِ عزیز کے لیئے عظیم تر معاشی استحکام کی بنیاد بن سکتیں ہیں۔

آئی ایم ایف کی چوتھی اہم ترین شرط سبسڈی کا خاتمہ اور ٹیکسز کو بڑھانا ہوتا ہے۔گزشتہ حکومتیں ٹیکس نیٹ بڑھانے سے صرف اس لیئے صرفِ نظر کرتی رہیں کہ گزشتہ حکمرانوں کی اکثریت ٹیکس سے اپنے کاروبار کو بچانے کے لیئے ہی تو اقتدار میں آتی ہے اس لیے کیونکر ممکن ہے کہ ٹیکس کا دائرہ کار کو بڑھانے میں اخلاص کا مظاہر ہ کرسکیں۔عمران خان کے لیئے ٹیکس نیٹ کا دائرہ بڑھانا اس لیئے آسان ہو گا کہ عمران خان وطن عزیز میں کوئی کاروباری سلطنت نہیں رکھتے کہ جس کے پھیلاؤ کے لیئے ٹیکس کے ادارہ کو ٹیکس نیٹ بڑھانے سے روکا جانا ضروری ہو،اس لیئے اب کی بار امکان یہ ہی ہے کہ عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف سے معاہدے کے نتیجے میں بجلی اور پٹرول پر نہ صرف سبسڈی مکمل طور پر ختم کردے گی بلکہ بہت آسانی سے اپنے ٹیکس نیٹ کو بھی بڑھالے گی۔ سبسڈی ختم ہونے کی وجہ سے کچھ وقت کے لیئے چیزوں کی قیمت میں اضافہ ہوسکتا ہے مگر اچھی اور اہم ترین بات یہ ہے کہ مستقبل قریب میں عام پاکستانیوں کی ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے مہنگائی کے عفریت سے جان چھوٹ جائے گی۔شایداسی لیئے ایک بار پھر سے سارا پاکستان، ملک کی ناہموار معاشی پچ پر آئی ایم ایف اور عمران خان کے مابین ایک کامیاب ساجھے داری کا شدت سے منتظر ہے۔میچ اپنے آخری مرحلے میں ہے اس سے پہلے نواز شریف تین بار اور پی پی پی قیادت چار بار آئی ایم ایف کا اس ناہموار پچ پر ساتھ دینے میں بُری طرح ناکام ہوکر پویلین لوٹ چکی ہیں اور اس وقت کریز پر آئی ایم ایف کا ساتھ دینے کے لیئے عمران خان آنے والے ہیں۔اُمید ہے کہ 92 کی خوشگوار یادیں ایک بار پھر سے تازہ ہوجائیں گی۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 14 اکتوبر 2018 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں