Imran Khan in PTI Meeting

عمران خان کے سیاسی ہاتھی

تاریخ میں راجہ پورس نام کا ایک انتہائی مشہور و معروف بادشاہ گزرا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ راجہ پورس کی فوجوں کی تعداد پچاس ہزار تھی،جن میں چار ہزارگھڑ سوار اور تیس ہزار پیادے شامل تھے۔ اس کے علاوہ راجہ پورس نے بڑے شوق سے کثیر تعداد میں ہاتھی بھی پالے ہوئے تھے جنہیں جنگ میں استعمال کرنے کے لیئے بھرپور عسکری تربیت بھی فراہم کی جاتی تھی۔راجہ پورس کی فوج میں جنگی تربیت کے حامل ہاتھیوں کی تعداد دو سو سے زائد بتائی جاتی ہے۔ جبکہ اس کی فوج میں تین سو زائد رتھ بھی تھے جنہیں دیگرہاتھیوں کی مدد سے جنگی سازوسامان کی نقل و حمل کے لیئے استعمال کیا جاتا تھا۔راجہ پورس اکثر اپنے درباریوں کو کہا کرتا تھا کہ”جب بھی میری کسی سے لڑائی ہوئی، تو میں ان ہاتھیوں کو جنگ کے میدان میں لڑنے کے لیئے اتاردوں گا اور ان ہاتھیوں کی بدمست طاقت کی بدولت اپنے مخالف پر باآسانی غالب آجاؤں گا، کیونکہ اتنے زیادہ جنگی تربیت کے حامل ہاتھی پورے ہندوستان میں کسی دوسرے راجہ کے پاس نہیں ہیں“۔بظاہر راجہ پورس کی یہ بات اُس زمانہ کے معروضی حالات کے تناظر میں بالکل ٹھیک بھی تھی۔ مگر جب سکندر اعظم کے ساتھ راجہ پورس کی لڑائی ہوئی، تو ارسطو کے ذہین شاگرد نے ایک منفرد جنگی چال چلتے ہوئے اپنے ایک جرنیل کی قیادت میں اپنی فوج کا کچھ حصہ پورس کے سامنے کر دیا اور باقی فوج لے کر ایک اور مقام کی طرف چل پڑا۔ اس سے راجہ پورس نے یہی خیال کیا کہ یونانی فوج کے وہی مٹھی بھر سپاہی ہیں جو اس کے سامنے ہیں لیکن اس کی بے خبری کا فائدہ اٹھا کر سکندر اعظم نے دوسری طرف سے بھرپور حملہ کر دیا۔راجہ پورس نے جب دو طرفہ حملہ کے باعث سکندر اعظم کا پلڑا بھاری ہوتے دیکھا تو اپنے جنگی لشکرکے سب سے اہم ترین ہتھیار ہاتھیوں کو یونانیوں کی طرف ہانک دیا۔دیو ہیکل ہاتھی چیختے چنگاڑتے آگے بڑھنے لگے اور یونانی سپاہیوں کو اپنے پیروں تلے کچلنا شروع کردیا۔ ہاتھیوں کا دل دہلا دینے والا شور و غُل اور بے رحم مار ڈھاڑ نے یونانی سپاہ کی صفوں میں دہشت طاری کر دی۔ قریب تھا کہ یونانی سپاہ شکست ِ فاش سے دوچار ہوجاتی کہ اچانک سکندر اعظم نے جنگ کی بگڑتی صورت حال کو دیکھ کر اپنے آخری تازہ دم دستے کو میدان میں اُتاردیا، جس نے سکندراعظم کے حکم کے مطابق بھاری کلہاڑوں سے ہاتھیوں کے پیروں کو زخمی اور سونڈوں کو تلواروں سے کاٹ دیا جس سے ہاتھی بپھر کے واپس راجہ پورس کی فوجیوں کی طرف ہی پلٹنے لگے اور آن کی آن میں راجہ پورس کے اپنے ہی جنگی لشکر کو ہاتھیوں نے اپنے پیروں تلے بُری طرح روند ڈالا۔اِس جنگ کا آخری نتیجہ یہ حاصل ہواکہ ہاتھیوں کے جس لشکر کو راجہ پورس کی فتح کا ذریعہ بننا تھا، بدمست ہاتھیوں کا وہی لشکر راجہ پورس کی شکست کا بنیادی سبب بن گیا۔

اگر بہ نظر غائر جائزہ لیا جائے تو آج کل وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے حالات بھی کچھ راجہ پورس سے مختلف دکھائی نہیں دیتے، کیونکہ عمران خان نے بھی راجہ پورس کی طرح حکومت میں آنے سے قبل بہت سے ”سیاسی ہاتھیوں“ کو اپنی سیاسی چھتر چھایہ تلے فقط اِس حسنِ نیت اور اعتماد کے ساتھ شامل کیا تھا کہ جب بھی تحریک انصاف کی قسمت میں مسندِ اقتدار آئے گی تو اُن کے یہ انتہائی خاص الخاص ”سیاسی ہاتھی“ اپنی صلاحیتوں سے عوامی مفاد میں وہ فقیدالمثال کارہائے نمایاں انجام دیں گے کہ ایک دنیا انگشت بدنداں رہ جائے گی۔مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ عمران خان کے یہ ”سیاسی ہاتھی“ بھی ماضی کے راجہ پورس کے ہاتھیوں جیسے ہی ثابت ہوئے اور بجائے اپنی صلاحیتوں سے اپوزیشن کی صفوں میں زلزلہ پیدا کرنے کے انہوں نے اپنی بچگانہ سیاسی حرکتوں اور بیانات سے عمران خان کی نوزائیدہ حکومت ِکے ہی درو دیوار ہلانے شروع کردیئے ہیں۔عمران خان کے ”سیاسی ہاتھیوں“کی بدمستیاں یونہی جاری رہیں تو وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے جب تحریک انصاف کی ”تبدیلی حکومت“کی تمام تر کامیابیاں آہستہ آہستہ لوگوں کے اذہان سے فراموش ہونا شروع ہوجائیں گی اور اگر لوگوں کو کچھ یاد رہ جائے گا تو بس یہ کہ کس طرح ایک نیک نام اور پر عزم حکمران جسے قدرت پاکستان جیسے عظیم ملک کے منصبِ اقتدار پر فائز کیاتھا، انتہائی بدقسمتی سے راجہ پورس کی طرح اپنے ہی ”سیاسی ہاتھیوں“ کے پیروں تلے کچلا گیا۔

یاد رہے کہ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے واضح لفظوں میں اعلان کیا تھا کہ”وہ انتخابات جیتنے کے بعد حکومت بنا سکیں یا نہیں لیکن کبھی بھی پاکستان پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ ن سے سیاسی اتحاد نہیں کریں گے کیونکہ یہ دونوں جماعتیں انہیں دورانِ حکومت بار بار سیاسی طور پر بلیک میل کریں گی“۔ حالات کا جبر ملاحظہ ہو کہ عمران خان کل جس سیاسی بلیک میلنگ سے اپنے سیاسی دامن کو داغ دار ہونے سے بچانے کے لیئے زمامِ اقتدار تھامنے سے ہچکچا رہے تھے۔آج اُسی سیاسی بلیک میلنگ کے چھینٹے اُن کی اپنی جماعت کے کچھ رہنماؤں کی طرف سے ہی ایک بار نہیں بلکہ باربار اُن کی طرف اُچھالے جارہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ذاتی سیاسی اختلافات اور رنجشوں کی آڑ میں جس طرح کا معاندانہ رویہ تحریک انصاف کے اہم ترین رہنما ایک دوسرے کے خلاف اپنائے ہوئے ہیں کیا اِسے عمران خان کو بلیک میل کرنا نہیں کہا جائے گا؟۔ہر دوسرے،تیسرے دن تحریک انصاف کا کوئی نہ کوئی اہم ترین رہنما میڈیا کے اُفق پر نمودار ہوکر اپنی ہی جماعت کے ایک دوسرے رہنما یا حکومتی ذمہ دار کے خلاف لفظی گولا باری شروع کردیتا ہے۔طعن و تشنیع کے زہرمیں ڈوبی ہوئی یہ گفتگو اتنا نقصان اِن باہم لڑنے والے ”سیاسی ہاتھیوں“کو نہیں پہنچاتی جتنا نقصان بطور ایک سیاسی رہنما کے عمران خان کی ساکھ کو پہنچاتی ہے۔اب تو عوامی حلقوں میں بھی یہ چہ مہ گوئیاں ہونا شروع ہوگئی ہیں کہ اگر تحریک انصاف کے یہ ”سیاسی ہاتھی“ عمران خان کی بھی ایک نہیں سنتے پھر آخر یہ بدمست ”سیاسی ہاتھی“سنتے کس کی ہیں؟۔سچی بات تو یہ ہے کہ عمران خان کا پرشکوہ ماضی دیکھتے ہوئے کسی نے یہ خواب و خیال میں بھی نہیں سوچا تھا کہ عمران خان وزیراعظم کے اہم ترین منصب پر فائز ہوجانے کے بعد اپنے ہی رہنماؤں کے ہاتھوں آئے روز اِس بُرے طریقے سے بلیک میل ہوں گے۔ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ خان صاحب اپنے ”سیاسی ہاتھیوں“ سے بلیک میل ہونے سے تو کہیں لاکھ درجے بہتر ہے کہ آپ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی سے ہی سیاسی اتحاد فرمالیں کم از کم اِ س طرح آپ اپنے آپ کو تاریخ کے اوراق میں ایک اور راجہ پورس بننے سے تو ضرور بچا ہی لیں گے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 04 اپریل 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں