Some Impotent Works Before Death

موت سے پہلے کرنے کے کچھ کام

بینجمن فرینکلن نے اپنی تصنیف میں ایک جگہ لکھا تھاکہ ”اس دنیا میں موت اور ٹیکس کے سوا کچھ بھی یقینی نہیں کہا جاسکتا۔“ یعنی موت انسانی زندگی کا وہ اہم ترین واقعہ ہے،جسے رونما ہونے سے روک پانا صدیوں سے حضرت انسان کے لیئے ایک کارِمحال اور معمہ بنا رہا ہے۔دلچسپ با ت یہ ہے کہ موت کے فرشتہ کو کبھی بھی اِس سے غرض نہیں رہی کہ اُس کی راہ میں آنے والاشخص ایک ڈاکٹر ہے یاانجینئر، عقلمند ہے یابے وقوف، امیرہے یا غریب،پرہیزگار ہے یا پھر گناہ گار۔حتی کہ موت کے فرشتے نے تو کبھی یہ زحمت بھی گوارہ نہیں کی کہ وہ روح قبض کرنے سے قبل مرنے والے سے ایک بار یہ ہی دریافت کرلے کہ ”آیا،مرنے والا موت کے وجود پر ایمان بھی رکھتا ہے یا نہیں؟“۔ موت کا فرشتہ تکلفات میں نہیں پڑتا،وہ تو بس اپنے مقررہ وقت پر آتا ہے اور انگلی پکڑ کر اپنے مطلوبہ انسان کو اِس جہان فانی سے اُس جہان لافانی کی سمت لے جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ موت ایک ایسی حقیقت ہے،جس کا جلد یا بدیر بہرحال سب کو ہی سامنا کرنا پڑٹا ہے۔ بقول شوق لکھنوی
موت سے کس کو رست گار ی ہے
آج وہ، کل ہماری باری ہے
لیکن موت سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے موت کے لئے تیاری کی ہوئی ہے؟۔اس سوال کے دو ممکنہ جوابات ہوسکتے ہیں پہلا جواب تو ہماری عاقبت اور آخرت سے متعلق ہی ہے،جس کے لیئے یقینا مذہبی فرامین اور تعلیمات کو ہی حرفِ آخر سمجھنا چاہئے جبکہ مو ت کی تیاری کا دوسرا پہلو مرنے والے کے اپنے پیچھے چھوڑ جانے والے دنیاوی اثاثہ جات یعنی ترکہ کی منصفانہ تقسیم سے متعلق ہوسکتا ہے۔ چونکہ آج سے چند دہائیوں پہلے تک مرنے کا والے کا ترکہ صرف زمین، جائیداد اور روپیہ پیسہ تک ہی محدود ہوا کرتا تھا لہٰذا مرحوم کے جملہ لواحقین اُس کی منصفانہ تقسیم کے مسائل، معاشرہ میں رائج قانونی و مذہبی اُصولوں کے تحت باآسانی خود ہی طے کرلیا کرتے تھے۔ مگر دورِ جدید کی تیزرفتارترقی نے انسان کی خانگی زندگی سے منسلک بعض سیاسی،سماجی،معاشی اور قانونی معاملات میں اتنی زیادہ پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں کہ اَب نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ اگر مرنے والا،مرنے سے پہلے کچھ یقینی اُمور کے بارے میں ضروری بندوبست فرماکر اِس جہانِ فانی سے رخصت نہ ہو سکے تو،اُس کے جملہ لواحقین کے لیئے مرحوم کے ترکہ کی منصفانہ تقسیم کے معاملہ کو لے کر ایسے گنجلک مسائل بھی جنم لے لیتے ہیں جنہیں حل کرنا کم و بیش ناممکن ہی ہوجاتاہے۔

یہ بھی پڑھیئے: ایک تھا ریڈیو۔۔۔ ایک ہے ایف ایم ریڈیو

اپنی ڈیجیٹل زندگی کی منصوبہ بندی کریں
چاہے آپ کو اس کا احساس ہو یا نہ ہو، بہرحال یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ دورِ جدید میں آپ کی مادی اور روحانی زندگی سے علحیدہ ایک آن لائن زندگی بھی موجود ہے اوراس ڈیجیٹل زندگی کی تما م تر صورت گری آپ کے دفتر یا گھر میں موجود کمپیوٹر یا پھر آپ کے ہاتھ میں موجود اسمارٹ فون کی مرہونِ منت ہے۔واضح رہے کہ آپ کی ڈیجیٹل زندگی یادگار تصویری البم،ضروری ای میلز،اہم ترین فائلوں اور چند ناقابل فراموش ڈیجیٹل رازوں پر مشتمل ہوسکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گوگل، جی میل،فیس بک اور ٹوئٹر اکاؤنٹس پر بنائے گئے پاس ورڈ کی نازک سی ڈور کے ساتھ آپ کی ڈیجیٹل زندگی کی ہر سانس بندھی ہوتی ہے۔یعنی یہاں آپ اپنا پاس ورڈ بھولے اور وہاں آپ کی کسی سوشل میڈیااکاؤنٹ پر”ڈیجیٹل زندگی“ جاں بلب ہونے لگی۔ بادی النظر میں دیکھا جائے تو ہر انسان کی ڈیجیٹل زندگی بھی ایک”آن لائن اثاثہ“ہے جو اُس انسان کے مرنے کے بعد دنیائے انٹرنیٹ پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے محفوظ رہ جاتاہے۔ لیکن مرنے والے کے لواحقین اِس ڈیجیٹل اثاثے تک اُس وقت تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ وہ ڈیجیٹل زندگی کی سانسیں یعنی پاس ورڈ کو نہ جانتے ہوں۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی ڈیجیٹل زندگی کے اثاثے سے بھی آپ کے پیارے مستفید ہوں تو پھر یہ لازم ہے کہ اپنی ڈیجیٹل زندگی کے تحفظ کے لیئے ابھی سی ضروری اقدمات کرلیں۔ مثال کے طورپر اپنے ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے پاس ورڈ کسی ڈائری میں لکھ کر گھر میں محفوظ جگہ رکھ دیں یا پھر بعض ڈیجیٹل کمپنیوں کی جانب سے اس ضمن میں فراہم کی جانے والی خصوصی سہولت سے استفادہ فرمائیں۔

خوش قسمتی سے دنیائے انٹرنیٹ کی سب سے بڑی ٹیک کمپنی گوگل اپنے صارفین کو یہ سہولت مہیا کرتی ہے کہ آپ، اپنے گوگل اکاؤنٹ کے لیئے کسی ایک شخص کو نامزد کرکے اُس تک گوگل کو مستقبل میں رسائی کی ہدایات دے سکتے ہیں۔ جس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ گوگل کے کسی بھی اکاؤنٹ پر کسی خاص مدت تک لاگ آن نہیں ہوتے تو گوگل خود کار انداز میں آپ کے نامزد کردہ شخص کو آپ کے گوگل کے تمام اکاؤنٹس مثلاًجی میل،گوگل فوٹو، جی ڈرائیووغیرہ تک محفوظ رسائی فراہم کردے گا۔نیز آپ اس حوالے سے کوئی اچھا سا پاس ورڈ منیجر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ کئی طرح کے پاس ورڈ منیجر مفت میں بھی دستیاب ہیں،جن کی مدد سے آپ بے شمار سافٹ وئیرز،موبائل اپلی کیشنز اور سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر بنائے گئے پاس ورڈ ز کوباآسانی محفوظ کرسکتے ہیں۔

اعضاء کے عطیہ کے بارے میں فیصلہ کریں
رواں برس برطانیہ میں انسانی اعضا ء کو لازمی عطیہ کرنے کا ایک قانون پاس کیا گیا ہے جس کا اطلاق صرف اُن لوگوں پر نہیں کیا جائے گا جو مرنے سے قبل یہ تحریری وصیت کرجائیں گے کہ ان کے اعضا ء نہ لیئے جائیں۔ یعنی اَب برطانیہ میں رہنے والے ہر شخص پر یہ لازم ہوگیا ہے کہ وہ مرنے سے قبل اپنے اعضاء کے عطیہ کے متعلق ضرور کوئی نہ کوئی فیصلہ کرلے، بصورت دیگر اُس کے اعضاء از خود برطانیہ کے طبی اداروں کو”اعضاء کی پیوندکاری“ کے لیئے عطیہ ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ انسانی جسم پر مختلف امراض کا حملہ ہونے کی صورت میں بعض اوقات اس کے نتیجہ میں جسم کا کوئی عضو ناکارہ ہوجاتا ہے تو، جدید طبی سائنس کے طفیل اسے تبدیل کر کے کسی دوسرے انسان کا عطیہ کردہ عضو لگا کر مریض کی زندگی کو بچالیا جاتاہے۔اعضاء کی تبدیلی کے اس عمل کو ”اعضاء کی پیوند کاری“ کے نام سے موسوم کیا جاتاہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں مختلف اعضاء کے ناکارہ ہوجانے کے باعث ہر سال تقریباً 50 ہزار افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔جبکہ اس وقت ملک میں 25 ہزار مریضوں کو گُردوں، ایک لاکھ مریضوں کو جگر، سات ہزار کو دل اور دو ہزار مریضوں کو پِتے کی پیوندکاری کی اشد ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ کسی بھی شخص کی موت کے بعد اس کے جو اعضاء عام طور پر پیوندکاری کے کام آتے ہیں وہ آنکھیں، دل، پھیپھڑے، گُردے، پِتہ، جگر اور آنتیں ہیں۔ 2010ء میں حکومت پاکستان نے ایک قانون سازی کے تحت صرف منظور شدہ بڑے اسپتالوں کو ہی عطیہ شدہ اعضاء کی پیوندکاری کی اجازت دی ہے اور غیر قانونی طور پر اعضاء کی خرید و فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت سزائیں تجویز کی ہیں۔نیز دین اسلام میں بھی اپنی حیات میں یا بعد از مرگ اعضاء کو عطیہ کرنے کی وصیت کے مسئلے پر فقہاء کرام کے دو طبقہ ہائے فکر پائے جاتے ہیں۔ ایک طبقہ فکر انسانی اعضاء کی پیوند کاری کو مطلقاً ناجائز قرار دیتا ہے، جبکہ دوسرے اہل الرائے طبقہ کے نزدیک انسانی اعضا ء کا عطیہ مطلقاً تو جائز نہیں لیکن درج ذیل چند شرائط کے ساتھ اعضاء عطیہ کیئے جاسکتے ہیں۔اول، اگر قابل ڈاکٹر حضرات کے نزدیک اعضاء کی پیوندکاری کے سوا مریض کا کوئی دوسرا علاج ممکن نہ ہواور طبی ماہرین کوغالب گمان ہو کہ اس عضو کی منتقلی سے مریض کو شفا حاصل ہوجائے گی۔دوم،کسی مسلمان کا کوئی عضو کسی کافر کو اور کسی کافر کا عضو مسلمان کو عطیہ نہ کیا جائے۔سوم اور سب سے اہم ترین شرط یہ ہے کہ اعضاء بغیر کسی قیمت کے عطیہ کیئے جائیں۔اس کے علاوہ اگر کسی زندہ انسان سے عضو کا عطیہ لیا جارہا ہو تو بہرصورت اطمینان کر لیاجائے کہ عطیہ کنندہ شخص کو اپنے عضو کے عطیہ کے بعد طبعی زندگی کو کوئی بڑا نقصان پہنچنے کا خطرہ نہ لاحق ہو اور صرف وہی عضو عطیہ کیا جائے جس کے متعلق طبی ماہرین نے طے کردیا ہو کہ اس عضو کا جسم کے اندر رہنا ضروری نہیں اور اس کے بغیر بھی بقیہ زندگی معمول کے مطابق بآسانی بسر کی جاسکتی ہے۔

ایک آخری پیغام،اپنے پیاروں کے نام ضرور لکھیں
گزشتہ دنوں امریکا میں 32 سالہ جوناتھن نامی ایک شخص کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوگیا تھا۔ جس کی موت کے کچھ عرصہ بعد اُس شخص کی اہلیہ کیٹی کو اپنے شوہر کے موبائل سے پیار بھرا آخری پیغام موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ ”’کیٹی میں تُم سے اور اپنے بچوں سے بہت پیار کرتا ہوں اور تُم نے مجھے وہ بہترین زندگی دی جس کا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔میں اپنے دونوں بچوں براڈین اور پینی کا والد ہونے پر اور تمہارا شوہر ہونے پر فخر محسوس کرتا ہوں، کیٹی تُم میری زندگی کی سب سے خوبصورت اور دیکھ بھال کرنے والی خاتون ہو۔یہ بات سچ ہے کہ میں نے تمہارے ساتھ خوشیوں بھری زندگی بسر کی ہے اور تُم ہمارے بچوں کے لیے بھی ایک بہترین ماں ثابت ہوئی ہو۔میرے بیٹے براڈین کو بتانا کہ وہ اپنے والد کا سب سے اچھا پھول ہے اور میری بیٹی کو بتانا کہ وہ ایک شہزادی ہے اور ہمارے بچے زندگی میں جو کچھ بھی کرنا چاہیں اُن کو وہ کرنے دینا۔اگر تمہیں زندگی میں کبھی کوئی ملے اور وہ تم سے محبت کرنے کے ساتھ ہی ہمارے بچوں سے بھی محبت کرے تو تُم اُس کا ہاتھ تھام لینا۔ہمیشہ خوش رہنا،چاہے کچھ بھی ہوجائے“۔ہمارے خیال میں پنے پیاروں کے نام تشکر سے بھرپور آخری پیغام لکھ کر یا وائس اور ویڈیو میسج کی صورت میں اس اچھی نیت سے محفوظ کر کے رکھنا کہ بعد از مرگ آپ کے پیارے اس پیغام کو سماعت یا ملاحظہ فرماسکیں گے۔ آخر اس مستحسن کام میں مضائقہ ہی کیا ہے۔ اس طرح وہ سب کچھ اپنے پیاروں کے گوش گذار کر سکتے ہیں کہ جو اُن کے دو بدو کہنے سے آپ ہچکچاہٹ یا جھجھک کا شکارہوں۔ آج کل اس سلسلہ میں کئی موبائل اپلی کیشن اور سافٹ وئیر بھی دستیاب ہیں جن کی مدد سے آپ اپنے ویڈیویا آڈیو پیغامات ریکارڈ کر کے ایک ماسٹر فائل میں محفوظ کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کام نہیں، صرف نام بدلیں

اپنی سرگزشت قلم بند کریں
جدید طبی سائنس کے مطابق الزائمر(Alzheimer’s) جسے اردو زبان میں نسیان بھی کہا جاتاہے، ایک ایسا دماغی مرض ہے، جو کم و بیش ہر انسان کو عمررسیدگی میں ضرور لاحق ہوجاتا ہے۔اس مرض میں انسان حال کے واقعات تو بھولنے لگتا ہے جبکہ اسے ماضی کے پرانے واقعات تفصیلات کے ساتھ یاد آنے لگتے ہیں۔ اس مرض کے ہی طفیل ہمارے اردگرد افراد اکثر افراد یہ تو بتانے میں شدید مشکل محسوس کرتے ہیں کہ انہوں صبح ناشتے میں کیا کھایا تھا؟ لیکن یہ بزرگ اپنا بچپن،لڑکپن اور جوانی کا ہر واقعہ پوری تفصیل اور باریک سے باریک جزیات کے ساتھ ایسے فر فر سنانے لگتے ہیں کہ سننے والا اُن کی یادداشت اور حافظہ پر رشک کرنے لگتاہے۔کیا آپ نے کبھی تفکر کیاہے کہ آخر قدرت کاملہ! بڑھتی عمر میں ہر شخص کے دماغ میں یہ عجیب و غریب خلل کیوں پیدا کردیتی ہے؟۔ اس متعلق لوگ کچھ بھی کہتے ہوں لیکن ہمارا وجدان تویہ سرگوشی کرتا ہے کہ قدرت کے نزدیک ہر عمررسیدہ فرد میں اس مرض کو پیدا کرنے کا بنیادی مقصد وحید یہ ہے کہ انسان اپنے برسوں کے تجربات،مشاہدات،کیفیات اور واردات سے اپنی نئی نسل کو آگاہی فراہم کرے۔اس لیئے ہماری گزارش ہے کہ اگر آپ بھی عمر کی اِس منزل میں ہیں تو برائے مہربانی اپنے مشاہدات اور تجربات کو ضرور قلم بند کریں۔

اَب یہ عذر مت پیش کر دیجئے گا کہ آپ بیتیاں،جگ بیتیاں لکھنا تو فقط شاعر،ادیب،فلسفی اور دانشوروں کا ہی کام ہے۔ یقین مانیے اگر آپ کا یہ جواز درست ہوتا تو قدرت صرف مشاہیر کو ہی نسیان کے مرض میں مبتلاکرتی۔ جبکہ ہر عمر رسیدہ بزرگ کا اِس مرض میں مبتلا ہو جانا اشارہ کرتا ہے کہ کائنات کا خالق اس کرہ ارض پر اپنی عمر عزیز کا ایک طویل عرصہ گزارنے والے ہر فرد سے اُمید رکھتاہے کہ وہ اپنے سفر زیست کی اونچ،نیچ سے اپنے بچوں کو ضرور آگاہ کرے گا۔ زیادہ نہیں تو آپ گنتی کے چند صفحات پر صرف یہ ہی لکھ دیجئے کہ آپ کے تجربہ و مشاہدہ کے مطابق خاندان میں اچھے اور قابلِ اعتماد افراد کون ہیں؟۔ مشکل کی گھڑی میں کن دوست و احباب سے مدد طلب کی جاسکتی ہے؟۔ اچھا مشورہ اور سیکھ کن کی صحبت میں رہنے سے مل سکتی ہے؟۔قابلِ مطالعہ کتابوں کے نام لکھ دیجئے۔ اپنی متاثر کن جگہوں اور شہروں کی بابت بتا دیجئے۔زندگی کے نشیب و فرازسے کشید کیئے گئے کچھ سچے اور سبق آموز واقعات لکھ دیں۔ کبھی نہ دہرانے والی غلطیوں کی چھوٹی سی فہرست مرتب کردیں۔زندگی کے سفر میں اختیار کئے گئے اپنے زریں اُصولوں سے اپنے بچوں کو روشناس کرادیں۔

حوالہ: یہ مضمون سب سےپہلے روزنامہ جنگ سنڈے میگزین میں 04 اکتوبر 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں