IG Sindh Kaleem Imam

آئی جی سندھ کی تبدیلی کا تنازعہ کب حل ہوگا؟

آج کل سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے مابین آئی جی سندھ پولیس جناب کلیم امام کے تبادلے کے تنازعہ پر زبردست قسم کی سرد جنگ کاما حول بنا ہواہے۔ بظاہردونوں فریقوں کے سرکاری ترجمانوں کی جانب سے تاثر تو یہ ہی دیا جارہا ہے کہ سندھ اور وفاق کے درمیان آئی جی سندھ پولیس کی تبدیلی سے متعلق تصفیہ طلب تمام معاملات بالا ہی بالا بحسن و خوبی طے پاگئے ہیں۔لیکن اِس کے باوجو د بھی تبادلے کی اِس دال میں کچھ تو ایسا کالا ضرور موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ تنازعہ فوری طور پر حل ہونے کے بجائے روز بہ روز طول پکڑتا جارہاہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں طرف سے سیاسی بیانات میں تلخیوں کی شدت بھی بڑھتی جارہی ہے۔ جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے بھی اِ س معاملے سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سندھ حکومت کے جاری کردہ آئی سندھ کلیم امام کے تبادلہ کا سرکاری حکمنامہ تا حکم ثانی عاضی طور پر ہی سہی بہرحال معطل کردیا ہے۔یعنی اَب سندھ حکومت کو اِس معاملے پر وفاقی حکومت کے ساتھ سیاسی جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ، سندھ ہائی کورٹ کو بھی قانونی طور پر مطمئن کرنا پڑے گا کہ وہ آئی جی سندھ کے تبادلے کا سرکاری حکم نامہ جاری کرنے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں۔

بادی النظر میں دیکھا جائے تو کسی بھی صوبائی حکومت کے لیئے آئی جی سندھ کو تبدیل کرنا کوئی ایسا پُر خطر انتظامی کام نہیں ہونا چاہئے کہ جس کو کرتے کرتے صوبائی حکومت ہی حا ل سے بے حال ہوجائے۔ مگر سندھ میں گزشتہ کئی برسوں سے ایسا ہی ہوتا آرہا ہے اور جب بھی سندھ حکومت آئی جی سندھ کو تبدیل کرنے کا سوچتی ہے،سندھ کی سیاست میں ایک اُبال سا پیدا ہونا شروع ہوجاتاہے اور دیکھتے دیکھتے ایک سیدھا سادا سا انتظامی معاملہ سیاست کی بھینٹ چڑھنے لگتا ہے۔زیادہ پرانی بات نہیں ہے کچھ عرصہ پہلے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے تبادلہ کے وقت بھی یہ ہی سب کچھ ہوا اور اُن کے تبادلے کا تنازعہ بھی اتنا طو ل پکڑ گیا تھا کہ اِس کو حل کرنے میں سندھ حکومت کے کئی ماہ صرف ہوگئے تھے۔ اَب ایک بار پھر جیسے ہی آئی سندھ کلیم امام کو تبدیل کرنے سے متعلق سندھ حکومت نے قانون سازی کی ہے تب سے لے کر اَب تک کوئی دسویں پریس کانفرنسیں ہیں جو سندھ حکومت کے ترجمانوں،مشیروں یا وزراء کو کرنے پڑ گئی ہیں۔قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ ان بیانات اور پریس کانفرنسوں میں آئی سندھ پولیس جناب کلیم امام سے متعلق جس طرح کی الزامی گفتگو باربار دہرائی گئی ہے،اُس گفتگو کو کسی صورت بھی ایک درست جمہوری طرزِ تخاطب کا آئینہ دار نہیں قرار دیا جاسکتا۔صوبہ کے ایک سب سے بڑے انتظامی ادارے کے سربراہ پر سرِ عام میڈیا پر الزامات و شکایات کی بوچھاڑ کردینے سے نہ صرف اُس ادارے کے اندر کام کرنے والے ملازمین کے مورال پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے بلکہ سیدھے سادے انتظامی معاملات بھی شکوک شبہات کا شکار ہوکر بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔



ہماری ناقص رائے میں اگر سندھ حکومت آئی جی سندھ جناب کلیم امام کی تبدیلی پر اعلانیہ قانون سازی کرنے سے پہلے وفاقی حکومت کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ سمجھاتی کہ اُصولی طور پرآئی جی سندھ کی تبدیلی ہمارا حق بنتا ہے اور دلیل کے طور پر اُنہیں یہ بھی بتاتی کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے مختصر سے عرصہ میں صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں چارچار، پانچ پانچ بار آئی جیز کی تبدیلیاں عمل میں آچکی ہیں۔لہٰذا ہمارے صوبائی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے آئی جی سندھ کی تبدیلی میں ہمارے موقف کی تائید کی جائے۔ اگر سندھ حکومت،وفاقی حکومت کے ساتھ اندرونِ خانہ سلسلہ جنبانی قائم کرتی تو غالب امکان یہ ہی تھا کہ یہ مسئلہ چند منٹو ں میں باآسانی حل کیا جاسکتا تھا۔ لیکن سندھ ہائی کورٹ میں اِس معاملے کے چلے جانے سے انتظامی نوعیت کا معاملہ مکمل طور پر قانونی مسئلہ بن گیا ہے اور لگتا یہ ہی ہے کہ قانونی لحاظ سے سندھ حکومت کا کیس بہت کمزور ہے کیونکہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے تبادلہ کے مسئلے پر سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ پہلے ہی ہائی کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے سندھ پولیس قانون سے متعلق دو اُصول ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے وضع کردیئے تھے۔ پہلا اصول یہ تھا کہ پی ایس پی (پولیس سروس آف پاکستان) رولز میں کوئی صوبہ یک طر فہ تبدیلی نہیں کرسکتا۔ دوسرا اصول یہ تھا کہ وفاق اور صوبوں کے مابین آئی جی کی تعیناتی کے لیے 1993ء میں ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی۔ اس معاہدے میں طے کیا گیا تھا آئی جی کی تعیناتی وفاق اور صوبے کی مشاورت سے ہو گی۔عدالت عظمی نے کہا پی ایس پی رولز اور 1993 ء کے اس معاہدے کو اٹھارویں ترمیم کے باوجود آئین کے آرٹیکل 240 کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ یعنی اب یہ مسلمہ اصول بن گیا ہے کہ آئی جی کی تعیناتی وفاق اور صوبے کی مشاورت سے ہو گی۔وہ اپنی مدت پوری کرے گا اور اس دوران بغیر کوئی وجہ بتائے اور اس وجہ پر وفاق کو اعتماد میں لیے بغیر صوبائی حکومت آئی جی کو اپنے صوبائی قانون میں ترمیم کرکے بھی نہیں ہٹا سکتی۔یہ انتظام پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔اس قانونی اصول کو مدنظر رکھا جائے تو سندھ حکومت بغیر وفاقی حکومت کی مرضی کے آئی جی سندھ پولیس کو تبدیل کرنے کا حکمنامہ بھی جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔

بہرحال وفاق اور سندھ حکومت کو باہمی طورپر کسی ایسے فارمولے پر اتفاق کر لینا چاہئے جس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے آئی جی سندھ کے تقررو تبادلے کا مسئلہ حل سکے۔ تاکہ سیدھے سادے نتظامی معاملات کو بلاوجہ غیر ضروری قانونی تنازعات میں تبدیل ہونے سے بچایا جاسکے۔ اگر جلد ہی اِس تنازعہ کا کوئی دیرپا،قابلِ قبول اور مستقل حل نہیں نکالا گیا تو اِس قسم کے متنازعہ فی سیاسی معاملات کے پاکستانی سیاست اور ملک کے انتظامی اداروں پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 30 جنوری 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں