Sufi Barkat Ali

تاجدارِ دارالاحسان حضرت صوفی محمد برکت لدھیانویؒ

دورِ حاضر کی عظیم ہستی حضرت ابو انیس صوفی محمد برکت علی لدھیانویؒ ؒ مادر زاد ولی تھے۔ ملک کے اندر و باہر دین کی تبلیغ اور خدمت کے جو کارہائے نمایاں اس عظیم درویش نے انجام دیئے، وہ کسی عام آدمی کے بس میں ہو نہیں سکتے۔ انہوں نے دین کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کے لئے جو انداز اپنایا، وہ انہی کا کارنامہ ہوسکتا ہے۔ تاجدارِ دارالاحسان حضرت صوفی محمد برکت علی لدھیانویؒ 1911 ء کو موضع برہمی ضلع لدھیانہ (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد گرامی کا اسم مبارک حضرت میاں نگاہی بخش تھا۔ آپؒ نے اپنے وقت کے معروف بزرگ شاہِ ولایت حضرت شیخ سید امیر الحسن سہارنپوریؒ کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ آپؒ نے19 اپریل1930ء کو فوج میں شمولیت اختیار کر لیا۔ 1923ء میں آپؒ انڈین ملٹری اکیڈمی کے وائی کیڈٹ منتخب ہوگئے۔ کور کمانڈر جنرل وِچ، آپؒ کی شخصیت سے بے حد متاثر تھے اور وہ آپؒ کی تقلید میں رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں کچھ نہ کھاتے پیتے تھے۔ فوجی ملازمت کے دوران آپؒ اپنے فرائض سے فارغ ہو کر اکثر و بیشتر کلیر شریف میں حضرت علاؤ الدین علی احمد صابرؒ کے مزارِ پُر انوار پر حاضری دیتے اور وہاں ساری ساری رات مجاہدہ میں گزار دیتے۔ جوں جوں آپؒ کا سینہ صابری مے سے لبریز ہوتا گیا۔ آپؒ کی حالت روز بروز بدلتی گئی۔ بالآخر آپؒ نے 22 جون1945ء کو فوج سے استعفیٰ دے دیا۔ اس وقت جنگ عظیم جاری تھی اور اس نازک وقت میں آرمی سے استعفیٰ برٹش حکومت سے غداری کے مترادف تھا، جس کی سزا کالا پانی، عمر قید یا پھانسی تھی۔ ابتداء میں برٹش حکومت کی طرف سے آپ کو فیصلہ تبدیل کرنے کے لئے طرح طرح کے لالچ دئیے گئے، لیکن جب آپؒ ان کے دام میں نہ آئے تو آپؒ کو زہر دے دیا گیا۔ خدا کی قدرت کہ آپؒ کو ایک قے آئی، جس سے زہر خارج ہوگیا۔ بعد ازاں آپؒ کو کورٹ مارشل میں بھی باعزت بری کر دیا گیا۔ فوجی وردی اتارنے کے بعد آپؒ نے عہد کیا کہ باقی زندگی خدمتِ خلق میں صرف کروں گا۔قیامِ پاکستان کے بعد آپؒ نے کچھ عرصہ گجرات میں قیام کرنے کے بعد حافظ آباد کے قصبہ سکھیکی میں کیمپ لگایا اور یہاں ایک سال تک مقیم رہے۔ بعد ازاں آپؒ نے سالار والاکو اپنی دینی، تبلیغی و رفاعی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جو جلد دنیائے اسلام میں دارالاحسان کے نام سے مشہور ہوگیا۔ اس مقام پر آپؒ نے ایک خوبصورت مسجد، دو چھوٹی مساجد ایک دینی درسگاہ۔ قرآن کریم محل، مینار بیاد اصحاب بدرؓ اور ایک بہت بڑا فری ہسپتال قائم کیا۔ جہاں ہزارہا مریضوں کو نہ صرف علاج معالجہ کی مفت سہولتیں فراہم کی جاتیں، بلکہ ان کے خورد و نوش کا بھی اہتمام کیا جاتا اور اس کے معاوضہ میں ایک پیسہ تک وصول نہ کیا جاتا۔ اس طرح دارالاحسان میں روحانی علاج کے ساتھ ساتھ جسمانی علاج بھی کیا جاتا۔1984ء میں باواجی سرکار فیصل آباد کے قریب دسوھہ سمندری روڈ پر تشریف لے گئے۔ اس مقام کو المستفیض دارالاحسان سے منسوب کیا گیا۔ یہاں بھی آپؒ نے ایک خوبصورت قرآن کریم محل اور ایک بہت بڑا فری ہسپتال قائم کیا۔ حضرت صوفی محمد برکت علی لدھیانویؒ ایک انقلاب آفریں شخصیت تھے، جنہوں نے خانقاہی نظام کو ایک نئی جہت دے کر اسے ترو تازگی بخشی۔ آپؒ نے عام سجادہ نشینوں کے برعکس کچی جھونپڑیوں میں ڈیرہ جما کر نہ صرف لاکھوں انسانوں کی کایا پلٹ ڈالی، بلکہ عمل و کردار کا ایسا انمول نمونہ پیش کیا، جس کے تذکرے رہتی دنیا تک ہوتے رہیں گے۔ وقت کے بڑے بڑے امراء، رُؤسا، شہنشاہ اور وزراء آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوتے، لیکن کسی کو آپؒ کے آگے دم مارنے کی ہمت نہ ہوتی۔ حضرت صوفی محمد برکت علی لدھیانویؒ ہر کسی کا عطیہ قبول نہیں کرتے تھے اور جو رقم لیتے وہ شام تک خرچ کرکے حساب بے باک کردیتے تھے۔ ان کے دور کے آمد و خرچ کے رجسٹر اس امر کے گواہ ہیں۔ بڑے بڑے حکمران، وزراء لاکھوں روپے جیبوں میں لے کر آپؒ کے حضور پیش کرنے کے لئے کھڑے ہوتے، لیکن آپؒ بے نیازی سے انہیں جواب دیتے ہوئے ایک پائی بھی قبول نہ کرتے اور فرماتے کہ جس خدائے بزرگ و برتر کی میں ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہوں۔ اُسی میرے مالک نے اس نظام کو چلانے کا بندوبست کر رکھا ہے۔ امریکہ کے ایک رفاعی ادارہ نے 1992ء میں آپؒ کو 5 ارب روپے سے زیادہ مالی پیش کش کی، مگر آپؒ نے اسے بھی قبول نہ کیا۔ حضرت صوفی محمد برکت علی لدھیانویؒ نے عمر بھر اس اصول پر مداومت فرمائی کہ آج کا مال آج ہی ختم ہو۔ کل کی روزی کل ملے گی۔ نیز فرماتے کہ ہماری روزی پرندوں کی طرح ہے جو صبح گھونسلوں سے بھوکے اٹھتے ہیں، لیکن شام کو سیر ہو کر لوٹا کرتے ہیں۔
باباجی سرکارؒ کے مرکز طریقت میں جن مشہور و معروف لوگوں نے حاضری دی، اُن میں پاکستان کے سابق صدر جناب محمد رفیق تارڑ، وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف، سابق وزیراعظم پاکستان ملک معراج خالد، ملک غلام مصطفی کھر، سابق وفاقی وزیر حفیظ اللہ چیمہ، سابق وفاقی وزیر مولانا کوثر نیازی مرحوم، ڈاکٹر انور سدید، محترمہ بشریٰ رحمن، اشفاق احمد، ڈاکٹر طاہر القادری، عنایت حسین بھٹی، مسٹر جسٹس محمد عارف چوہدری، جسٹس ریٹائرڈ سردار محمد اقبال، جسٹس خواجہ محمد شریف، عدالت عالیہ کے کئی دیگر جج و وکلاء حضرات بھی حضرت باباجیؒ کے عقیدت مندوں میں شامل ہیں۔تاجدارِ دارالاحسان نے تین سو سے زائد کتب و رسائل تصنیف کیں، جن میں مکشوفات منازلِ احسان، مقالات حکمت، ترتیب شریعت اور اسم النبی الکریم بھی شامل ہیں۔ ترتیب شریعت آپؒ نے قریباً40 برس کی محنت پیہم کے بعد تصنیف کی۔ آج یہ کتاب مدینہ یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے۔آپؒ نے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا، جن میں زیادہ تر تعداد خانہ بدوشوں کی ہے۔حضرت صوفی برکت علی رحمتہ اللہ کی ایک ویڈیو کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں حضور فرما رہے ہیں کہ مستقبل میں پاکستان کی ”ہاں“ اور ”ناں“ سے دنیا کی قسمت کے فیصلے ہوا کریں گے۔ صوفی برکت علی رحمتہ اللہ غالباً کسی کے استفسار پر یہ بات کہہ رہے ہیں وہ رک کر دوبارہ اپنی بات اس طرح دھراتے ہیں۔ ”ایک دیوانہ ادھر زور زور سے پکار رہا تھا اور کہہ رہا تھا… میں نے اپنا حق ادا کر دیا۔“ تکرار سے آپ یہ بات دھرا کر وہاں موجود اپنے مریدین کو ”سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم“ پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں کچھ اور کہنے کے لیے دم بھر کے لیے رکتے ہیں اور واپس لوٹ جاتے ہیں۔ اس منظر کے ہزاروں گواہ دنیا میں موجود ہیں۔ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ وہ وقت آنے والا ہے عین ممکن ہے اپنی زندگی میں ہم یہ کچھ ہوتا دیکھ لیں۔ اللہ والوں کی باتیں خصوصاً جس کیفیت میں صوفی صاحب رحمتہ اللہ یہ بات کہتے دکھائی دے رہے ہیں اپنے اندر بھید اور اسرار تو رکھتی ہیں لیکن اللہ ان کے کہے کی شرم ضرور رکھتا ہے۔27 اپریل 2013ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان کے اس مشہور قلم کاروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹوں کی سیریز کا ایک ڈاک ٹکٹ نامور عالم دین صوفی برکت علی کی یاد میں جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پرصوفی برکت علی کی ایک خوش نما تصویر موجود تھی۔ آٹھ روپے مالیت کا یہ ڈاک ٹکٹ عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھااوراس پر انگریزی میں MEN OF LETTERS اور 1911-1997 SUFI BARKAT ALI کے الفاظ تحریر تھے۔آپ ؒ85سال کی عمر میں 16 رمضان المبارک بمطابق 5 جنوری 1997ء کو وفات پا گئے۔آپؒ کا سالانہ عرس مبارک ہر سال16 رمضان المبارک کو المستفیض دارالاحسان سمندری روڈ فیصل آباد میں منایا جاتا ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 31 مئی 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں