Hazrat Sachal Sarmast Sufi

حضرت سچل سرمست

سندھ کی دھرتی میں ایک عجیب سی دلکش روحانیت رچی بسی ہوئی ہے کہ بے شمار صوفیوں نے نہ صرف یہاں جنم لیا بلکہ بہت سے بزرگانِ دین تو ایسے بھی تھے کہ جوصدیوں پہلے اپنے وطن ِ مالوف سے ہجرت کر کے یہاں کھنچے چلے آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔وحدت الوجود صوفیاء کے سردار اور سرخیل حافظ عبدالوہاب فاروقی المعروف ”سچل سرمستؒ “بھی ایسے ہی صوفی بزرگ شاعر ہیں جنہوں نے نہ صرف سندھ کی زمین پراپنے مبارک قدم رنجا فرماکر سندھ کی سرزمین کو افتخار و اعزاز بخشا بلکہ آخری سانس بھی اسی سرزمین پر لی۔سندھ کی تاریخ حضرت سچل سرمستؒ کے تذکرے کے بغیر نامکمل اور ادھوری ہے۔ سچل سرمستؒ کی پیدائش 1739 ؁ء میں سندھ کی سابق ریاست خیر پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں درازہ شریف میں ہوئی ان کی صاف گوئی دیکھ کر لوگ انہیں ”سچل“ یعنی سچ بولنے والا کہنے لگے بعد میں ان کی شاعری کے باغیانہ شعلوں کی بلندی دیکھ کر انہیں ”سرمست“ بھی کہا جانے لگا۔ان کا کلام سات مختلف زبانوں (سندھی، عربی، فارسی بلوچی، سرائیکی،پنجابی اور اُردو)میں ملتا ہے جس کی وجہ سے انہیں ”ہفت زبان صوفی شاعر“ بھی کہا جاتا ہے۔مگر ان کا زیادہ تر کلام سرائیکی اور سندھی زبانوں پر مشتمل ہے۔

سچل سرمست ؒنے اپنی حیات مبارکہ کے پہلے 44 سال کلہوڑو خاندان کی حکمرانی والے سندھ میں اور بعد کے 46 سال میروں کے دورِ حکومت میں گزارے۔اس تمام عرصے میں سندھ کے سیاسی حالات انتہائی خراب اور دگرگوں تھے، ہر طرف بدامنی،مذہبی منافرت،عیش و عشرت اور ظلم و جبر کا دور دوراں تھا۔آپؒ نے اپنے دور کی تمام سماجی و معاشرتی برائیوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔آپؒ ایک بے باک صوفی شاعر تھے آپ نے فرسودہ رسومات کے خلاف لکھا اور دین کے تنگ نظر اور منافرت والے نظریوں کا پرچار کرنے والے لوگوں کو ببانگِ دہل رد کیا۔سچل سرمست ؒنے اپنی شاعری میں عشق ِ حقیقی کو بنیادی موضوع کے طور پر اُجاگر کیا، اسی لیئے آپ ؒنے اپنے امن و محبت کے عظیم آفاقی پیغام کی ترویج و اشاعت کے لیئے تاریخی داستانوں کا سہارا بھی لیا۔ہیر،سسی،مومل،نوری،جام تماچی اور دیگر تاریخی کرداروں کے بھیس میں آپ نے اپنے ارد گرد کے حالات و مسائل کی نہ صرف درست منظر کشی کی بلکہ ان کا تدارک بھی پیش کیا۔آپؒ نے حقیقی انسانی عظمت کی اہمیت کو فروغ دے کر بے تعصبی اور عدم تشدد کی تعلیم دی آپؒ ایک جگہ فرماتے ہیں۔
نا میں سنی، نا میں شیعہ، نا میں سید سداواں
نا میں مرید، نامیں پیر، سارے فقر کا فقیر
نامیں حاکم، نامیں ظالم، میں ہوں امن کا سفیر
اس بار عظیم المرتبت صوفی بزرگ شاعرحضرت سچل سرمستؒ کے196 ویں عرس کودرازہ شریف میں لاکھوں مریدین اور زائرین کے جلو میں حسب راویت عظیم الشان انداز میں منایا گیا۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے عرس کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز مزارشریف پر چادر چڑھا کر کیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر صنعت و تجارت منظور وسان اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میتھرو،صوبائی وزیر اوقاف سید غلام شاہ جیلانی اور درگاہ حضرت سچل سرمستؒ کے گدی نشین خواجہ عبدالحئی فاروقی سوئم بھی شریک تھے۔درگاہ کے صحن میں وزیر اعلی نے مستحق اور غربا میں محکمہ اوقاف کی جانب سے کپڑے اور دیگر سامان تقسیم کیا اور ساتھ ہی صوفی یونیورسٹی بھٹ شاہ کا کیمپس درازہ شریف میں کھولنے،سچل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی تشکیل،سولر پارک،میلہ گراوٗنڈ،نمائش ہال اور درگاہ سے متعلق دیگر پروگرام جلد از جلد ہنگامی بنیادوں پرشروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔اس موقع پر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سچل یادگار کمیٹی کی جانب سے شائع ہونے والے سچل سوونیئر کی رونمائی بھی کی۔جبکہ مختلف شعبہ ئ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو یادگاری شیلڈز اور سچل ایوارڈ زبھی دیئے۔حضرت سچل سرمستؒ پر بہترین مقالہ نگار کا ایوارڈ پروفیسر ناگپال، بہترین شاعر عنایت بلوچ،بہترین ورکر عنایت گھمرو،بہترین راگی شازیہ ماروی،بہترین صوفی راگی منور ابڑو اور سید صدرالدین شاہ، بہترین ملھ پہلوان دیدار علی جمالی،بہترین سگھڑکا ایوارڈ سید ارباب علی شاہ کو دیا جبکہ لائف اچیومنٹ ایوارڈ پروفیسر الطاف اثیم،استاد محکم دین پنہور،اور اُستاد غلام سرور چنہ کو دیا گیا۔



عرس کے دوسرے روز سچل سرمست ؒکے مزار کے احاطے میں صوفی فقیروں کی ”حق موجود سدا موجود“کے عنوان سے راگ رنگ کی محفل ہوئی جس میں سچل سرمست ؒکے کلام کو مختلف لوک فنکاروں اور صوفی فقیروں نے اپنے اپنے انداز سے پیش کرکے زائرین عرس سے خوب داد وصول کی۔عرس کے تیسرے اور آخری روز قومی ادبی کانفرنس اورکل پاکستان مشاعرہ کا انعقاد بھی کیا گیاجس میں پنجاب،خیبرپختونخواہ،بلوچستان اور سندھ سے ایک سو سے زائد ادیب اور شاعر شریک بطور خاص شریک ہوئے انہوں نے سچل سرمستؒ کی شاعری اور صوفیانہ فکر پر مقالے اور اشعار پڑھے،قومی ادبی کانفرنس کی صدارت پنجاب کے معروف ادیب و دانشور احمد سلیم نے کی جبکہ ڈاکٹر غلام نبی سدھایو اورمعروف مصنفہ محترمہ فاطمہ حسن مہمانانِ خصوصی تھے۔محفل مشاعرہ میں ڈاکٹر ادل سومرو،ایاز گل،عنایت بلوچ،ہدایت بلوچ اور میر عبدالرسول میر مہمانانِ خصوصی تھے۔قومی ادبی کانفرنس اورکل پاکستان محفلِ مشاعرہ کا اہتمام سندھ کے محکمہ ثقافت نے کیا تھا۔جس میں ادیبوں اور شاعروں نے سچل سرمستؒ کو امن اور صوفی فکر کابے مثل شاعر قرار دے کر زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔معروف دانشور اور صدرِ مجلس احمد سلیم نے قومی ادبی کانفرنس میں اپنا ختتامی مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ”سچل سرمست ؒ کا سرمدی پیغام پیار و محبت اور اتحاد و امن کا مظہر ہے۔آپؒ پاکستان کی تمام تہذیبوں کے ملاپ کا ایک حسین سنگم ہیں۔ سچل سرمست ؒکے پیغام کو عام کرکے نفرتوں کا خاتمہ اور دنیا میں امن قائم کیا جاسکتا ہے“۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 13 جون 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں