Sachal Sarmast

حضرت سچل سرمستؒ ایک باکمال ہفت زبان صوفی شاعر

سندھ کی سرزمین بزرگان دین اور اولیائے کرام کی سرزمین ہے۔ اس پاک سرزمین کے ہر خطے میں بلند پایہ بزرگوں اور عظیم صوفی شاعروں نے سچائی کے پیغام اور اپنے عارفانہ کلام سے عوام کو اسلام کی سیدھی سچی راہ پر چلنے کا درس دیا ہے۔سچل سرمست ؒ بھی سندھ کے ایک ایسے ہی باکمال صوفی شاعر اور بزرگ تھے۔آپ کا اصلی نام خواجہ عبدالوہاب فاروقی اور والد بزرگوار کا نام خواجہ صلاح الدین فاروقی تھا۔ آپ نے اپنی شاعری میں ”سچل“کا استعمال کئی جگہ کیا ہے۔ سچل کا لفظ ”سچالو“ سے نکلا ہے،سندھی زبان میں سچالو کے معنی سَچ بولنے والا یعنی راست گو کے ہیں جبکہ ”سرمست“کا مطلب صوفی ہے، تو لفظی اعتبار سے سچل سرمست کے معنی ایک راست گو صوفی بزرگ کے ہوئے۔ آپ کی پیدائش سن 1739عیسوی گاؤں درازاضلع خیرپور میرس میں ہوئی۔ سچل سرمستؒ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق ؓ کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ کے جدامجد شیخ شہاب الدین فاروقی پہلی صدی ہجری میں فاتح سندھ محمد بن قاسم کے اتالیق اور مشیر خاص کی حیثیت سے اسلامی لشکر کے ہمراہ سندھ میں آئے تھے۔ وہ ایک نیک سیرت بزرگ اور اسلامی علوم پر گہری نظر رکھنے والے عالم تھے۔ جب سندھ پر عربوں کی حکومت قائم ہو گئی تو محمد بن قاسم نے شیخ شہاب الدین کو سیہون کا گورنر بنایا۔ وہ عوام کی بھلائی کے انتظامات کے ساتھ ساتھ دین کی تبلیغ میں بھی پیش پیش رہے اور ان کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر ہزاروں غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔شیخ شہاب الدین کی رحلت کے بعد کئی پشتوں تک ان کے اہل خاندان سندھ میں انتظامی ذمہ داریاں سنبھالتے رہے لیکن جب سلطان محمود غزنوی کا دور آیا تو ان دنوں شیخ محمد بن اسحاق فاروقی سیہون کی گورنری سے سبکدوش ہو کر سندھ کے شمالی علاقے بکھر میں آباد ہوگئے وہاں بھی ان کے خاندان والے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوئے۔ بعد میں ان کے خاندان کے ایک بزرگ رانی پور میں آباد ہوئے اس وقت ٹالپروں کی حکومت تھی۔۔سچل سرمست کے دادا خواجہ محمد حافظ فاروقی بھی ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار تھے لیکن عمر کے آخری حصے میں درویشی اختیار کرلی تھی۔ خواجہ محمد حافظ فاروقی کے بڑے بیٹے کا نام خواجہ صلاح الدین فاروقی تھا اور چھوٹے بیٹے کا نام خواجہ عبدالحق فاروقی۔حضرت سچل سرمستؒ کے والد بزرگوار خواجہ صلاح الدین اس وقت وفات پاگئے تھے جبکہ ان کا پیارابیٹا بہت کمسن تھا، ظاہر ہے کہ شفیق باپ کا سایہ اٹھ جانے کے بعد خواجہ محمد حافظ نے بڑی چاہتوں سے اپنے یتیم پوتے کو پالا پوسا۔سچل سرمستؒ کے چچا خواجہ عبدالحق فاروقی بھی اپنے ہونہار بھتیجے کی پرورش اور تعلیم و تربیت کا بڑا دھیان رکھتے تھے۔ انہوں نے باقاعدہ عربی پڑھانے کے لئے حافظ عبداللہ قریشی کو سچل سرمست ؒکا استاد مقرر کیا۔ اس طرح چھوٹی عمر میں آپ ؒنے قرآن شریف پڑھا اور حافظ قرآن بھی ہوئے پھر عربی، فارسی اور تصوف کی تعلیم سچل سرمستؒ نے اپنے چچا خواجہ عبدالحق فاروقی سے حاصل کی۔ حضرت سچل سرمست ؒ سنی العقیدہ مسلمان تھے اور تصوف کے قادری سلسلے سے وابستہ تھے۔ عبادت و ریاضت اور خلق خدا کی خدمت میں وہ پہلے ہی پیش پیش رہتے تھے۔ سجادہ نشین ہونے کے بعد درازہ شریف کی درگاہ کو انہوں نے اخلاقی و روحانی تعلیم و تربیت کا ایک مثالی مرکز بنا دیا۔ غریبوں، مسکینوں، محنت کشوں اور کسانوں سے ان کو دلی ہمدردی تھی۔ خدا ترسی، انسان دوستی اور خدمت خلق کا جذبہ ان کی شخصیت میں شروع سے موجود تھا۔ دینی تعلیم و تربیت اور صوفیانہ ماحول نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ عبادت و ریاضت اور محتاجوں کی امداد و اعانت کے کاموں میں اتنے منہمک رہتے تھے کہ عالم جوانی میں بھی سیر و تفریح سے کوئی واسطہ نہ رکھا۔حضرت سچل سرمست علیہ الرحمہ سندھ کے اکابرین اولیاء،اور نامور مشائخ میں سے ہیں۔آپ کے علم وفضل،تقویٰ وفضیلت،اور دینِ اسلام پر ہمیشگی،کردار میں عظمت،اخلاق ِ نبویﷺ کی بنیاد پر بیشمار غیر مسلم آپ کے د ست ِ اقدس پر مسلمان ہوئے،آپ کے وجود مسعود سے اسلام کوتقویت وفروغ حاصل ہوا۔ حضرت حافظ سچل سرمست رحمہ اللہ کو شیخ فرید الدین عطار،حضرت شمس تبریزی، حضرت بایزید بسطامی،شیخ منصور حلاج علیہم الرحمہ وغیرہ سے زبردست عقیدت و محبت تھی۔ یہی سبب ہے کہ آپ نے ان بزرگوں کو اپنے کلام میں خصوصی جگہ دی ہے۔ اپنے جوانی کے ایام میں پابندی کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور اواردو وظائف میں مشغول رہتے تھے۔ جب آپ کی عمر بچاس برس کی ہوئی تو موج ومستی میں بے خود ہوجاتے تھے۔ لیکن آخر عمر تک کبھی بھی شریعت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ آپ کے متعلق یہ روایت حدتواتر کو پہنچی ہوئی ہے کہ ایک مرتبہ سرتاج الشعراء حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمہ اللہ آپ کے چچا کے یہاں تشریف لے گئے، حضرت سچل سرمست علیہ الرحمۃ کے چچا علامہ میاں عبدالحق آپ کو حضرت شاہ بھٹائی کی خدمت میں دعا کرانے کی غرض سے لے کر آئے حضرت شاہ صاحب نے چہرہ دیکھ کر پہچان لیا اور فرمایا: کہ ”جو دیگ ہم نے چڑھا دی ہے اس کا ڈھکن سچل اتاریں گے“۔ یعنی جو عشق الہٰی کی دیگ ہم نے چڑھائی ہے اس کا ڈھکن سچل اتاریں گے“۔ حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کی پیش گوئی حقیقت بن کر سامنے آئی۔ کہ حضرت سچل نے صرف ڈھکنا ہی نہیں اتارا بلکہ دیگ میں سے بانٹتے بھی رہے۔ آپ کا قدردرمیانہ، رنگ گندمی، پیشانی کشادہ اور خوب صورت خدوخال تھے۔ سر کے بال بہت لمبے ہوتے تھے،سرپر ہمیشہ سبز رنگ کی ٹوپی رکھتے تھے۔ عالم مستی میں اکثر ننگے پاؤں پھرا کرتے تھے ہاتھ میں ہمیشہ لمبی لکڑی رہتی تھی۔ بہت کم سوتے، کم کھاتے زیادہ تر روزہ رکھتے، اکثر لکڑی کی چوکی پر مراقبہ کی حالت میں بیٹھے رہتے۔شعر و ادب کا ذوق و شوق سچل سرمست ؒ کو وراثتاً ملا تھا۔ کہتے ہیں کہ شعر کی تخلیق کے وقت سچل کی شعوری زندگی ٹھہری ہوئی ہوتی تھی جب اس بے خودی کے عالم سے باہر آتے تھے تو کہتے تھے کہ ”یہ کسی اور نہ کہا ہوگا۔ مجھے یاد نہیں۔“ یہ گویا اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش تھی، بعض اوقات سر مستی میں اونچی آواز میں کلام پڑھتے۔اپنا بہت سا کلام دریا برد کرا دیا تاکہ کہیں لوگ اس کے مطلب کوغلط رنگ دیکر راہ حق سے بھٹک نہ جائیں۔آ پ کا زیادہ تر کلام سرائیکی زبان میں ہے اس کے علاوہ عربی، سندھی،، پنجابی، اردو، فارسی اور بلوچی میں بھی شاعری کی، اس لئے آپ کوشاعر ہفت زبان بھی کہتے ہیں۔آپؒ کا کلام حق و صداقت، خلوص و محبت، ایثار و قربانی، ہمدردی و رواداری، عدل و احسان اور اخوت و مساوات کا آئینہ دار ہے۔ آپ کی نظریاتی شاعری میں زیادہ تر مذہبی شاعری آتی ہے۔جس کا تعلق تصوف سے ہے۔تصوف میں عشق الٰہی، عشق رسول ﷺ اور اپنے مرشد کی محبت کے علاوہ وحدت الوجود کے خیالات کا بھرپور اظہار ملتا ہے۔ آپ کے نظریات میں وحدت الوجود کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔حضرت سچل سرمست ؒ کو سندھ میں ایک منفرد مقام اس لیے بھی حاصل ہے کہ کسی بھی محفل میں جب بھی مذہبی انتہا پسندی کو للکارا جاتا ہے تو آج بھی سچل سرمستؒ کے کلام کا سہارا لیا جاتا ہے۔حضرت سچل سرمست ؒ کا انتقال نوے برس کی عمر میں 14 رمضان المبارک1242 ھ میں خیر پور میرس میں ہوا۔ آپ ؒکا عرس مبارک ہر سال انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے جس میں سندھ، ہند اور بیرونی ممالک سے عقیدت مند اور زائرین بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 24 مئی 2018 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں