Hazrat Lal Shahbaz Qalandar Dhamaal

عظیم صوفی بزرگ حضرت لعل شہباز قلندرؒ

سرکارِ دوعالم‘ باعث وجود کائنات نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ کا اسوہَ حسنہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ ساری دنیا کے انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ اکابرین اسلام کے ساتھ اولیاء کرام بھی سرور کائنات ﷺ کی اس اسوہَ حسنہ کی پیروی کرنے والوں میں سے ہیں، یہ وہ اولیاء کرام ہیں جنہوں نے ظاہری آنکھ سے حضور اکرم ﷺ کا دیدار مبارک تو نہیں کیا، لیکن سرکاررسالت ﷺ نے باطنی آنکھ کے توسط سے ان جلیل القدر اولیاء کو وہ روحانی علم عطاکیا جس کی بدولت صدیاں گزرنے کے بعد بھی ان کے مزار پر عقیدت مندوں کا جم غفیر رہتا ہے۔ ایسے ہی ایک صوفی بزرگ حضرت لال شہباز قلندر (1177ء تا 1274ء) ہیں۔ آپ کا اصل نام سید عثمان مروندی تھا، آپ بارہویں صدی عیسوی کے صوفی بزرگ ہیں جو مروند میں پیدا ہوئے جو آج کے افغانستان کا حصہ ہے، آپ کا مزار سندھ کے علاقے سیہون شریف میں ہے۔آپ ایک مشہور صوفی بزرگ ہونے کے ساتھ قادرا لکلام شاعر، فلسفی اور قلندر بھی تھے۔ محقیقین نے آپ کا تعلق سلسلہ سہروردیہ سے منسوب کیا ہے۔ آپ کا زمانہ اولیائے کرام کا مشہور زمانہ ہے۔ مشہور بزرگ شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانیؒ، شیخ فرید الدین گنج شکرؒ، شمس تبریزیؒ، جلال الدین رومیؒ اور سید جلال الدین سرخ بخاریؒ آپ کے ہم عصر صوفیا تھے۔آپ مروندکے ایک درویش سید ابراہیم کبیر الدین کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔

سیرت حضرت لعل شہباز قلندر ؒ میں مرقوم ہے کہ آپ کے والدِ محترم سید ابراہیم کبیر الدین کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خواب میں بیٹے کی بشارت دی تھی،بحالت خواب آپ کے والد بزرگوار کو حضرت علی مرتضی ؓ کے دیدار کا عظیم شرف حاصل ہوا۔ آپ کے والد نے حضرت علی ؓ سے نیک اورصالح بیٹے کی دعا کی درخواست کی۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ جب بچے کی ولادت ہوجائے اور اس کی عمر 384یوم (یعنی ایک سال 19دن) ہوجائے تو اس کو مدینہ طیبہ میں حضرت نبی کریم ﷺ کے روضہ مبارک پر سلام کی غرض سے لے جائیے گا۔ پھر اس کے بعد حضرت عثمان غنی ؓ کے مزار اقدس پر لے جاکر ہماری طرف سے سلام دعا کیجئے گا، آپ کے والد نے ان تمام باتوں پر عمل کیا اورحضرت علی ؓ کی تاکید اور حکم کے مطابق اپنے پیارے بیٹے کا نام عُثمان رکھا۔ آپؒ کو اس دور میں غزنوی اور غوری سلطنتوں کا مشاہدہ کرنے کا بھرپور موقع ملا اور آپؒ نے اسلامی دنیا کے لا تعداد سفر کیے جس کی وجہ سے آپ ؒنے فارسی، عربی، ترکی، سندھی اور سنسکرت میں مہارت حاصل کر لی۔ آپؒ روحانیت کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے اور مسلمانوں کے علاوہ اہلِ ہنود میں بھی آپ کی بڑی عزت اور قدرومنزلت تھی۔ آپؒ کی بے پناہ خوبیوں کے باعث آپؒ کو”لعل“ یعنی قیمتی جواہرات سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ آپ کے کام میں چستی و پھرتی کا عنصر نمایاں تھا اس لئے شہباز کہا جانے لگا۔ قلندر ہونے کی بشارت آپ کے والد کو خواب کے ذریعے ہوئی۔ لعل شہباز قلندر ؒ کی ابھی ولادت بھی نہیں ہوئی تھی کہ آپ کے والد نے خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ قلندروں کی جماعت جمع ہے اور دف بجا کر کہہ رہے ہیں کہ سید کبیر الدین کا صاحبزادہ قلندروں میں امیر قلندر ہوگا۔ دوران پرورش آپ کی حرکات و سکنات نے اس یقین کو اور بھی پختہ کردیا اور پھرآپ قلندر کے درجے پر فائز ہوگئے۔

حضرت لعل شہباز قلندر ؒ نے جن بلند پایہ شخصیات سے روحانی فیض حاصل کیا ان میں حضرت رابعہ بصری ؒ، سید شیرشاہ جلال، بو علی شاہ قلندر، سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ، حسن سنجری اجمیری ؒ، صدر الدین ملتانی اور شیخ فرید الدین عطار ؒ شامل ہیں۔ آپ کی بیعت کے متعلق روایت ہے کہ امام موسیٰ کاظم ؒ کے مزار پر جب آپ نے حاضری دی تو وہیں پر امام موسیٰ کاظم ؒ کے خاندان میں ایک بزرگ تھے جن کا نام حضرت شیخ ابو اسحاق بابا سید ابراہیم قادری ؒ تھا۔ ابراہیم قادری ؒ کو خواب میں حضرت شیخ ابوالقادر غوث الاعظم جیلانی ؒ نے ہدایت دی کہ آپ (مروند) میں شیخ عثمان (لعل شہباز قلندرؒ) کی جانب توجہ کریں۔ اس ہدایت کے ملتے ہی ابراہیم قادری لعل شہباز قلندرؒ کی روحانی تربیت کے لئے ان کے پاس پہنچے۔آپ نے جب لعل شہباز قلندر ؒ کو سینے سے لگایا تو ان کی حالت میں ایک نمایاں تغیر پیدا ہوا اور آپ ایسی منزل کی جانب محو سفر ہوئے جہاں صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی، نبی کریم ﷺ کی محبت، اپنے پیر کی اطاعت اور خلق انسانیت کی بے لوث خدمت شامل تھی۔ آپ کا سلسلہ نسب بتدریج مراحل طے کرتا ہوا حضرت موسیٰ کاظم ؓ پر مکمل ہوتا ہے۔

آپ کی کشف و کرامات بے شمار ہیں لیکن ایک کرامت ایسی ہے جس کا حال آج بھی لوگ ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔قصہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ سیہون کے حکمران، حضرت لعل شہباز قلندر ؒ کی دینی تبلیغ اور بڑھتی مقبولیت سے اتنے خوفزدہ ہو گئے کہ انہوں آپؒ کے پسندیدہ مرید بودلا بہار کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا حکم دے دیا۔فوجیوں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس بزرگ کو شہید کر دیا۔جب حضرت لعل شہباز قلندر کو اس سانحے کا پتا چلا تو انہوں نے بودلا بہار کا نام پکارا تو ان کی ٹکڑوں میں تقسیم لاش جڑ کر پھر سے آپ ؒ کے سامنے آگئی، جسے دیکھ کر سیہون کے چوپٹ راجہ نے مصلحت کے تحت آپ کے قدموں میں گر کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیااور آپ ؒ کے ساتھ محل میں ایک بار کھاناکھانے کی فرمائش کردی، آپ ؒ نے ابتدا میں انکار کیا مگر جب چوپٹ راجہ نے زیادہ اصرار کیا تو آپ ؒ نے اس کی دعوت قبول فرمالی۔ جب آپ ؒنے راجہ کے ساتھ کھانا تناول کرنا شروع کیا تو گوشت میں سے بلی کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں جنہیں سن کر آپ ؒ کو جلال آگیا اور آپ ؒنے فرمایا کہ کافر ابھی تک ایمان نہیں لایا، یہ فرماکر آپؒ نے سالن کا برتن الٹا کردیا۔ اسی وقت رضائے الہٰی سے چوپٹ راجہ کا قلعہ بھی الٹا ہوگیا۔ آج بھی یہ قلعہ اسی حالت میں موجود ہے اور محکمہ آثار قدیمہ کے زیر انتظام ہے۔ جب کبھی موسلا دھار بارش ہوتی ہے تو اس قلعے میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں اورواضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ کمروں کی چھتیں نیچے کی طرف ہیں۔حضرت لعل شہباز قلندر ؒ کی صفاتِ زندگی کا ہر روشن پہلو قابلِ تقلید ہے۔ آپؒ کا وصال ماہ شعبان 73ھ میں ہوا۔ آپ کا مزار سیہون شریف سندھ میں واقع ہے۔ جہاں ہر سال آپؒ کا عرس نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 03 مئی 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں