Hazrat Lal Shahbaz Qalandar Tomb

حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے عرفانی پیغام نے سندھ دھرتی کو گُل و گُلزار بنادیا

دھمال والے جیت گئے اور دھماکے والے ہار گئے،یہ جملہ صادق آتا ہے سندھ کے جلالی اور سرمست صوفیوں کے سرخیل،علم،فضل اور روحانیت کے دنیا میں منفرد اور لازوال شہر ت کے حامل مشہور صوفی بزرگ مخدوم سید عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلند کے 765 واں سالانہ عرس پر۔جہاں 16 فروری 2017  کو خودکش دھماکے سے ایک قیامتِ صغری گزر گئی تھی جس میں 88 افراد شہید اور 300 سے زائدمعصوم زائرین زخمی ہوئے تھے مگر قلند ر کے پیروکاروں نے خوف اور دہشت کے آگے جھکنے سے انکار کردیا۔جس کاتازہ ثبوت سیہون شریف میں منعقد ہونے والی عرس کی تین روزہ تقریبات ہیں جس میں ملک بھر سے ایک محتاط اندازے کے مطابق ریکارڈ 22 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔
اس بار عرس کی تقریبات کا آغاز گورنر سندھ محمد زبیرنے مزار پر چادر چڑھا کر کیا، ان کے ہمرا سینئر صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑواور صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ناصر حسین شاہ بھی موجود تھے۔عرس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ”حضرت لعل شہباز قلند ر ؒ کی ناصرف سندھ،پاکستان بلکہ تمام برصغیر کے لوگوں کے ناقابلِ فراموش دینی،علمی اور تبلیغی خدمات ہیں یہ ہی وجہ ہے آپ کا مزارہر خاص و عام کے لیئے مرجع خلائق ہونے کے ساتھ ساتھ، تمام انسانیت کے لیئے محبت اور بھائی چارے کی انمول نشانی بھی ہے جس کی ایک ناقابلِ تردید شہادت گزشتہ بم دھماکے کے باوجود زائرین اور عقیدت مندوں کابغیر خوف و ہراس اتنی بڑی تعداد میں ملک کے کونے کونے سے آکر مزار شریف پر اپنی عقیدت اور بے لوث محبت کا اظہار کرناہے۔آج اتنے بڑے ہجوم کو دیکھ کر یقینا تمام امن مخالف قوتوں اور دہشت گردوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ لعل شہباز قلندر کے چاہنے والے کسی بھی قسم کے دھماکوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں“۔
خلافِ توقع سندھ حکومت نے اس بار عرس کے موقع پر زائرین کی حفاظت اور کسی بھی ممکنہ واقع یا خطرے سے نمٹنے کے لیئے سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیئے تھے۔سندھ حکومت کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے،فضائی نگرانی کے لیئے ڈرون کیمرے،واک تھرو گیٹس کے علاوہ سندھ پولیس،رینجر کے جوانوں، پاک فوج اور حساس اداروں کو بھی ہائی الرٹ رکھا گیا تھا۔صوبائی حکومت اور کئی سماجی و سیاسی تنظیمات کی طرف سے بھی مختلف مقامات پر ٹھنڈے پانی کی سبیلیں،فوری طبی امداد کے لیئے مفت طبی کیمپس کا انتظام کیا گیا۔ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے عہدا برا ہونے کے لیئے سید عبداللہ شاہ میڈیکل انسٹیوٹ اور ٹراما سینٹر میں خصوصی انتظامات کیئے گئے تھے اورگرم ترین موسم کے پیشِ نظر ہیٹ سینٹر قائم کرکے وہاں او۔آر۔ایس اور دیگر ضروری ادویات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیاجبکہ اردگرد کے اضلاع دادو،مٹیاری،نواب شاہ،ٹنڈوالہیار اور حیدرآباد سے پیرا میڈیکل کے اضافی عملے سمیت خاطر خواہ تعداد میں ایمبولینسس کا بھی بندوبست کیاگیا۔جبکہ پورے سیہون کو عرس کے تینوں دن بجلی کی بلاتعظل فراہمی کے احکامات کے ساتھ ساتھ اسٹینڈ بائی جنریٹر کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔اتنے زبردست انتظامات کرنے پر یقینی طور سندھ حکومت اور اس کے تمام متعلقہ ادارے ستائش کے مستحق ہیں۔
عرس کے آخری روز صوبائی حکومت کی جانب سے”شہباز ادبی کانفرنس“ اور ”مشاعرہ“کابھی انعقاد بھی کیا گیا جس میں ملک کے نامور اسکالر، ادیب اور شاعروں نے حضرت لعل شہباز قلند ر ؒ کی شخصیت،فکر و فلسفہ پر اپنے فکری مقالاجات اور پرسوز اشعار پیش کیئے۔پروفیسر عبداللہ ملاح نے لعل شہباز قلند ر ؒکے فلسفہئ تصوف کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ”قلند ر کا پیغام برداشت اور شعور پر مبنی ہوتا ہے۔لعل شہباز قلند ر ؒنے سندھ کو اپنا جزیرہ سمجھا،سندھ کی زمین عشق،امن اور محبت کی دھرتی ہے۔اس لیئے لعل شہبازقلند ر ؒکے عرفانی پیغامِ تبلیغ کے باعث اس دھرتی پر جتنے بھی مسلمان ہوئے اتنے آج تک نہیں ہوئے، قلند ر نے اپنا تمام علم،فکر،ریاضتیں،سفر اور عبادتیں سندھ کے لیئے وقف کردیں“۔ڈاکٹر مخمور بخاری نے لعل شہباز قلند ر ؒ کی شخصیت پراظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ”عام تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ قلند ر کے متعلق تحقیقی طور پر مواد مکمل نہیں ہے جس کے پیشِ نظر نئے سرے سے تحقیق کی ضرورت ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سا ماضی کا مواد چھپنے سے رہ گیا ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اُسے تلاش کیا جائے،پرکھا جائے اور پھر اُسے خوب صورت انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا جائے کیونکہ ”قلند ر کا خیال زندہ ہے“۔آج ہم دہشت گردی اور لاقانونیت کی آگ میں جل رہے ہیں اس آگ کو صرف قلندر کی تعلیمات ہی گل و گلزار بنا سکتی ہے“۔معروف ادیب انعام شیخ نے کہا کہ”سومرا دورتاریخی حوالے سے سندھ کے عظیم کرداروں کی نشوونما کا دور رہا ہے جس میں سندھ نے تعلیم اور ثقافت کے حوالے سے بیش بہا ترقی کی اور یہ ہی دور سندھ میں خواتین کی آزادی کے حوالے سے بھی اولین کاوش کے آغاز کا دور بھی تھاجس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سندھ ایک شاندار سماج ہے جس میں خواتین کو بھر پور آزادی حاصل ہے۔لعل شہباز قلندر ؒ نے سندھ کے صوفیانہ اور شاندار تعلیمی ماحول میں علی کی محبت،دھمال کے سبق کو فروغ دیتے ہوئے سرخ رنگ کو بطور محبت،جذباتی وابستگی اور عشقِ حقیقی کے لافانی رمز کے اظہارکا ذریعہ بناکرلوگوں کے درمیان آپسی محبت و یگانگت کے عملی ماحول کو مزید اُجاگر کیا“۔
شہباز ادبی کانفرنس میں پشاور سے بطور خاص شرکت کرنے والی مایہ ناز ادیب محترمہ کلثوم زیب نے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ”آج وہ اس سرزمین پر جہاں پرنہ جانے کتنے ہی شہید دفن ہیں اور یہاں کی مٹی اورہوا میں اپنے پن کی دل کو مسحور کرنے والی خوشبو رچی ہے۔اس پاک دھرتی کے ہر باسی نے لعل شہباز قلندرؒ کی صورت میں پیار، امن،محبت اور آدرش کا دور دیکھا ہے،تھوڑے عرصہ قبل اس پیار کے پیغامبرکی”علامت ِعشق“ کو خون سے نہلایا گیا۔ ایسا لگا جیسے ہمارے ہی وجود کے کسی حصہ پر حملہ ہوا ہے۔ہمیں دہشت گردی سے نجات کے لیئے قلندری فکر پر عمل پیرا ہونا ہوگا“۔ملتان سے آئے ہوئے لاہور یونیورسٹی کے پروفیسر علمدار بخاری نے کہا کہ”لعل شہباز قلند ؒر اسلامی تصوف کے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کی تعلیمات میں آزادی اور محبت کے درس سمیت امن پسندی کا وہ بنیادی اُصول بھی شامل ہے جسے جاننے کے بعد قلندری فکر سے متعلق شخص کوتبلیغِ اسلام کی راہ میں دوسروں کی ملامت کی بھی پروا نہیں ہوتی،قلندر ی فکر کا پروردہ،انسان دوستی،اور اپنے رب کی محبت کے حصول کی راہ میں کسی بھی ملامت کی پرواہ نہیں کرتا۔حقیقی معنوں میں قلند ر وہ ہوتا ہے جس کو کسی بھی ظلم اور جبر کی سختی اُسے جواباً ظلم و زیادتی پر مجبور نہیں کرتی بلکہ وہ سراپا برداشت،عفو درگز کا عملی نمونہ ہوتا ہے۔قلند ر کا پیغام آج ہم سب کی زبان پر ہے اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں زائرین کا آنا اس پیغام کی صداقت کا مظہرہے۔شہباز ادبی کانفرنس کے آخر میں صدرِ مجلس معروف ادیب ذوالفقار کلہوڑو نے صدارتی خطبہ دیتے میں فرمایا کہ”سندھ کی درگاہیں ہماری پہچان ہیں،درگاہوں پر تحقیق کر رہے ہیں جو زیادہ مشہور نہیں ہیں لیکن ان کی حیثیت بھی کم نہیں۔اہل سندھ کی یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق اور تنقید کی بہت زیادہ کمی ہے،مجھ ناچیز کی رائے میں زمان و مکان سے بے پرواہ شخص کو قلند ر کہا جاتا ہے،تصوف ہی انتہا پسندی کو روکنے کا واحد حل ہے،قلندری سلسلے میں علی اور حسینی رنگ تصوف کے دوسرے سلاسل کی بہ نسبت ذرا مزید گہرا کیا گیا ہے۔سندھ ولیوں اور بزرگان ِ دین کی دھرتی ہے جس نے ہمیشہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کو مسترد کیا اور سندھ وہ دھرتی ہے جہاں پر کراچی سے لے سیہون اور بھٹ شاہ سے لے کر نواب شاہ، اور ٹھٹھہ سے لے کر لاڑکانہ تک 400 سے زائد درگاہیں موجود ہیں جہاں پر روزانہ لاکھوں کی تعداد میں زائرین حاضری دیتے ہیں۔محکمہ ثقافت کے صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے کانفرنس کے اختتام پر تمام شرکاء سے یہ وعدہ کیا کہ کانفرنس میں معزز دانشور وں کی جتنی بھی تجاویز پیش کی گئی ہیں محکمہ ثقافت کی طرف سے نہ صرف ان تمام پر عمل کیا جائے گا بلکہ لعل شہبازقلندرؒ پر تحقیقی کا م کو ملک بھرکے دانشوروں،ادیبوں اور اہلِ قلم حضرات کی مدد سے از سرِ نو وسیع پیمانے پر شروع کیا جائے گااور یہاں پیش کیئے گئے تمام علمی مقالوں کو یکجا کر کے کتابی شکل میں شائع کیا جائے گا۔
حضرت لعل شہباز قلند ر ؒ کی عرس کی باضابطہ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاکہ ”رواں سال بہتر انتظامات کے باعث درگاہ حضرت لعل شہباز قلندر کے عرس مبارک کے موقع پر 22 لاکھ سے زائد زائرین نے درگا ہ پر حاضر دی جو گزشتہ سال کی نسبت 25 فیصد زائد ہے۔سب سے زیادہ ہمارے لیئے خوشی اور اطمینان کا باعث یہ بات بھی ہے کہ سندھ کے علاوہ پاکستان بھر سے خصوصاً صوبہ پنجاب سے زائرین کی ریکارڈ تعداد کا درگاہ پر حاضری کے لئے آنا اور ہمیں اپنی خدمت کا موقع فراہم کرنا اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ لعل شہباز قلندرؒ نے صرف سندھ کے باسیوں کو ہی اپنے رنگ میں نہیں رنگا ہے بلکہ سارا پاکستان آج ہمارے ساتھ اس درگا ہ پر کھڑا ہے“۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 25 مئی 2017 کے شمارے میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں