Imam Bukhari

امام فی الحدیث حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ

صحیح بخاری یا الجامع الصحح یا عام طور سے البخاری یا صحیح بخاری شریف بھی کہا جاتا ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری جنہیں عرف عام امام بخاری بھی کہا جاتاہے کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ زیادہ ترمسلمانوں کے نزدیک یہ مجموعہء احادیث روئے زمین پر قرآن کے بعد سب سے مستند کتاب ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیش رو آئمہ کی آرزو، اساتذہ کا فخر اور معاصرین کے لیے سراپا رشک تھے۔ ان کے زمانہ میں احمد بن حنبل یحیٰی بن معین اور علی بن مدینی کا فنِ حدیث میں چرچا تھا۔ لیکن جب آسمان علمِ حدیث پر امام بخاری کا سورج طلوع ہوا تو تمام محدثین ستاروں کی طرح چھپتے چلے گئے۔امام بخاری قدس سرہ شہر بخارا میں بتاریخ 13شوال 194ھ نماز جمعہ کے بعد پیدا ہوئے۔ یہ فخر امت میں کم ہی لوگوں کو حاصل ہوا ہے کہ باپ بھی محدث ہو اور بیٹا بھی محدث بلکہ سیدالمحدثین۔ اللہ تعالیٰ نے یہ شرف حضرت امام بخاری ؒکو نصیب فرمایا جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو ”کریم ابن الکریم ابن کریم“ کہا گیا ہے اسی طرح حضرت امام بخاری ؒبھی محدث ابن المحدث قرار پائے۔ آپ کے والد ماجد حضرت العلام مولانا اسماعیل صاحب ؒاکابر محدثین میں سے ہیں۔ کنیت ابوالحسن ہے اور حضرت امام مالک ؒکے خاص تلامذہ میں سے ہیں۔مگر صد افسوس کہ والد ماجد نے اپنے ہونہاز فرزند کا علمی زمانہ نہیں دیکھا اورآپ کو بچپن ہی میں داغ مفارقت دے گئے۔ والد گرامی کی انتقال کے بعد حضرت امام بخاری ؒکی تربیت کی پوری ذمہ داری والدہ محترمہ پر آگئی جو نہایت ہی خدا رسیدہ عبادت گزار شب بیدار خاتون تھیں۔ والدین کی علمی شان و دینداری کے پیش نظر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت امام کی تعلیم وتربیت کس انداز کے ساتھہ ہوئی ہو گی۔ امام بخاری ؒ نے ابھی اچھی طرح آنکھیں کھولی بھی نہ تھیں کہ بینائی جاتی رہی۔ اس المناک سانحہ سے والدہ کو شدید صدمہ ہوا۔ انہوں نے بارگاہِ الہٰی میں آہ زاری کی، عجز و نیاز کا دامن پھیلا کر اپنے لاثانی بیٹے کی بینائی کیلئے دعائیں مانگیں۔ ایک مضطرب، بے قرار اور بے سہارا ماں کی دعائیں قبول ہوئیں۔ انہوں نے ایک رات حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو خواب میں دیکھا جو فرما رہے تھے ”جا اے نیک خو پاکباز خاتون! تیری دعائیں قبول ہوئیں۔تمہارے نورِ نظر اور لختِ جگر کو اللہ تعالیٰ نے پھر نورِ چشم سے نواز دیا ہے“ صبح اٹھ کر د یکھتی ہیں کہ بیٹے کی آنکھوں کا نور لوٹ آیا ہے۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کو اپنے والد کی میراث سے کافی دولت ملی تھی۔ آپؒ اس سے تجارت کیا کرتے تھے۔ اس آسودہ حالی سے آپؒ نے کبھی اپنے عیش و عشرت کا اہتمام نہیں کیا جو کچھ آمدنی ہوتی طلب علم کیلئے صرف کرتے۔ غریب اور نادار طلبا کی امداد کرتے، غریبوں اور مسکینوں کی مشکلات میں ہاتھ بٹاتے۔ ہر قسم کے معاملات میں آپ رحمہ اللہ علیہ بے حد احتیاط برتتے تھے۔ احادیث رسول ﷺ کی جانچ پڑتال، پھر ان کی جمع و ترتیب پر امام بخاری ؒ کی مساعی جمیلہ کو آنے والی تمام مسلمان نسلیں خراج تحسین پیش کرتی رہیں گی۔ آپ کا ظہور پر سرور عین اس قرآنی پیش گوئی کے مطابق ہوا جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ جمعہ میں فرمائی تھی۔یعنی زمانہ رسالت کے بعد کچھہ اور لوگ بھی وجود میں آئیں گے جو علوم کتاب وحکمت کے حامل ہوں گے حضرت امام بخاری ؒ یقینا ان ہی پاک نفوس کے سرخیل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ آل فارس میں سے کچھہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ اگر دینی علوم ثریا ستارے پر ہوں گے تو وہاں سے بھی وہ ان کو ڈھونڈ نکالیں گے۔ امام بخاری کا درجہ احادیث کو چھان پھٹک کر ترتیب دینے میں اتنا اونچا ہے کہ بلا اختلاف الجامع الصیح یعنی صحیح بخاری شریف کا درجہ صحت میں قرآن پاک کے بعد پہلا ہے۔
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ بے پناہ قوتِ حافظہ کے مالک تھے۔ جب ہم ان کی قوتِ حفظ کے کارنامے صفحات تاریخ پر دیکھتے ہیں تو یوں گمان ہوتا ہے جیسے وہ سر سے پیر تک حافظہ ہی حافظہ ہوں۔ ان کے حافظہ کو دیکھ کر لوگوں کے دلوں میں ابوہریرہ ؓکی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ حاشد بن اسماعیلؒ بیان کرتے ہیں کہ امام بخاریؒ لڑکپن میں ہمارے ساتھ حدیث کے سماع کے لیے مشائخِ بصرہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ امام بخاریؒ کے سوا ہم تمام ساتھی احادیث ضبط تحریر میں لے آئے تھے۔ سولہ دن گزر جانے کے بعد ایک روز ہمیں خیال آیا اور ہم نے بخاری ؒکو ملامت کی اور کہا کہ تم نے احادیث ضبط نہ کرکے اتنے دنوں کی محنت ضائع کر دی۔ امام بخاری ؒنے ہم سے کہا اچھا تم اپنے ضبط شدہ نوٹ لے آؤ۔ ہم اپنے نوٹ لے کر آئے اور امام بخاریؒ نے سلسلہ دار احادیث سنانی شروع کر دیں۔ یہاں تک انہوں نے پندرہ ہزار سے زیادہ احادیث بیان کر ڈالیں اور یہ سن کر ہمیں یوں گمان ہوتا تھا کہ گویا یہ روایات ہمیں امام بخاریؒ نے لکھوائی ہیں۔محمد بن ازہر سجتانی ؒکہتے ہیں کے میں امام بخاری کے ساتھ سلیمان بن حرب ؒکی خدمت میں سماع حدیث کے لیے حاضر ہوتا تھا میں احادیث لکھتا تھا اور امام بخاریؒ نہیں لکھتے تھے کسی نے مجھ سے کہا کہ بخاری احادیث کو نوٹ کیوں نہیں کرتے میں نے کہا تم سے اگر کوئی حدیث لکھنے سے رہ جائے تو بخاری کے حافظہ سے لکھ لینا۔امام بخاری ؒکی قوتِ حفظ بیان کرنے کے لیے یہ امر کافی ہے کہ جس کتاب کو وہ ایک نظر دیکھ لیتے تھے وہ انہیں حفظ ہو جاتی تھی اور بعد میں جا کر یہ عدد تین لاکھ تک پہنچ گیا جن میں سے ایک لاکھ احادیث صحیح اور دو لاکھ غیر صحیح تھیں۔ ایک مرتبہ بلخ گئے تو وہاں کے لوگوں نے فرمائش کی آپ اپنے شیوخ سے ایک ایک روایت بیان کریں تو آپ نے ایک ہزار شیوخ سے ایک ہزار احادیث زبانی بیان کردیں۔امام بخاری ؒ کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی حافظہ اور ذہن عطا کیا تھا۔ ایک مرتبہ بغداد آئے، محدثین جمع ہوئے اور آپؒ کا امتحان لینا چاہا، امتحان کی ترتیب یہ رکھی کہ دس آدمیوں نے دس دس حدیثیں لے کر ان کے سامنے پیش کیں، ان احادیث کے متن (عبارت) اور سندوں کو بدلا گیا، متن ایک حدیث کا اور سند دوسری حدیث کی لگا دی گئی۔ امام بخاری ؒ حدیث سنتے اور کہتے، مجھے اس حدیث کے بارے میں علم نہیں جب سارے محدثین اپنی دس دس حدیثیں سنا چکے اور ہر ایک کے جواب میں امام بخاری ؒ نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں، تو سارے لوگ ان سے بدظن ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ کیسے امام ہیں کہ 100 احادیث میں سے چند حدیثیں بھی نہیں جانتے۔ امام بخاری ؒ پہلے شخص سے مخاطب ہو کر کہنے لگے تم نے پہلی حدیث یوں سنائی تھی اور پھر صحیح حدیث سنائی دو سری حدیث کے بارے میں فرمایا کہ تم نے یہ حدیث اس طرح سنائی تھی جب کہ صحیح یہ ہے اور پھر صحیح حدیث سنائی، مختصر یہ کہ امام بخاری ؒ نے دس کے دس آدمیوں کی مکمل حدیثیں پہلے ان کے ردّو بدل کے ساتھ سنائیں اور پھر صحیح اسناد کے ساتھ حدیثیں سنائیں۔اس مجلس میں امام صاحب کی اس طرح حدیثوں کی صحت، پر سارا مجمع حیران اور خاموش تھا، علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ یہ واقعہ لکھنے کے بعد فرماتے ہیں، یہاں امام بخاری ؒ کی امامت تسلیم کرنی پڑتی ہے۔ تعجب یہ نہیں کہ امام بخاری ؒ نے غلط احادیث کی تصحیح کی اسلئے کہ وہ تو تھے ہی حافظ حدیث، تعجب تو اس کرشمہ پر ہے کہ امام بخاری ؒ نے ایک ہی دفعہ میں ان کی بیان کردہ ترتیب کے مطابق وہ تمام تبدیل شدہ حدیثیں بھی یاد کر لیں۔ آپؒ کی سب سے بلند پایہ تصنیف صحیح بخاری ہے۔ آپ ؒ نے بخاری کی ترتیب و تالیف میں صرف علمیت، زکاوت اور حفظ ہی کا زور خرچ نہیں کیا بلکہ خلوص، دیانت، تقویٰ اور طہارت کے بھی آخری مرحلے ختم کر ڈالے اور اس شان سے ترتیب و تدوین کا آغاز کیا کہ جب ایک حدیث لکھنے کا ارادہ کرتے تو پہلے غسل کرتے، دو رکعت نماز استخارہ پڑھتے بارگاہِ ربّ العزت میں سجدہ ریز ہوتے ا ور اس کے بعد ایک حدیث تحریر فرماتے۔ اس سخت ترین محنت اور دیدہ ریزی کے بعد سولہ سال کی طویل مدت میں یہ کتاب زیورِ تکمیل سے آراستہ ہوئی۔ابن الصلاح کے مطابق صحیح بخاری میں احادیث کی کل تعداد 7275 ہے۔ یہ تعداد ان احادیث کو شامل کر کے ہے جو ایک سے زیادہ مرتبہ وارد ہوئی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر ایک سے زیادہ تعداد میں وارد احادیث کو اگر ایک ہی تسلیم کیا جائے تو احادیث کی تعداد 4000 رہ جاتی ہے۔ اُمّت کے ہزاروں محدثین نے سخت سے سخت کسوٹی پر کسا، پرکھا اور جانچا مگر جو لقب اس مقدس تصنیف کیلئے من جانب اللہ مقدر ہو چکا تھا وہ پتھر کی کبھی نہ مٹنے والی لکیریں بن گیا۔
امام بخاریؒ مزاج اور طبیعت کے اعتبار سے بہت سادہ اور جفاکش تھے اپنی ضرورت کے تمام کام خود کر لیا کرتے تھے۔ مال و دولت اور جاہ مرتبت کے باوجود کبھی خدام اور غلاموں کا حشم قائم نہیں رکھا۔ محمد بن حاتم وراق آپ کے خصوصی شاگرد تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام بخاری بخارا کے قریب سرائے بنا رہے تھے اور اپنے ہاتھوں سے اٹھا اٹھا کر دیوار میں اینٹیں لگا رہے تھے میں نے آگے بڑھ کر کہا آپ رہنے دیجیے یہ اینٹیں میں لگا دیتا ہوں آپؒ نے فرمایا قیامت کے دن یہ عمل مجھے نفع دے گا۔وراق کہتے ہیں کہ جب ہم امام بخاری ؒکے ساتھ کسی سفر میں جاتے تو آپ ہم سب کو ایک کمرہ میں جمع کر دیا کرتے اور خود علیحدہ رہتے۔ ایک بار میں نے دیکھا امام بخاری ؒرات کو پندرہ بیس مرتبہ اٹھے اور ہر مرتبہ خود اپنے ہاتھ سے آگ جلا کر چراغ روشن کیا۔ کچھ احادیث نکالیں ان پر نشانات لگائے پر تکیہ پر سر رکھ کر لیٹ گئے۔ میں نے عرض کیا آپ نے رات کو اٹھ کر تنہا مشقت برداشت کی مجھے اٹھا لیتے۔ فرمایا تم جوان ہو اور گہری نیند سوتے ہو میں تمہاری نیند خراب کرنا نہیں چاہتا۔ امام بخاری ؒبہت کم خوراک لیتے تھے، طالب علموں کے ساتھ بہت احسان کرتے اور نہایت سخی تھے۔ ایک دفعہ امام بخاری ؒبیمار ہوئے۔ ان کا قارورہ (پیشاب کی رپورٹ) طبیبوں کو چیک کرایا گیا تو ا نہوں نے کہا یہ قارورہ تو اس شخص کا ہے جس نے کبھی سالن نہ کھایا ہو۔ پھر امام بخاری ؒ نے ان کی تصدیق کی اور کہا کہ چالیس سال سے میں نے سالن نہیں کھایا (یعنی روکھی روٹی پر قناعت کی) طبیبوں نے کہا اب آپؒ کی بیماری کا علاج یہ ہے کہ سالن کھایا کریں۔ امام بخاری ؒ نے قبول نہ فرمایا۔ بڑے اصرار سے یہ قبول کیا کہ روٹی کے ساتھ کچھ کھجور کھا لیا کریں گے۔
بخارا سے واپس ہونے کے بعد امام بخاری ؒنے سمر قند جانے کا قصد کیا۔ ابھی سمر قند سے کئی منزل دور تھے تو آپ کو اطلاع ملی کہ اہلِ سمرقند میں آپ کے بارے میں دوآراء ہوگئی ہیں یہ سن کر آپ وہیں راستہ میں خرتنگ نامی ایک بستی میں رک گئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اے خدا یہ زمین اپنی وسعت کے باوجود مجھ پر تنگ ہوتی جا رہی ہے مجھے اپنے پاس واپس بلالے۔ اس دعا کے بعد آپ بیمار پڑگئے۔ اس اثناء میں اہلِ سمر قند نے بلانے کے لیے آپ کے پاس قاصد بھیجا آپ جانے کے لیے تیار ہوگئے مگر طاقت نے ساتھ نہ دیا۔ چند دعائیں پڑھیں اور لیٹ گئے۔ جسم سے پسینہ بہنا شروع ہوا۔ ابھی وہ پسینہ خشک نہ ہوا تھا کہ آپ نے جان، جان آفرین کے سپردکر دی اور اس طرح یکم شوال سن 265 ھ کو باسٹھ سال کی زندگی گزار کر رات کے وقت علم و فضل کا وہ عظیم آفتاب غروب ہوگیا جس کے علم و عمل کی روشنی سے سمر قند، بخارا، بغداد اور نیشاپور کے بے شمار عوام وخواص اپنے دل و دماغ کو منور کر رہے تھے۔ اگلے روز جب آپؒ کے انتقال کی خبر سمرقند اور ا طراف میں مشہور ہوئی تو کہرام مچ گیا۔ پورا شہر ماتم کدہ بن گیا۔ جنازہ اٹھا تو شہر کا ہر شخص جنازہ کے ساتھ تھا۔ نماز ظہر کے بعد اس علم و عمل اور زہد و تقویٰ کے پیکر کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔ جب آپ ؒ کا جسدِ اقدس قبر میں رکھا گیا تو آپؒ کی قبر سے مشک کی طرح خوشبو پھوٹی اور بہت دنوں تک یہ خوشبو باقی رہی۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے فیضان کا جو سلسلہ ان کی زندگی میں قائم ہوا تھا وہ آج تک بدستور جاری و ساری ہے اور آج امتِ مسلمہ دین کے جن احکام سے واقف ہیں ان میں امام بخاریؒ کی خدمات کا بہت بڑا حصہ ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی اشاعت کی، اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے ذکر کو دنیا میں پھیلا دیا اور سچ یہ ہے کہ جب تک مدرارس اور مکاتب میں قیل و قالِ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل سجی رہے گی آسمانِ رحمت سے حضرت امام بخاری ؒ کی قبر پر انوار و تجلیات کی بارش ہوتی رہے گی۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 21 جون 2018 کے شمارے میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں