Masjid Abu Dhar al Ghifari

صحابیِ رسولﷺحضرت ابو ذر غفاری

حضرت ابو ذر غفاری ؓ اس بھری پُری دنیا میں ایک غریب الدیار، ایک مسافر جس کی نگاہوں میں دنیا کی بے ثباتی اور دل میں دنیا سے بے رغبتی کاایک لازوال تصور تھا۔ حضرت ابو ذر غفاری ؓاپنی ذات بہ برکات میں دنیائے انسانیت کے تاجدار تھے۔ غریبوں، تنگدستوں، محتاجوں، مسکینوں، یتیموں اور بیواؤں کی دستگیری کرنے والے،جو ہاتھ میں آئے غریبوں پر خرچ کردینے والے اور دوسروں کے پاس جائز ذرائع سے پیدا شدہ حلال کی دولت بھی دیکھ کر ان سے اُلجھ کر یہ کہہ دینے والے کہ”اس دولت کو اپنے پاس رکھتے ہی کیوں ہو۔ اپنی ساری دولت کو غریبوں پر خرچ کردوتاکہ دنیا میں کوئی آدمی غریب نہ رہے“۔آپ کا اسم گرامی جندب بن جنادہ بن سفیان بن عبید بن حرام بن غفار تھا۔ آپ کی والدہ کا نام رملہ بنت وقیعہ غفاریہ تھا۔بعض لوگوں نے آپکا نام بریر بھی لکھا ہے لیکن پہلا نام صحیح ہے، کنیت ابوذر تھی۔میدانِ بدر کے قریب مدینہ منورہ کی راہ میں ”صفراء“ نامی ایک بستی تھی، یہی بستی آپ کامسکن تھا۔ آپ ؓکے قبیلہ کی رہائش دو پہاڑوں کے درمیان تھی جن میں سے ایک پہاڑی کا نام مُسلَح تھا اور دوسری کا نام مُحزٰی۔آپؓ کے خاندان کا پیشہ تو ڈاکہ زنی تھا لیکن آپ ابتدا ہی سے اس پیشہ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے اور محنت مزدوری کرکے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے۔ آپ ؓایامِ جاہلیت میں بھی عبادت گزار تھے۔ چونکہ آپؓ کا قبیلہ اس شاہراہ پر آباد تھا جو یمن سے لے کر شام تک چلی گئی تھی اور اسی شاہراہ پر عرب کے تمام تجارتی قافلے آیا جایا کرتے تھے لہٰذا جب آنحضرت ﷺنے مکہ میں اپنی نبوت کا اعلان کیا تو بہت جلد آپﷺ کے اعلانِ نبوت کی خبر آنے جانے والوں کے ذریعہ بنوغفار میں پہنچ گئی۔حضرت ابوذر غفاری ؓکا بھائی اُنیس مکہ مکرمہ آرہا تھا۔

عمرو بن عبسہ آپ کے اَخیافی بھائی ہیں۔ آپ نے اُنیس سے کہا: سنا ہے، ایک آدمی نے مکہ میں اپنی نبوت کا اعلان کیاہے، ذرا اس سے ملاقات کرکے پورے حالات کا پتہ کرتے آنا۔جب آپؓ کا بھائی مکہ مکرمہ سے واپس پہنچا تو آپ نے دریافت کیا۔ اس نے بتایا کہ قریش میں سے محمّد صلی اللہ علیہ وسلم نامی ایک شخص اپنے آپ کو خدا کا رسول کہتا ہے۔ میں نے جب اس سے ملاقات کی تو اس نے کہا۔ خدا تعالیٰ کو ایک جانو، اس کا کوئی شریک نہیں، بتوں کی عبادت چھوڑ دو، کسی کو تکلیف نہ دو، برے کام نہ کرو اور خدا کی عبادت کرو اور خلق خدا کی خدمت کرو۔آپ نے فرمایا:کچھ اس سے آگے بھی بتاؤ تو اس نے کہا: میں اس سے آگے کچھ نہیں جانتا۔ تو آپ نے فرمایا: تو نے میرے دل کو مطمئن نہیں کیا۔ میں خود مکہ مکرمہ جاکر حالات دریافت کروں گا۔ چنانچہ کچھ زادِ راہ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔بالآخر آپ ؓبارگاہِ نبوت میں پہنچ گئے۔ چہرہ انور دیکھتے ہی فوراً بول اُٹھے کہ”یہ مبارک چہرہ کسی جھوٹے آدمی کانہیں ہوسکتا“ آنحضرت ﷺنے اِسلام کی دعوت پیش کی جس کاخلاصہ یہ تھا کہ ”اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک سمجھو، وہ اپنی ذات و صفات میں یکتا ہے اور محمد ﷺاللہ کے سچے رسول ہیں، اچھے کام کرو، نیکی پھیلاؤ،برائی سے بچو اور برائی سے لوگوں کو روکو“۔ پھر رسول اللہ ﷺنے ان کو تھوڑا سا قرآن سنایا۔ اس کے بعد انہوں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا،آپ پانچویں مسلمان تھے۔

آنحضرت ﷺنے آپ ؓ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ”ابوذر!اس وقت اسلام بڑے سخت دور سے گزر رہا ہے۔ مسلمانوں کو اذیت ناک تکلیفیں دی جارہی ہیں۔ ہماری تعداد اس وقت بہت تھوڑی ہے۔ ہماری حمایت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔کفار بدکردار کے دل میں جو آتا ہے، کر گزرتے ہیں اور جتنا کسی کو چاہتے ہیں، مار تے پیٹتے ہیں۔ لہٰذا تم اپنے ایمان کو ظاہر نہ کرو۔ اور چپ چاپ اپنے قبیلے میں چلے جاؤ۔ وہاں جاکر اسلام کی تلقین کرو اور جو قرآن تم نے مجھ سے سیکھا ہے، یہ لوگوں کو سکھاؤ۔جب اسلام کا بول بالا ہوجائے، مسلمانوں کی تعداد بڑھ جائے، اس وقت میرے پاس چلے آنا“۔رسول اللہ ﷺکی صحبت میں چند روز رہنے کے بعد اپنے قبیلے میں واپس آگئے اور جو حکم رسول اللہ ﷺنے دیا تھا،اس کی تعمیل میں دن رات کوشاں رہے۔ تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا۔ ان کے قبیلے کے کئی آدمی مسلمان ہوکربارگاہِ نبوت میں پہنچتے رہے اوراس ایمانی شان سے پہنچتے کہ رسول اللہ ﷺکی زبانِ مبارک سے بے اختیار دعانکل جاتی کہ”بنو غفار کو اللہ معاف کرے“لیکن وہ سراپا عشق و سرمستی خود پورے سترہ سال تک مہجوری کی بھٹی میں پڑے رہے اور خالص کندن بن کردمکے اور جگمگائے۔ آنحضرت ﷺنے فرمایا تھا: جب اسلام کا بول بالا ہوجائے، اس وقت میرے پاس آنا۔ پھر ابوذر ؓ غزوہ خندق کے بعد حاضر خدمت ہوئے۔

جنگ ِخندق کے بعد حضرت ابوذر ؓ تمام جنگوں میں ہم رکاب رہے۔ د ن رات آپ کی صحبت میں رہتے۔رسول اللہ ﷺکے انتقال کے بعد ان کی طبیعت کچھ ایسی مجروح ہوئی کہ مدینہ کی گلیاں اور بازار کاٹ کھانے کو دوڑتے۔نبی ﷺسے تعلق رکھنے والی کوئی چیز دیکھتے تو بے اختیار ہو کر روتے۔ اور اتنا روتے کہ بے حال ہوجاتے۔ آخر آپ کی بیوی اُمّ ذر اور دوسرے لوگوں نے بھی مشورہ دیا کہ آپ مدینہ منورہ چھوڑ کر کسی اور جگہ چلے جائیں چنانچہ آپ شام کے علاقہ میں چلے گئے۔بعد ازاں حضرت عثمان غنی ؓ کی اجازت سے آپ ؓ ”ربذہ“ چلے گئے۔ربذہ مدینہ منورہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک جگہ تھی جہاں بالکل معمولی سی آبادی تھی لیکن اس زمانہ میں وہ بالکل بے آباد ہوچکی تھی۔13 یا23 ہجری میں حضرت ابوذر غفاری ؓ مقامِ ربذہ میں بیمار پڑگئے اور بیماری زیادہ بڑھ گئی تو پاس چونکہ ایک غلام اور ایک بیوی تھی۔ ان کو فکر دامن گیر ہوئی کہ اگر خدا نخواستہ ان کی وفات ہوگئی تو ان کے کفن دفن کابندوبست کیسے ہوگا۔ چنانچہ آپؓ نے اس بات کو بھانپ لیا، کہنے لگے: جب میری موت ہوجائے تو میرے جنازہ کو رستے پر رکھ دینا۔ مسلمانوں کاایک قافلہ آئے گا، انہیں کہنا کہ رسول اللہ ﷺکے صحابی ابوذرغفاری کا یہ جنازہ پڑا ہے، اسے دفن کرتے جاؤ۔چنانچہ آپؓ کی وفات ہوگئی۔ بیوی اور غلام نے مل کر غسل دیا اور کفن دے کر جنازہ راستے پرلارکھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ عراقیوں کی جماعت کے ہمراہ عمرہ کرنے کے لئے تشریف لارہے تھے تو انہوں نے ایک عورت کو راہ پر کھڑے دیکھا تو پوچھا کون ہے؟ اس نے کہا:اُمّ ذر۔ آپ نے پوچھا: ابوذرغفاری ؓ کہا ہیں؟ انہوں نے کہا:یہ ان کا جنازہ پڑا ہے، اسے دفن کرتے جاؤ۔عبداللہ بن مسعود نے جنازہ پڑھ کر اُن کو دفن کیا او رپھر اپنے ساتھیوں کو رسول اللہ ﷺکی وہ پیشگوئی بتائی کہ”ابوذرغفاری ؓ تو خدا کی راہ میں اکیلا سفر کرتا ہے۔ اکیلا ہی مرے گا اور اکیلا ہی اٹھایا جائے گا“۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 16 اگست 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں