Abdullah Shah Ghazi in Karachi

حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ

حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہکا اسم گرامی سید عبداللہ، کنیت ابو محمد اور لقب الاشتر ہے۔ آپؒ سید محمد نفس ذکیہ کے صاحبزادے اور حضرت حسن مثنیٰ کے پڑپوتے تھے اور پانچویں پشت پر آپؒ کا سلسلہ نسب حضرت علی مرتضیٰ ؓسے جاملتا ہے۔ حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کی اولاد میں سے ہیں اس لیے حسنی و حسینی کہلاتے ہیں۔حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ ؒ 98 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کی تعلیم و تربیت آپ کے والد حضرت سید محمد نفس ذکیہ ؒکے زیرِ سایہ انجام پائی۔ حضرت نفس ذکیہؒ کا شمار محدثین میں ہوتا ہے۔ آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے والد صاحب کے زیر سایہ مدینہ منورہ میں ہی ہوئی۔ حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ علم حدیث پر عبور ِ کامل رکھتے تھے اس لیئے کچھ مورخین نے تو آپؒ کو محدث تک بھی لکھا ہے۔ابھی حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ تعلیم حاصل کر ہی رہے تھے کہ اِس وقت بنوامیہ کی حکومت آخری ہچکیاں لینے لگیں اور پورا ملک انتشار کا شکار ہوگیا۔ پھر خلافت عباسی کا دور شروع ہوا اور آپ ؒ کے والد حضرت نفس ذکیہؒ نے 138ھ میں عباسیوں کیخلاف علم بغاوت بلند کیا اور اپنی دعوتِ خلافت تحریک مدینہ منورہ سے شروع کردی۔حضرت امام ابو حنیفہؓ اورحضرت امام مالک ؓنے بھی آپ کی تحریک کا بھرپور ساتھ دیا، جس کی پاداش میں عباسی گورنر نے امام مالک ؓ کو کوڑے لگوائے جس کے بعد حضرت سید محمد نفس ذکیہؒ نے اپنے بھائی ابراہیم کو بصرہ روانہ کیا جب کہ حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کو سندھ جانے کا حکم دیا۔حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کی سندھ آمد کے ضمن میں دو قسم کے بیان تاریخ سے ثابت ہیں۔ ایک یہ کہ آپ تبلیغ اسلام کیلئے تشریف لائے تھے اور دوسرے یہ کہ آپؒ علوم خلافت کے نقیب کی حیثیت سے تاجر کے روپ میں آئے تھے۔ تاجر اس لئے کہا گیا کہ آپؒ جب سندھ آئے تو اپنے ساتھ بہت سے گھوڑے بھی لائے تھے۔

آپ ؒنے یہ گھوڑے اپنے کم و بیش بیس مریدوں کے ہمراہ کوفہ سے خریدے تھے۔ آپ ؒ کی آمد پر یہاں کے سندھ کے مقامی لوگوں نے آپؒ کو خوش آمدید کہا اور سادات کی ایک شخصیت کو اپنے درمیان پا کر بہت عزت اور احترام کا اظہار کیا۔ آپؒ بارہ برس تک اسلام کی تبلیغ میں سرگرداں رہے اور مقامی آبادی کے سینکڑوں لوگوں کو مشرف با اسلام کیا۔سندھ کے عوام میں آپ کو بڑی تعظیم کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور آپ کو بے پناہ مقبولیت حاصل تھی۔حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ سندھ میں داخل ہونے والے اوّلیں سادات بزرگ و مبلغین میں سے ایک شمار ہوتے ہیں۔ آپؒ کی مقبولیت اور مریدین کی بڑھتی ہوئی تعداد دیکھ کر لوگ آپ ؒ کی ذات با برکات سے حسد کرنے لگے۔ ان ہی حاسدوں نے اپنی حاسدانہ طبیعت سے مجبور ہوکر آپ ؒ کو نقصان پہنچانے کی غرض سے آپ ؒ کے خلاف سندھ کے اُس وقت کے عباسی گورنر عمر بن حفض کے کان بھرنا شروع کردیے مگرحاسدین کی یہ چال کامیاب نہ ہوسکی کیونکہ سندھ کا یہ گورنر سادات کا بیحد احترام کرتا تھا، لہذا اُس نے لوگوں کی بات سُنی ان سُنی کردی اور باقاعدہ طور پر حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات کرکے اُن کے ہاتھوں پر بیعت کرلی۔ اسی دوران حجاز میں آپ ؒ کے والدِ گرامی محمد نفس ذکیہؒ کو عباسی فوجوں نے شہید کردیا، جس کے بعد عباسی خلیفہ المنصور نے عمر بن حفض کو حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہکو گرفتار کرکے فوراً دربار خلافت میں حاضر کرنے کا حکم جاری کردیا۔

مگر گورنر سندھ حضرت حفص بن عمر چونکہ حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہسے بے پناہ محبت اور عقیدت رکھتے تھے اس لیئے وہ آپؒ کی گرفتاری کے معاملے کو مسلسل ٹالتے رہے۔ گورنر سندھ کا خیال تھا کہ اس طرح کچھ وقت گزر جائے گا اور خلیفہ حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہکی گرفتاری کے معاملے کو بھول جائے گا مگر ایسا نہ ہوسکااور خلیفہ منصور کے دل سے حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہکی گرفتاری کا خیال ماند نہیں پڑا۔ حالانکہ گورنر سندھ حضرت حفص بن عمر نے اہل بیتؑ سے محبت کے جذبے کے تحت خلیفہ کو یہ بھی کہلا بھیجا تھا کہ حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ میری مملکت کی حدود میں نہیں ہیں لیکن جب خلیفہ کو اس پر بھی اطمینان نہیں ہوا تو آخر کار گورنر سندھ نے حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کو گرفتار کرنے کے بجائے سندھ کی ایک ساحلی ریاست میں بھیج دیا، جہاں آپ 4 سال تک ایک ہندو راجہ کے مہمان رہے۔ہندو راجہ حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے حسن واخلا ق وکردار سے متاثر ہوکر آپ کانیاز مند ہوگیا اور اپنی بیٹی آپ کے عقد میں دے دی جس سے ایک بیٹا پیدا ہواجس کانام محمد ابوالحسن رکھا۔یہا ں تقریبا ًچار سوافراد مشرف بہ اسلام ہوئے۔آپؒ نے اہل سندھ کے اندر دین متین کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ انکے معاشی اور معاشرتی حقوق اور سماجی انصاف کیلئے بھی شعور اجاگر کیا۔

خلیفہ المنصور حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہکے بڑھتے ہوئے مریدین کی تعداد کے سبب انہیں خلافت عباسیہ کے لئے ایک خطرہ سمجھ رہا تھا۔ لہذا اُس نے 151ھ میں عمر بن حفض کو سندھ کی گورنری سے ہٹا کر اُن کی جگہ ہشام بن عمر کو گورنر مقرر کردیا اور نئے گورنر کو حکم دیا کہ حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہکو گرفتار کرکے فوراً بغداد بھیجے اور راجہ کی طرف سے کسی قسم کی رکاوٹ ہوتو راجہ کو قتل کردیا جائے مگر ہشام بن عمر وجو خود بھی سادات کا احترام کرتا اور اُن سے دلی عقیدت رکھتا تھا اور پھر حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کی سند ھ میں غیر معمولی شہرت ومقبولیت کی وجہ سے نئے گورنرہشام بن عمروانہیں گرفتار کرنے میں ترد کاشکار رہا مختلف حیلوں اور بہانوں سے حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کی گرفتاری سے متعلق ابو جعفر منصور کو ٹالتا رہا انہی دنوں میں سندھ کے ایک اور علاقے میں بغاوت ہوئی۔جوکہ حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے قیام کے قریب کاعلاقہ تھا گورنرہشام بن عمرونے اپنے بھائی سفیع بن عمرکواُس بغاوت کوکچلنے کیلئے بھیجا حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ بمعہ مریدوں کے سیروشکار پرنکلے ہوئے تھے سفیع بن عمرولشکریوں کے ہمراہ اس علاقے میں ٹھہراہواتھا دور سے حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہکی سواریوں سے اُٹھنے والی گرد سے اس کے دل میں خوف پیداہواکہ دشمن کا لشکر آرہا ہے،سپاہیوں کو حکم دیاکہ لڑائی کیلئے تیا ر ہوجاؤ،جب حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ قافلے کے قریب آئے تو لشکریوں نے آپ کو پہچان لیا اور سفیع بن عمر کوبتایا کہ یہ تو حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ ہیں اور اہل بیت کے خاندان سے ہیں جبکہ سابقہ گورنر عمر بن حفص نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور موجودہ گورنرہشام بن عمروبھی ان کے عقیدت مندوں میں سے ہے اور یہاں شکا ر کی غرض سے آتے رہتے ہیں مگر سفیع بن عمر نے اپنے لوگوں کی باتوں پردھیان نہیں دیا اُس نے حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے ساتھیوں پر پشت کی جانب سے اپنے لشکر کے ساتھ حملہ کردیا،

حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ اپنے نوساتھیوں کے ہمراہ تھے دونوں فریق آمنے سامنے ہوئے آپؒ نے بڑی جواں مردی کے ساتھ ایک بڑے لشکر کامقابلہ کیا،باوجو د اس کے کہ مقابلہ ایک فوجی لشکر تھا،مگر شاہی لشکر کے لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ رہے تھے کہ ایک ظالم کی تلوار حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہکے سرِمبارک پر پڑی اور آپ شدید زخمی ہوکر زمین پر گر پڑے۔ دشمن فوجیں حواس باختہ ہو کر بھاگ چکی تھیں۔ آپ ؒکے ساتھیوں نے جب آپ کے جسم مبارک کو ہاتھ لگا کر دیکھا تو آپ ؒشہید ہوچکے تھے جس پر آپؒ کے ساتھی آپ ؒکے جسدِ مبارک کو لے کر جنگلوں اور وادیوں سے ہوتے ہوئے کلفٹن کے سمندر کے نزدیک اسی پہاڑی پر پہنچے جہاں آج آپ کا مزار واقع ہے۔ حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہکے ساتھیوں نے پہاڑی چوٹی کو اپنا مسکن بنایا اور اسی پہاڑی پر سکونت پذیر ہوگئے۔ بھوک اور پیاس کے عالم میں آپ ؒکے مریدین انتہائی پریشان تھے۔ دور دور تک میٹھے پانی کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ ایسے میں حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے ایک ساتھی کو خواب میں بشارت ہوئی کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے تمہاری مشکل حل فرما دی ہے اور تمہارے لئے پہاڑی سے پینے کے پانی کا چشمہ جاری کردیا ہے۔مریدین جب فجر کی نماز کے بعد پہاڑی سے نیچے اترے تو نیچے پانی کا ایک چشمہ اُبل رہا تھا۔ مریدین نے سیر ہوکر کھارے پانی کے درمیان معجزاتی طور پر ابلنے والے میٹھے چشمے سے سیر ہوکر پانی پیا اور بہت عرصے تک اسی چوٹی پر مقیم رہے۔ پھر ان ہی مریدین اور زائرین نے اسی ٹیلے پر حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کا مزار تعمیر کروایا۔اِس وقت سے لے کر آج تک لاکھوں کی تعداد میں زائرین20 ذی الحج کوحضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے مزارِ اقدس پر عرس مبارک میں شرکت کے لئے جوق در جوق آتے ہیں اور سکون قلب کی دولت سے مالامال ہوکر جاتے ہیں۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 30 اگست 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں