Grievances of students about MDCAT test to be resolved

میڈیکل کے طلبا کے امتحان کب ختم ہوں گے؟

پاکستان میں نظام تعلیم کا معیار بلند ہوتے،ہوتے اَب اس نازک مقام پر جاپہنچا ہے کہ طلبا وطالبات کو میڈیکل کالجز میں داخلہ کے لیئے درکار پاسنگ مارکس حاصل کرنے کے لیے بھی شہرشہر،گلی گلی احتجاج کرنا پڑرہاہے۔ المیہ ملاحظہ ہو کہ ایک طالب علم کو ڈاکٹر بننے کے لیئے کتنے امتحانات سے گزرنا ضروری ہے؟۔اس سوال کا درست جواب آج تک کوئی نہیں جان سکا۔ ابتداء میں طلباء سمجھتے ہیں کہ اگر انٹر میڈیٹ سائنس کا امتحان انہوں نے امتیازی نمبروں سے پاس کرلیا تو وہ باآسانی ڈاکٹر بن جائیں گے۔

لیکن انٹر میڈیٹ کے امتحان میں پورے تعلیمی بورڈ میں ٹاپ کرنے والے طالب علم کو پہلا دھچکہ اُس وقت لگتا ہے۔جب اُسے معلوم ہوتاہے کہ میڈیکل کالج میں داخل ہونے کے لیئے”ٹاپ پوزیشن“ کا طوق گلے میں پہن کر انٹری ٹیسٹ کے پل صراط سے گزرنا ابھی باقی ہے۔اور اس شاہراہ پر چلنے کے لیئے طالب علم کو اپنی گزشتہ 12 سال کی اعلیٰ تعلیمی کارکردگی پر تکیہ کرنے کے بجائے ازسرِ نو ”نجی اکیڈمی“ میں بھاری فیس کی ادائیگی کر کے چند ماہ مزید انٹری ٹیسٹ حل کرنے کے خفیہ اسرار و رموز سیکھنے ہوں گے۔ کتنے بدقسمتی کی بات ہے کہ انٹری ٹیسٹ جسے آج کل ”ایم ڈی کیٹ“ کا نام دے دیا گیا ہے، میں طالب علم کو 60 فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے کے باوجود بھی میڈیکل کالجز میں داخلہ لینے کے لیئے فقط اس لیے نااہل قرار دے دیاجائے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن کی جانب سے رواں برس نام نہاد ”ایم ڈی کیٹ“ کے امتحان میں کامیاب ہونے کے لیے درکار پاسنگ مارکس کی شرح میں اٖضافہ کردیا گیا ہے۔

یہ مضمون بھی پڑھیں: پاک فوج اور طلباوطالبات کا باہمی تعلق

یقینا پاکستان میڈیکل کمیشن نے پاسنگ مارکس کی شرح میں اضافہ کا بندوبست اس لیئے فرمایاہوگا کہ طلبا و طالبات کی تعلیمی کارکردگی کئی برسوں سے امتحانات میں کھلم کھلا نقل بازی، رٹہ بازی اور ٹیوشن سینٹرزکی بھینٹ چڑھ کر روبہ زوال ہوچکی ہے۔ لہٰذا پی ایم سی نے طلباو طالبات کو کھڑے اور کھوٹے کی چھلنی میں چھاننے کے لیئے ”ایم ڈی کیٹ“ کے امتحان میں پاس ہونے کے لیئے مارکس کی شرح میں اضافہ کردیاہے۔ یہ بالکل ایک ایسی ہی مثال ہے کہ اگر کرکٹ کا ایک کھلاڑی ڈومیسٹک مقابلوں میں چھوٹی، موٹی مقامی ٹیموں کے خلاف مسلسل بہت بری کارکردگی کا مظاہر ہ کررہا ہو،تو اُس کا کوچ مذکورہ کھلاڑی کے کھیل میں موجود تیکنیکی نقص، کمی،کجی اور کمزوری کو ٹھیک کروانے کے بجائے، اُلٹا اُسے ہلہ شیری دے کر براہ راست انٹرنیشنل میچ میں بڑی اور تجربہ کار ٹیموں کے خلاف میدان میں اُتار دے۔ کیا ایسا کرنے سے کھلاڑی کا کیرئیر تباہ نہیں ہوگا؟۔

بالکل کچھ ایسے ہی پاکستان میڈیکل کمیشن، ملک بھر کے طلباء و طالبات کو ”ایم ڈی کیٹ“ امتحانات کی سولی پر چڑھا کر اُن کا سارا کیرئیر برباد کرنا چاہتاہے۔ چونکہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کے طلباء و طالبات اپنی صوبائی حکومتوں کی تعلیم دشمن پالیسیوں کی باعث تعلیمی میدان میں دیگر صوبوں کے طلبا کے مقابلے میں کافی کمزور واقع ہوئے ہیں۔ اس لیئے اِن دونوں صوبوں سے تعلق رکھنے والے طلبا کی اکثریت حالیہ ”ایم ڈی کیٹ“ امتحانات میں بُرے طریقے سے فیل ہوگئی ہے۔ یعنی ”ایم ڈی کیٹ“ کے نتائج کو من و عن تسلیم کرلیا جائے تو اس کا سادہ سا مطلب یہ ہوگا کہ رواں برس سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 90 فیصد طلباو طالبات میڈیکل کالجز میں داخل ہی نہیں ہوں سکیں گے۔

شاید مسئلہ کی اسی سنگینی کو سمجھتے ہوئے ہی سندھ کی صوبائی وزیر صحت و بہبود آبادی ڈاکٹر عذرا پیچوہونے بھی ”ایم ڈی کیٹ“ کے نتائج کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ”ہمیں تو پی ایم سی پر پہلے سے ہی سخت تحفظات لاحق تھے کہ اس ادارے کے قیام سے طلباؤ طالبات کو فائدہ پہنچنے کے بجائے نقصان ہوگا اور ہمارا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا۔اَب ہمارے پاس دو آپشن ہیں پہلا یہ کہ ہم اپنے طلباء کا انٹری ٹیسٹ، از سرِ نو خود لے لیں اور دوسرا آپشن ہم سندھ کے میڈیکل کالجز میں نشستوں پر داخلہ کے لیئے درکار پاسنگ مارک کی شرح کو کم کردیں“۔پی ایم سی کی انتظامہ کی ہٹ دھرمی اور ضد کو دیکھتے ہوئے صوبائی وزیر صحت سندھ کی تجویز پر عمل پیرا، ہوکر ہی ہزاروں طلباء و طالبات کے روشن کیرئیر کو تاریک ہونے سے بچایا جاسکتاہے۔

واضح رہے کہ پی ایم سی کے قیام سے قبل ہر صوبے کے اپنے کورسز اور اپنے بورڈ کے امتحان اور کالجز میں داخلے کے لیے ٹیسٹ ہوتے تھے اور یہ ٹیسٹ اسی کورس میں لیئے جاتے تھے،جو طلبانے پڑھا ہوتا تھا۔ پی ایم سی کے قیام کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب تمام صوبوں کے طلبا اور طالبات کے لیے یکساں کورس ہونا چاہئے۔ بظاہر یہ ایک اچھا اقدام تھا لیکن رواں برس ہونے والے ”ایم ڈی کیٹ“ کا امتحانی پرچہ میں کورس کا زیادہ تر حصہ وفاقی بورڈ اور پنجاب بورڈ سے مستعار لیا گیا ہے۔ اب یہ اُن طلبا کے لیے کٹھن مرحلہ تھا،جنہوں نے مذکورہ نافذ العمل کورس سرے سے پڑھا ہی نہیں تھا۔اس مشکل سے سرخروہونے کے لیئے سندھ،بلوچستان کے طلباو طالبات نے صوبہ پنجاب اور وفاق کی آن لائن اکیڈمیز کو بھاری فیسیں دے کر رجسٹریشن کروائی اورآن لائن ”ایم ڈی کیٹ“امتحان کی تیاری شروع کردی۔

دوسری جانب یہ امتحان آن لائن تھا جہاں طالبعملوں کو پرچہ حل کرنے کے لیے ٹیبلٹ کمپیوٹرز فراہم کیے گئے تھے۔ میڈیاکی زینت بننے والی خبروں کے مطابق بعض امتحانی مراکز میں ایسی صورتحال بھی پیش آئی کہ وہاں کا انٹرنیٹ معطل ہو گیا۔نیز بعض طالب علموں کے ٹیبلٹ کمپیوٹرز کے اچانک ”ہینگ“ ہوگئے۔ یعنی اگر کسی طالبعلم نے 50 سوال حل کر دیے ہیں اور اس کا ٹیبلٹ کمپیوٹر ہینگ ہو گیا ہے تو بس پھر اس کو ان 50 سوالات کے جوابات کے نمبر ہی ملیں گے۔ان ٹیبلیٹ کمپیوٹرز کے سافٹ ویئر پر تنقید کرتے ہوئے ان طالبعلموں کا کہنا تھا کہ اس میں بھی چند نقائص تھے مثلاً اگر کسی طالبعلم نے پرچے میں شامل کل 210 سوالات میں سے آخری 50 سوالات کو پہلے حل کرنے کا انتخاب کیا تو اس کے پاس باقی ماندہ سوالات کو حل کرنے لیے پرچے کے شروع میں واپس آنے کی سہولت دستیاب نہیں تھی۔اس لیئے یہ امکان بھی خارج ازامکان نہیں قرار دیا جاسکتا کہ کئی طالب علم تو ”ایم ڈی کیٹ“ کے امتحان میں صرف سافٹ وئیر کی خرابی کے باعث فیل ہوئے ہوں گے۔

بہرحال قصہ کوتاہ، اگر مذکورہ بالا بے قاعدگیوں کی شکایات میں سے آدھی بھی درست ہوں تو ”ایم ڈی کیٹ“ امتحان کی ساری شفافیت اور غیر جانب داری ہی صرف مشکوک ہو کر نہیں رہ جاتی ہے بلکہ پاکستان میڈیکل کمیشن کی انتظامی صلاحیتوں پر بھی سنگین نوعیت کے سوالات اُٹھتے ہیں۔ واضح رہے کہ ہمیشہ سے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں یہ چلن عام رہا ہے کہ اگر میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کا کوئی طالب علم اپنے تعلیمی بورڈ کے امتحانی نتائج سے مطمئن نہ ہوتو وہ اپنے امتحانی پرچوں کی جانچ کے لیئے ری کاؤنٹنگ،ری چیکنگ جیسے آپشن استعمال کرسکتاہے مگر یہاں تو پاکستان میڈیکل کمیشن ”ایم ڈی کیٹ“ کے نتائج کی حقانیت اور شفافیت پر ایسے بضد ہے، جیسے اُن کے جاری کردہ نتائج آسمانی صحیفہ ہوں۔

مزید پڑھیں: طلبا یونین کی بحالی

بہرکیف چونکہ معاملہ ہزاروں طلباء وطالبات کے تعلیمی مستقبل کا ہے۔ اس لیئے مقتدر حکومتی حلقوں کو طلبا و طالبات کے ملک گیر احتجاج کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔کیونکہ مسئلہ تو صرف ”ایم ڈی کیٹ“ کے نتائج پر طلباو طالبات کو مطمئن کرنے کا ہے ناکہ اُن سب کو میڈیکل کالجز میں داخلہ دینے کا۔ مثلاً ری چیکنگ،ری کاؤنٹنگ یا پاسنگ مارکس کی شرح کم کرکے معاملہ کو خوش اسلوبی سے حل کیا جاسکتاہے۔ یاد رہے کہ ملک بھر سے ایک لاکھ 75 ہزار طلبا و طالبات نے ”ایم ڈی کیٹ“ کے امتحان کے لیئے رجسٹریشن کروائی تھی،جبکہ میڈیکل کالجز میں نشستیں فقط20 ہزار ہیں۔اس لیئے حکومت سے گزارش ہے کہ وہ طلبا و نتائج پر مطمئن کرنے کے لیئے انتظامی بندوبست فرمائے تاکہ20 ہزار محنتی طلبا و طالبات میڈیکل کالجز اور باقی اپنے اپنے گھروں میں جاکر اگلے تعلیمی مرحلے میں شریک ہونے کی تیاری کرسکیں۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 07 اکتوبر 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں