Imran Khan A Voice of Change

تبدیلی حکومت کی تبدیلیاں

کسی حجام سے زلفیں تراشتے ہوئے غلطی ہوجائے تو وہ نیا”ہئیر اسٹائل“ بن جاتاہے۔اگر درزی لباس سیتے ہوئے کوئی غلطی کردے تو اُسے”فیشن“قرار دے دیا جاتاہے۔خانساماں یا کوکنگ شیف کی غلطی سے نئی ذائقہ دار ”ڈش“ وجود میں آجاتی ہے۔مصور کی غلطی”تجریدی آرٹ“ کہلاتی ہے۔ شاعر اپنی غلطی کو”تُک بندی“کہہ کر جان چھڑا لیتا ہے۔ ڈاکٹر کی غلطی کو ”رضائے الہٰی“قرار دے کر صبر کے دو گھونٹ بھر لیئے جاتے ہیں۔ حتی کہ ایک فقیہ یا عالمِ دین بھی دینی مسائل کا حل پیش کرنے میں کوئی غلطی کر بیٹھے تو اِسے”اجتہاد“کی مخلصانہ کوشش قرار دے کر نظر انداز کردیا جاتاہے جبکہ اِن سب کے مقابل اگرایک خزانچی یا اکاؤنٹنٹ حساب کتاب کرتے ہوئے سہواً بھی کسی ادنی سی غلطی کا ارتکاب کر بیٹھے تو اُسے فوراً ہی ”فراڈ“یا ”غبن“ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اِس مثال سے آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں دنیا کا ہر پیشہ ور اپنے شعبہ میں کم یا زیادہ،کسی نہ کسی حد تک نئے تجربہ یا تنوع کی گنجائش ضرور رکھتا ہے لیکن مالیات کا شعبہ ایک انتہائی حساس حیثیت حساب کتاب کرے والا ایک اکاؤنٹنٹ یا خزانچی کو اپنے پیشہ ورانہ اُمور کی انجام دہی میں تجربہ یا غلطی کرنے کی یہ خصوصی سہولت دستیاب نہیں ہوتی۔اِس لیئے ایک اچھے اور سمجھداراکاؤنٹنٹ کے لیئے لازم ہے کہ وہ دو جمع دو کامطلب ہمیشہ چار نہ صرف خود سمجھے بلکہ دوسروں کو بھی ذہن نشین کروائے۔ بصورت دیگر اُس کا حشر بھی پاکستان کے سابق وزیرخزانہ اسد عمر جیسا ہوسکتا ہے۔اسد عمر کی سب سے بڑی غلطی ہی یہ تھی کہ انہوں نے وزیرخزانہ کا عہدہ سنبھالتے ہی وزارت خزانہ میں متنوع قسم کے معاشی تجربات کرنا شروع کردیئے بغیر یہ سوچے سمجھے کہ معاشیات کی دنیامیں تخلیقی موشگافیوں کے بجائے فقط لگے بندھے سے حسابی ”فارمولے“ چلتے ہیں۔
اسد عمر بھلے ہی بطور اوپننگ بیٹسمین کے معاشی میدان میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی توقعات پر پورا نہ اُتر سکے لیکن پھر بھی اُن کی اِس خوبی سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اسد عمر نے سابقہ حکومت سے ورثے میں ملنے والی دگرگوں معاشی حالت کو سدھارنے کے لیئے سوفیصد مخلصانہ کوشش پورے دل و جان سے ضرور کی۔اَب وہ الگ بات کہ اپنے مطلوبہ مشکل ہدف کو حاصل کرنے کے لیئے انہوں نے معیشت کو سدھارنے کے لیئے جو بھی نئے معاشی تجربات کیئے بدقسمتی سے اُن میں سے ایک بھی کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکا۔اسد عمر کی ایک قابلِ تعریف بات تو یہ بھی ہے کہ انہوں نے معاشی میدان میں اپنی ناکامی کا بروقت اعتراف کھلے دل سے کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ مزید معاشی تجربات کرنے سے گریز کا راستہ اختیار کیا بلکہ معاشیات کے نئے کھلاڑی کے لیئے ہنسی خوشی اپنی جگہ بھی چھوڑ دی۔ ملک کے وسیع تر مفاد میں اسد عمرکے رضاکارانہ استعفیٰ کو ہمیشہ اچھے لفظوں میں یاد رکھا جائے گا کیونکہ ناقص کارکردگی کی بنیاد پر اپنی وزارت سے مستعفی ہوجانے کی شاندارمثال قائم کرنے والے اَب تک کے وہ واحد پاکستانی وزیر کہے جاسکتے ہیں۔ورنہ ماضی میں اُن سے پہلے جتنے بھی وزیر باتدبیر گزرے ہیں اُنہیں یاتو اپنے کرتوتوں کے باعث برطرف کیا گیا ہے یا پھر کسی عدالتی حکم کی روشنی میں نااہل قرار دے کر کان سے پکڑ کر نکالا گیا ہے۔ جبکہ پاکستان کی تاریخ میں اسحاق ڈار جیسے ایک مفرور وزیر خزانہ تو ایسے بھی گزرے ہیں جو اپنے آپ کو ”تاحیات وزیرخزانہ“ قرار دیتے ہیں اور آج بھی مختلف ٹی وی چینلوں پر ایسے گفتگو فرماتے ہیں جیسے وہی پاکستان کے اصل وزیر خزانہ ہوں۔اسد عمر کے متبادل کھلاڑی کے طور پر معاشی میدان میں بیٹنگ کے لیئے آنے والے عبدالحفیظ شیخ کو اِس حوالے سے عمران خان کا ایک بہترین انتخاب قرار دیا جاسکتاہے کہ موصوف معیشت پر ایک اَتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اسد عمر کی طرح ایک آل راؤنڈر کے دعوی دار ہونے کے بجائے ایک مکمل ”معاشی بیٹسمین“ ہیں۔اِس کے علاوہ اُن کے لیئے پاکستانی معیشت کوئی ایسی نئی چیز نہیں ہے جسے سمجھنے کے لیئے اُنہیں طویل وقت درکار ہوگاکیونکہ عبدالحفیظ شیخ اِس سے پہلے بھی مشکل معاشی حالات میں بطور وزیرخزانہ اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دے چکے ہیں۔انہیں خوبیوں کی بدولت بلاشبہ عبدالحفیظ شیخ کو پاکستان کے چند گنے چنے، اچھے وزیر خزانہ کی فہرست میں باآسانی شامل کیا جاسکتاہے۔
آج جو لوگ کابینہ میں رونما ہونے والی اچانک تبدیلیوں پر حیرانگی و پریشانی کا اظہار کررہے ہیں،ہم انہیں یاد دلاتے چلیں کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قوم سے کیے گئے اپنے پہلے خطاب میں ہی واضح کردیا تھاکہ وہ اپنے وزراء کی کارکردگی پر گہری نظر رکھیں گے اور جو بھی وزیر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے گا اُسے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔لگتا یہ ہے کہ عمران خان کے اُس بیان کو وزراء نے ایک سیاسی بیان کے طور پر لے لیا تھا اورسب نے اپنی دانست میں فرض کرلیا تھا کہ فقط6 ووٹوں کی مختصر سی برتری سے منتخب ہونے والا وزیراعظم شاید کسی بھی وزیر کو اُس کی وزارت سے برطرف کرنے کا ”سیاسی رسک“نہ لے سکے۔ اِس”سیاسی خیال“ کے سہارے چند وزراء نے کھُل کر اپنا رنگ ڈھنگ دکھانا شروع کردیا،جس کی وجہ سے عوامی حلقوں میں بھی یہ تاثر گہرا ہوتا جارہا تھا کہ عمران خان اپنے چند وزراء کے ہاتھوں بُری طرح سے بلیک میل ہورہے ہیں۔مگرعامر کیانی اور غلام سرور کو اُن کی وزارت سے برطرف کر کے عمران خان نے اِس تاثر کی کلیتاً نفی کردی اور ایک بار پھر سے اپنے کھلاڑیوں کو بھرپور انداز میں یہ پیغام دے دیا ہے کہ آئندہ بھی وہی وزیر اُن کی کابینہ میں رہے گا جو کارکردگی دکھائے گا۔اُمید کی جاسکتی ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے لیئے گئے اِس طرح کے بڑے اور دبنگ فیصلے کابینہ میں بچ رہ جانے یا نئے آنے والے وزراء کی کارکردگی میں زبردست بہتری کا باعث بنیں گے۔مگر ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ تبدیلی کی یہ لہر وفاق کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں بھی نظر آنی چاہیئے کیونکہ پنجاب حکومت کی کارکردگی کپتان عثمان بزدار کی قیادت میں انتہائی مایوس کُن اور پھسپھسی سی ہے۔ پس جان لیجئے کہ پنجاب حکومت کے کپتان کی تبدیلی کے بغیر”تبدیلی حکومت“کی تبدیلیوں کا یہ سفر اُدھورا،اُدھورا سا ہی لگے ہے سب کو۔
تھمے پانی کو تبدیلی مبارک
ہوا کا ہاتھ ہلچل لکھ رہا ہے

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 23 اپریل 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں