Governer Sindh in Happy Mode

گورنر سندھ اور وزیراعلی کے مابین بڑھتی ہوئی سیاسی خلیج

گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ کے درمیان وقت کے ساتھ ساتھ کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔سندھ حکومت کا موقف ہے کہ گورنر سندھ صرف اپنے آئینی اور علامتی کردار تک محدود رہیں تو ان کے لیئے زیادہ اچھا ہے کیونکہ ان کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیاں سندھ اور وفاق کے تعلقات کے مابین کشیدگی کا باعث بن رہی ہیں۔جبکہ دوسری طرف گورنر سندھ کسی بھی صورت اپنی سیاسی سرگرمیوں سے دستبردار ہونے کے لیئے تیا ر نہیں ہیں ان کا کہنا کہ کوئی بھی قانون انہیں وفاق کی طرف سے سندھ کے عوام کی خدمت کرنے سے نہیں روک سکتا،اگر سندھ حکومت یہاں کے لوگوں کے مسائل حل کرنے میں ذرا برابر بھی دلچسپی رکھتی تو سندھ کے عوام میری طرف مدد کے لیئے دیکھتے ہی کیوں۔گورنر سندھ زبیر احمد کا کہنا ہے کہ وفاق کی طرف سے کراچی کے لیئے 25 ارب روپے اور حیدرآباد کے لیئے 5 ارب کے خصوصی ترقیاتی پیکچ کا اعلان اُن کی طرف سے سندھ کی عوام کے لیئے ایک تحفہ ہے،مگر وہ یہاں یہ وضاحت کرنے سے قاصر رہے کہ جب یہ رقم حکومتی بجٹ میں شامل ہی نہیں ہے تو پھر اسے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی خواہشات و مرضی کے مطابق کیسے کراچی اور حیدرآباد میں خرچ کیا جائے گا کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ یہ اعلان کردہ رقم سندھ حکومت اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے حوالے تو کسی بھی صورت نہیں کی جائے گی۔غالب امکان یہ ہی ہے کہ یہ رقم گورنر سندھ زبیر احمد کے توسط سے استعمال میں لائی جائے گی۔جس کا اولین مقصد مستقبل میں پیپلزپارٹی کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی سیاسی حمایت حاصل کرنا ہے۔ اگر یہ رقم واقعی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے مستقبل کے سیاسی اہداف کے حصول کو مدنظر رکھ استعمال میں لائی جائے گی تو کیا سندھ حکومت اور پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت اس کو برداشت کر لے گی۔سندھ کی سیاست کا ذرا بھی شعور رکھنے والے یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ وفاق کی طرف سے اُٹھائے جانے اس طرح کے اقدامات گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ کے مابین پہلے سے جاری سرد جنگ میں مزید اضافہ کا باعث ہوں گے۔
اس سرد جنگ میں پیپلزپارٹی سندھ کی طرف سے پہلا بڑا حملہ میاں نواز شریف کی اہلیہ اور این۔اے 120 سے امیدوار بیگم کلثوم نواز کے خلاف 17 سال پرانا بغاوت کا مقدمہ منظر عام پر لانے سے کر بھی دیا گیا ہے۔9 مارچ 2000 ؁ء کو سول لائین حیدرآباد میں منعقدہ جلسہ میں بیگم کلثوم نواز کے خلاف فوج کے خلاف تقریر کرنے اورعوام کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اُکسانے کی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں ضمانت بھی نہیں کروائی گئی تھی۔سندھ حکومت کی طرف سے اچانک اس مقدمے کومنظر عام لانے کا واحد مقصد مسلم لیگ (ن) کو اپنے خلاف سندھ میں کھل کر سیاست کرنے سے روکنا ہے۔جس کے لیئے اس مقدمے کو مہلک سیاسی ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جائے گا۔
پیپلزپارٹی کے سیاسی حلقوں میں گورنر سندھ کی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے شدید ترین سیاسی تحفظات پائے جاتے ہیں جس کا وہ اپنی نجی محفلوں میں کھل کر اظہار کرتے نظر بھی آتے ہیں انہیں شکوہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں ہونے والے اپنے سیاسی نقصان کو سندھ میں پورا کرنا چاہتی ہے، جس کے لیئے وہ گورنر سندھ اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو استعمال کرتے ہوئے 2018 ؁ء کے آنے والے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے خلاف بھر پور سیاسی محاذ بنانے کامنصوبہ رکھتی ہے۔جس کا اشارہ وزیراعظم کی غوث علی شاہ کے ساتھ کئی گھنٹے جاری رہنے والی خصوصی ملاقات سے بھی لگایا جاسکتا ہے حالانکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے غوث علی شاہ کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقات کے سیاسی مقاصد ہونے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”غوث علی شاہ اُن کے بہت پرانے اور بہت اچھے دوست ہیں اس لیئے اُن کے ساتھ کچھ پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے لیئے میں ان سے ملنے آیا تھا جس کا مسلم لیگ ن سندھ کے سیاسی سرگرمیوں سے قطعاً کوئی لینا دینا نہیں ہے“۔
جبکہ غوث علی شاہ کے قریبی حلقوں کی طرف سے جو اطلاعات سامنے آئی ہیں اُن کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میاں نواز شریف کا خصوصی پیغام غوث علی شاہ کو پہنچایا ہے، جس میں میاں نواز شریف نے ماضی میں اپنی طرف سے اُن کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر معذرت کے ساتھ ساتھ موجودہ سیاسی حالات میں مدد کا تقاضا بھی کیا ہے اور آفر کی ہے کہ اگر وہ پسند کریں تو انہیں مسلم لیگ سندھ کی قیادت بھی دی جاسکتی ہے۔ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گورنر سندھ مسلسل غوث علی شا ہ سے رابطے میں ہیں اور تمام معاملات طے ہونے کے بعد آنے والے چند دنوں میں کسی بھی وقت اُن کی جانب مسلم لیگ (ن) سندھ کی قیادت قبول کرنے کا باضابطہ اعلان سامنے آسکتا ہے۔غوث علی شاہ کا سندھ میں سیاسی اثرورسوخ دیکھتے ہوئے ان کاباضابطہ طور پر مسلم لیگ (ن) کی طرف سے سندھ میں متحرک ہونا،پیپلزپارٹی کے سندھ میں سیاسی مستقبل کے حوالے سے کوئی اچھا شگون نہیں قرار دیا جاسکتا۔
سندھ کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سیاسی قربتوں نے ہی حالیہ ہفتوں میں آصف علی زرداری کو سیاسی جوڑ توڑ کے لیئے نواب شاہ میں طویل ترین قیام پر مجبور کیا ہے کیونکہ صوبہ سندھ آصف علی زرداری کی دکھتی رگ ہے۔جس میں اُن کے مخالفین کی طرف سے ذرا سی بھی سیاسی ہلچل اُنہیں بے چین کر دیتی ہے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر اگلے انتخابات میں سندھ بھی ان کے ہاتھوں سے نکل گیا تو اُن کی سیاست ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے اپنی موت آپ مرجائے گی۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 21 ستمبر 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں