Golimar Karachi Building Collapse

میرے شہر کے سب معمار سو گئے

سندھ کے ہر شہر میں کہیں بھی اور کیسی بھی عمارت تعمیر کرنا تو بہت آسان کام ہے لیکن سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے کسی عمارت کا نقشہ پاس کروانا بہت ہی مشکل بلکہ اپنی جان اور اپنے مال کو شدیدجوکھم میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ یہ اہم ترین بات سندھ میں بسنے والا کم و بیش ہر شخص ہمیشہ سے ہی جانتا ہے۔ مگر شومئی قسمت کہ اَب اِس بات کی خبر پورے پاکستان یا یوں سمجھ لیجئے کہ تمام دنیا کو بھی بہت اچھی طرح سے ہوگئی ہے۔کیونکہ گزشتہ دنوں رضویہ سوسائٹی، گولیمار کراچی میں ایک5 منزلہ رہائشی عمارت کے اچانک منہدم ہونے کے نتیجے میں اَب تک جاں بحق ہونے والے27 افراد نے جہاں ہردردِ دل رکھنے والے شخص کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے وہیں اِس ہول ناک واقعہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے انتظامی وجود پر انتہائی سنگین قسم کے سوالات بھی اُٹھا دیئے ہیں۔ میڈیا پر نشر ہونے والی ابتدائی معلومات کے مطابق اچانک سے زمین بوس ہونے والی یہ کثیر المنزلہ عمارت جمال فاطمہ نامی ایک خاتون کی ملکیت ہے جنہوں نے 74 گز کے مختصر سے رقبے پر خستہ حال پرانے ستونوں پر یہ 5 منزلہ عمارت تعمیر کرائی تھی۔اِس ہول ناک حادثے پر پاکستان بھر میں لوگ ایک دوسرے سوال کررہے ہیں کہ کیا کراچی جیسے بڑے اور جدید شہر میں ایک 5 منزلہ عمارت کے نقشہ کو سندھ بلڈنگ کنڑول اتھارٹی سے پاس کروائے بغیر تعمیر کرنا اتنا ہی آسان کام ہے؟۔یقینا عوام کی اکثریت اِس اندوہناک حادثہ کا قصور وار عمارت کی اصل مالکہ جمال فاطمہ نامی خاتون کو ہی ٹہرائیں گے کہ جنہوں نے اپنی عمارت کے نقشہ کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے پاس کروائے بغیر ہی تعمیر کروایا تھا۔

واضح رہے کہ سندھ بھر میں 80 فیصد سے زائدنئی تعمیر شدہ عمارتوں کے نقشے سندھ بلڈنگ کنڑول اتھارٹی سے پاس ہی نہیں کروائے جاتے کیونکہ سندھ میں رہائش پذیر لوگ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر کی دہلیز میں قدم رکھنے کو بھی ایک گناہ کبیرہ کے مصداق خیال کرتے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ نا سمجھ لیا جائے کہ سندھ میں رہنے والے افراد اپنے گھروں اور دُکانوں کو خوبصورت نقشہ کے عین مطابق تعمیر نہیں کروانے چاہتے۔اگر ایسا ہوتا تو سندھ بھر میں جگہ جگہ قابل، سندیافتہ نقشہ نویسوں کے دفاتر نہیں موجود ہوتے۔سندھ کے ہر شہر میں بڑے بڑے نقشہ نویسوں کے یہ دفاتر اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ سندھ کے باسی اپنی نئی رہائشی عمارتوں کو تعمیر کرنے سے قبل اِن کے خوب صورت اور قیمتی نقشے تو ضرور بنواتے ہیں لیکن اِن نقشوں کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے پاس کروانے سے بہت ڈرتے ہیں۔ کیونکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں بیٹھے ہوئے سندھ حکومت کے چہیتے افسران ایک نقشہ کو پاس کرنے کے لیئے جتنی زیادہ رشوت طلب کرلیتے ہیں، وہ اِن بے چاروں کی دستیاب استطاعت سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہوتی ہے اور نقشہ پاس کروانے والا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر میں کھڑا ہوکر ہونقوں کی طرح سوچتا رہ جاتا ہے کہ وہ اگر اپنی ساری جمع پونجی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قابل افسر کو رشوت میں دے دے گا تو پھر اپنا گھر،یا دُکان تعمیر کرنے کے لیئے رقم کس سے اُدھار لے گا۔ یعنی نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کو منہ مانگی یکمشت رشوت دینے کا خوف ہی واحد وجہ ہے کہ سندھ بھر میں رہائشی اور تجارتی عمارتیں بغیر نقشہ پاس کروائے بنائے جانے کا چلن عام ہے۔



اَب ہمارے سادہ لوح قارئین اپنی دانست میں یہ سمجھ رہے ہوں گے بغیر نقشہ پاس کروائے مکان تعمیر کرنے سے لوگ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چنگل سے بچ جاتے ہیں یہ بھی ہمارے قارئین کی ایک بہت بڑی بھول ہی ہے کیونکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چاک و چوبند اور مستعد اہلکار وں کا طریقہ واردات کچھ اس طرح ہے کہ وہ پہلے تو اپنی آنکھوں کے سامنے ایک بلند وبالا عمارت تعمیر ہونے دیتے ہیں اور جب عمارت کا رہائشی یا تجارتی استعمال شروع ہوجاتا ہے تو پھر یہ اپنی فائلیں اُٹھاکر جگہ کے اصل مالکان کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور اُنہیں بڑے پیار سے ڈراتے،دھمکاتے اور بتاتے ہیں کہ چونکہ آپ نے یہ عمارت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے نقشہ منظور کروائے بغیر تعمیر کروائی ہے۔ لہذا آپ پر فلاں فلاں دو درجن سے زائد لاکھوں کے روپے کے جرمانے لگ سکتے ہیں اور اگر آپ اپنی تعمیر کردہ غیر قانونی بلڈنگ بھی قائم رکھنا چاہتے ہیں اور جرمانے کی ادائیگی سے بھی خود کو بچانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ماہانہ،شش ماہی یا سالانہ بنیادوں پر خرچہ پانی خاموشی سے دیتے ر ہیں اورامن و سکون کے ساتھ اپنی عمارت میں آباد بھی رہیں اور اپنے کاروبار میں شاد بھی رہیں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا یہ ہی منفی رویہ اکثر وبیشتر سندھ بھر میں رہائشی و تجارتی عمارتوں کے اچانک گرنے کا بنیادی سبب ہے۔

کراچی میں گولیمار کے علاقے میں زمین بوس ہونے والی یہ پہلی عمارت نہیں ہے جس میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے،لیکن اگر سندھ حکومت اور اِس کے ماتحت دیگر ادارے خاص طور پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی خواب غفلت سے خود کو بیدار کرلیں تو یہ اچانک سے گرجانے والی آخری عمارت ضرور بن سکتی ہے۔بہت افسوس ناک بات ہے کہ ہم اُن 27 معصوم افراد کو تو نہیں بچاسکے جو ایک آن کی آن میں عمارت کے ملبے میں پیوند خاک ہوگئے۔لیکن اگر سندھ کے اربابِ اختیار ااپنے زیر انتظام سرکاری اداروں کا قبلہ درست کرنے کی ٹھان لیں تو نہ جانے مستقبل میں ہم کتنے ہی ناگہانی اور اندوہناک حادثات سے صوبہ سندھ اور اِس کے باسیوں کو بچا سکتے ہیں۔بس!ساری بات اگر ہے تو اُس احساسِ ذمہ داری کی، جو ہمارے سیاسی معماروں میں ہمیشہ سے ہی عنقا رہا ہے۔ بقول اقبال اشہر قریشی
دیوار و در بھی اپنی مرمت سے تنگ تھے
گر جائے اَب مکان کہ معمار سو گئے

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 12 مارچ 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں