George Floyd Murder Issue

جارج فلائیڈ کا امریکا

کم و بیش ایک دہائی قبل ”جارج کا پاکستان“ہمارے ملک کے ایک نجی ٹی وی چینل پر چلنے والا ایک مقبول ترین پروگرام ہوا کرتاتھا۔اِس پروگرام نے برطانوی صحافی جارج فلٹن کو دنیا بھر میں مشہور بنانے میں اہم ترین کردار کیا۔ اِس پروگرام کے توسط سے پاکستانیوں کی جانب سے جارج کو فقید المثال محبت ملی۔جارج فلٹن نے اِس پروگرام کے ذریعے پاکستان بھر میں سفر کیا۔ انہوں نے پنجاب کے میدانوں میں کسانوں کے ساتھ ہل چلائے، ہوٹلوں اور ڈھابوں پرلذیذ پاکستانی کھانے کھائے، کھیتوں اور کھلیانوں میں رقص کیا اور شمال کے کوہستانی علاقوں میں پشتونوں کے ساتھ کلاشنکوف اور رائفلوں سے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ حد تو یہ ہے کہ جارج فلٹن کی پاکستان سے محبت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں پاکستانی پاسپورٹ بھی دے دیا گیا تھا۔بعد ازاں انہوں نے ایک پاکستانی صحافی کرن سے شادی کر لی۔ کرن سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد جارج اور کرن نے مل کرنجی نیوز چینل پر ایک مارننگ شو شروع کیا اور جارج پاکستانی اخبارات کے لیے باقاعدہ کالم بھی لکھنے لگے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ آج بھی جارج فلٹن سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ پر مختلف سماجی اور سیاسی مسائل پر اپنی تنقیدی ویڈیوز وغیرہ تسلسل کے ساتھ پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اِس کے باوجود انہیں پاکستان بھر میں عوام کی جانب سے زبردست پذیرائی اور محبت ملتی ہے۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جارج کو ایک چھالے کی طرح سنبھال کر رکھنے کے باوجود بھی لبرل حلقوں کی جانب سے پاکستان کو ایک ناکام اوردقیانوسی ریاست ہونے کے باربار طعنے دیئے جاتے ہیں۔اس کے مقابلے میں امریکہ میں ایک سفید فام سابق پولیس افسر ڈیرک چاؤن کے ہاتھوں ایک 46 سالہ سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد اِس لبرل مافیا کی زبان سے امریکہ کی مذمت میں ایک حرف تنقید بھی جاری نہ ہوسکا۔

ستم ظریفی کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض حلقوں کی جانب سے امریکہ میں جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد ہونے والے مظاہروں پر بھی نام نہاد امریکی روشن خیالی کا لیبل چسپاں کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔حالانکہ امریکہ میں ہونے والے مظاہرے مغربی نظام ِ جمہوریت اور اُس کے بطن سے جنم لینے والے دوہرے بلکہ تہرے نظام ِ انصاف کے خلاف ایک کھلی بغاوت ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ اِن مظاہروں میں امریکہ کے عالمی طاقت بننے کے بعد پہلی بار جگہ جگہ نہ صرف توڑ پھوڑ ہورہی ہے،گاڑیاں نذرِ آتش کی جارہی ہیں بلکہ امریکی پرچموں کو بھی مظاہرین اپنے جوتوں تلے روند کر جلا رہے ہیں۔ جبکہ بعض مظاہرین کے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈ ز بھی بھی دیکھے گئے ہیں جن پر درج تھا کہ ”ہم عرب نہیں ہیں کہ تم ہمیں مارو اور ہم چپ رہیں“ یا ”سوال یہ ہے کہ کتنے اور،مزید کتنے اور؟“ یا یہ کہ ”ہم ایسے مستقبل میں جینا چاہتے ہیں جہاں ہم آہنگی صرف آئین میں درج نہ ہو“۔یہ ایسے ناقابلِ یقین مناظر ہیں جو کبھی ہم نے امریکی سرزمین سے براہ راست نہیں دیکھے تھے۔امریکہ میں حالات کی شدت کا اندازہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اِس ٹوئٹ سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے،جس میں انہوں نے لکھا کہ ”’فلاڈیلفیا میں لا اینڈ آڈر، ابھی وہ سٹورز کو لوٹ رہے ہیں۔ ہمارے نیشنل گارڈز کو بلائیں“۔اِس ٹوئٹ میں خوف، پریشانی اور سراسیمگی کی کیفیت صاف محسوس کی جاسکتی ہے۔ یعنی امریکی صدر ٹوئٹ کے ذریعے حالات کو سنبھالنے کے لیئے امریکی حکام کو دہائیاں دے رہے ہیں۔ ایسی بے چارگی تو آج تک کسی افریقی ملک کے سربراہ مملکت کے ٹوئٹ سے بھی مترشح نہیں ہوئی تھی۔

دوسری جانب مظاہروں سے پیدا شدہ غیر معمولی بحرانی صورت حال نے صدر ٹرمپ کو اتنا زیادہ حواس باختہ اور ذہنی خلجان میں مبتلا کردیا ہے کہ ٹرمپ اپنے احکامات اور مرضی کو تسلیم نہ کرنے و الے ریاستی گورنروں کو میڈیا پر سرعام ”کمزور“ اور ”احمق“ قرار دے رہے ہیں جبکہ احتجاجی مظاہرے کرنے والوں اور لوٹ مار کرنے وا لے عناصر کو ”داخلی دہشت گرد“ کا نام دیکرانہیں سختی سے کچلنے کیلئے فوج، نیشنل گارڈز، پولیس اور دیگر اداروں کے استعمال پر زور دے رہے ہیں۔جس کے جواب میں متعدد امریکی شہروں کی پولیس کے سربراہ امریکی صدر کے ساتھ کھڑا ہونے کے بجائے مظاہرین کے ساتھ کھلے عام یک جہتی کا اظہار کر تے ہوئے مظاہرین کو پرامن اور تعاون کے طریقوں پرآمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو متحد کرنے کیلئے مذہب اور سیاست کو باہم ملاتے ہوئے وہائٹ ہاؤس کے نزدیک موجود تاریخی چرچ تک پیدل چل کر گئے اور اس دوران ٹرمپ کے راستے میں آنے والے مظاہرین پر فورسز نے شیلنگ کی اور ربڑ کی گولیاں بھی فائر کیں گئیں۔جب کہ ٹرمپ بند چرچ کے باہر ہاتھ میں بائبل لیکر تصویر کھنچواکر واپس آگئے اور اسی طرح صدر ٹرمپ اپنی اہلیہ کو ساتھ لیکر کیتھولک پوپ جان پال کی یادگار پر بھی گئے،جس کی تصویر بھی میڈیا کو جاری کردی گئی۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے مذہب کو سیاست کیلئے استعمال کرنے پر نہ صرف ان کے سیاسی مخالف صدارتی امیدوار جوزف بائیڈن کے علاوہ متعلقہ چرچ بشپ خاتون نے بھی سخت تنقید کی ہے۔ اس بارے میں سابق نائب صدر جوزف بائیڈن نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ”محض بائبل ہاتھ میں اٹھانے کی بجائے صدر ٹرمپ کبھی بائبل کھول کر بھی پڑھ لیتے تو شاید ہمارا ملک اس بحران کا شکار نہ ہوتا“۔

جارج فلوئیڈ کے قتل کے بعد امریکہ بھر میں نسلی امتیاز اور تشدد سے متعلق بحث و مباحثہ کا آغاز ہوگیا ہے اور امریکی پولیس کے طرزِ عمل اور وفاقی حکومت کے کردار بالخصوص ریاستی اداروں سی آئی اے اور پینٹاگون کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے۔ عام رائے یہ ہے کہ امریکہ میں نسلی امتیاز اور تشدد کے ہر سانحہ کے پیچھے منظم طور پر امریکہ کے ریاستی اداروں کا ہاتھ ہے۔ اِس رائے کو تقویت پولیس کے ذریعہ ہونے والے تشدد کے واقعات کی نگرانی کرنے والی ایک ویب سائٹ ”میپنگ پولیس وائلنس“سے بھی ملتی ہے جس کے مطابق سیاہ فام افراد امریکہ کی کل آبادی کا صرف 13 فیصد ہیں لیکن اگر ہم پولیس کی گولی سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پر نظر ڈالیں تو وہ کل اموات کا ایک چوتھائی حصہ ہیں اور غیر مسلح افراد کی ہلاکت کی صورت میں یہ امتیازی سلوک اور بھی کھل کر سامنے آتا ہے کیونکہ سیاہ فام کل اموات کا ایک تہائی حصہ ہوتے ہیں۔ایک غیر مسلح سیاہ فام شخص کا پولیس کے ہاتھوں غیر مسلح سفید فام شخص کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہلاکت کا امکان ہے۔ میپنگ پولیس وائلنس نامی سائٹ کے اعداو شمار ظاہر کرتے ہیں امریکی پولیس نے صرف 2019 میں ایک ہزار 99 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ خوف ناک بات یہ ہے کہ ملک کی کل آبادی کا 13 فیصد ہونے کے باوجود مرنے والے 24 فیصد لوگ سیاہ فام لوگ تھے۔ صرف یہ ہی نہیں امریکی ریاست بالٹیمور کا پولیس ڈیپارٹمنٹ افریقی امریکیوں کو سڑک کے کنارے چلنے سے بھی روکتا ہے۔ادارہ کی اپنی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق ایک درمیانی عمر کے افریقی نژاد امریکی شخص کو چار سالوں میں تقریبا 30 بار روکا گیا تھا۔ بار بار روکے جانے کے باوجود کبھی بھی ان 30 بار روکے جانے کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس پر مجرمانہ مقدمات درج کیے گئے۔

اِن اعدادو شمار میں چھپے ہوئے حقائق سے آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں امریکہ کا سب بڑا مسئلہ نسلی تعصب ہے لیکن لطیفہ ملاحظہ ہو کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نسل پرستانہ رویوں کو امریکہ میں پنپنے سے روکنے کے بجائے،اُلٹا جو تنظیم امریکی معاشر ہ میں نسل پرستانہ رویوں کے خلاف جدوجہد کی علامت ہے اُس پر ہی پابندی لگانے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ جی ہاں! اُس تنظیم کا نام ہے ”اینٹی فا“۔ یہ تنظیم امریکہ میں فسطائیت کے خلاف قابلِ ذکر اقدامات اُٹھانے والی ایک احتجاجی تحریک ہے جو نازی خیالات، سفید فام نسل پرستی کی بالا دستی کے پیرو کار اور نسل پرستانہ رویے کے خلاف مظاہرے کرتی ہے۔اس تنظیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا کوئی مرکزی رہنما نہیں ہے اور وہ آزادانہ طور پر کام کرتی ہے۔اس تحریک سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ ہر قسم کے نسل پرستانہ رویے اور جنس پر مبنی تعصب کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تحریک تارکین وطن اور مسلمان مخالف پالیسیوں کے خلاف بھی احتجاج کرنے میں پیش پیش رہی ہے جو صدر ٹرمپ کے دور میں نافذ کی گئی ہیں۔”اینٹی فا“اُصولی طور پر جارج فلائیڈ جیسے مظلوم امریکی شہریوں کے لیئے حقوق کی آواز بلند کرنے والی ایک پرامن عوامی تحریک ہے۔ جس نے کبھی بھی پرتشدد مظاہرے کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن زبردست عوامی مقبولیت رکھنے اِس تحریک پر پابندی کرنے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں مزید نسلی تفریق اُبھارنے کا باعث بننا چاہتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ امریکہ بھر میں صرف عام امریکی شہری ہی نہیں بلکہ امریکی ریاستوں کے گورنرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مختلف سربراہان بھی امریکی صدر ٹرمپ کے ”اینٹی فا“ پر پابندی عائد کرنے کی دھمکی پر کڑی تنقید کررہے ہیں۔

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد امریکہ کے اکثر شہروں میں پھوٹ پڑنے والی پرتشددانارکی نے دنیا بھر میں امریکہ کی سیاسی قد کاٹھ بالکل بوزنا بنا دیاہے جبکہ اس کے مقابلہ میں چین جس طرح سے اپنے داخلی معاملات سے ایک ایک کر کے نمٹ رہا ہے۔اُس نے چین کا بہروپ خطہ کی علاقائی طاقت سے ایک نئی عالمی طاقت کے روپ میں بڑی تیزی کے ساتھ بدلنا شروع کردیاہے۔ ہمارا خیال ہے کہ جس برق رفتار ی اور سرعت کے ساتھ چین عالمی سپر پاور کے منصب سے قریب سے قریب تر ہوتا جائے گا ویسے ویسے ہی آپ دیکھیں گے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بڑی تیزی کے ساتھ داخلی شورش اور انارکی میں مبتلاء ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ عالمی سیاست کا یہ نرالا دستور ہے نئی عالمی قوت اُس وقت تک اپنے چہرے سے نقاب نہیں جب تک پچھلی عالمی طاقت کے حصہ بخرے نہ ہوجائیں۔ اِس لیئے اگر کوئی تجزیہ کار ابھی بھی یہ خیال کیئے بیٹھا ہے کہ جارج فلائیڈ کے سانحہ کے چند ہفتوں بعد امریکہ ایک بار سے معمول کی پرامن سیاسی و انتظامی صورت حال کی جانب لوٹ جائے گا تو ہمارے نزدیک یہ سوچ قطعی طور پر احمقانہ ہے کیونکہ امریکی معاشرہ میں نسلی امتیاز کے فروغ کے بعد ترقی معکوس کا جو سفر اَب شروع ہوچکا ہے اِس کا اختتام جارج واشنگٹن کی ریاستہائے متحدہ امریکہ کے بطن سے بے شمار چھوٹے چھوٹے جارج فلائیڈ کے امریکی جزیرے جنم لینے پر ہی ہوگا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 11 جون 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں