Funny Resignations

استعفا ہو، تو ایسا۔۔۔!

استعفا، جسے کئی لوگ اردو میں استعفیٰ بھی لکھ دیتے ہیں، انگریزی زبان میں اس کے لیئے لفظResignation یا Resign مستعمل ہے۔ لغت کی رُو سے اس لفظ کے اصطلاحی معنوں میں کسی بھی ملازمت کرنے والے شخص کا اپنے عہدے یا دفتر کو رسمی طور پر چھوڑنے کے عمل سے استعفادے دینا مراد لیا جاسکتا ہے۔ ماہرِ لسانیات کے نزدیک اُصولی طور پر لفظ استعفا کا اطلاق صرف اس وقت ہی ممکن ہے جب ایک ملازمت پیشہ شخص کسی ایسے عہدے پر فائز ہو جسے اس نے انتخاب یا تقرر کے ذریعے حاصل کیا ہو اور وہ اسے اپنی مرضی سے چھوڑ نا چاہتاہو،اب چاہے اس کی وجہ کوئی بھی ہو،

مگر اس ضمن میں ایک بات یاد رہے کہ اپنی ملازمت کی مدتِ میعاد کی تکمیل کے بعد عہدہ چھوڑنا استعفا نہیں سمجھا جائے گا۔ جب ایک ملازم کسی بھی وجہ سے اپنی جاری ملازمت کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلے اور اس بابت اپنے افسرانِ بالا کو کسی بھی طریقہ سے آگاہ کردے تو اُس کے اس اقدام کو استعفا ہی تصور کیا جائے گا اور یوں یہ ملازم رضاکارانہ طور پر اپنی ملازمت کھو دے گا۔استعفا کی صورت میں مستعفی ملازم اپنے ادارہ سے کسی بھی قسم کی مراعات طلب کرنے کا مجاز نہیں رہتا جبکہ اس کے برعکس اپنے ادارے کی طرف سے ملازمت سے برخاستگی کی صورت میں وہ اضافی اُجرت یا بے روزگاری کے ذیلی فوائد سمیت کئی قسم کی سہولیات کا حقدار ہوسکتاتھا۔



دفتری و پیشہ ورانہ معاملات کے برعکس سیاست میں استعفے یا تو سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیئے دیئے جاتے ہیں یا پھر کسی دباؤ کے نتیجے میں زبردستی لیئے جاتے ہیں،مثلاً رچرڈ نکسن نے امریکا کے صدارتی عہدے سے اگست 1974ء میں واٹرگیٹ اسکینڈل کے بعد استعفا دے دیا تھاکیونکہ اُنہیں یقین تھا کہ کسی بھی وقت اُنہیں ریاستہائے متحدہ کی کانگریس کی جانب سے تحریک مواخذہ میں عہدے سے ہٹادیا جائے گا۔ سیاست میں استعفا ایک سیاسی حربے کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جیسا کہ پچھلے دورِ حکومت میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے اجتماعی طور پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفے دیئے تھے لیکن اتنا لحا ظ بھی ملحوظ خاطر رکھا تھا کہ اِن استعفوں کی منظوری کسی صورت ممکن نہ ہوسکے،یوں ایک طویل عرصہ تک استعفے اور تنخواہیں ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔

بظاہر استعفا شخصی فیصلہ ہوا کرتا ہے، لیکن کئی سیاسی معاملوں میں بیرونی دباؤ کا نتیجہ بھی ہوتا ہے،جیسے سابق صدر پاکستان پرویز مشرف نے اپنے عہدہ صدارت سے صرف اس لیئے استعفا دے دیا تھا کہ اُن پر میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو این آر او دینے کی وجہ سے بیرونی طاقتوں کا سخت دباؤتھا۔ بہرحال ایک بات طے ہے کہ استعفا پیشہ ورانہ ہو،سیاسی ہو یا غیر سیاسی،استعفا دینے والے شخص کے لیئے یہ مرحلہ کبھی بھی آسان نہیں ہوتامگر اس کے باوجود بھی دنیا میں بعض ایسے زندہ دل افراد موجود ہیں جو استعفا دینے کے اس مشکل ترین مرحلے کو بھی اپنی تخلیقی یا پُر مزاح فطری صلاحیت کے باعث انتہائی دلچسپ بنالیتے ہیں۔ایسے ہی کچھ دلچسپ اور حیرت انگیز استعفوں کا احوال ذیل میں پیشِ خدمت ہے۔

استعفا میں کچھ میٹھا ہوجائے
کرس ہومز Chris Holmsکی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی تھی کہ وہ بڑے پیمانے پر کیک بنانے کے کاروبار کا آغاز کرے،اس مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے اُس نے کئی چھوٹی بڑی بیکریوں میں مختلف ملازمتیں بھی کیں لیکن جب مالی وسائل کی عدم دستیابی کے باعث وہ اپنے ذاتی کاروبار کرنے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا تو اُس نے ایک برطانوی ائیر پورٹ پر بطور بارڈر فورس ورکر ملازمت اختیار کرلی بظاہر یہ ملازمت ہر حوالے سے ایک بہترین ملازمت قرار دی جاسکتی تھی لیکن کرس ہومز کو اس ملازمت میں کافی بوریت محسوس ہوتی تھی کیونکہ یہ ملازمت اس کے شوق کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ تھی۔

ایک دن اچانک کرس ہومز نے اپنی اس بور ملازمت سے استعفا دینے کا فیصلہ کرلیالیکن استعفا دینے کے لیئے جو طریقہ کرس ہومز نے اختیار کیا وہ بے حد منفرد تھا۔کرس ہومز نے استعفا دینے کے لیئے ایک خوبصورت مزیدار سا کیک بنا یا اور اُس کے اوپر انتہائی دلنشین انداز میں اپنے استعفے دینے کی تمام تر وجوہات درج کردیں۔ اس مٹھاس بھرے استعفے نے کرس ہومز کے افسرانِ بالا کا دل ایسے موہ لیا کہ انہوں نے اس کا استعفا بلاکسی توقف کے نہ صرف منظور کرلیابلکہ اُسے اپنے شوق کی تکمیل کی خاطر یعنی کیک بنانے کا اپنا کاروبار کرنے کے لیئے بھرپور مالی امداد بھی کی۔آج کر س ہومز کو استعفا دیے ہوئے پورے پانچ برس بیت چکے ہیں اور اُس کی بیکریMrCake کا کاروبار کامیابی کی کئی منازل طے کرچکا ہے مگر دنیا بھر میں ا ب بھی اُس کی سب سے بڑی پہچان ”میٹھا استعفا“ ہی ہے۔

فضائی استعفا
2010 میں جیٹ بلیو طیارہ کے اسٹیورڈ اسٹیون سلیٹر Steven Slaterنے دوران پروازمسافروں کی کسی بات سے ناراض ہوکر جہاز کے انٹر کام سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے اپنے استعفے کا اعلان کردیا،معاملہ یہیں تک محدود رہتا تو شاید فضائی کمپنی کی طرف سے اسے نظر انداز کردیا جاتا لیکن اسٹیون سلیٹر نے طیارے کے ائیرپورٹ پر لینڈ ہو جانے کے بعد باہر نکلنے کے لیئے جہاز کا عام رستہ استعمال کرنے کے بجائے طیارہ کا ایمرجنسی ایگزٹ گیٹ کھول دیا جس سے جہاز کے مسافروں میں خوف وہراس پھیل گیا۔

طرفہ تماشا یہ کہ یہ شخص جہاز سے باہر جاتے جاتے جہاز میں مسافروں کی لیئے موجود بیئرز کے کئی کریٹ بھی اپنے ہمراہ لے گیا۔اسٹیون سلیٹر کے اپنی ملازمت سے مستعفی ہونے کے اس طریقہ نے فضائی کمپنی کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے کمپنی انتظامیہ نے اسٹیون سلیٹر کے خلاف مقدمہ درج کروا کر اُسے گرفتار کروادیا۔نیز مقدمہ کی سماعت کرنے والے جج نے تمام تفتیشی شواہد،گواہان کے بیانات اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد اپنے فیصلہ میں اسٹیون سلیٹر کے دورانِ پرواز استعفا دینے کے عمل کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے،ایک سال قید اور دس ہزار ڈالر بطور جرمانہ فضائی کمپنی کو اداکرنے کی سزا سنائی۔یوں اسٹیون سلیٹر کو ”فضائی استعفا“کا یہ ایڈونچرنہ صرف مہنگا پڑا بلکہ دنیا بھر رسوائی کا باعث بھی بنا۔

گوگل ملازمین کے اجتماعی استعفے
گوگل دنیا کے سب سے بڑی ٹیک کمپنی ہے اور اس میں ملازمت حاصل کرناکسی بھی شخص کے لیئے ایک خواب سے کم نہیں لیکن ان سب پرکشش لوازمات کے باوجود گزشتہ دنوں تقریبا ایک درجن سے زائد گوگل ملازمین نے اپنی کمپنی کی طرف سے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے لیے ڈرون پروگرام ”پروجیکٹ میون“ (Project Maven) میں شامل ہونے پر عہدے سے استعفے دے دیے جبکہ دیگر 3100 ملازمین نے ایک پٹیشن پر دستخط کر کے گوگل انتظامیہ کے حوالہ کردی ہے کہ اگرکمپنی نے اس پروجیکٹ میں تعاون کے خاتمہ کا اعلان نہیں کیا تو وہ بھی گوگل سے ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

”پروجیکٹ میون“ مشین لرننگ یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈرون طیاروں کی مدد سے لی گئی فوٹیج کا زیادہ تیزی سے تجزیہ کرنے میں مدد دینے کے لیے شروع کیا گیا امریکی حکومت کا ایک خفیہ جنگی منصوبہ ہے۔ گوگل سے استعفیٰ دینے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ”ڈرون آپریشنز میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر انہیں شدید تحفظات ہیں اور وہ معاملے کے اخلاقی پہلوؤں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور سیاسی و عسکری شعبوں میں کمپنی کی وسیع پیمانے پر شمولیت پر عہدہ چھوڑ رہے ہیں کیونکہ”پروجیکٹ میون“ میں شمولیت گوگل کی بنیادی اخلاقیات کی صریح خلاف ورزی ہے“۔ اس تمام تر صورتحال پر گوگل انتظامیہ کا موقف ہے کہ”پروجیکٹ میون“ کے تحت مصنوعی ذہانت جنگی آپریشنز میں ہر گز استعمال نہیں کی جائے گی“۔ لیکن گوگل ملازمین کی اکثریت اپنی کمپنی کی اس زبانی کلامی یقین دہانی سے قطعی مطمئن نہیں اور بدستور اپنی کمپنی کے اس فیصلے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کر رہی ہے۔جس کی وجہ سے اب تک گوگل کی کُل ہنرمند افرادی قوت کا 5 اعشاریہ 4 فیصد گوگل سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرچکاہے۔

مستعفی ہونے والے ملازم نے امریکی صدر ٹرمپ کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کر دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر میں متنازعہ شخصیت کے طور پر اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ اکثر عوامی حلقوں خاص طور پر سوشل میڈیامیں ”تنقیدی عتاب“ کا شکار رہتے ہیں اور اُن سے نفرت کرنے والے اُنہیں زچ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سیاسی ناقد جو کہ خوش قسمتی سے ٹویٹر میں ملازم بھی تھا،اُس نے ٹرمپ سے اپنی نفرت کے اظہار کا ایک عجیب و غریب طریقہ ڈھونڈنکالا اور اس ٹویٹر ملازم نے اپنی ملازمت سے مستعفی ہونے کے غم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹویٹر اکاؤنٹ ہی بند کردیا۔

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند ہونے کی دیر تھی کہ پوری دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ہر جگہ یہ بحث شروع ہوگئی کہ آخر ڈونلڈ ٹرمپ ٹویٹر سے اچانک کیوں غائب ہوگئے ہیں؟ اس سے پہلے کہ یہ معاملہ عالمگیر لفظی جنگ کی صورت اختیار کرتا ٹویٹر انتظامیہ نے بروقت ٹویٹ کرکے صورتحال کو سنبھال لیا،ٹویٹر نے اپنے آفیشنل اکاؤنٹ پر ٹویٹ کیا کہ ”انسانی غلطی کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹویٹر اکاؤنٹ غیر فعال ہوگیا تھا جسے گیارہ منٹ کے بعد بحال کردیا گیا ہے“۔ بعدازاں تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ یہ انسانی غلطی مستعفی ٹویٹر ملازم کی ایک چھوٹی سی حرکت تھی جو اس نے اپنے استعفا کو یادگار بنانے کے لیئے پورے ہوش و حواس میں کی تھی۔

سُر اور ساز سے سجا سُریلا استعفا
جیسا کہ سب ہی جانتے ہیں مستعفی ہونے والے افراد کی اکثریت عموماً اپنی ملازمت سے استعفا کام کی زیادتی یا افسرانِ بالا کے ناروا سلوک سے دلبرداشتہ ہوکر دیتی ہے،لیکن ایسا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے کہ مستعفی ہونے والا ملازم استعفا لکھتے وقت اپنے غم اور دُکھ کا اظہار تحر یر کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہو۔دنیا کی معروف ٹیک کمپنی مائیکروسافٹ میں ملازمت کرنے والی کیرن چینگ Karen Chang نے اپنے استعفے کو ہی اپنے غمزدہ جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنالیا۔قصہ کچھ یوں ہے کہ کیرن مائیکروسافٹ کمپنی میں ایکسل ڈیٹا بیس بنانے کا کام کرتی تھی،کام بہت سخت تھا لیکن ستائش نہ ہونے کے برابر تھی جس پر کیرن نے اپنی ملازمت مزید جاری نہ رکھنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔اب مسئلہ درپیش تھا استعفا لکھنے کا،

پس کیرن کو کچھ منفرد کرنے کا سوجھا اور یوں کیرن نے استعفا کو گیت کی شکل میں لکھ کر،ایک اچھی سی دُھن بنا ئی اور اپنا استعفا ایک مسحور کُن گیت کی شکل میں ریکارڈ کر کے کمپنی انتظامیہ کو ارسال کر دیا۔ سُر اور ساز سے سجے استعفے کے بول تھے ”Bye Bye Excel“۔مائیکروسافٹ کمپنی کی انتظامیہ کے علاوہ دیگر ملازمین نے بھی کیرن کے مستعفی ہونے کے اس طریقہ کار کو خوب سراہا اور اسے خوب داد بھی دی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک اس استعفے کو صرف یو ٹیوب پر چار لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد سُن کر اپنی پسندیدگی کی سند دے چکے ہیں۔اگر آپ کیرن کے اس مدھر دھنوں سے سجے ہوئے استعفے کو سننا چاہتے ہیں تو اس مختصر لنک پر کلک کریں۔ http://bit.ly/2RajP6F

براہِ راست استعفا
تھوڑی دیر کے لیئے تصور کریں کہ آپ اپنے پسندیدہ ٹی وی چینل پر کوئی من پسند پروگرام دیکھ کر محظوظ ہورہے ہوں کہ اچانک اُس پروگرام کی میزبان اپنے استعفے کا اعلان کردے تو آپ کے کیا تاثرات ہوں گے۔ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے اکثر قارئین کہیں گے کہ ”ایسا تھوڑی ہوتا ہے کہ کوئی براہِ راست پروگرام میں اپنا استعفا پیش کردے“۔ تو عرض یہ ہے کہ دنیا میں بہت سے ایسے سرپھرے موجود ہیں جو کسی بھی جگہ کچھ بھی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،

ایسے ہی چند گنے چنے افراد کی فہرست میں ایک نام ”لز واحل“Liz Wahl کا بھی ہے۔روس کے سب سے بڑے نیوز چینل رشین ٹی وی کی معروف امریکی نژاد اینکر ”لز واحل“ نے اپنے چینل کے ایک پروگرام میں امریکہ مخالف پروگرام نشر ہونے پر اپنے براہِ راست پروگرام میں ہی رشین ٹی وی سے استعفا دے کر اپنے نیٹ ورک کو دنیا بھر میں شرمندہ کردیا۔”لز واحل“ نے براہِ راست نشر ہونے والے پروگرام میں اپنا استعفا کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ٹی وی نیٹ کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہ ”اُنہیں فخر ہے اُن کے والدین امریکی تھے اور وہ بھی امریکہ سے والہانہ محبت کرتی ہیں اور اس لیئے وہ اپنے ٹی وی نیٹ ورک پر امریکہ پرہونے والی بے جا تنقید پر بطور احتجاج استعفا دینے کا اعلان کرتی ہیں“۔ یہ براہ راست استعفا ملاحظہ کرنے کے لیئے اس مختصر لنک کو نوٹ فرمالیں۔ http://bit.ly/2OLUZNO

استعفا کا گیم آور
”ویڈیو گیم کھیلنا ایک پرلطف کام ہے اور ویڈیو گیم کمپنی میں ملازمت کرنا گیم کھیلنے سے بھی زیادہ پرلطف ہوتا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ایک گیم ڈویلپر ہوتے ہوئے بھی اپنی ملازمت سے استعفا کسی روایتی سے انداز میں دے دیتا“۔ یہ الفاظ جیراڈ فاربس Jarrad Farbs کے ہیں۔جنہوں نے آسٹریلیا کی ایک معروف ویڈیو گیم بنانے والی کمپنی 2Kسے مستعفی ہونے کے لیئے اپنے گیم بنانے کے ہنر کو استعمال کرتے ہوئے مشہورزمانہ”ماریو برادرز“ Mario Brothers کچھ اس طرح ڈیزائن کیا کہ گیم کا ہر مرحلہ مکمل ہونے پر اُس کا استعفا گیم کی اسکرین پر کچھ اِن الفاظوں کی صورت میں نمودار ہوجاتاکہ”برائے مہربانی میرے بقایاجات اداکردیں،میں بہت خوش ہوں کہ میں نے ایک عالمی معیار کے ادارے میں کام کرکے بہت کچھ سیکھا، لیکن میرے شاندار کیرئیر کی شہزادی کسی اور قلعہ میں قید ہے،جسے میں نے جاکر آزاد کروانا ہے۔پس میں اس کمپنی سے استعفا دیتا ہوں“۔جیراڈ فاربس نے یہ گیم اپنی کمپنی کے ہر شخص کو بھیجا،جس نے بھی اُس کا استعفا سے بھرپور گیم کھیلا وہ اس استعفے نما ویڈیو گیم سے خوب لطف اندوز ہوا۔آج کل جیراڈ فاربس اپنی ذاتی گیم کمپنی کا مالک ہے۔

طویل ترین پارلیمانی استعفا
منفرد استعفوں کی فہرست میں ایک دلچسپ اور منفرد استعفا ہمارے ملک پاکستان سے بھی ہے۔یہ استعفا معروف مذہبی و سیاسی رہنما اور دھرنا اسپشلسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا ہے جو انہوں نے 15 اکتوبر 2004 کو اسمبلی کے فلور پر اپنی قومی اسمبلی کی رُکنیت سے دیا تھا۔آپ سوچ رہے ہوں گے اسمبلی کے اجلاسوں میں استعفے دینا یا اعلان کرنا تو ایک عام سی بات ہے تو اس استعفا میں آخر ایسی کیا خاص بات جو اسے دلچسپ استعفوں کی فہرست میں شامل کرنے پر ہمیں اتنا زیادہ اصرار ہے۔تو جواباً عرض یہ ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے استعفا کی منفرد بات اس استعفا کا غیر معمولی حد تک طویل ہونا ہے۔

حیران کن طور پر یہ استعفا 59 صفحات پر محیط تھا۔اگر اسے دنیا کا نہیں تو کم ازکم پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا طویل ترین استعفاہونے کا اعزاز تو بغیر کسی حیل و حجت دیا ہی جاسکتا ہے۔ آپ چاہیں تو اسے استعفے کی ایک چھوٹی سی کتاب بھی کہہ سکتے ہیں جس میں پروفیسر صاحب نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کی وجوہات پر عالمانہ و مدلل انداز میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔اُس وقت کی قومی اسمبلی کے سپیکر جناب چوہدری امیر حسین صاحب نے اس پُر مغز استعفا کامطالعہ کیا یا نہیں،ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اگر آپ اس طویل ترین پارلیمانی استعفا کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو برائے مہربانی اس مختصر لنک سے بلاتاخیر ڈاؤن لوڈ کرلیں اور وہ بھی بالکل مفت میں۔ http://bit.ly/2EFhYWk

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 02 دسمبر 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں