Fun Facts About Google Employees

گوگل کے ملازم

اگر دنیا بھر کے نوجوان گوگل جیسی مایہ ناز ٹیکنالوجی کمپنی میں ملازمت حاصل کرنے کو اپنے کیرئیر کی معراج سمجھتے ہیں تو اس پر کسی کو ذرا بھی تعجب نہیں ہونا چاہئے۔کیونکہ گوگل کی سرپرست کمپنی الفابیٹ دنیا کی چار سرفہرست کھرب ڈالرز کمپنیوں میں سے ایک ہے۔جبکہ گوگل کا دنیائے انٹرنیٹ پر اثرو رسوخ کا یہ عالم ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق کمپیوٹر پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والے دنیا کے نوے فیصد صارفین سب سے پہلے گوگل کی ویب سائٹ کو ہی وزٹ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر گوگل کمپنی کے متعلق ا پنے ملازمین کے ناز،نخرے اُٹھانے کے حوالے سے بے شمار جھوٹے، سچے قصے بھی مسلسل گردش میں رہتے ہیں۔ شاید یہ وجہ ہے کہ گوگل کو دنیا بھر میں قائم اپنے سینکڑوں دفاتر کے لیئے ہر سال ملازمت کے خواہش مندافراد کی طرف سے لاکھوں درخواستیں باقاعدگی کے ساتھ موصول ہوتی ہیں۔خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم میں تخصیص رکھنے والے طلبا و طالبات کے لیئے گوگل کی ملازمت انتہائی پرکشش سمجھی جاتی ہے۔لیکن ہر برس صرف چند خوش قسمت افراد کو ہی گوگل کے دفاتر کا جزولاینفک بننے کا سنہری موقع میسر آتا ہے۔ اگرچہ زیادہ تر افراد کبھی بھی گوگل کے ملازم بننے کا خواب ناک تجربہ حاصل نہیں کرسکتے لیکن کم ازکم گوگل استعمال کرنے والوں کو اتنا تو علم ہونا ہی چاہئے کہ آخر گوگل اور اُس کے ملازمین کے مابین پراسرار تعلقات کی اصل حقیقت کیا ہے۔

یہ مضمون بھی پڑھیئے: ملازمت ہو تو ایسی ہو

نام ہی سب کچھ ہے
گوگل اپنے ہر ملازم کو،پرکشش تنخواہ اور دیگر سہولیات کے ساتھ ہی ایک غیر رسمی نام بھی شناخت کے لیئے ضرور دیتا ہے۔ گوگل کے دفتر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نام گوگلر(Googler) ہے۔جو گوگل کے ہر ملازم کے لیئے یکساں استعمال کیا جاسکتاہے۔ اس کے بعد ”نوگلر“ (Noogler) جس کا معنی گوگل انتظامیہ کے نزدیک ”نیا چمکتا ستارہ“ کے ہیں۔ جسے نئے بھرتی شدہ ملازمین کی شناخت کے لیئے استعمال کیا جاتاہے۔نیز ”گرے گوگلر“ (Grey Googler) کے نام سے ایسے ملازمین کو مخاطب کیا جاتاہے،جن کی عمر 40 برس سے زائد ہوتی ہے۔یہ نام گرے اور گوگلر کے دو الفاظ سے تشکیل دیا گیا ہے۔یہاں گرے سے مراد بالوں کا بھورا،اور سفید رنگ ہے۔ یعنی جن ملازمین کے بالوں میں سفیدی ظاہر ہونا شروع جائے، اُن کے لیئے یہ نام بطور عرفیت عام استعمال کیا جاسکتاہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ”ڈوگلر“(Doogler) اُن پالتو کتوں کے لیئے بولا جاتاہے،جن کے مالک گوگلر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کثرت سے بیئر پینے والے ملازمین کو ”بریگلرز“(Brewglers) اور جن گوگل ملازمین کا مذہب یہودی ہوتا ہے،انہیں یہودی گوگلر یعنی ”جیوگلر“(Jewglers) کے منفرد نام سے پکارا جاتاہے۔حد تو یہ ہے کہ گوگل کے سابقہ ملازمین بھی ناموں کے اس گورکھ دھندے سے محفوظ نہیں رہ پائیں ہیں اور گوگل اپنے سابقہ گوگلرز کو ”زو گوگلر“(Xoogler) کے عجیب و غریب نام سے یادرکھتاہے۔ اس نام کا تلفظ زو ”چڑیا گھر“سے کیا جاتاہے جبکہ بتا یا یہ جاتا ہے کہ یہ لفظ Ex-Googler سے مستعار لیا گیا ہے۔ لیکن اس نام کے تلفظ اور معنوں میں کیوں فرق روا رکھا جاتاہے۔ یہ ایک بھید ہے،جسے شاید خود گوگلر بھی نہیں جانتے۔

20 فیصد ٹائم
گوگل کے متعلق دنیا بھر میں ایک عام غلطی فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے گوگلرز کو ہر ہفتے ایک دن کی چھٹی مع اضافی تنخواہ کے مہیا کرتاہے تاکہ اس کے ذہین گوگلر اپنا یہ اضافی وقت پوری آزادی کے ساتھ ایسے تخلیقی منصوبوں پر صرف کریں،جس سے مستقبل میں گوگل کو زبردست فوائد پہنچنے کا امکان ہو۔ درحقیقت 20 فیصد ٹائم کی یہ سہولت گوگل ابتداء میں ضرور اپنے گوگلر کو فراہم کیا کرتے تھا اور اس کی وجہ سے گوگل کو بے شمار کامیاب اور نفع بخش کاروباری آئیڈیے بھی میسر آئے۔جیسے ایڈ سنس،جی میل اور گوگل نیوز جیسی خدمات 20 فیصد ٹائم کے دوران ہی گوگلر نے شروع کیں تھیں۔ نیز 20 فیصد ٹائم کی اصطلاح متعارف کروانے سے دنیا بھر میں گوگل کی نیک نامی میں بھی خوب اضافہ ہواتھا۔ لیکن گزشتہ 10 برسوں میں گوگل کی جانب سے 20 فیصد ٹائم کی سہولت اپنے کسی گوگلر کو نہیں دی گئی۔ بظاہر یہ سہولت تیکنیکی طور پر گوگل کے ملازمین کے لیئے آج بھی دستیاب ہے مگر صرف کاغذوں میں۔جبکہ عملی طور پر 20 فیصد ٹائم کی سہولت گوگلر کو فراہم کرنا ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ختم کیا جاچکا ہے۔ حیران کن با ت یہ ہے کہ آج بھی بے شمار افراد گوگل کی ملازمت 20 فیصد ٹائم کی سہولت کے لالچ میں حاصل کرتے ہیں۔ تاہم کچھ دنوں بعد جب گوگلر ز کو معلوم ہوتا ہے کہ 20 فیصد ٹائم کی سہولت ختم ہوچکی ہے تو انہیں شدید مایوسی ہوتی ہے۔

گوگل کا کھانا،خزانہ
ہمارا نہیں خیال کہ شاید ہی آپ کو کبھی کسی ایسے نجی ادارے میں ملازمت کرنا کا مزیدار موقع میسر آیا ہو،جہاں تنخواہ کے ساتھ ساتھ دورانِ ملازمت ایک وقت کا کھانا بھی مہیاکیا جاتاہو۔ بعض افراد تو یہ بھی کہیں گے کہ ایسے نجی ادارہ کا آج کے دور میں ہونا ناممکن ہے۔ بہرحال دل تھام کر سُن لیں کہ گوگل اپنے گوگلر زکو دوران ملازمت ایک نہیں بلکہ تین مرتبہ مفت کھانا فراہم کرتاہے۔جبکہ کھانے کے درمیان جو وقفہ ہونا ہے، اُس میں انواع و اقسام کے پھل بھی گوگلر تک پہنچائے جاتے ہیں۔ دراصل گوگل کے منتظمین اس اُصول پر ایمان رکھتے ہیں کہ ”اچھا کام تب ہی ممکن ہوسکتاہے جب ملازم کا نظام انہضام بھی اُس کے دماغ اور ہاتھوں کی طرح مسلسل حرکت میں رہے“۔حد تو یہ ہے کہ گوگل اگر اپنے دفتر میں کسی نوگلر کو مختصر مدت کے لیئے بھی کام کے لیئے بلالے تو اُسے بھی طے شدہ روزانہ اُجرت کے علاوہ اضافی 15 پاؤنڈ کی ادائیگی برائے لذت و کام و دہن کی جاتی ہے۔ گوگلر ز اس سہولت کو ”گوگل 15“ کہتے ہیں۔ گوگل کے بارے میں تو یہاں تک کہا جاتاہے کہ”گوگل کے شریک بانی جناب سارج برن (Serge Brin) کی جانب سے خاص ہدایات ہیں کہ ہرگوگلر کام کے دوران لازماً کھانے کے لیئے رکھی گئی چیزوں سے 200 فٹ سے زیادہ فاصلہ ہرگز اختیار نہ کرے“۔ ہمارے خیال میں گوگل کے کھانے کی داستان یہیں پر ہی ختم کردینی چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ کل آپ کو اپنے دفتر جانے کا من ہی نہ چاہے۔

سوال گندم،جواب چنا
درج بالا محاورہ پوری طرح سے گوگل پر صادق آتا ہے کہ کیونکہ اپنے ہاں ملازمت کے خواہش مند افراد سے دوران انٹرویو، گوگل کی جانب سے جس طرح کے عجیب و غریب سوالات کیئے جاتے ہیں۔اُنہیں محاروۃ گند م او رچنا، تو کہا جاسکتاہے لیکن عام سا سوال ہر گز نہیں قرار دیا جاسکتا۔ مثلاً گوگل کی جانب سے گزشتہ برس انٹرویو کے دوران پوچھے جانے والے سات سوالات کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں۔1،ٹینس بالز کی درست تعداد کا اندازہ لگائیں، جو آپ کے خیال میں ایک ہوائی جہاز کو بھرنے کے لیئے کافی ہو؟۔2،امریکا میں ایک سال میں کتنی کتابیں شائع ہوتی ہیں؟۔3،ہر سال بال ترشوانے کے لیئے حجام کے پاس جانے والے افراد کی درست تعداد کیا ہے؟۔4، آپ ضعیف افراد کے لیئے اے ٹی ایم کارڈ کا ڈیزائن کس طرح تیار کریں گے؟۔5، پیانو میں کتنے بٹن ہوتے ہیں،سفید اور سیاہ کی تعداد الگ الگ بتائیں؟“۔6،امریکا میں گزشتہ برس کتنے ویکیوم کلینر تیار کیے گئے اور اُس میں سے کتنے فروخت ہوئے؟“۔7،گولف کی گیندوں کی وہ تعداد بتائیں جس سے ایک اسکول بس کو پُر کیا جاسکے؟۔گوگل کی جانب سے ملازمت کے اُمیدوار کے لیئے سوالات سے بھی بڑی مصیبت یہ ہوتی ہے کہ ہر سوال کا جواب دینے کے لیئے صرف 30 سیکنڈ کو وقت ہوتاہے اور مقررہ وقت سے ایک سیکنڈ بھی زیادہ ہوگیا تو آپ کا بالکل درست جواب بھی غلط تسلیم کیا جائے گا۔ ویسے آپ کا کیا خیال ہے،جس طرح کے گوگل کے منتظمین ملازمت کے اُمیدواروں سے سوالات کرتے ہیں کیا اِن کا درست جواب دیا جاسکتاہے؟۔راز کی بات یہ ہے کہ گوگل بخوبی جانتا ہے اُس کے سوالات مشکل اور عجیب ہوتے ہیں مگر پھر بھی اُس کی جانب سے سوالات خاص طور پر اس لیئے پیچیدہ بنایا جاتاہے کہ گوگل کو سوال کے درست جواب سے زیادہ،اُمیدوار کے چہرے پر نمایاں ہونے والے تاثر سے دلچسپی ہوتی ہے اور اُمید وار کو اسی تاثر کی بنیاد پر گوگل ملازمت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔

گوگل کی سیڑھی
عا م طور پر ملازمین کو ترقی و تنزلی دینے کے لیئے ہر نجی و سرکاری ادارے نے اپنے اُصول وضع کیئے ہوئے ہوتے ہیں،لیکن ملازمین کی ترقی وستائش کے لیے جو طریقہ کار گوگل نے اختیار کیا ہوا ہے، وہ عجیب ہی نہیں بلکہ ساری دنیا سے نرالا بھی ہے۔ گوگل ہر ایک گوگلر کو ملازمت کے پہلے دن ہی ایک سیڑھی تفویض کردیتاہے، جس پر زینہ بہ زینہ چڑھنے کے لیئے گوگلر کو دفتر کی جانب سے دیئے گئے ہدف تک کامیابی کے ساتھ پہنچنا ہوتا ہے اور ہدف پورا کرنے والا گوگلر سیڑھی کا زینہ طے کرلیتاہے۔ یاد رہے کہ گوگل اپنے گوگلر کو پانچ مختلف اقسام کی سیڑھیاں مہیا کرتا ہے اور ہر سیڑھی کے ہر زینہ پر گوگل نے بے شمار انعام و اکرام رکھاہوتاہے۔نیز جو گوگلر اپنی سیڑھی کے تمام زینے طے کرنے میں کامیاب ہوجائے، اُسے ایک دوسری سیڑھی مہیا کردی جاتی ہے۔ مثال کے طورپر نوگلر کو صرف کاروباری سیڑھی جسے اولیڈر کہا جاتاہے دی جاتی ہے۔ جبکہ انجینئر ز کے لیئے ٹی سیڑھی مختص ہوتی ہے۔ گوگل کی تمام سیڑھیوں میں ٹی سیڑھی سب سے زیادہ نفع بخش ہوتی ہے۔ جس پر زیادہ تر گوگلر اپنے ترقی کا سفر طے کرنا چاہتے ہیں۔ علاوہ ازیں کسی گوگلر کی جانب سے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر اُسے ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر از خود بھی منتقل ہونے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ لیکن اس صورت میں اُس گوگلر کو اپنی سابقہ سیڑھی پر حاصل ہونے والے تمام انعام و اکرام سے دستبردار ہونا پڑتاہے۔ ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر اپنی مرضی سے منتقل ہونے کا عمل اتنا پیچیدہ اور مشکل ہوتا ہے کہ بعض اوقات گوگلر نئی سیڑھی حاصل کرنے کے بعد اتنا زیادہ خسارہ میں چلا جاتاہے کہ وہ واپس اپنی سابقہ سیڑھی کو حاصل کرنے کے بارے میں غوروفکر کرنا شروع کردیتاہے۔درحقیقت گوگل کی ہر نئی سیڑھی گوگلر کے لیئے بیش قیمت فوائد اور غیرمعمولی انعام و اکرام کے ساتھ ساتھ نت نئے اور مشکل اہداف بھی لے کر آتی ہے۔

دفتر میں کام اور کار میں آرام
ویسے تو گو گل اپنے گوگلر کی زندگی کو زیادہ سے آرام دہ اور پرسکون بنانے کے لیئے بہت تگ و دو کرتا ہے،مگر اس کی یہ کوشش سان فرنسسکو بے کے علاقہ،جو سیلیکان ویلی پر مشتمل ہے، میں انتہائی بُری طرح سے ناکام ہوچکی ہے۔ واضح رہے مذکورہ بالا علاقہ گوگل سمیت دنیا کی متعدد ٹیکنالوجی کمپنیوں کا گھر کہلاتاہے۔ لہٰذایہاں بے پناہ ٹیک کمپنیوں کے ہجوم کی وجہ سے رہائشوں عمارتوں کا شدید بحران پیدا ہوگیاہے۔ جس کی وجہ سے اِس علاقہ میں رہائشی جگہوں کے کرایے اس حد تک بڑھ چکے ہیں گوگل جیسی کمپنی میں زبردست ماہانہ مشاہرہ حاصل کرنے والے سافٹ ڈویلپر ز کے لیئے بھی اچھاگھر کرائے پر لے پانا ممکن نہیں رہا۔اس مسئلہ کا حل گوگل نے یہ نکالا کہ اُس نے چند سال قبل ایک حکم نامہ جاری کیا کہ ”جو گوگلر مہنگے کرائے پر گھر حاصل کرنے کے بجائے، اپنی کار میں سونے کو ترجیح دے گا،اُسے کمپنی کی جانب سے خصوصی فوائد مہیا کیئے جائیں گے“۔ گوگل نے یہ اقدام اس لیے اُٹھایا،تاکہ کمپنی کے ملازمین اپنی محنت سے کمایا جانے والا کثیر سرمایہ صرف چند کمروں کی رہائش کی نذر ہوجانے سے بچاسکیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو گوگلر اپنی کار میں سوتے ہیں،انہیں، سونے کے علاوہ بقایا تمام ضروری سہولیات دفتر میں ہی مہیا کردی جاتی ہیں۔

گوگل کا دوسرا چہرہ
دنیا بھر میں گوگل اپنے خوب صورت،جاذب نظر و آرام دہ دفاتر، مفت کھانے اور غیر معمولی ماہانہ تنخواہ کے لیئے مشہور و معروف ہے۔ تاہم، یہ گوگل کا ایک چہرہ ہے،جبکہ گوگل کا دوسرا چہرہ بھی ہے جس پر اداسی اور کسمپرسی کے بدنما داغ ثبت ہیں۔ دراصل گوگل کے دفاتر میں دو طرح کے ملازمین کام کرتے ہیں۔اول الذکر وہ ہیں جنہیں گوگل براہ راست مستقل ملازمت پر رکھتا ہے جبکہ دوسرے قسم کے ملازمین وہ ہوتے جنہیں بوسیدہ ٹھیکیداری نظام کے تحت عارضی ملازمت فراہم کی جاتی ہے۔مارچ 2019 میں گوگل کے مستقل ملازمین کی کُل تعداد ایک لاکھ دو ہزار تھی اور عارضی ملازمین کی تعداد ایک لاکھ اکیس ہزار تھی۔ یعنی گوگل کے دفاتر میں آدھے سے زائد وہ گوگلر تھے،جنہیں ٹھیکیداروں نے گوگل کے دفاتر تک پہنچایا تھا۔ بظاہر دونوں اقسام کے گوگلر ایک ہی کام، ایک جیسے وقت میں انجام دیتے ہیں۔ لیکن عارضی گوگلر کو،گوگل کی جانب سے وہ فوائد حاصل نہیں ہوتے جو گوگل اپنے مستقل ملازمین کو مہیا کرتاہے۔ مثلاً انہیں کم تنخواہ دی جاتی ہے،نیز بغیر تنخواہ کے اوور ٹائم کام کرنا ہوتاہے۔ حد تو یہ ہے کہ یہ گوگلر کمپنی کے اہم اجلاسوں، پارٹیوں میں شرکت کرنے کے لیے بھی اہل نہیں سمجھے جاتے اور سب سے تکلیف دہ بات تو یہ ہے کہ گوگل انتظامیہ انہیں بغیر کسی انتباہ یا کسی معقول وجہ کے جب چاہے نوکری سے برخاست بھی کرسکتی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں: خطروں کے ملازم

گوگل ٹریڈ یونین کا سب سے بڑا مخالف
گوگلرز اور گوگل کو دیگر خدمات فراہم کرنے والے ملازمین کے لیئے کمپنی کی استحصالی و متنازعہ پالیسیوں کا مقابلہ تو بہت دور کی بات ہے،وہ بے چارے تو اُن پالیسیوں کے خلاف آواز بھی بلند نہیں کرسکتے۔ کیونکہ گوگل ہر طرح کی ٹریڈ یونیز کے قیام کا سخت مخالف ہے اور اپنے دفاتر میں ٹریڈیونینز یا ملازمین کے کسی بھی شکل میں بننے والے ممکنہ اتحاد کی بیخ کنی کرنے کے لیئے گوگل نے باقاعدہ ”اینٹی یونین کنسلٹنٹس“ کے نام سے ایک شعبہ قائم کیا ہوا۔ جس کا بنیادی مقصد وحید ہی یہ ہے کہ کسی طرح گوگلرز کو اپنے سیاسی و سماجی مسائل کے حل کے لیئے تنظیم،اتحاد یا جماعت بنانے سے روکا جاسکے۔ یہ تنظیم یونین مخالف سرگرمیوں کو کچلنے کے لیئے عالمگیر شہرت رکھتی ہے۔ کہا جاتاہے کہ اس شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو گوگل کی جانب سے بے پناہ اختیارات و وسائل دستیاب ہیں۔ جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے یہ لوگ گوگلر ز کو یونین بنانے سے روکنے اور کچلنے کے لیئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔بہرکیف گوگل انتظامیہ اس الزام کو تسلیم نہیں کرتی اور اُس کا موقف ہے کہ ”ہماری داخلی پالیسیوں پر ”اینٹی یونین کنسلٹنٹس“ کا کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے“۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 07 مارچ 2021 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں