Asif Ali Zardari and Benazir Bhutto

آصف علی زرداری کےقریبی ساتھی کی گرفتاری

پیپلزپارٹی کے سب سے مضبوط گڑھ اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے آبائی حلقہ ضلع نواب شاہ کے دو تعلقوں میں پیپلزپارٹی کی صفوں میں زبردست بغاوت ہوگئی ہے۔پارٹی کے اہم رہنما ایک دوسرے کے خلاف کھڑ ے ہوگئے ہیں۔نواب شاہ کے اہم ترین تعلقہ قاضی احمد میں پیپلزپارٹی نے خان محمد ڈاھری کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ خان محمد ڈاھری کے مقابلے میں 2008 ء اور 2013 ء میں ایم پی رہنے والے سید فصیح شاہ نظر انداز کردیا جس کے بعد انہوں نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔انہیں انتخابی نشان ”کنگ“ الاٹ ہو گیا ہے جبکہ قاضی احمد میں ہی پیپلزپارٹی کے ہی 2013 ء میں ایم پی اے رہنے والے ڈاکٹر خان محمد ڈاھری نے بھی حلقہ این اے 214 پر پارٹی ٹکٹ نہ ملنے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کے لیئے ”ہد ہد“ کا نشان الاٹ کروالیا ہے۔دوسری جانب تعلقہ سکرنڈ میں پیپلزپارٹی کے مسلسل تین بار ایم پی رہنے ولاے غلام قادر چانڈیو کے مقابلے میں پیپلزپارٹی سکرنڈ کے اہم ترین رہنما سکندر حیات رند آزاد حیثیت میں کھڑے ہوگئے ہیں۔اپنے ہی سب سے مضبوط گڑھ میں پارٹی رہنماؤں کی بغاوت نے پیپلزپارٹی کی صفوں میں ہلچل پیدا کردی ہے۔صرف اسی پر بس نہیں ہے ایک اور بُری خبر جو پیپلزپارٹی پر بجلی بن کر گری ہے وہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے اہم ترین رہنما سابق صوبائی مشیر اسماعیل ڈاہری کو پولیس نے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کرکے بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد کرلیا جبکہ چھاپہ میں ایک درجن سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے گرفتار ہونے والوں میں ان کے بھائی بھی شامل ہیں۔ پولیس اور رینجرز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی مشیر اسماعیل ڈاہری کو گرفتار کیا، چھاپے کے دوران پولیس نے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا جن میں رائفل کلاشنکوف ہینڈ گرنیڈ اور بڑی تعداد میں گولیاں شامل ہیں۔ نیز چھاپہ کے دوران پولیس نے ایک درجن سے زائد افراد کو بھی گرفتار کیا جن میں ان کے بھائی پیپلزپارٹی قاضی احمد کے جنرل سیکرٹری علی رضا ڈاہری بھی شامل ہے۔ اسماعیل ڈاہری پر مختلف نوعیت کے سنگین الزامات ہیں جن میں اغوا برائے تاوان قتل وغارت اور سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے کے کیس ہیں۔ اسماعیل ڈاہری پر پاکستان ائیرفورس کے افسروں کے بھی اغوا کا الزام تھا۔وہ کئی ماہ تک جیل بھی رہے۔ اسماعیل ڈاہری پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے انتہائی قریبی دوست سمجھے جاتے ہیں۔اسماعیل ڈاہری نے پیپلزپارٹی کے وفاقی دورحکومت میں اس وقت کے سندھ پولیس ڈی آئی جی اور موجودہ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو صوبہ بدر کرادیا تھا۔سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے میں آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی کی گرفتاری میں کئی خفیہ پیغام چھپے ہوئے جن میں سب سے اہم یہ پیغام ہے کہ اس مرتبہ الیکشن میں پیپلزپارٹی من مانی نہیں کرنے دی جائے گی۔جس کا ایک اور واضح ثبوت الیکشن کمیشن کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری کے نواب شاہ سے انتخاب لڑنے کے اعلان کے بعد ان کے مخالفین کی شکایات پر انتخابات میں پیپلزپارٹی کی مداخلت کو ختم کرنے کے لیئے خصوصی اقدامات کرنے کا علان بھی ہے۔جس کے تحت بے نظیر آباد کے الیکشن آفس کی طرف سے نواب شاہ میں خصوصی مانیٹرنگ سیل قائم کیا گیا ہے جس کے سربراہ ڈپٹی کمشنر ہوں گے جنہیں ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر مقرر کیا گیا ہے ان کے ہمراہ ارشاد احمد، مقبول احمد، جاوید اختر مغل، شاہ نواز بابر، روی کمار، عبدالقادر لکھمیر، ریاض احمد میمن اور عبدالجلیل لاشاری ممبر ہوں گے جو مختلف پی ایس کے انچارجزہوں گے اور وہاں سیاسی صورتحال اور الیکشن مہم کو مانیٹر کریں گے اور اگر کوئی بھی امیدوار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کریگا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔

دوسری طرف سندھ کے قوم پرست رہنماء بھی دیگر سیاستدانوں کی طرح کروڑوں روپے مالیت کے اثاثوں کے مالک نکلے۔سابق صدر آصف زرداری کے مقابلے میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 213 ون نوابشاہ سے الیکشن میں حصہ لینے والے سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔قادر مگسی نے خود کو زمیندار ظاہر کیا ہیوہ ضلع سجاول میں مجموعی طور پر 45 ایکڑ زرعی اراضی کے مالک ہیں تاہم زمین کی مالیت ظاہر نہیں کی گئی، 2015 میں زرعی زمینوں سے 30 لاکھ روپے آمدنی ہوئی جس پر 49560 روپے ٹیکس ادا کیا جب کہ2016 میں زرعی زمینوں سے 40 لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی جس پر 63197 روپے ٹیکس ادا کیا۔اسی طرح 2017 میں زرعی زمینوں سے پچاس لاکھ روپے کی آمدنی پر ایک لاکھ پینتالیس ہزار 345 روپے کا ٹیکس ادا کیا،قادر مگسی کے 2016 میں اثاثوں کی مالیت 99 لاکھ 64 ہزار روپے تھی جو 2017 میں بڑھ کرایک کروڑ 34 لاکھ 14 ہزار تک پہنچ گئی۔دو سال کے دوران قادر مگسی کے اثاثوں میں 34 لاکھ 50 ہزار روپے کا اضافہ ہوا جب کہ ان کے پاس 10 لاکھ روپے نقد رقم موجود ہے اور بینک اکاؤنٹ میں صرف 25 سو روپے جمع ہیں، قادر مگسی نے دبئی کا ایک اور امریکا کے دو دورے کئے جن پر 24 لاکھ اسی ہزار روپے کے اخراجات آئے۔ اس کے علاوہ 2 گھروں اور ایک پلاٹ کے مالک بھی ہیں جن کی مجموعی مالیت 94 لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے۔جبکہ سابق اسپیکر سندھ اسمبلی اور جی ڈی اے کے اہم رہنما سید جلال محمود شاہ بھی کروڑوں روپے مالیت کے اثاثے رکھتے ہیں ان کا ذریعہ آمدن اسٹون کریشنگ پلانٹ اور زمینداری ہے، اسٹون کریشنگ پلانٹ کی مالیت 10کروڑ 79 لاکھ روپے ہے۔جلال شاہ کے پاس پینتالیس لاکھ روپے مالیت کی ایک پراڈو اور 19 لاکھ 60ہزار روپے مالیت کی کرولا کار بھی ہے جب کہ 66 لاکھ 35 ہزار474 روپے نقد رقم موجود ہے اور 33 لاکھ33 ہزار592 روپے بینک اکاؤنٹ میں رکھے ہیں۔ سیدجلال شاہ کے پاس چالیس لاکھ روپے مالیت کا فرنیچر و دیگر گھریلو سامان اور ستائیس ہزار روپے مالیت کا اسلحہ موجود ہے جب کہ دیہہ نور پور تعلقہ مانجھند میں 57 ایکڑ زرعی زمین کے مالک بھی ہیں۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 12 جولائی 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں