FIFA Footbal World Cup 2018 on the Sea

فٹ بال ورلڈ کپ 2018 کا جادو

فٹ بال ورلڈ کپ کا یہ 20واں ایڈیشن ہے جو اِن دنوں روس میں انتہائی کامیابی کے ساتھ ناک آؤٹ مرحلے کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ اس وقت دنیا کے تمام اخبارات،رسائل اور نیوز چینلز صرف اور صرف فٹبال ورلڈکپ کے تذکروں سے بھرے ہوئے ہیں جبکہ دوسرے تمام کھیل اور اہم ترین خبریں پس منظر میں چلی گئی ہیں۔دنیا کے ہر نیوز چینل پر صرف ایک ہی ”بریکنگ نیوز“ لوگوں کی توجہ اپنی جانب سمیٹتی نظر آرہی ہے کہ آج کے میچ میں کونسی ٹیم کس ٹیم سے ہار ی یا جیتی ہے۔اگر کہا جائے کہ فٹ بال ورلڈ کپ کا بخار پوری دنیا کو مکمل طورپر اپنی لپیٹ میں لے چکا تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق فٹ بال کے اس عالمی مقابلہ کو لگ بھگ ایک لاکھ افراد اسٹیڈیم میں جب کہ دنیا بھر کے تین ارب سے زائد افراد براہ راست اپنے ٹی وی اسکرینوں پردیکھ کر لطف اندوز ہو رہے ہیں۔کھیل کوئی بھی ہو آج کے معاشرہ کا ایک اہم جز بن چکا ہے جب کہ فٹ بال ایک مقبول ترین کھیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی منافع بخش صنعت بھی ہے۔ بین الاقوامی معاشی ماہرین کی ایک رپورٹ کے مطابق جاری عالمی فٹ بال ورلڈکپ سے فیفا کو چھ اعشاریہ چاربلین ڈالر کا خالص منافع متوقع ہے جبکہ میزبان روس کو اس عالمی مقابلہ کے کامیاب انعقاد کے ذریعے اپنی معاشی ذخائر میں تین بلین ڈالر کا اضافہ کرنے کا ایک آسان موقع بھی میسر آگیا ہے۔دنیا بھر کی طرح پاکستان کے شائقین فٹ بال بھی اس عالمی مقابلہ میں زبردست دلچسپی لے رہے ہیں، جس کے باعث پاکستان کے ہر گلی کوچہ میں فٹ بال ورلڈ کپ کا جوش و خروش دیدنی ہے۔ ورلڈ کپ کے سنسنی خیز مقابلے جیسے جیسے اپنے حتمی مراحل میں داخل ہورہے ہیں ویسے ویسے شائقین فٹبال کی دیوانگی میں روز افزوں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اِن سنسنی خیزلمحات کو دوآتشہ کرنے کے لیئے آئیے ہم بھی دنیا کے اس مقبول ترین کھیل پر ایک طائرانہ سی نظر ڈالتے ہیں۔

فٹبال ورلڈکپ2018 ء تک کیسے پہنچی
فٹبال یاSoccor کے نام سے پکارے جانے والے کھیل کا سب سے پہلا تذکرہ، چین میں ملتا ہے۔ جہاں اس کھیل کو ”تسو چو“کہا جاتا تھا اور ہان سلطنت کے عہد میں، تقریباً 300 قبل مسیح میں اس کھیل کو شاہی فوج کے سپاہی کھیلا کرتے تھے۔اس کھیل میں میدان کے بیچ میں نصب دو کھمبوں کے درمیان ایک جال باندھا جاتا تھا اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑی مخالف سمتوں سے گیند کو اس جال سے گزارنے کی کوشش کرتے تھے۔اسی طرح، ایک ہزار قبل مسیح میں جاپان میں بھی فٹبال سے ہی ملتا جلتا ایک کھیل کھیلے جانے کے شواہد ملتے ہیں جس میں بارہ کھلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیمیں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی تھیں۔ اس کھیل کو ”کیماری“کے نام سے جانا جاتا تھا۔ آج بھی یہ کھیل جاپان کے مخصوص علاقوں میں کھیلا جاتا ہے۔ انگلینڈ میں فٹبال کی ابتدائی شروعات ایک مشہور زمانہ واقعے کے بعد ہوئی جس میں ڈنمارک کے ایک شہزادے کا سر قلم کرنے کے بعد، فوج نے اسے اپنی ٹھوکروں سے ایک دوسرے کی جانب اچھالا تھا۔اس عمل میں انہیں اتنا مزا آیاکہ انہوں نے اسے مستقل کھیل کا درجہ دے دیا۔ اس مقصد کے لئے، ابتدا میں جانوروں کے پتے کو گیند کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔یہ کھیل سپاہیوں میں اتنا مقبول ہوا کہ انہوں نے تیر اندازی کی مشقیں چھوڑ کر اس کھیل کو کھیلنا اور اس کے میچ دیکھنا شروع کر دیے۔ اس کی شکایتیں جب شاہی دربار تک پہنچیں تو اس بناء پر کہ سپاہی اس کھیل کی وجہ سے تیراندازی کی مشقوں میں حصہ لینے سے کترانے لگے تھے اس کھیل پر بادشاہ کی جانب سے 14ویں صدی میں پہلی بار پابندی عائد کر دی گئی اور اسے کھیل کو کھیلنا قابل سزا جرم ٹھہرا۔فٹبال کے قواعد و ضوابط بنانے کا سب سے پہلا سہرا، ایلٹن کالج انگلینڈ کو جاتا ہے جہاں 1815 میں پہلی بار فٹبال کھیلنے کے لئے باقاعدہ رولز یعنی قوانین بنائے گئے۔انگلینڈ کی کیمبرج یونیورسٹی میں فٹبال کھیلنے کے قوانین پر 1848 میں نظر ثانی کی گئی اور انہیں آج بھی”کیمبرج رولز“ کے نام سے جانا جاتا ہے اور بالآخر دسمبر، 1863 کو ایسوسی ایشن فٹبال کا قیام عمل میں آیا اور اسی روز پہلی بار فٹبال کھیلنے کے لئے جامع قواعد و ضابطے شائع کیے گئے۔ان قوانین کو بنانے کے فوری بعد ان کے مطابق، پہلا فٹبال میچ 19 دسمبر، 1863 کو لندن میں بارنز فٹبال کلب اور رچمنڈ فٹبال کلب کے درمیان کھیلا گیا جس میں اس وقت کے چوٹی کے کھلاڑیوں نے حصہ لیا تاہم یہ میچ بنا کسی گول کے برابری پر ختم ہوا۔1872 ء میں فٹبال کا سب سے پہلے ٹورنامنٹ یعنی ایف اے کپ کا آغاز ہوا جبکہ اس وقت تک انگلینڈ میں ایف اے سے جڑے کلبز کی تعداد 50 تک پہنچ چکی تھی اور پھر 1888 میں باقاعدہ لیگ چیمپئن شپ کا آغاز ہوا۔فٹبال کھیلنے کے دوران استعمال ہونے والی زیادہ تر اصطلاحات فوج سے مستعار لی گئیں ہیں، اسی وجہ سے گول کرنے والے کو اٹیکر اور اسے بچانے والے کو ڈیفندر کھلاڑی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح بیک لائن، ونگر اور اٹیک کی اصطلاحات ہیں۔ بین الاقوامی میچوں کو کن قواعد و ضوابط کے تحت کھیلا جائے۔اس مسئلے کے حل کے لئے مئی 1904 میں سات ملکوں کے نمائندے فرانس کے شہر پیرس میں جمع ہوئے اور فیڈریشن انٹرنیشنل دی فٹبال ایسوسی ایشن یعنی فیفا کا قیام ہوا۔اس ابتدائی اجلاس میں شامل ہونے والے ملکوں میں فرانس، بیلجیئم، ڈنمارک، نیدرلینڈ، سوئٹزرلینڈ، اسپین اور سوئیڈن شامل تھے۔حیرانی کی بات ہے کہ اس تاریخی اجلاس میں انگلینڈ نے شرکت نہیں کی تھی۔فیفا کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے بالآخر 1930 میں تاریخ کا پہلا عالمی ٹورنامنٹ کھیلا گیا۔

ورلڈکپ2018 ء کی ٹرافی کسی کا بھی ہو،فٹبال صرف ”پاکستانی“ہے
یہ ایک حقیقت ہے کہ فٹبال ورلڈکپ کے جاری مقابلوں میں پاکستان کی ٹیم نہیں کھیل رہی جس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان فٹبال میں طفل مکتب کے مصداق ہے اور فٹ بال کی عالمی رینکنگ میں 207 ٹیموں میں سے 203ویں نمبر پر ہے۔ مگر اس کے باجود بھی دنیا کے اس سب سے بڑے میگا ایونٹ کے ہرمیچ میں پاکستان اپنی فٹبال کے ذریعے مرکز نگاہ بنا ہوا ہے کیونکہ فٹبال کا سب سے بڑا عالمی میلہ پاکستانی فٹبال سے کھیلا جارہاہے۔موجودہ فٹبال ورلڈکپ کے تمام تر میچوں کے لیئے سیالکوٹ کی ”فارورڈ اسپورٹس“ نامی فرم مشہور برانڈ (Tellstar-18) نامی فٹبال فراہم کر رہی ہے۔ اسی کمپنی نے برازیل میں منعقد ہونے والے 2014ء کے فیفا عالمی کپ کے لیے ”بروزوکا“نامی فٹ بال بھی فراہم کیے تھے۔ نیز سپین میں 1982 کے فٹ بال ورلڈ کپ میں ٹینگو کے نام سے جو فٹ بال استعمال کیا گیا تھا،وہ فٹبال بھی پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں تیار کیا گیا تھا۔ پاکستانی فٹبال کو اب تک دنیا کے 600 بہترین کھلاڑی اور دس ملکوں کی 30 سے زیادہ ٹیمیں ٹیسٹ کرنے کے بعد اپنی ”پسندیدگی“ کی سند سے نوازچکی ہیں۔ دنیا کے جن بہترین کھلاڑیوں نے پاکستانی فٹبال کو ٹیسٹ کیا اور اسے کھیلنے میں دنیا کی ہر فٹبال سے بہتر پایا، ان میں 1998 کے عالمی کپ کے ہیرو زین الدین زیدان، ایکر کاسیاس، باستیان شواینشتایگر اور لیون مسی ہیں۔ پاکستان کا صنعتی شہر سیالکوٹ کھیلوں کے سامان کی تیاری میں خاصی شہرت رکھتا ہے اور خاص طور پر اس شہر میں تیار کیے گئے فٹ بال دنیا بھر میں خاصے مقبول ہیں۔سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی روایات کے مطابق سیالکوٹ میں ایک غریب موچی برطانوی فوجی کے پھٹے ہوئے فٹ بالوں کی مرمت کرتا تھا،انگریزوں کے فٹبال مرمت کرتے کرتے اس نے فٹ بال بنانے کا فن سیکھ لیا اور فٹبال بیچنے کا اپنا کاروبار شروع کردیا۔ اس کا کاروبار اتنا کامیاب ہوا کہ پورے ہندوستان سے برطانوی فوجیوں نے اس سے فٹبال خریدنا شروع کر دیے اور یوں ایک موچی کا حادثاتی طور شروع کیا گیاکاروبار آج پوری دنیا میں سیالکوٹ کی شناخت بن چکاہے۔ سیالکوٹ کے بنے فٹبال 1990 سے بین الاقوامی مقابلوں میں استعمال کیے جارہے ہیں، ابتداء میں ہاتھ کے بنے ہوئے پاکستانی فٹبال دنیا بھر میں بہت پسند کئے جاتے رہے ہیں لیکن 2013 سے انہیں فیفا کی ہدایت کے مطابق جدید تھرموٹیکنالوجی سے بنایاجارہاہے۔ جس میں فٹبال کے مختلف حصوں کوسلائی کے بجائے گرمی سے جوڑاجاتاہے۔ایک سروے کے مطابق سیالکوٹ میں ہرماہ7 لاکھ فٹبال تیارکئے جاتے ہیں۔پاکستان دنیا بھر میں سالانہ تقریباً چار کروڑ فٹ بالز برآمد کرتا ہے اور وزارتِ تجارت کے مطابق مالی سال 2017-18 کے صرف ابتدائی 10 ماہ میں پاکستان نے 122 ملین ڈالرز مالیت کے فٹ بالز برآمد کیے گئے۔ فٹبال ورلڈ کپ 2018 کے جاری ہر میچ میں پاکستانی فٹبال کااستعمال ہم پاکستانیوں کے لیئے من حیث القوم ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔

کم عمر بہترین کھلاڑی کا اعزاز کون جیتے گا؟
فٹبال ورلڈ کپ کے اختتام پر کھلاڑیوں کو حوصلہ افزائی کے لیئے منفرد قسم کے کئی اعزازات دیئے جاتے ہیں جن میں سے ایک کم عمر بہترین کھلاڑی اعزاز بھی ہے۔ پچھلے ورلڈکپ 2014 ء کا کم عمر ترین بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ فرانس سے تعلق رکھنے والے سیاہ فام پال پوگبا نے جیتا تھا۔ اس وقت ان کی عمر 21 سال تھی جبکہ بہترین کم عمر کھلاڑیوں میں سب سے معروف پیلے کا نام کبھی فراموش نہ کیا جاسکے گا۔ انہوں نے ورلڈکپ 1958ء میں 17سال کی عمر میں شرکت کی تھی اور پھر دنیائے فٹبال میں چھا گئے تھے۔ اس مرتبہ اس دوڑ میں پانچ کھلاڑی شامل ہیں جن میں میکسیکو سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ ہرونگ لوزینو کا شمار کم عمر ترین بہترین فارورڈز میں ہوتا ہے اور انہوں نے 29 لیگ میچز کھیل کر 17 گول کیے ہیں۔ انہوں نے میکسیکو کو ورلڈکپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں جتوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔دوسرے کم عمر ترین کھلاڑی کولمبیا کے 21سالہ ڈونسن سانچز ہیں۔ تیسرے اہم کم عمر کھلاڑی نائیجیریا کے 22 سالہ ایلکس آئی ووبی ہیں۔ کوالیفائنگ راؤنڈ میں بھی ان کی کارکردگی متاثر کن رہی تھی اسی لئے وہ نائیجیریا کی امید بن چکے ہیں۔چوتھے اور اہم ترین کھلاڑی فرانس کے سیاہ فام کلیان ایم باپے ہیں جو کہ 19 سال کے ہیں اور وہ بہترین فارورڈ بھی ہیں۔ اپنی بہترین کارکردگی کی وجہ سے کہا جارہا ہے کہ ورلڈکپ کے بہترین کم عمر کھلاڑی کا ایوارڈ جیت لیں گے لیکن ان کو اگر کوئی بائی پاس کرسکتا ہے تو وہ ہیں پانچویں اور آخری کھلاڑی برازیل کے 21 سالہ گبرائیل جیزیزہیں، انہیں مستقبل کا نیمار قرار دیا جارہا ہے۔ اب تک کے میچز ز دیکھنے کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ بہترین کم عمر کھلاڑی کا اعزاز کلیان ایم باپے اور گبرائیل جیزیز میں سے ایک کو ملنے کی قوی امید ہے۔

ورلڈ کپ کے سنسنی خیزمیچوں کے دوران ”Ultras” خواتین پر مشتمل فورس کے چرچے
مشہورِ زمانہ ”فٹ بال کی جنگ“ 1969ء میں ایل سلواڈور اور ہنڈوراس کے درمیان لڑی گئی، جس میں 2000 سپاہی و شہری لقمہ اجل بنے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ تھے۔دونوں ٹیمیں سان سلواڈور میں مدمقابل تھیں۔ میچ کے دوران تماشائی آپس میں جھگڑنے لگے۔ ہاتھاپائی نے جلتی پر تیل کا کام کیا، اور ایل سلواڈور کی فوج نے14 جولائی کو ہنڈوراس پر چڑھائی کردی۔ چار روزہ جنگ میں دو ہزار سے زاید جانیں ضایع ہوئیں۔فٹبال میچوں کے دوران اسٹیڈیم میں ہنگامہ آرائی اور بلووں کا ہونا اور ان میں انسانی جانوں کا ضیاع ایک عام سی بات ہے، شاید اسی لیئے روس میں جاری فٹبال عالمی کپ کے مقابلوں کے دوران آپ کو اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی متوقع ہنگامہ آرائی اور بلوے کا مقابلہ کرنے کے لیے سیکورٹی لباس میں ملبوس ”Ultras” خواتین پر مشتمل خصوصی فورس جابجا دکھائی دے رہی ہے۔ حالانکہ”Ultras” کی اصطلاح اُن تماشائیوں کے لیئے استعمال کی جاتی ہے جو فٹبال میچ کے دوران ہنگامہ آرائی کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں لیکن روس میں فٹبال ورلڈکپ کے متظمین کا موقف یکسر مختلف ہے اُن کا خیال ہے کہ روس میں فٹبال کے شدت پسند تماشائیوں یعنی ”Ultras” مرد اور عورتوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے،جنہیں ہنگامہ آرائی سے باز رکھنا کسی عام سیکورٹی اہلکار کے بس کی بات نہیں اس لیئے ان سے بچنے کے لیئے ”Ultras” خواتین کی خصوصی فورس کو استعمال کیا جارہاہے بالکل اس مثل کے مصداق کہ لوہے ہی لوہا ہی کاٹتا ہے۔

فٹبال ورلڈ کپ2018 ء میں کوئی برطانوی آفیشل نہیں ہے
فٹبال ورلڈ کپ2018ء میں انگلینڈ کی ٹیم تو ضرور اپنے کھیل کے جوہر دکھائی دیتی نظر آرہی ہے لیکن شائقین فٹبال کو کسی بھی میچ کے دوران کوئی برطانوی آفیشل میچ سپروائز کرتا ہوا کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ میں 80 سال بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جب کوئی برطانوی ریفری کسی میچ کو سپر وائز نہیں کررہا۔ماہرین کھیل کا خیال ہے کہ فیفا نے ایسا انگلینڈ اور روس کے مابین سیاسی کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے جان بوجھ کر کیا ہے تاکہ ٹورنامنٹ کو کسی بھی سیاسی تنازع کا شکار ہونے سے محفوظ رکھا جاسکے۔ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفانے ورلڈ کپ 2018 ء کو سپروائز کرنے کے لئے 36 ریفریز اور 63 اسسٹنٹ ریفریز کا تقرر کیا ہے جن میں انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں سے کسی کا بھی کوئی ریفری منتخب نہیں کیا گیا جبکہ وڈیو اسسٹنٹ ریفریز کا چناو ٹورنامنٹ میں پول آف آفیشلز سے کیا جارہا ہے۔نیز وڈیو اسسٹنٹ ریفری کو ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ متعارف کیا جارہا ہے۔

10نمبر جرسی کے کرشمے
اسے آپ حسن ِ اتفاق کے سوا اور آخر کہہ بھی کیا سکتے ہیں کہ اب تک دنیا میں جتنے بھی بڑے فٹبالرز گزرے ہیں ان میں سے اکثریت کی جرسی کا نمبر10 تھا۔ اس حوالے سے سب سے نمایاں نام کاکا، میسی، میراڈونا، پیلے، رابرٹو بیجیو، رونالڈینو وکے لیئے جاسکتے ہیں۔ ماضی میں ارجنٹائن کے میرا ڈونا کی وجہ سے10 نمبر جرسی کو بہت شہرت ملی،میرا ڈونا 1986 کے ورلڈکپ کے فاتحین میں شامل تھے اور ان کی کارکردگی کی بدولت ٹیم ورلڈکپ جیتی تھی۔ موجودہ عالمی ایونٹ میں جن ممالک کے اہم کھلاڑی دس نمبر شرٹ کے ساتھ کارکردگی میں بہت نمایاں نظر آرہے ہیں،ان میں سپین کے تھیاگو الکنتارا، نائیجیریا کے کپتان اور مڈفیلڈر جان اوبائی مائیکل،انگلینڈ کے رحیم سٹرلنگ شامل ہیں،جبکہ فرانس کے کلیان ایم باپے جو کہ نوجوان کھلاڑی ہیں اور فیلڈ میں اپنی پھرتی کی وجہ سے مشہور ہیں کی شرٹ کا نمبر بھی دس ہے۔ سب سے اہم 10نمبر کھلاڑی کولمبیا کے جیمز راڈریگز ہیں جو کہ برازیل میں ہونیوالے گزشتہ ورلڈکپ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔اس مرتبہ بھی اُن سے اُمید ہے کہ وہ دس نمبر کی جرسی کو مزید شہرت دینگے۔ دیگر کھلاڑیوں میں کروشیا کے لیوکا مودرج، جرمنی کے میسوت اوزل شامل ہیں تاہم اس ورلڈکپ کے بہترین دس نمبر کھلاڑی ارجنٹائن کے لیونل میسی ہیں۔

گولڈن بوٹ کس گولڈن کھلاڑی کو ملے گا؟
گولڈن بوٹ کے لیے اس ورلڈ کپ کے دوران بھی کھلاڑیوں میں شدید مقابلہ صاف نظر آرہاہے اور اب تک کے میچوں کو دیکھنے کے بعد کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ معروف کھلاڑیوں میں سے کونسا کھلاڑی اس بار گولڈن بوٹ کا ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا۔ بظاہر اس ورلڈ کپ میں صرف ایک ایسا کھلاڑی بھرپور ایکشن میں نظر آرہا ہے جس نے ورلڈ کپ مقابلوں میں دس یا اس سے زیادہ گول کیے ہیں۔ وہ ہیں جرمن مڈفیلڈر ٹامس مُلر۔ مُلر اگر اس ٹورنامنٹ میں مزید پانچ گول کرنے میں کامیاب رہیں تو وہ اپنے ہی سابق ساتھی میروسلاو کلوز کے برابر آ جائیں گے۔ جبکہ گذشتہ ورلڈ کپ میں گولڈن بوٹ حاصل کرنے والے کولمبیا کے جیمز رودریگز اگر وہی کارکردگی اس ٹورنامنٹ میں بھی دہرانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور ان کا نام بھی ٹاپ سکوررز کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے۔اس فہرست میں شامل واحد دفاعی کھلاڑی میکسیکو کے 39 سالہ رافیئل مارکیز ہیں جن کا یہ پانچواں ورلڈ کپ ہے اور ان عالمی مقابلوں میں ان کے گولوں کی تعداد پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کے برابر ہے۔فٹبال کے عالمی کپ کی یہ روایت رہی ہے کہ ان میں ایسے کھلاڑی ابھر کر سامنے آتے ہیں جن کو ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے کوئی نہیں جانتا تاہم یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہو گی کہ اگر یوسیبیو، ماریو، کیمپس، پالو روسی، گرڈ ملر اور رونالڈو کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے میسی، ٹی ملر،جیمز رودریگزاگر میں سے کوئی ایک کھلاڑی اس مقام پر نہ پہنچ جائے۔

فٹ بال ورلڈ کپ اور چند دلچسپ حقائق
چار مرتبہ کی عالمی چیمپیئن اٹلی کی فٹبال ٹیم 2018 کے ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی نہ کر سکی۔ آخری مرتبہ ایسا 1958 میں ہوا تھا۔
برازیل وہ واحد ملک ہے جس نے نہ صرف اب تک کے تمام ورلڈ کپ مقابلوں میں حصہ لیا ہے بلکہ سب سے زیادہ ٹائٹل بھی اسی ملک نے جیتے ہیں۔
جرمنی ورلڈ کپ کے گزشتہ تین ٹورنامنٹس میں سب سے زیادہ گول کرنے والی ٹیم رہی ہے۔ جرمن فٹ بال ٹیم 2014ء میں اٹھارہ، 2010ء میں سولہ اور 2006ء میں چودہ گولز کے ساتھ سرفہرست رہی۔
اعداد و شمار اکھٹا کرنے والے ایک ادارے کے مطابق فٹ بال عالمی کپ کو صرف ٹی وی پر ہی دیکھنے والے ناظرین کی تعداد 3.2 بلین ہے، جو دنیا کی تقریباً نصف آبادی کے برابر ہے۔
آئس لینڈ اس ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے والا دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔
اس بار عالمی چیمپئین کا تاج سر پر سجانے والی ٹیم کو 3.8 ملین ڈالر کی انعامی رقم دی جائے گی جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیم 2.8 ملین ڈالر کی انعامی رقم کی حقدار قرار پائے گی۔
1989ء میں ورلڈکپ کے کوالیفائنگ میچ میں چلی کی ٹیم برازیل کے خلاف ایک گول کے خسارے میں تھی۔ میچ ختم ہونے میں 20 منٹ باقی تھے اور گول نہ ہونے کی صورت میں چلی کی شکست یقینی نظر آرہی تھی۔ شکست کی صورت میں چلی کی ٹیم ورلڈکپ کی دوڑ سے باہر ہوجاتی۔ اسی دوران تماشائیوں کی جانب سے چلی کے گول کیپر روبرٹو روجاس پر پٹاخے اچھالے گئے، روبرٹو زمین پر لیٹ گیا اور اس کی پیشانی سے خون بھی بہتا دکھائی دینے لگا۔ میچ ختم کردیا گیا۔ بعدازاں میچ کی ویڈیو سے ثابت ہوا کہ اس نے کسی کی طرف سے اشارہ ملنے پر خود اپنی پیشانی زخمی کی تھی۔ یہ ثابت ہونے پر فیفا نے برازیل کو فاتح قرار دیا اور روبرٹو روجاس، اراوینا، اور ٹیم کے ڈاکٹر ڈینیئل روڈرگز پر تاحیات پابندی لگادی گئی۔
1993ء میں زیمبیا کی قومی ٹیم کو ورلڈکپ کے کوالیفائنگ میچ کے سلسلے میں سینیگال لے جانے والا طیارہ فضا میں بلند ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد گرکر تباہ ہوگیا، اور اس میں سوار تمام 30 افراد لقمہ اجل بن گئے۔
کولمبیا کی ٹیم کے دفاعی کھلاڑی اینڈرس ایسکوبار کو 1994ء کے ورلڈ کپ کے بعد وطن واپسی پر گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ امریکا کے خلاف میچ کے دوران اینڈرس نے غلطی سے گیند اپنے ہی گول میں پھینک دی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اینڈرس کی یہی غلطی اس کے قتل کا سبب بنی۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں یکم جولائی 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں