A Small Dream of Karachi

کراچی کے مستقبل کا پہلا ٹکڑا

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سمجھتے ہیں کہ کراچی کے شہری ٹیکس، چندہ اور عطیات دینے میں پاکستان بھر میں سب سے آگے ہیں، شاید اسی لیے سندھ حکومت نے کراچی میں بجلی فراہمی کے ذمہ دار، ادارے ”کے الیکٹرک“ کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے بجلی کے بلوں میں ”کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن“ یعنی ”کے ایم سی“ کے لیے ہر صارف سے کم از کم100 سے لے کر 200 روپے ماہ وار، اضافی ٹیکس وصول کرے تاکہ”کے ایم سی“ کا بجٹ خسارہ پورا ہو، اور وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو سکے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ سندھ کے دیگر شہری و دیہی علاقوں میں کراچی میونسپل کارپوریشن کی طرز پر بلدیاتی ادارے سرے سے موجود نہیں ہیں یا سندھ حکومت انہیں خسارے سے نکالنا نہیں چاہتی۔ بلاشبہ وزیر اعلی سندھ، اپنے صوبے کے ہر شہری و دیہی بلدیاتی ادارے میں فنڈز کی کمی پر بالکل ویسے ہی پریشان ہیں جو پریشانی انہیں ”کے ایم سی“ کے مستقبل کے متعلق لاحق ہے مگر چونکہ فی الحال انہیں سخاوت کے ساری خوبیاں فقط کراچی کے شہریوں میں ہی دکھائی دے رہی ہیں، اس لیے بجلی کے بلوں میں ”کے ایم سی“ کے لیئے خصوصی ٹیکس صرف اور صرف کراچی کے عوام سے وصول کیا جائے گا۔ اب اس کے بعد بھی اگر کراچی کے لوگ یہ شکوہ کریں کہ سندھ حکومت، ان کی پروا نہیں کرتی یا ان کے بارے میں اچھے سیاسی خیالات نہیں رکھتی، تو یقینا اسے اہلیانِ کراچی کی کوتاہ نظری کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

یہ مضمون بھی پڑھیے: یہ کراچی کو بدل رہے ہیں، یا کراچی سے بدلہ لے رہےہیں؟

دوسری جانب سندھ حکومت نے جس بھرپور انداز میں کراچی کے مسائل کو حل کرنا اپنی اوّلین ترجیح قرار دیا ہوا ہے،اُس کا اندازہ صرف اس ایک بات سے بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ وزیراعلی سندھ نے گزشتہ دنوں جب پاکستان پیپلزپارٹی کے اہم ترین رہنما مرتضی وہاب کو ایڈمنسٹریٹر کراچی کے اہم ترین عہدے پر تعینات کیا تو ساتھ ہی مرتضی وہاب کو ”ترجمان سندھ حکومت“اور ”وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر قانون“ کے اضافی عہد ے اپنے پاس رکھنے کی بارِ دگر توثیق بھی فرمادی۔دراصل کراچی پاکستان کا سب سے بڑا گنجان آبادی والا شہر ہے۔لہٰذا کراچی کے سیاسی،سماجی اور انتظامی مسائل کو حل کرنے کے لیئے اس شہر کے ایڈمنسٹریٹر کو کارکردگی دکھانے کے لیئے بھرپور فوکس کی ضرورت ہوتی ہے اور شاید اسی لیئے وزیراعلیٰ سندھ جناب سید مراد علی شاہ نے کراچی کے نئے ایڈمنسٹریٹر مرتضی وہاب کو ”ترجمان سندھ حکومت“ اور ”مشیر قانون“کے عہدوں پر بدستور برقرار رکھا، تاکہ مرتضی وہاب بطور ایڈمنسٹریٹر کراچی، زبردست توجہ اور فوکس کے ساتھ کراچی کے مسائل کو حل کرسکیں۔ ہمارا خیال ہے کہ نئے ایڈمنسٹریٹر کراچی سے محکمہ ماحولیات سندھ کا قلم دان واپس لینے کا بھی بلاوجہ ہی تکلف کیا گیا،اگر یہ عہدہ بھی مرتضی وہاب کے پاس رہنے دیا جاتا اور ساتھ ہی اُنہیں مزید دو،چار اضافی محکموں کے قلم دان بھی تفویض کردیئے جاتے تو بلاشبہ مرتضی وہاب بطور ایڈمنسٹریٹر کراچی کی ذمہ داریوں سے مزید لگن،توجہ اور فوکس کے ساتھ عہدہ برآ ہوسکتے تھے۔

لیکن فکر کی کوئی بات نہیں ہے،کراچی کی بہتری اور ترقی میں جو کمی سندھ حکومت اور ایڈمنسٹریٹر کراچی کی جانب سے باقی رہ جائے گی،اُسے وفاقی حکومت کے ”ممکنہ کھاتے“ میں ڈال کر پورا کروالیا جائے گا۔جیسے کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ جس کا وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے رواں ہفتہ کراچی میں سنگ بنیاد رکھ کر افتتاح کیا ہے۔ اُصولی طور پر تو،اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد کراچی میں ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کے لیئے کراچی سرکلر ریلوے جیسے عظیم الشان منصوبے مکمل کرنا سندھ حکومت کی بنیادی ذمہ داری بنتی تھی۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی صوبہ سندھ میں اپنے 12 سالہ طویل ترین دورِ اقتدار کے دوران کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بارے اس قدر غور و فکر میں مصروف رہی کہ اسے عملی کام کرنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔ یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کراچی کے وسائل گھٹتے گئے اور مسائل بڑھتے گئے۔ اَب شہر کے بڑھتے ہوئے اِن مسائل کو حل کرنے کے لیئے کسی نہ کسی کو تو سامنا آنا تھا۔ بالآخر قرعہ فال پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے نام نکلا۔ ویسے بھی گزشتہ قومی انتخابات میں کراچی کا عوامی مینڈیٹ فقط پاکستان تحریک انصاف کو ہی ملا تھا۔ اس لیئے اگر سندھ حکومت کراچی کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے میں لیت و لعل سے کام لے تو اُن مسائل کو حل کرنا وفاقی حکومت کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے۔

اچھی با ت یہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبہ کے افتتاح کے موقع پر اشارے کنایوں میں چائنا پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک)منصوبہ کے تحت کراچی کی ساحلی پٹی(کوسٹ لائن) کی تعمیر کے لیے ایک بہت بڑے ترقیاتی منصوبے سے بھی پردہ اُٹھا دیا ہے۔واضح رہے کہ اس عظیم الشان منصوبے میں چین کی 3.5ارب ڈالر کی براہِ راست سرمایہ کاری شامل ہو گی۔وفاقی حکومت کی طرف سے کراچی کے لیئے اسے ایک گیم چینجرمنصوبہ قرار دیا جارہا ہے۔سی پیک میں شامل اس بڑے منصوبے کے آغاز کابنیادی مقصد سمندری بندرگاہ کی نئی برتھ کیساتھ شہر کی سمندری پٹی کو ایک بڑے معاشی حب میں تبدیل کرنا ہے۔المیہ یہ ہے کہ کراچی وطن عزیز کا سب سے بڑا تجارتی شہر ہے اور اس کا سمندر اور ساحل بیک وقت پورے خطے کی تجارتی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز بھی لیکن حکومتی عدم توجہی کی بناء پر یہاں جدید سہولتوں کا فقدان ہے۔ بلا شبہ کوسٹ لائن ایک زبردست منصوبہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اس منصوبے کے تحت نہ صرف ماہی گیری کے لیے ایک نئی بندرگاہ تعمیر ہو گی بلکہ ایک بندرگاہ پل کے ذریعے مینوڑا جزائر اور سینڈز پٹ ساحل کے ساتھ جوڑنے سے کراچی اعلیٰ ترین بندرگاہ رکھنے والا دنیا کا واحد شہر بھی بن جائے گا، تا ہم اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے سے پہلے کچھ بنیادی نوعیت کے اہم ترین اُمور کا خیال بھی رکھنا ہوگا۔ مثلاًاس منصوبہ کی جگہ پر رہنے والی 5لاکھ سے زائد آبادی کو دوسری جگہ منتقل کرتے وقت انہیں مناسب معاوضوں کی منصفانہ ادائیگی کرنا ازحد ضروری ہے۔نیز اس منصوبے کو سیاسی و معاشی بدعنوانی کی نظر ہونے سے بھی بچانا ہوگا۔ چونکہ اس منصوبے کا سب سے اہم اور مثبت پہلو چین کی براہ راست سرمایہ کاری ہے،اس لیئے امید کی جاسکتی ہے یہ منصوبہ 5 سال کی مقررہ مدت کے اندر ہی کامیابی کے ساتھ مکمل ہو جائے گااور کراچی کوسٹ لائن اور کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ کی کامیاب تکمیل سے نہ صرف پاکستان کی سمندری معیشت و تجارتی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سمندری ماحولیاتی نظام بہتر ہو جائے گا بلکہ کراچی بھی حقیقی معنوں میں میٹروپولیٹن شہر بن جائے گا۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 30 ستمبر 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں