Imran Khan And Army Chief of Pakistan

فنانشل اسٹیٹ بمقابلہ سیکورٹی اسٹیٹ

اُصولی طور پر تو ہمیں من حیث القوم اِس خبر پر قطعی حیرانگی یا پریشانی کا اظہار نہیں کرنا چاہیئے تھاکہ متحدہ عرب امارات کے بادشاہ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے ملک کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازدیا ہے۔بلکہ ہمیں تو بارگاہِ رب العزت میں شکر گزار ہونا چاہیئے کہ کشمیر جیسی جنت نظیر وادی کی سرحدیں کسی عرب ملک کے ساتھ نہیں ملتیں ورنہ غالب اِمکان یہ ہی تھا کہ آج عرب ممالک کے بادشاہ اپنے مربی و مرشدی نریندر مودی کو خوش کرنے کے لیئے اپنے ملک کا سب بڑا ایوارڈ دینے پر ہی اکتفا کرنے کے بجائے ”کشمیر اور کشمیر ی“ بھی اُس کے حوالے کرسکتے تھے۔ بالکل اُسی طرح جیسے عرب ممالک کے شاہوں نے فلسطین اور فلسطینیوں کو اسرائیل کے پاس گروی رکھوا کر اپنی اپنی خاندانی بادشاہت کو اَب تک بچایا ہوا ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ جن عرب بادشاہوں نے اپنے عربی النسل حسب نسب سے جڑے ہوئے مظلوم فلسطینیوں پر ہونے والے اسرائیلی جبرو استبداد کی ذرہ برابر پرواہ نہیں کی،اُن کے بارے میں یہ گمان رکھنا کہ وہ عجم کے مظلوم کشمیریوں کی فریاد سُن کر اُن کی داد رسی کا انتظام و انصرام فرمائیں گے۔ایں خیال اَست ومحال اَست و جنوں اَست۔ یعنی یہ تصور بھی کرنا بڑی حماقت ہے،ناممکن ہے اور پاگل پن ہے۔

کون نہیں جانتاکہ بلادِ عرب کے موجودہ حکمران اپنے مفادات کے اسیر ہیں اور شاید اِسی لیئے اِن کی مدد و اعانت فقط اُن ہی ممالک یا اقوام کو حاصل ہو سکتی ہے جن کے ساتھ اِن کے معاشی مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔تازہ ترین معروضی سیاسی حالات کے مطابق عرب ممالک کے مالیاتی مفادات جتنے زیادہ بھارت کی سرزمین پر دکھائی دیتے ہیں، شاید اُتنے زیادہ سرزمین ِ پاکستان پر نہیں پائے جاتے۔ اِس لیئے عرب ممالک کی دوستی تو ضرور پاکستان کے ساتھ لیکن اُن کی تمام تر کاروباری شراکت کا مرکز و محور بھارت ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔مگر یاد رہے کہ ملکوں یا اقوام کے مفادات صرف معاشی ہی نہیں ہوتے بلکہ کچھ مفادات ایسے بھی ہوتے جن کا براہ راست تعلق اقوام و ملل کی بقاء و حفاظت کے ساتھ ہوتا ہے۔جنہیں آج کی جدید سیاسی اصطلاح میں ”سیکورٹی انٹرسٹ“ کہا جاتاہے۔ ہمارے لیئے سب سے زیادہ باعثِ اطمینان بات یہ ہے کہ عرب بادشاہوں کے ہر قسم کے ”سیکورٹی مفادات“ پاکستان کی داخلی و بیرونی سیکورٹی سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان اور بلادِ عرب کے سیکورٹی مفادات کا یہ باہم اشتراک کسی مخصوص بادشاہ یا حکمران کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اِس کا تمام تر انحصار خطہ کی جغرافیائی صورتحال کی مرہون ِ منت ہے۔ قدرت نے کمال حکیمانہ طریقہ سے عرب اور ہمارے سیکورٹی مفادات کو اِس طرح آپس میں باہم ملا دیا ہے کہ اگر اہلِ عرب چاہیں بھی تو وہ ہماری مملکتِ خداد کے وجود کے بغیر اپنی بقا کو یقینی نہیں بناسکتے اور اِس کا ادراک عرب کے ہر حکمران کو بخوبی ہے۔اِس لیئے میرا کامل یقین ہے جب بھی پاکستان مسئلہ کشمیر پر بھارت کے ساتھ عملی طور پر میدانِ جنگ میں اُترا تو مودی کو ایوارڈ دینے والے تمام عرب ممالک کے سربراہان کے پاس بھی پاکستان کی پشت پر کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ کار نہیں ہوگا۔ مگریہ حمایت اِس لیئے نہیں ہوگی کہ اُنہیں اُس وقت کشمیر یا کشمیر یوں کی فکر دامن گیر ہوگی بلکہ فقط اِس لیئے عرب ممالک کو اپنے تمام تر معاشی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کی مدد و اعانت کے لیئے آنے پر مجبور ہوناپڑے گاکہ اہلِ عرب اور پاکستان کا”سیکورٹی انٹرسٹ“ ایک ہے۔



ویسے تو دنیا بھر میں ہر طرف ”فنانشل انٹرسٹ“ کا غلغلہ جاری ہے اور یہ سمجھا جارہا ہے کہ معاشی طور پر مضبوط ممالک ہی کو اِس جدید دنیا میں آزاد منش زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ ”سیکورٹی انٹرسٹ“ کے سامنے”فنانشل انٹرسٹ“ کی کوئی وقعت و اہمیت نہیں ہوتی۔مثال کے طور پر آپ کویت،عراق اور لیبیا کو ہی لے لیں۔ ایک وقت تھا کہ یہ تمام ممالک معاشی طور پر انتہائی مضبوط خیال کیئے جاتے اور دنیا کے بے شمار ممالک کا ”فنانشل انٹرسٹ“ بھی اِن کے ساتھ باہم منسلک تھا۔ مگرکیا صرف مضبوط معیشت اِن ممالک کو تاراج ہونے سے بچا سکی؟کیا اِن ممالک کے کاروباری شراکت دار اِن کی بروقت مدد کو آسکے؟سب جانتے ہیں کہ بالکل بھی نہیں۔ کویت،عراق اور لیبیا کی حالیہ دگرگوں صورتحال میں عبرت کے کئی اسباق پنہاں ہیں اُن دانش و بنیش تجزیہ کاروں کے لیئے جو لفظ معاش،معاش کی گردان کر کے ہلکان ہوئے جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ”سیکورٹی انٹرسٹ“ ہی وہ واحد ایسی شاہراہ ہوتی ہے، جہاں مفادات کے سارے راستے آکر مل جاتے ہیں۔ اِس لحاظ سے دنیا پر حقِ حکمرانی فقط اُن ہی ریاستوں کو حاصل ہوتا ہے جو مکمل طور پر ”سیکورٹی اسٹیٹ“ ہوتی ہیں یا پھر بننے کی پوری صلاحیت و قابلیت کی حامل ہوتی ہیں۔

اِ س اُصول کی بنیاد پرہی ہم جیسے بین الاقوامی سیاست کے ادنیٰ سے طالب علم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ ریاستِ پاکستان کوجو تھوڑی بہت سربلندی اَب تک دنیا بھر میں ملی ہوئی ہے یا مستقبل قریب میں جو بہت بڑی غیر معمولی کامیابیاں ملنے والی ہیں وہ سب کی سب اِس بناء پر ہوں گی کہ پاکستان دنیا کے اُن چند گنے چنے ممالک کی فہرست میں شامل ہے،جنہیں ”سیکورٹی اسٹیٹ“کہا جاسکتاہے۔ اِس لیئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا قوم سے اپنے خطاب میں یہ فرمانا بالکل بجاہے کہ جب ہم بھارت کے خلاف فیصلہ کُن معرکہ میں صف آراء ہوں گے تو اُس وقت تمام عرب ممالک عملی طور پر ہمارے ساتھ شامل ہوں گے کیونکہ جدید دنیا میں جب بھی ایک ”فنانشل اسٹیٹ“ اور ”سیکورٹی اسٹیٹ“ کے مابین جنگ برپا ہوتی تو دنیا ہمیشہ ”سیکورٹی اسٹیٹ“ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔بس ہمیں اَب اتنا ثابت کرنا ہوگا کہ ہم واقعی ایک ایسی قابل ”سیکورٹی اسٹیٹ“ہیں جو بھارت جیسی ”فنانشل اسٹیٹ“ کو حصہ بخروں میں تقسیم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 05 ستمبر 2019 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں