Molana Fazal Ur Rehman

مولانا کے مطابق ملک کو فارغ کرو

اسلام آباد دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے فرمانِ عالیشان جاری فرمایا ہے کہ ”ملک کو فارغ کرو!“
نفرت کے زہر میں ڈوبا ہوا یہ جملہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی زبانِ مبارک سے نکالنے کی جسارت یونہی نہیں کی ہے بلکہ وہ ایسے نوکیلے جملے، جن کی تیز دھار سے عام پاکستانیوں کے دل چھلنی چھلنی ہوجائیں، ہنستے مسکراتے کہہ دینے کی ایک طویل خاندانی و جماعتی تاریخ رکھتے ہیں۔ مولانا کے والد بزرگوار محترم مفتی محمود صاحب قیامِ پاکستان کے بعد اکثر و بیشتر مواقعوں پر یہ مختصر سا جملہ کہہ کر تحریک پاکستان کی محبت میں سرشار حاضرین محفل کے قلوب کو پارہ پارہ کردیا کرتے تھے کہ ”وہ اِس ملک کو بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے“۔

معروف ہندی کہاوت ہے کہ ”باپ پہ پوت اور پِتا پہ گھوڑا۔بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا“۔بلاشبہ مولانا بھی اِس کہاوت پر آج تک پورا اُترتے آئے ہیں اوراپنے والد بزرگوار کی سنت پر چلتے ہوئے مجال ہے جو کبھی اپنی گفتگو میں تحریک پاکستان کی حمایت میں ایک ادنیٰ سا لفظ بھی اشاروں کنایوں میں ہی ارشاد فرمانے کے گناہ کا ارتکاب کیا ہو۔یعنی جس گناہ کا داغ مولانا کے والد بزرگوار کے دامن پر جگہ نہیں بنا سکا،ہزار شکر کہ مولانا فضل الرحمن نے بھی اپنے آپ کواَب تک اِس تہمت کی سیاہی سے محفوظ و مامون رکھا ہے۔ اَ ب وہ الگ بات ہے کہ یہ ہی مولانا فضل الرحمن بھارت جاکر یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہیں سمجھتے کہ ”ایک گول میز کانفرنس بلا کر پاک بھارت سرحد ختم کی جاسکتی ہے“۔



”ملک کو فارغ کرو!“ جیساتحقیر آمیز جملہ کہتے ہوئے اگر مولانا فضل الرحمن کی جگہ کوئی اور شخص ہوتا تو وہ ہزار بار ضرور سوچتا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مولانا کے اِس جملہ کو کروڑوں پاکستانیوں نے اپنی ٹی وی اسکرینوں پر پڑھا بھی اور سُنا مگر کسی نے بھی اِس جملہ کی سفاکیت پر ایک لمحہ کے لیئے بھی سوچنے یا تبصرہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی،سوائے ایک درویش صفت کالم نگار محمد اظہارالحق کے۔ کاش کوئی اوردوسرا ملک کا مایہ ناز، شہرہ آفاق ٹی وی اینکر،سینئر تجزیہ کار یاسیاسی دانشور بھی اِس جملہ کو سماعت فرمانے کے بعد اِس جملے کی ہزار ہا معنی”سیاسی حساسیت“پر اپنی اسپیشل ٹرانسمیشن کرتا اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کسی عقل ِ کل قسم کے ترجمان مثلاًجناب مولوی مفتی کفایت اللہ صاحب سے اِ س جملہ پر”عالمانہ وضاحت“طلب کرنے کی کوشش کرتا کہ آخر یہ سلگتا،دہکتا ہوا جملہ پاکستانیوں کی جانب پھینکنے کی ضرورت مولانا فضل الرحمن کو کیوں پیش آئی؟کیا وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان سے اپنی نفرت کااظہار کرنے لیئے بہت ضروری ہے کہ وطن عزیز پاکستان کو بھی اپنے طعن وتشنیع کے لیئے براہ ِ راست تختہ مشق بنا یا جائے؟یا پھر ہم سادہ لوح پاکستانی یہ سمجھ لیں کہ صرف ایک انتخابی نشست پر شکست کسی مذہبی رہنما کو اتنا حواس باختہ کردیتی ہے کہ وہ اپنی زبانِ بے حال سے یہ تک کہنے مجبور پر ہو جاتاہے کہ ”ملک کو فارغ کرو!“۔

حالانکہ سب اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ آزادی مارچ ہو یا دھرنا بہرحال مولانا فضل الرحمن نے دیا تو اپنی مرضی سے ہی ہے۔ اَب اگر اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)دھرنے کے غیر آئینی و غیر مبہم اہداف کو دیکھتے ہوئے مولانا کے کنٹینر کا باقاعدہ حصہ بننے میں ”سیاسی لیت و لعل“ سے کام لے رہی ہیں تو اِس میں بے چارے پاکستان کا کیا قصور ہے۔ یا اگر دھرنا دوہفتہ کی ”احتجاجی مدت“کے بعد بھی کسی معذور کی طرح کشمیر ہائی وے،پشاور موڑ سے آگے یا پیچھے کی جانب ٹس سے مس فقط اِس خوف سے نہیں ہوپا رہا کہ اگر دھرنا دو قدم پیچھے ہوتا ہے تو مولانا کی سیاسی ناک کٹنے کا اندیشہ ہے جبکہ دھرنے کے ایک قدم آگے بڑھنے کی صورت میں ”سیاسی گردن“ ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ماردیئے جانے کا ڈر ہو تو اِس میں بھلا بے چارے ملکِ عزیز کی کیا غلطی ہے کہ اُسے ”ملک کو فارغ کرو!“ کی دھمکی لگائی جائے۔

اگر خدانخواستہ مولانا فضل الرحمن اور اُن کی جماعت کے تاریخی نظریہ کے مطابق ”ملک کو فارغ کرو!“ کا نعرہ (میرے منہ میں خاک)حقیقت کا بھیانک روپ دھار لیتا ہے تو ہم جیسے وہ کروڑوں پاکستانی جن کا جینا مرنا ہی فقط پاکستان کے نام کے ساتھ ہے۔وہ کس منہ سے اِ س عالمِ فانی سے اُس عالمِ بالا میں جائیں گے جہاں اُن کے لاکھوں بزرگ جنہوں نے اِس اِرضِ پاک کے قیام کے لیئے اپنی جان،عزت اور مال کی بے دریغ قربانیاں دیں اور اَب وہ وہاں اِن کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ کیا وہ بانیانِ پاکستان اپنی آل اولاد سے سوال نہیں کریں گے کہ جس پاکستان کو ہم نے اپنے خون سے سینچ کر تمہارے حوالے کیا تھا،تو تم لوگوں نے ہمارے بعد اُس ارض ِ مقدس کے ساتھ کیا سلوک کیا؟۔آخر ہم انہیں کیسے بتائیں گے کہ ”اے ہمارے معزز بزرگو! تمہارے اِس عالمِ بالا میں چلے آنے کے بعد دینِ اسلام کا سب سے بڑا داعی ہونے کا علمبردار ایک سب سے بڑا مذہبی نما سیاسی رہنما اپنے 15 لاکھ جاں نثاوروں کے ہمراہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں کھڑے ہوکر کہا کرتا تھا کہ ”ملک کو فارغ کرو!“۔ اور ہم یہ جملہ سننے کے بعد بس دل ہی دل میں یہ کہا کرتے تھے کہ ”مولانا فضل الرحمن ایک زیرک سیاستدان ہیں“ یا یہ کہ ”مولانا ایک منجھے ہوئے جمہوری رہنما ہیں“ یا پھر ”مولانا فضل الرحمن تپتی ہوئی زمین پر پاؤں نہیں رکھتے“۔کیا ہمارے بزرگ یہ سب کچھ سننے کے بعد عالمِ بالا کی پُرکیف فضاؤں میں ہمیں شاباش دیں گے یا پھر ہماری کلاس لیں گے؟۔یقینااِس سوال کا جواب تو آپ کے پاس بھی ضرور ہوگا۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 15 نومبر 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں