Fake News on Smart Phone

جھوٹی خبر بھی کیا بری خبر ہے۔۔۔!

2016 ء میں امریکی صدارتی مہم میں فیک نیوز یعنی”جھوٹی خبر“ کا لفظ امریکی و عالمی ذرائع ابلاغ میں اس تواتر سے استعمال کیا گیا کہ ”جھوٹی خبر“ ایک ایسی مقبول عام اصطلاح بن گئی،جسے استعمال میں لائے بغیر اب تو کسی کو عام روزمرہ گفتگو میں بھی مزا نہیں آتا۔ ”جھوٹی خبر“ کے اس چھوٹے سے لفظ نے لفظوں کے مقبول ہونے کی دوڑ میں بھی تمام رائج لفظوں کو اپنے سے بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ دنیا بھر میں اس لفظ کے بے دریغ استعمال کے بعد کولینس ڈکشنری ڈاٹ کام نے اسے ”ورڈ آف دی ایئر“ یعنی سال کا اہم ترین اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ قرار دے دیا۔کو لینس ڈکشنری ڈاٹ کام دنیا بھر میں آئے روز نت نئے رائج اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والے لفظوں پر نظر رکھنے والا ایک معتبر ترین مصدقہ ادارہ ہے۔ کولینس ڈکشنری سے وابستہ محقق”لیکسیوگرافر نے“ اپنی ٹیم کے ہمراہ یک سال سے زائد طوالت پر محیط تحقیق کے بعد یہ دریافت کیا کہ لفظ ”جھوٹی خبر“(Fake New) کو دنیا بھر میں گذشتہ ایک سال کے دوران 365 فیصد سے بھی زائد تناسب سے استعمال کیا گیا۔

جھوٹی خبر کی ”سچی تعریف“ کیا ہے؟
جھوٹی خبرکے ساتھ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جھوٹی خبر بنانے والوں نے اس لفظ کی بہت سی جھوٹی تعریفیں یا اصطلاحیں بھی گھڑ لیں ہیں جس کی وجہ سے اچھے خاصے سمجھدار شخص کو بھی جھوٹی خبر کی سچی تعریف سمجھنے میں مشکل پیش آسکتی ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جھوٹی خبر ایک طرح کا منفی پروپیگنڈا ہوتا ہے جو سراسر جھوٹ اور فریب پر مبنی ہوتا ہے۔جھوٹی خبروں کی اشاعت یا تشہر کے پس پردہ صرف انفرادی طور پر نوجوانوں کی ایک مخصوص تعداد ہی نہیں ہوتی کہ جن کا مقصد وحید انٹرنیٹ،سوشل میڈیا پر سنسنی خیز اور مزاحیہ خبروں کو پیش کرکے اپنے لیئے روزگار کے سستے اور آسان مواقع پیدا کرنا ہوبلکہ بہت سی سیاسی تنظیمیں،سیاسی رہنما،بھی ”جھوٹی خبر“ کا ایک منظم نیٹ ورک چلاتے ہیں جس کے ذریعے اُن کا مقصد سیاسی، معاشی اور سماجی مفادات کا جلداز جلد حصول ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ منظم گروہوں کے نزدیک ”جھوٹی خبر“ پھیلانے کا بنیادی مقصد افواہوں کا بازار گرم کر کے کسی بھی ملک کے پرسکون معاشی ڈھانچے میں اچانک انتشار،تشدداور خوف پھیلانا بھی ہوسکتاہے۔ بہر حال ایک بات طے ہے کہ ”جھوٹی خبر“ایک ایسا خوفناک ہتھیار ہے،جس کے ذریعے پھیلنے والی تباہی بھی ہمیشہ انتہائی خوفناک ہی ہوتی ہے۔ چونکہ آج کل”جھوٹی خبر“ کا جال ہر طرف پھیلا ہوا اس لیئے ”جھوٹی خبر“ کی درست تعریف جاننا ہر شخص کے لیئے ازحد ضروری ہے۔فرسٹ ڈرافٹ نیوز،جھوٹی خبروں کی تلاش و تصدیق، روک تھام اور آگہی فراہم کرنے والا دنیا کا انتہائی متحرک اور اہم ترین تحقیقی ادارہ ہے۔ فرسٹ ڈرافٹ نیوز کی ایڈیٹر اور ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کلیر وا رڈل (Claire Wardle) کے مطابق ”جھوٹی خبر“ 7طرح کی ہو سکتیں ہیں۔
۱۔سٹائر یا پیروڈی(Satire/Parody)مزاح پر مبنی ہوتی ہے جس کا مقصد”نقصان“پہنچانا نہیں ہوتا ہے بلکہ عوام الناس میں غلط فہمی کو تقویت دینا ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ پر اکثر نیوز فراہم کرنے والی ویب سائیٹس اس طرح کی خبروں کو تفریح کے لئے پیش کرتے ہیں اور خبر کے قارئین کے لیئے لکھ دیتے ہیں کہ یہ خبر اصلی نہیں ہے۔
۲۔خبر کی سُرخی اور تصویروں کی اصل مواد سے غیر مطابقت ”جھوٹی خبر“کی دوسری قسم ہے۔ اس میں خبرکچھ ہوتی ہے اورتصویر کچھ اورہی بیان کررہی ہوتی ہے۔
۳۔گمراہ کن خبریں بھی ”جھوٹی خبر“کے زمرے میں آتی ہیں۔
۴۔کسی پیش کی گئی خبر کا حالات اور پس منظر کے یکسر برعکس ہونا بھی ”جھوٹی خبر“ہے۔
۵۔عارضی مواد پر مبنی خبریں بھی ”جھوٹی خبر“ہے۔اس میں خبر کے حقیقی ذرائع کے ساتھ جان بوجھ کر کسی خاص مقصد کے تحت بدعنوانی کی جاتی ہے اور معاملے کی صداقت کو تہہ در تہہ چھپا لیا جاتا ہے۔
۶۔ خبر کی اس قسم میں ایڈٹ شدہ تصویروں یا ویڈیو کی بنیاد پر خبروں سے غیر ضروری چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے،اور موادکا کچھ حصہ سیاق و سباق اپنی مرضی کے مطابق بنانے کے لیئے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
۷۔پوری طرح سے بے بنیاد اور فرضی خبریں، جس میں کچھ بھی نہ تو قابل یقین ہوتا ہے اور نہ ہی قابلِ تصدیق۔



فیس بک (Face Book) یا فیک بک (Fake Book)
سوشل میڈیا کی بات کی جائے تو فیس بک سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ کا وہ سر خیل اور اہم ترین رُکن ہے جس کا جھوٹی خبریں پھیلانے کے لیئے دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال کیا جاتاہے۔شاید اسی لیئے دنیا بھر میں فیس بک (Face Book) کو اس کے استعمال کرنے والے فیک بک (Fake Book) کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔جھوٹی خبروں کی اشاعت کے حوالے سے دنیا کے کم و بیش ہر ملک میں فیس بک کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ کئی ایک ممالک میں تو جھوٹی خبروں کی وجہ سے فیس بک کی انتظامیہ عدالتوں میں ہتکِ عزت کے سنگین ترین مقدمات کا بھی سامنا کر رہی ہے۔جبکہ بے شمار جمہوری ممالک پہلے ہی فیس بک کو دنیا بھر میں جمہوریت کے لیئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ہرطرف سے تنقید کی زد پر آنے کے بعد فیس بک کی انتظامیہ نے کچھ ہفتہ قبل اعلان کیا ہے کہ وہ ”جھوٹی خبر“کی روک تھام کے لیے دنیا بھر میں بہت جلد ایک مؤثر اور نتیجہ خیزمہم کا آغاز کرے گی۔فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ”یہ اہم بات ہے کہ جو رپورٹس اور خبریں فیس بک پر شائع کی جائیں ان کی تصدیق بھی کی جا سکے۔ ہم سے بار بار کیئے جانے والے اس مطالبہ کو ہم بھی بے جا یا فضول نہیں سمجھتے۔اسی لیئے ہماری کمپنی مستقبل میں ”جھوٹی خبر“کے بارے میں رپورٹ کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنا نے کے لیئے عملی اقدامات کا سنجیدہ ارادہ رکھتی ہے۔جبکہ نفرت انگیز مواد اور ایسی پوسٹیں جو کہ کسی طبقے یا گروہ کے لیے دل آزاری یا صدمہ کا باعث بننے کا مواد لیے ہوں کی روک تھام کو بھی فیس بک نے اپنی اہم ترین پالیسی بنا لیا ہے،اس لیئے ہم جلد اس قابل ہوجائیں گے کسی بھی ”جھوٹی خبر“ کا داخلہ فیس بک میں مکمل طور پر ناممکن بنا دیا جائے“۔

”جھوٹی خبر“سے بچنے کے تیر بہدف نسخے
کیا جھوٹی خبر سے مکمل طور پر بچا جاسکتاہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب سیاسی ٹاک شوز،حالاتِ حاضرہ،نیوز ویب سائیٹس اور سوشل میڈیا سے دلچسپی رکھنے والے کم و بیش ہرپاکستانی کو فوری طور پر درکار ہے۔تو پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں کیونکہ خوش قسمتی سے 1927 ء میں ہی انٹرنیشنل فیڈریشن آف لائبریری ایسوسی ایشنز اینڈ انسٹیٹیوشنز کے نام سے ایک ادارے کا قیام عمل میں آچکا ہے جس کے قائم کرنے کا بنیادی مقصد ہی اطلاعات و معلومات کے متلاشی قارئین و ناظرین کے لیئے وہ آئیڈیل ماحول فراہم کرنا ہے،جس میں قاری یا ناظر کے لیئے ہر درکار معلومات یا اطلاع تک کسی ابہام یا جھوٹ کا شکار ہوئے بغیر باآسانی پہنچنا ممکن ہوسکے۔اس بات کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے انٹرنیشنل فیڈریشن آف لائبریری ایسوسی ایشنز اینڈ انسٹیٹیوشنز نے سماجی علوم کے ماہرین کی مدد سے آٹھ ایسے رہنما اصول وضع کیے ہیں۔ جن کی مدد سے آپ کسی بھی خبر کے ممکنہ جھوٹ یا ابہام سے باآسانی اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں۔آئی ایف ایل اے کی جانب سے ”جھوٹی خبر“ سے بچنے کا پہلا اُصول یہ ہے کہ جب بھی کوئی خبر آپ تک پہنچے تو اس خبر کے مقصد کو سمجھنے کے لیے اس کے ذرائع کے بارے میں تمام ممکنہ معلومات حاصل کریں، مثلاً خبر کا تعلق کیا کسی بڑے خبر رساں ادارے سے ہے یا نہیں کیونکہ خبر پیش کرنے والا ذریعہ جتنا زیادہ غیرمعروف ہوگا خبر کے جھوٹا ہونے کا بھی اتنا ہی امکان ہے۔دوسرا زریں اُصول یہ یاد رکھیں کہ جو خبر آپ کو دی جا رہی ہے اس خبر سے ہٹ کر بھی خبر کے امکانی پہلوؤں پر بھی ضرور سوچیں تاکہ خبر کے تمام پہلو اور مکمل کہانی کی بنت آپ کو سمجھ میں آ سکے۔تیسرا اُصول یہ ہے کہ یہ جاننے کی لازمی کوشش کریں کہ خبر لکھنے والا یا سنانے والا کون ہے۔ اور ماضی میں اس کی خبروں کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کا تناسب کس قسم کا رہا ہے۔چوتھا اور سب سے اہم ترین اُصول یہ ہے کہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ خبر کے علاوہ خبر کے متعلق دیے جانے والے دلائل اور ثبوتوں کو خبر دینے والے دیگر اور کو ن سے ذرائع مستند قرار دے رہے ہیں اور کون سے غیر مستند کہہ رہے ہیں مثلاً ایک خبر کسی ایک مخصوص چینل،ویب سائیٹ پر تو نظر آرہی مگر خبر دینے والے مزید چینل یا نیوز سائیٹس اس خبر کے بارے مکمل طور پر خاموش ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے خبر یا تو بہت کمزور ہے یامکمل طور پر جھوٹی ہے۔خبر کو جانچنے کا پانچواں اُصول اسے سمجھیں کہ خبر کے شائع ہونے کی اصل تاریخ یا وقت کیا درج ہے تاکہ اس بات کا اندازہ ہو سکے کہ خبرتازہ ترین ہے یا اتنی زائد المعیاد ہوچکی ہے کہ اس کی افادیت کو ہی اب زیرِ بحث لانا کسی بے وقوفی سے کم نہ ہوگا۔چھٹا سنہری اُصول یہ بھی ضرور ازبر رکھیں کہ اگر خبر میں کسی قسم کا مذاق کیا گیا ہے تو اسے سمجھنے کی کوشش کریں کہ یہ بے جا تعصب پر مبنی تنقیدکے پہلو سے کیا گیا ہے یا اس میں آپ کے خیال میں کوئی حقیقت بھی موجود ہوسکتی ہے۔ ساتواں خاص اُصول یہ ہے کہ خبر پر یقین کرنے سے پہلے اپنی پسند اور ناپسند کا ضرور ناقدانہ جائزہ لیں۔ تاکہ یہ پہلو بھی آپ کی نظروں سے اُوجھل نہ ہوسکے کہ آپ کہیں ایک صاف صاف نظر آنے والی ”جھوٹی خبر“پر صرف اور صرف اس لیے تو یقین نہیں کر رہے کیوں کہ یہ آپ کو پسند ہے اور اس میں آپ کو اپنا یا اپنے نظریات سے وابستہ کسی سیاسی،لسانی یا گروہی جماعت کا چھوٹا سا وقتی فائدہ نظر آرہا ہے۔آٹھواں اور سب سے آخری اُصول یہ ہے کہ جس شعبے کے متعلق خبر ہو، اُس سے حاصل ہونے والی معلومات کی درست تصدیق یا تردید کے لیئے صرف اسی شعبے کی خبروں کے ماہرین سے رائے لی جائے تاکہ تمام ممکنہ دیگر پہلو بھی کھل کر سامنے آ سکیں۔ مثلاً آئی ٹی سے متعلق خبر کے بارے میں شوبز سے وابستہ کسی فرد کی رائے کولینا خبر اور آئی ٹی کے ماہر پر ظلم عظیم کے مترادف ہے۔اگر قارئین و ناظرین درج بالا اُصولوں کو حرزِ جاں بنا کر رکھیں تو ”جھوٹی خبر“ کے وبال میں شریک ہونے سے بچنا کچھ ایسا ناممکن بھی نہیں۔

چند سرِ فہرست ”جھوٹی خبریں“
کچھ عرصہ قبل ایک خبر سعودی عرب میں خواتین کے سماجی اور سیاسی حقوق کے تعلّق سے بہت زیادہ عام رہی۔ خبر کے مطابق ایک انسانی روبوٹ جس کا نام Sophia ہے، اس کو حال ہی میں سعودی عرب میں شہریت حاصل ہوئی ہے،اس کا ایک چوراہے پر سر قلم کر دیا گیا! یہ خبر غالباً اس بات کی طرف اشارہ تھی کہ سعودی عرب میں خواتین کی تو بات ہی چھوڈ دیجئے، وہاں خاتون کی صورت اور نام رکھنے والے انسانی روبوٹ کو بھی نہیں بخشا جا رہا ہے۔ اس خبر میں ایک شہری کا بیان بھی تھا جو کہہ رہا تھا کہ ”وہ روبوٹ کھلے عام بغیر کسی محرم کے بے پردہ ہوکر گھوم رہی تھی اور اپنی آنکھوں کی مدد سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کر رہی تھی، اس لیئے اس کا یہی انجام ہونا تھا!۔جب دنیا بھر میں خبر کی بہت زیادہ تشہر ہوگئی تو سعودی حکام سمیت دیگر نے خبر کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جس ویب سائٹ پر سب سے پہلے یہ خبر شایع ہوئی تھی وہ امریکہ کی ایک فیک نیوز ویب سائٹ ہے جس کا مقصد مزاحیہ مضامین شائع کرنا ہے۔ ڈفِل بلاگ نام کی اس سائٹ نے اپنے ڈس کلیمر میں پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ اس سائٹ کی باتیں حقیقت کے برعکس ہیں لیکن داد دیجئے اُن ہزاروں افراد کو جنہوں نے خبر کے نیچے کچھ دیکھے بغیر ہی اسے اپنے عزیزوں،دوستوں کے پاس بھیج دیا۔

معروف اداکارہ اور بی جے پی کی سیاسی رہنما کرن کھیر نے 16 دسمبر کو اپنے ٹوئٹراکاؤنٹ پر ایک تصویر اپلوڈ کی جس میں دو شخص بندوقوں کے ساتھ کسی پہاڑی علاقے میں برف سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ اس تصویر میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ دو شخص ہندوستانی فوج کے سپاہی ہیں جو سرد رات میں منفی پچاس ڈگری کی جان لیوا ٹھنڈ میں بھی ہندوستانی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ نام نہاد وطن پرستی اور نیشنلزم سے سرشار لاکھوں بھارتیوں نے اسے آن کی آن میں ایک دوسرے کو فارورڈ کرنا شروع کردیا۔جب ٹوئٹر کو اپنے کسی صارف کی جانب سے شکایت موصول ہوئی تو انہوں نے اس خبر کی تصدیق کا بیڑا اُٹھایا۔ جب خبر کی تصدیق کی گئی تو پتہ چلا کہ یہ تصویریں بھارتی سورماؤں کی نہیں بلکہ روس کے فوجیوں کی ہیں جن کو چار سال پہلے کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیا تھا۔

جب کچھ عرصہ پہلے میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا تو جھوٹی خبریں بنانے والوں نے اس دل دہلا دینے والے واقعہ سے بھی وقتی فائدہ اُٹھانے میں کسی قسم کی کوئی عار یا شرم محسوس نہ کی۔بلکہ جھوٹ پر مبنی ایک تصویر کو”جھوٹی خبر“ بنا کر اس قدرعام کیا کہ روہنگیا مسلمانوں، خاص طور پر روہنگیا بچوں کے خلاف بدگمانی نے عام افراد کے اذہان کو بری طرح شل کردیا۔جھوٹی خبر کے طور پر پیش کی گئی اس تصویر میں دکھایا گیا کہ 9-12 سال عمر کی ایک بچی حاملہ ہے اور وہ اقوام متحدہ کے کسی اسپتال میں بھرتی ہے اور جلد ہی ایک بچے کو جنم دینے والی ہے۔جب ”جھوٹی خبر“ کے خلاف کام کرنے والے مختلف اداروں کی طرف سے تفتیش و تحقیق کی گئی تو پتا چلا کہ اس 12 سالہ بچی کا نام سینڈی ہے،وہ متعدد امراض میں مبتلا ہے، اس کے جگر میں بھی خرابی ہے اور ان امراض کی وجہ سے اسکی شکم یعنی پیٹ بڑھ گیا ہے جبکہ وہ برازیل، جنوبی امریکہ کی رہنے والی ہے۔اس کی یہ تصویر ایک ایسی ویڈیو سے لی گئی تھی جس میں وہ علاج کے لئے مدد مانگ رہی ہے۔جب تک اس ”جھوٹی خبر“ کی تحقیق ممکن ہو سکی اُس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی کیونکہ لاکھوں افراد دوسروں کے ساتھ شئیر کرنے کی متعدی بیماری کے سبب اسے دنیا بھر میں پھیلاچکے تھے۔

حرفِ آخر
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم نے پاکستان میں بننے والی یا گھڑی جانے والی جھوٹی خبروں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ”ذہنی و نفسیاتی تباہی“ کے بارے میں تو بات ہی نہیں کی،تو مختصراًعرض یہ ہے کہ پاکستان میں ”جھوٹی خبر“ سے متعلق ایک انتہائی اہم ترین مقدمہ عدالت عظمی میں زیرِ سماعت ہے، جس پر ہم اشارہ کی حد تک بھی اثر انداز ہونا نہیں چاہتے۔جبکہ اس مقدمہ کے بارے میں ہمیں قوی حسنِ ظن ہے کہ اس مقدمہ کا فیصلہ پاکستان میں ”جھوٹی خبر“ کا مستقبل مکمل طو پر ر تاریک کردے گا۔بس انتظار ہے کہ ایک بار فیصلہ آجائے،پھر ہم لکھیں گے اور آپ پڑھیں گے۔وہ کہتے ہیں نا کہ ”یار زندہ، صحبت باقی۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 11 مارچ 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں