Ertugral Ghazi And Raja Dahir

ارطغرل غازی اور راجہ داہر کے پیروکار

قائداعظم کا ایک فقرہ بڑا مشہور ہے کہ ”پاکستان اُسی دن بن گیا تھا، جب محمد بن قاسم سندھ آیا تھا۔“اور یہ توہم سب ہی بخوبی جانتے ہیں محمد بن قاسم سندھ میں سیرو سیاحت کے لیئے نہیں بلکہ راجہ داہر جیسے ایک نالائق اور ظالم حکمران کے اندھیر نگری چوپٹ راج کو مکمل طورپر تباہ و برباد کرنے کے لیئے آیا تھا۔خوش قسمتی کی با ت یہ ہے کہ آج کل پاکستان میں ہرسُو ایک اور تُرک سپہ سالار ارطغرل غازی کی آمدکا غلغلہ ہے جو محمد بن قاسم کی مانند ہی راجہ داہر کے پیروکاروں کے سینے پر خوب دال مونگ رہا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا پر ارطغرل کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے صاف محسوس ہورہا ہے کہ جس طرح کی تکلیف اور شرمناک ہزیمت کا سامنا محمد بن قاسم کے سندھ میں آنے پر راجہ داہر کو ہوا تھا کچھ ایسی ملتی جلتی ہی اذیت ناک صورت حال کا سامنا ارطغرل کی وجہ سے راجہ داہر کے پیروکاروں کو بھی کرنا پڑرہا ہے۔ حالانکہ ارطغرل صرف ایک ڈرامہ ہے جسے پاکستان ٹیلی وژن اُردو ڈبنگ میں اپنے ناظرین کے ذوق کی تسکین کے لیئے پیش کررہاہے۔ مگرارطغرل ڈرامہ پر تنقید کے نشتر چلانے والے راجہ داہر کے تنگ نظرنام نہاد لبرل پیروکار وں کو یہ چھوٹی سی بات کون سمجھائے کہ ڈرامہ بس تفریحی طبع کا ایک ذریعہ ہوتا ہے ناکہ معرکہ حق وباطل۔

ارطغرل ڈرامہ پر ایک اقلیتی حلقہ کی جانب سے جس طرح کے بے ضرر قسم کے اعتراضات اُٹھائے جارہے ہیں،اُسے سُن کر اور پڑھ کر خوب ہنسنے کو دل کرتاہے۔کیونکہ کل تک ”پاکستانی ڈراموں“پر یہ ہی اعتراضات اُٹھانا تنگ نظری، کجی فہمی اور جہالت کے زمرے میں شمار کیے جاتے تھے لیکن آج یہ ہی اعتراضات اچانک سے آزادی اظہار رائے کی بقا کے لیئے ضروری عنصر قرار دیئے جارہے ہیں۔ ارطغرل ڈرامہ پر پہلا اعتراض یہ عائد کیا جارہاہے کہ کسی دوسرے ملک میں بنائے جانے والے ڈرامہ کو پاکستان ٹیلی وژن پر دکھانے سے پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری زوال کا شکار ہوگی۔اگر اِس جملہ کی صداقت کو تھوڑی دیر کے لیئے من و عن درست تسلیم بھی کرلیا جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسرے ممالک کے ڈرامے دکھانے کا آغاز سب سے پہلے کس نے کیا تھا؟۔یقینا جن پرائیوٹ چینلز نے اِس قبیحہ رسم کی بنیاد ڈالی تھی، سب سے پہلے تو اُنہیں کٹہرے میں کھڑا کیا جائے،لیکن یہ اِس لیئے کارِ محال ہے کہ پھر تو پاکستان کا ایک بھی پرائیویٹ چینل زیرعتاب یعنی ”آف ائیر“ہونے سے بچ نہ سکے گا۔ کیونکہ ہمارے کم و بیش تما م پرائیویٹ چینلز ایک طویل مدت سے صرف ڈرامے ہی نہیں بلکہ اشتہارات بھی پڑوسی ملک سے بنوانے کے عادی مجرم واقع ہوئے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہماری بریکنگ نیوز بھی اُس وقت تک نشر نہیں کی جاسکتی جبکہ تک اُس کے ساتھ کسی بھارتی فلم کے بے ہودہ گانے کی پخ نہ لگادی جائے۔تفریح کے نام پر یہ سب کچھ کرنا پرائیوٹ چینلز کے لیئے ماں کے دودھ کی طرح حلال ہے لیکن پی ٹی وی کے لیئے ارطغرل دکھانا حرام ہے۔

ارطغرل ڈرامہ سیریز کے خلاف دوسری ایمان افروز دلیل یہ پیش کی جارہی ہے کہ پاکستان میں مقامی ہیروز کے ڈرامے پیش کیئے جانے چاہئے چونکہ ارطغرل غازی مقامی ہیرو نہیں بلکہ ایک غیرملکی تُرک ہیرو ہے لہذا اِس کردار پر بنائے گئے ڈرامہ کو پاکستان میں دکھانے سے مقامی ہیروز کا استحصال ہورہاہے۔دلچسپ با ت یہ ہے کہ یہ استحصال اُس وقت نہیں ہو رہا ہوتا جب پاکستان کی ٹی وی اسکرینوں پر اسپائیڈر مین، سپر مین، چھوٹا بھیم،موٹو پتلو،قم قم،طارق مہتا کا اُلٹا چشمہ اور کرن ارجن جیسے واہیات کردار ہیرو بناکر دکھائے جارہے ہوتے ہیں۔کیونکہ یہ سب کردار اسلامی تشخص سے یکسر اُلٹ ہیں اس لیئے اِن کے دکھانے سے پاکستان کے مقامی ہیروز کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، لیکن جیسے ہی اسلامی طرزِ زندگی کی بھرپور عکاسی کرنے والے ارطغرل غازی کے کردارپر بنائے گئے ڈرامہ کو دکھانے کی بات آتی ہے تو پاکستان کے مقامی ہیروز کی حالت پتلی ہونا شروع ہوجاتی ہے اور شان،ریما،جواد احمد سمیت پاکستان کے دیگر نام نہاد مایہ ناز اداکار،گلوکار اور ٹی وی مالکان کو مقامی ہیروز کی رہ رہ کر یاد ستانے لگتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر مقامی ہیروز کے غم میں نڈھال ہونے والوں کواپنے من پسند اور ہردلعزیز مقامی ہیروز پر ڈرامے بنانے سے کس نے روکا ہے؟۔اگر انہیں مقامی ہیروز اتنے ہی پسند ہیں تو یہ سال میں دو،چار ڈرامے کیوں اِن پر نہیں بناتے۔لطیفہ ملاحظہ ہو کہ خود تو بلبلے،اُڈاری،میں ہار نہیں مانوں گی،زہے نصیب عشق اور باغی جیسے ڈرامے بنانے سے آگے کانہیں سوچ سکتے اور جب ارطغرل جیسا عالمی شہرت یافتہ ڈرامہ پاکستان میں ریٹنگ کی بلندیاں چھونے لگتا ہے تو ان سب کو مقامی ہیروز پاکستانی عوام کو دکھانے کا مروڑ اُٹھنا شروع ہوجاتاہے۔

ارطغرل ڈرامہ سے متعلق ایک اعتراض یہ بھی کیا جارہا ہے کہ اِس ڈرامہ میں اسلامی تشخص کوبہت زیادہ تفصیل کے ساتھ نمایاں کر کے دکھا گیا ہے۔ پاکستانی ناظرین کی اکثریت کے نزدیک یہ تو کوئی اعتراض ہی نہیں ہے بلکہ یہ تو اِس ڈرامہ کی ایک ایسی منفرد اور قابلِ قدر اضافی خوبی ہے،جسے پاکستانی شائقین نہ جانے کب سے ملاحظہ کرنا چاہتے تھے۔ ہمارے خیال میں ڈرامہ کا یہ ہی وہ سب سے دلکش اور معیاری پہلوہے جس نے پاکستانی ناظرین کو پوری طرح سے اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے۔خاص طورپر پاکستانی ٹی وی اسکرین پر پہلی بار کسی بڑے ڈرامہ سیریل میں کرداروں کو نماز پڑھتے، تلاوت کرتے، کھانا کھانے سے پہلے دعا مانگتے، بلند آواز سے بسم اللہ کہتے ہوئے تکرار کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔جبکہ مرتے وقت کلمہ شہادت کا ورد اور خواتین کا باحجاب لباس‘ جذبہ جہاد کی ترغیب‘ ظالم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کی تلقین اور ہر جرگے کے آغاز میں کائی سردار جس طرح سے اللہ کے پاک ناموں کے ہمراہ سرورِ کائنات ﷺ پر درود شریف پڑھنے سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتا ہے اُسے دیکھ کر جہاں ہم جیسے خاکیوں کا ایمان تازہ ہوجاتا ہے،یقینا یہ ہی وہ نازک مقام ہے جسے دیکھنے کے بعد راجہ داہر کے پیروکار وں کے سینوں پر نفرت و حسد کے سانپ لوٹنے لگتے ہوں گے۔ اِس کے علاوہ ارطغرل ڈرامے میں سرکار مدینہ حضور ﷺ کے اسم مبارک پر خاص والہانہ عقیدت کے ساتھ ہاتھ دل پر رکھ کر سرجھکانا والے منظر کی تو بات ہی کیا ہے۔ڈرامے کے کرداروں کو ہر بار ایسا کرتے دیکھ کر آنکھیں نم سی ہوجاتیں ہیں اور دیکھنے والا ایک لمحہ کے لیئے مبہوت ہوکر رہ جاتاہے۔ ارطغرل ڈرامہ کے کم و بیش ہر منظر میں مسلم اوصاف، صوفیانہ طرزِ فکر اوراسلامی روایات کو جابہ جانمایاں کرنے کی بھرپور انداز میں کوشش کی گئی ہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے پاکستان میں ارطغرل ڈرامے کو چند دنوں میں جو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے ایسی فقید المثال شہرت تو گزشتہ پانچ برسوں میں اِس ڈرامہ کو ترکی میں بھی نصیب نہ ہوسکی تھی۔

پاکستان میں ارطغرل ڈرامہ سیریز کی زبردست عوامی پذیرائی اظہر من الشمس ہے کہ ہماری عوام کئی برسوں سے کس طرح کے ڈرامے دیکھنے کی خواہش اپنے دل میں چھپائے بیٹھے تھے لیکن انہیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اخلاق باختہ اور اسلامی تہذیب و روایات کو زَک پہنچانے والے خصوصی ڈرامہ سیریل زبردستی دکھانے کی کوشش کی جارہی تھی۔مگر ہزار شکر!کہ ارطغرل ڈرامہ کی پہلی قسط نشر ہونے کے فوراً بعد بعض ٹی وی چینلز کی جانب سے تفریحی کے نام پر بچھایا گیا ”ثقافتی یلغار“ کا جال کسی تارِعنکبوت کی مانند ٹوٹ کربکھر گیا ہے۔ اِسی لیئے تو راجہ داہر کے پیروکار اور نام نہا د روشن خیال لبرل مل جل کر آہ و زاریاں کررہے ہیں۔ذہن نشین رہے کہ اسلام دشمن قوتوں کی یہ آہ و بکا جلد تھمنے والی نہیں ہے کیونکہ ارطغرل ڈرامہ سیریز کے 6 سیزن ہیں اور ہر سیزن میں 74 اقساط ہیں۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 27 مئی 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں