Anti Encroachment in Sadar Karachi

سندھ میں جاری انسدادِ تجاوزات آپریشن اور چند تجاویز

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تجاوزات ہمارے ملک کا نہ صرف ایک بہت بڑا بلکہ بہت ہی پرانا مسئلہ بھی ہے۔جس کا پائیدار حل نکالنے کی گزشتہ 70 برسوں میں کسی بھی حکومت یا کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف سے قطعاً کوئی کوشش نہیں کی گئی بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس مسئلہ کو مزید اُلجھانے میں ماضی کی ہر حکومت نے اپنا حصہ بقدرِ جثہ ڈالا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہر قانون اور ہر اصول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس کا جہاں جی آیا اور جب چاہا، کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی آشیر باد سے اپنی مرضی سے دُکان بڑھا لی یا فٹ پاتھ پر ہی باقاعدہ دُکان بنا لی۔نا کوئی پوچھنے والا تھا اور نا روکنے والا، بس پھر کیا تھا کہ ہر شخص تجاوزات کی اس بہتی گنگا میں صرف ہاتھ دھونے پر اکتفا کرنے کے بجائے پوری طرح اشنان کرنے میں لگ گیا۔جس کی وجہ سے وطنِ عزیز کا ہر شہر تجاوزات کی جابجا بھرمار سے بدصورت اور بے ہنگم ہو گیا۔ایسی مخدوش صورت حال میں جبکہ شہر کے شہر تجاوزات کا جنگل بنتے جارہے تھے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے کئی دہائیوں سے اس لاینحل مسئلہ کے مستقل حل کا بیڑا اُٹھایا اور اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیئے پہلی بار انقلابی اقدام کا آغاز کرتے ہوئے کچھ احکامات جاری کیئے جس میں پہلے مرحلے میں شہروں میں قائم تمام بڑی،مصروف اور اہم شاہراوں سے کمرشل یا تجارتی تجاوزات کا فی الفور خاتمہ کرنا تھا۔ اعلیٰ عدلیہ کے اس فیصلہ کی شاید ہی کوئی شخص ہو جس نے تحسین نہ کی ہو، اہم ترین اور حوصلہ افزا بات تو یہ تھی کہ اُن لوگوں نے بھی اس فیصلہ یا حکم کے آگے اپنا سر تسلیم خم کردیا جن کی تجارتی دُکانیں یا اُن کی جگہوں کا کچھ حصہ اس انسداد تجاوزات کے آپریشن کی زد میں آرہا تھا۔انسدادِ تجاوزات کا آپریشن پورے ملک میں شروع ہوا اور حیران کُن طور پر کسی نے بھی انسدادِ تجاوزات کے اس آپریشن کے سامنے مزاحمت کرنے کی کوشش نہیں کی۔

پورے ملک کی تو میں گواہی نہیں دے سکتا لیکن سندھ کے کئی بڑوں شہروں میں انسدادِ تجاوزات کا آپریشن اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا۔جسے دیکھ کر ابتداء میں ایک اطمینان قلب بھی ہواتھا کہ لوگ اعلیٰ عدلیہ کے احکام کی بجاآوری و تسلیم میں اس درجہ یکسو ہیں کہ اپنے ہاتھوں سے اپنی تجاوزات کا خاتمہ کر رہے ہیں۔مگر شاید انسدادِ تجاوزات آپریشن کرنے والے اربابِ اختیار کی صفوں میں ماضی کی سیاست سے آلودہ چند عناصر انسدادِ تجاوزات آپریشن کو بھی اعلیٰ عدلیہ اور تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف پوری شدت کے ساتھ استعمال کرنا چاہتے تھے اور پھر وہ ہی ہوا جس بات کا ڈر تھا۔انسداد تجاوزات آپریشن کی آڑ میں کمرشل جگہوں کی تجاوزات کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقوں میں بھی انسدادِ تجاوزات کے آپریشن کو کچھ اس انداز سے شروع کر دیا گیا کہ من و تو کی ساری تمیز ہی مٹ کر رہ گئی یعنی ساری کہانی کا سیاق و سباق ہی یکسر بدل کر رہ گیا ہے۔عوام جو کل تک تجاوزات سے پریشان تھیں وہ اب انسدادِ تجاوزات کی آڑ میں ہونے والے اس نام نہاد آپریشن سے اس قدر نالاں اور پریشان نظر آنے لگے کہ جھولیاں اُٹھا اُٹھا کر بد دعائیں دینے لگے۔کسی کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ مین شاہراؤں سے انسدادِ تجاوزات کا خاتمہ کے لیئے شروع ہونے والے آپریشن رہائشی علاقوں کی چھوٹی چھوٹی گلیوں میں کیوں زبردستی داخل کیا جارہا ہے۔کیا گلیوں محلوں میں اربابِ اختیار نے عام لوگوں کے سروں سے چادر اور چاردیواری چھین کر ہائی ویز،موٹر ویز یا سرے محل تعمیر کرنے ہیں۔سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ جب بنی گالہ میں موجود وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کا گھر تھوڑے سے جرمانے کے ساتھ ریگورلائز ہوسکتاہے تو بے چارے غریب لوگوں کے گلی محلوں میں آباد اور بسے بسائے گھر تھوڑی بہت تجاوزات کے خاتمہ کے بعد کیوں ریگولر یا قانونی نہیں ہوسکتے۔یہ کیا بات ہوئی کہ اگر آج سے چالیس سال پرانے شہر کے نقشہ میں ایک محلہ تھا ہی نہیں تو اب اسے انسداد تجاوزات کی آڑ میں اُڑا کر رکھ دیاجائے۔ارے بھئی اگر آپ کو کشادہ گلی کے لیے جگہ درکار ہے تو اتنی ہی جگہ لیں نا جتنی ضرورت ہے کیا یہ ضروری ہے کہ محلوں کی گلیوں کو بھی نیشل ہائی وے جتنا کشادہ کردیا جائے۔

سب سے اہم ترین اور شرمناک بات تو یہ ہے کہ شہروں میں تمام ترتجاوزات کے قائم ہونے میں ایک بڑا کردار شہر وں کے بلدیاتی اداروں اورگزشتہ 35 سالوں سے اقتدار کے منصب پر فائز رہنے والی سیاسی جماعتوں کا بھی ہے جنہوں نے یہ تجاوزات بنا بنا کر غریب لوگوں کو بیچیں اور لوگوں کو تجاوزات کرنے سے روکنے کے بجائے انھیں بطور خاص طرح طرح کی ترغیبیں دے کر اس طرف مائل کیا تاکہ وہ اپنے بنک اکاؤنٹس کو دونوں ہاتھوں سے بھر سکیں۔سب جانتے ہیں کہ شہروں میں قائم ہونے والی یہ تجاوزات راتوں رات نہیں بن گئی ہیں بلکہ انہیں حکومتی سرپرستی میں قائم کیا گیا اور یہاں رہائشی گھر بنانے والوں سے باقاعدہ بے شمار قوانین کے نام پر بھاری فیسیں باقاعدگی سے وصول کی جاتی رہی ہیں۔سوال یہ ہے کہ ان تجاوزات کے بننے کے وقت آنکھیں بند رکھنے والے رشوت خور اور بھتہ خوروں کے لئے کیا کوئی قانون نہیں؟کوئی سزا نہیں؟ سزا صرف ان لوگوں کے لئے ہے جنہوں نے جانے انجانے میں یہ جگہیں خریدیں؟یعنی جن کی ملکیت جائز ہے اور جن کے پاس حکومت کے بنائے گئے کاغذات بھی ہیں انکی شنوائی کا کون کریگا؟ کون ہے جو انکی اشک شوئی کرے گا؟۔پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ اور تحریک انصاف کی حکومت سے درخواست ہے کہ براے مہربانی اس آپریشن کی مقصدیت اور نیت کو ٹھیک کروائیں۔ جہاں تک تجاوزات کے خاتمہ کا تعلق ہے تو غیر قانونی تجاوزات ختم کروائیں،راستے کھلوائیں اور پارکوں سے قبضے بھی ضرور چھڑوائیں جائیں لیکن گھروں کو مسمار نہیں کیا جانا چاہیے جبکہ رہائشی علاقوں میں چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال ہونے سے بچانے کے لیئے کوئی تو طریقہ کار وضع کیا جانا چاہئے۔نیز کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ گزشتہ برسوں میں جس جس محکمہ کے جس جس افسر نے تجاوزات کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے سب سے پہلے اُن کو قانون میں کٹہرے میں کھڑاکیا جائے،بجائے اس کے کہ تجاوزات کی اجازت دینے والوں کو ہی انسداد تجاوزات کا بھی مشن سونپ دیا جائے۔
ستم ہے جور ہے یعنی غضب ہے
میرے قاتل کا رب میر ا بھی رب ہے

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 13 دسمبر 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں