Abdul Sattar Edhi in Ambulance

سندھ میں ایدھی سینٹرز پر قبضہ، ریاستی ادارے خاموش کیوں؟

پاکستان میں کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ عبدالستار ایدھی کون ہے؟ اور ایدھی سینٹرز ملک بھر میں کیا اہم ترین خدمات انجام دیتے ہیں لیکن ایک بات جو پوری پاکستانی قوم کو بتانا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ آج کل سندھ میں کیا ہورہا ہے۔جی ہاں ابھی چند ماہ پہلے آپ سب نے جس عظیم عبدالستار ایدھی کو ریاستِ پاکستان کی طرف سے مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ اپنے خالقِ حقیقی کی جانب عازمِ سفر ہوتا دیکھا تھا۔آج اُسی عبدالستار ایدھی کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور محنت کا ثمرہ یعنی ایدھی سینٹرز پر سندھ بھر میں قبضے کیئے جارہے ہیں اور عبدالستار ایدھی کے فرزند ارجمند اور ایدھی فاؤنڈیشن کے موجودہ روحِ رواں فیصل ایدھی اپنے ایدھی سینٹرز کو سندھ بھر میں قبضہ مافیا سے بچانے کے لیئے فریاد کناں ہیں،جسے سننے کے لیئے کوئی تیار نہیں۔بلقیس ایدھی اور فیصل ایدھی جتنا پریشان اور ماتم کناں آج دکھائی دیتے ہیں اتنا تو شاید وہ ایدھی صاحب کو لحد میں اُتارتے ہوئے بھی نہیں ہوئے ہوں گے اور ہمارا وہ الیکٹرانک میڈیا جو حسن نواز کی ذرا سی توہین پر تلملا اُٹھتا ہے اُس کے نزدیک ابھی تک ایدھی سینٹرز پر قبضہ کی خبریں ”بریکنگ نیوز“ کا درجہ بھی حاصل نہیں کر پائی چہ جائیکہ اس عظیم سانحہ پر ”خصوصی ٹرانسمیشن“ کا تکلف کیا جائے۔

تازہ صورتحال کے مطابق اندرونِ سندھ میں اس وقت اکثر شہروں میں ایدھی سینٹرز پر قبضہ مافیا نے ایدھی سینٹر کے عملے کو سامان سمیت باہر نکال کر جگہ ہتھیا لی ہے یا پھر اگر کوئی ایدھی سینٹر بچ بھی گیا ہے تو اُس پر قبضہ کرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔جبکہ ریاستی ادارے جنہوں نے کراچی میں کامیاب آپریشن کرکے سندھ کے عوام کو اُمید کی ایک نئی کرن دکھائی تھی نہ جانے کونسی ایسی بات ہے کہ اندرونِ سندھ ہونیوالی قبضہ مافیا کی اتنی بڑی کارروائیوں پر چپ سادھے بیٹھے ہیں۔کیا ریاست کی طرف سے انتظار کیا جارہا ہے کہ اندرونِ سندھ میں موجود تمام ایدھی سینٹرز پر قبضہ مافیا کا قبضہ ہوجائے۔قبضہ مافیا نے ایدھی سینٹر زپر قبضہ کرنے کے لیئے انتہائی ”آئینی طریقہ“اختیار کیا ہے یعنی جعلی کاغذات بنوا کر ایدھی سینٹرز پر حقِ ملکیت جتایا جارہا ہے۔بقول فیصل ایدھی”عدالت میں 1994 کے شہری توسیعی سروے کی آڑ لے کر ایدھی سینٹرز کا عبوری قبضہ حاصل کیا جارہا ہے جبکہ ہمارے پاس 1985 کے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جو ملکیتی کاغذات ہیں اُنہیں جعلی بتایا جارہا ہے حالانکہ اُس وقت نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ہمیں یہ زمین صرف زبانی اعلان کرکے نہیں بلکہ تحریری طور پر دی تھی“۔حیدرآبا د کے علاقے لطیف آباد میں قائم ایدھی سینٹر سے عملے کو بے دخل کرکے وہاں کمرشل دُکانیں بنادی گئی ہیں، جنہیں انتہائی مہنگے داموں فروخت کرنے یا پھر کرائے پر دینے کا منصوبہ زیرِ غور ہے جبکہ ہالہ میں ایدھی سینٹر کی جگہ پر قبضہ کر کے اُسے چند بااثر خاندان پہلے ہی اپنے استعمال میں لے چکے ہیں اس کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری کے ضلع نواب شاہ جس کا نیا نام شہید بے نظیرآباد رکھ دیا گیا ہے کے انتہائی اہم شہروں قاضی احمد اور مورو پر بھی ایدھی سینٹر پر قبضہ کر کے دُکانیں بنادی گئیں ہیں۔حد تو یہ ہے کہ قبضہ مافیا ایدھی سینٹرزپر قبضوں کے لیئے نت نئے طریقے ایجاد کر رہی جس کی ایک مثال یہ ہے کہ قبضہ مافیا کی جانب سے حب چوکی پر قائم ایدھی سینٹر پر قبضہ کر کے وہاں مدرسہ قائم کردیا گیاہے تاکہ آگے چل کر وہاں کمرشل دُکانیں تعمیر کرنے میں آسانی ہو۔حالانکہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی ایک حکومتی ادارہ ہے اگر اس کا نام استعمال کرکے کچھ لوگ ایدھی سینٹرز پر قبضہ کرتے جارہے ہیں تو پھر ہم یہ کیسے مان لیں کہ اس گھناؤنے اور انسانیت سوز کام میں قبضہ مافیاکو طاقتور حکومتی شخصیات کی آشیر باد حاصل نہیں ہے۔اگر سندھ میں ایدھی سینٹرز پر قبضوں کا کام اسی رفتار اور زور وشور سے جاری رہا تو غالب امکان یہ ہی کہ آئندہ چند سالوں میں ایدھی فاؤنڈیشن کو اپنی خدمات سندھ میں مکمل طور پر معطل کرنی پڑ جائیں گی اور ایسا ہوجانے سے کس کا بھلا ہوگا یہ کم ازکم ہماری سمجھ سے تو باہرہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سندھ میں کبھی بھی ایدھی فاؤنڈیشن کو آزادانہ اور اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے نہیں دیا گیا۔کراچی اور حیدرآباد میں متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے عیدالاضحی کے دنوں میں ہمیشہ سے کھالوں سے بھری ایدھی ایمبولینسیں لوٹ لی جاتی تھی یہ تو بھلا ہو کراچی آپریشن کا جس کی وجہ سے عیدالاضحی کے ایام میں گزشتہ ایک،دو سالوں سے ایدھی ایمبولینسیں لوٹنے کے واقعات نہیں ہوئے لیکن اندرونِ سندھ میں تو نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ اب ایدھی سینٹر ز پر ہی قبضہ کیئے جارہے ہیں۔اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ جہاں ایدھی سینٹرز پر قبضہ کیئے جارہے ہیں وہاں عام افراد کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہورہا ہوگا۔حالات کا تقاضا ہے کہ ”کراچی آپریشن“ کادائرہ کار اندرونِ سندھ تک جلد ازجلد بڑھایا جائے نہیں تو بہت دیر ہوجائے گی۔اگر ریاستی اداروں نے اب بھی اپنی توجہ اندرونِ سندھ کی جانب مبذول نہیں کی تو سندھ میں کچھ نہیں بچے گا۔بقول شاعر جس دور میں لُٹ جائے فقیروں کی کمائی، اُس دور کے حاکم سے کوئی بھول ہوئی ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 09 نومبر 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں