Dr Roth Phao Coin

ڈاکٹر روتھ فاؤ ۔۔۔۔ پاکستان کی عظیم محسنہ

”اگر مجھے دوبارہ زندگی ملی تو میں پاکستان ہی آؤں گی“۔پاکستان کے ساتھ بے لوث محبت کا آئینہ دار یہ جملہ اکثر وبیشتر اپنی عام زندگی میں استعمال کرنے والی اور دنیا بھر میں پاکستانی مدر ٹریسا کہلانے والی محترمہ ڈاکٹر روتھ فاؤ 10 اگست 2017 کو کراچی کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئیں اور یوں ڈاکٹر روتھ فاؤ کے انتقال کے ساتھ ہی پاکستان اور پاکستانی عوام کے ساتھ بے لوث و بے غرض خدمت کا ایک روشن ترین باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے بند ہوگیا۔اس جرمن نژاد عظیم خاتون نے اپنا ملک،اپنے لوگ،اپنی تمام آسائشیوں کوترک کر کے اپنی تمام زندگی کو پاکستان جیسے ملک میں بسر کرنے کا فیصلہ کیا، جہاں آج بھی اس ملک کے بنانے والے بہت سے افرادپاکستان بنانے کی قیمت چیخ چیخ کر طلب کرتے ہر گلی،ہرجلسہ اور ہرپریس کانفرنس میں نظر آتے ہیں اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستا ن کی کونسی خدمت کی ہے تو جواباً کہتے ہیں کہ ”پاکستان نے انہیں آج تک دیا ہی کیاہے“۔ محترمہ ڈاکٹر روتھ فاؤ کی زندگی ایسے افراد کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ ہے،اگر وہ اسے اپنے چہرے پر محسوس کریں تو۔

معجزانہ طور پر کراچی آنے والی ڈاکٹر روتھ فاؤ نے اپنے ساری زندگی پاکستان میں کوڑھ کے مریضوں کے علاج معالجہ میں صرف کردی،جذام یعنی کوڑھ ایک ایسا مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہوجاتا ہے۔ جسم میں پیپ پڑ جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا جسم ٹوٹ ٹوٹ کر گرنا شروع ہو جاتا ہے۔پاکستان میں 1960 تک جذام کے ہزاروں مریض ہر شہر میں جا بجا نظر آتے تھے۔یہ مرض بڑی تیزی سے ملک بھر میں پھیل بھی رہا تھا۔اس مرض کے بارے میں اُس وقت عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ ایک متعدی مرض یعنی ایسا مرض ہے کہ جو ایک شخص سے دوسرے کو لگ سکتاہے۔اس وقت تک لوگ جذام کو اللہ کا عذاب سمجھتے تھے۔لوگوں کی سوچ تھی کہ یہ بیماری اللہ کی طرف سے گناہوں کی سزا ہے اور لوگ اس مرض کے مریضوں کو سزا بھگتنے کے لیئے تنہا چھوڑ دیتے تھے۔ اس زمانے میں کراچی شہر کے کینٹ اسٹیشن کے باہر کوڑھیوں کی ایک بستی تھی اور دوسری بستی سٹی اسٹیشن سے پہلے ریلوے کالونی کے قریب آباد تھی۔ کوڑھی مرد عورتیں،بوڑھے،جوان انتہائی برے حالات میں ان بستیوں میں رہ رہے تھے۔ان بستیوں میں جگہ جگہ گٹر کا گندا پانی کھڑا رہتا تھااور ہرطرف غلاظت کے ڈھیر لگے ہوتے تھے۔کراچی شہر میں موجود ریلوے اسٹیشن کے قریب کوڑھی بستیوں میں اناج کی بھری ریلوے بوگیوں سے بڑے بڑے چوہے نکل کر آجاتے اور سوئے ہوئے کوڑھیوں کے جسموں کو کتر کتر کر کھاجاتے تھے۔جن کا سوئے ہوئے کوڑھیوں کا ذرہ برابر احساس بھی نہ ہوتاتھا۔اس مرض میں جسم سے شدید بو بھی آتی تھی۔جذام کا مریض اپنے جسم کو کپڑوں سے لپیٹ کر رکھتا تھا۔یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا اور جس انسان کو یہ مرض لاحق ہو جاتا تھا وہ مریض اکیلا و تنہاسسک سسک کر دم توڑ جاتا تھا۔
ان حالات میں ڈاکٹر روتھ فاؤ نے اس نامراد کوڑھ کے مرض کے خلاف کراچی سے اپنی عظیم انسانی خدمت کا آغاز کیا،اور پھر اس کام کو پورے ملک میں پھیلا دیا۔صوبہ سرحد (اب خیبرپختونخواہ)میں یہ مرض بہت زیادہ تھا،پنجاب اور بلوچستان بھی محفوظ نہیں تھے۔ پورے پاکستان میں جہاں جہاں کوڑھ کے مریض بے یارومددگار،سسکتے وجو دکے ساتھ زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے۔ان کا ہاتھ ہمیشہ کے لیئے اس مسیحانے اپنے دستِ شفاء میں تھام لیا۔ جن مریضوں کو ان کے پیارے ہی شہر سے دور غاروں میں پھینک آتے تھے انہیں وہاں سے نکالا۔عوام میں شعور بیدار کیا کہ کوڑھ کوئی چھوت کی بیماری نہیں ہے۔ڈاکٹر روتھ فاؤ کا پہلا چیلنج اس گھناؤنے تصور کا خاتمہ ہی تھا۔انہیں اس بیماری کو صرف بیماری ثابت کرنے میں بہت وقت لگ گیا لیکن آخر کار یہ لوگوں کی سوچ بدلنے میں کامیاب ہوگئیں۔یہ عظیم خاتون اپنے ہاتھوں سے مریضوں کو دوا بھی کھلاتیں اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتیں۔اور مریضوں کے شفایاب ہونے کے بعد ان میں سے اکثر لوگوں سے یہ سوال بھی کرتیں کہ ”ایک گولی کھانے سے کیا خدا خوش ہوکر مریض کے گناہ بخش سکتا ہے؟“اس طرح مریض اور ان کے رشتہ دار خود سے بھی سوچنے پر مجبور ہوجاتے کہ یہ بھی ایک عام بیماریوں جیسی بیماری ہے۔ان کا جذبہ سچا اور نیت صاف تھی لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفاء دے دی۔وہ جذام کے جن بھی مریضوں کا علاج کرتیں،ان کا مرض یکسر ختم ہوجاتا۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ نے 1963 میں میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر بنایا اور جذام کے مریضوں کی وسیع پیمانے پر تیمارداری شروع کر دی۔ڈاکٹر روتھ فاؤ نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر پاکستانی ڈاکٹروں،پیرامیڈیکل اسٹاف اور سوشل ورکرز کی تربیت کا آغاز بھی کیااور یوں یہ سینٹر 1966 تک باقاعدہ ہسپتال کی شکل اختیار کر گیا۔80 بستروں پر مشتمل ”میری ایڈیلیڈ لپروسی سینٹر“ کے تحت ملک بھر میں جزام کے160 سے زائدمراکز قائم کیئے گئے۔پہلا سینٹر لاڑکانہ میں،اگلی منزل میرپورخاص، پھر پیر بابا سرحد میں قائم کیا گیا۔ اس وقت گیارہ سینٹرز صرف کراچی میں ہیں۔ کراچی میں قائم سینٹرز کو چھوڑ کر دیگر کے انتظامی معاملات صوبائی حکومتوں کہ ذمہ ہیں۔جب کہ ٹریننگ اور ٹیکنیکل سپورٹ ایم اے ایل سی ہی فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ اب جذام کے علاوہ ٹی بی، آنکھوں کے امراض،اور نشے کے عادی افراد کے لیئے بھی مختلف پروگرام پر کام کررہا ہے۔اب تک ملک بھر سے جذام کے مجموعی طور پر60ہزارسے زائدمریض رجسٹر ہوچکے ہیں۔علاج میں کامیابی کی شرح98 فیصد سے زائد رہی ہے۔اس وقت تقریباً700مریض مختلف سینٹرز میں زیرِ علاج ہیں۔جب کہ سالانہ 400 نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔1968 میں حکومت پاکستان نے ڈاکٹر روتھ فاؤ کے”لپروسی کنٹرول پروگرام“کو نیشنل پروگرام کی حیثیت دے دی تھی۔یوں اس پروگرام کی رسائی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔یہ ڈاکٹر روتھ فاؤ کی محنت اور لگن کا ہی نتیجہ تھا کہ انیس سو چھیانوے میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پاکستان کو لیپروسی فری یعنی جذام کے مرض سے پاک ملک قرار دے دیا۔بین الاقوامی کلیے کے مطابق اگر دس ہزار کی آبادی میں ایک یا ایک سے کم مریض سامنے آئے تو اسے ”کنٹرولڈ“تصور کیا جاتا ہے۔
جرمن زبان میں ڈاکٹر روتھ فاؤ نے 9 کتابیں لکھی۔کتابیں لکھنے کا باقاعدہ آغاز 1985 میں کیا،کتابیں لکھنے کامقصد بھی ابتداء میں لپروسی پروگرام کے لیئے امداد حاصل کرنا تھا۔کیونکہ ان کی کتابوں کی وجہ سے ہی بین الاقوامی تنظیمیں ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔ضیا ء الحق کے دورِ حکومت میں ڈاکٹر روتھ فاؤ لپروسی کے تعلق سے صدر کی مشیر مقرر ہوئیں اور 2000 تک مختلف صدور کے ساتھ مسلسل کام کرتی رہیں۔پاکستانی حکومت نے 1998 میں ڈاکٹر روتھ فاؤ کو پاکستان کی شہریت دے دی۔انہیں ستارہ قائداعظم،ہلالِ پاکستان،نشان ِ قائداعظم اور جناح ایوارڈ بھی دیا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ دیا۔جرمنی کی حکومت نے انہیں آرڈر آف میرٹ سے نوازا۔ان کے انتقال کے بعد ان کی آخری رسومات کو سرکاری طور پر ادا کرنے کا اعلان کیا گیا اور وزیرِ اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے ان کے مرکزی اسپتال کا دورہ کر کے تعزیت بھی کی۔مگر کیا یہ سب کچھ اس عظیم خاتون کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیئے کافی ہے؟۔میرے خیال میں یہ سب کچھ بہت کم ہے کیونکہ جوانی میں اپنا آبائی وطن چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے کسی دوسرے ملک کے لوگوں کے درمیان بس جانا ناقابل ِ یقین بات لگتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اگر ڈاکٹر روتھ فاؤ 8مارچ 1960 کو معجزتی طور پرپاکستان نہ آتیں اور اپنی عمر عزیز اس ملک کے لوگوں کی خدمت کرتے ہوئے خرچ نہ کرتی تو شاید ہمارے ملک میں آج بھی لاکھوں کوڑھ کے مریض موجود ہوتے۔ اگرہم واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں ہمیں ڈاکٹر روتھ فاؤ کے پیغام کو اور ان کی ناقابلِ یقین اساطیری کہانی کو ہر پاکستانی تک پہنچانا ہوگا۔کیا ہماری حکومتیں درسی نصاب میں اس عظیم اور بے مثال پاکستانی کہانی کو شامل کریں گی؟

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 24 اگست 2017 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں