Dr Roth Pfau

ڈاکٹر روتھ فاؤ۔۔۔ ایک خدمت گار پری

چھپن سال پہلے 8مارچ1960 کی ایک عام سی دوپہر تھی جب ایک پری چہرہ نیلی آنکھوں والی خوبصورت دوشیزہ نے پاکستان کی سرزمین پر اپنا پہلا قدم رکھا،کراچی کی ناقابلِ برداشت گرمی اور تھکادینے والے سفر نے اس نازک اندام حسینہ کے اوسان خطا کردیئے جیسے تیسے کر کے وہ گرو مندر پر قائم گرلز ہاسٹل میں قیام کے لیئے پہنچی تو سب سے پہلے اُس نے ہاسٹل انتظامیہ سے اپنے کمرے کے بارے میں دریافت کیا،کمرہ ملتے ہی فور اً وہ آرام کی غرض سے بستر پر دراز ہوگئی۔کچھ دیر بعد جیسے ہی اس کے جسم کی کچھ توانائی بحال ہوئی تو اُس نے اپنے آپ سے خود کلامی شروع کردی کہ”جب تم نے اپنے آپ کو مکمل طور پر انسانیت کی خدمت کے لیئے وقف کردیا ہے تو پھر موسم کی سختیوں اور سفرکی صعوبتوں سے گھبرانا کیا“۔اُسکے ذہن نے تسیلم کرلیا کہ کیسے اب وہ اس حقیقت سے فرار حاصل کر سکتی ہے کہ راہبہ بننے کا فیصلہ اُس کا اپنا نہ تھا۔گو کہ اُسکے والد نے اس کے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی لیکن اس کی مہربان والدہ نے اسکے اس فیصلہ کو ”خدا کی مرضی“قرار دے کر مکمل حمایت کی اور یوں یہ ”خدمت گار پری“ پیرس پہنچی اور ”Datughters of the hearts of Mary“نامی تنظیم کا باقاعدہ حصہ بن گئیں۔اس تنظیم کی بنیاد فرانسیسی انقلاب کے زمانے میں ”میری ایڈیلیڈ“نے رکھی تھی۔ اس تنظیم کی ایک شاخ بھارت میں بھی کام کر رہی تھی۔بھارت میں کام کرنے والی شاخ کو اچانک وہاں گائناکولو جسٹ کی شدید ضرورت پڑ گئی۔ خوش قسمتی سے چونکہ یہ ”خدمت گار پری“ ایک کوالیفائیڈ گائناکولوجسٹ تھی اس لیئے تنظیم کی طرف سے اس کو فور ی طور پر بھارت بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔جب یہ بھارت روانہ ہونے کے لیئے پیرس پہنچی تو اسے پتا چلا کہ چند ناگزیر عالمی حالات کی بناء پر پیرس سے بھارت کا ویزا ملنے کے امکانات انتہائی معدوم ہیں۔اسے بتایا گیا کہ بھارت کا ویزہ ملنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ وہ پہلے پاکستان کے شہر کراچی جائے وہاں سے اُسے پھر بھارت کا ویزا مل سکتا ہے۔

یہ وہ عجیب و غریب نہ سمجھ میں آنے والے واقعات تھے جن کی وجہ سے آج وہ کراچی میں موجود تھی۔اُسے اپنی کراچی میں موجودگی ایک معجزہ لگتی تھی لیکن اس کی زندگی میں اس معجزہ کا ظہور ہو کیوں رہا ہے اسے سمجھنا شاید اس وقت اس کیلیئے ناممکن تھا۔ رات کے کھانے کے بعد اس کی ملاقات سسٹر بیرنس سے ہوئی انہوں نے اس کو وقت گزاری کے لیئے ایک دستاویزی فلم دکھائی جو کراچی میں کوڑھ کے مریضوں کے بارے میں تھی۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعداس ”خدمت گار پری“ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس مرض کے خلاف عملی طور پر کام کرے گی۔جذام یعنی کوڑھ ایک ایسا مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہوجاتا ہے۔ جسم میں پیپ پڑ جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا جسم ٹوٹ ٹوٹ کر گرنا شروع ہو جاتا ہے۔اس مرض کے بارے میں اُس وقت عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ ایک ایسا مرض ہے کہ جو ایک شخص سے دوسرے کو لگ سکتاہے۔ اس مرض میں جسم سے شدید بو بھی آتی ہے۔جذام کا مریض اپنے جسم کو کپڑوں سے لپیٹ کر رکھتا ہے۔یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا اور جس انسان کو یہ مرض لاحق ہو جاتا تھا اُسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور یوں وہ مریض سسک سسک کر دم توڑ جاتا تھا۔

اس لڑکی کو انسانوں کی خدمت کرنے کا جنون تھا،یہ پیدائشی خدائی خدمت گار تھی۔اس ”خدمت گار پری“ کو بس پتا چلنا تھا کہ کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگ بہت برے حالوں اس شہر کراچی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ کوڑھیوں کی بستی جاپہنچی۔ اس زمانے میں کراچی شہر کے کینٹ اسٹیشن کے باہر کوڑھیوں کی ایک بستی تھی اور دوسری بستی سٹی اسٹیشن سے پہلے ریلوے کالونی کے قریب آباد تھی۔وہاں کی حالت دیکھ کر جرمن دوشیزہ کا دل خون کے آنسو روپڑا۔بستی کے باسی ایسی بیماری میں مبتلا تھے کہ انہیں دیکھ کر گھن آجائے کیونکہ کوڑھ جیسے موذی مرض نے ان کے جسموں کو اس قدر خراب کردیا تھا کہ زخموں سے رستی پیپ اور خون کی بدبو وہاں کھڑا ہونا بھی محال کردے۔جذام کے مریضوں کی حالت زار دیکھ کراس ”خدمت گار پری“نے ذلتوں کے مارے ان انسانوں کے لیئے خود کو وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔کوڑھی مرد عورتیں، بوڑھے،جوان انتہائی برے حالات میں ان بستیوں میں رہ رہے تھے۔اس وقت لوگوں کو اس مرض کے بارے میں مکمل آگاہی بھی نہیں تھی اور لوگ اپنے مریضوں کو ان بستیوں میں مرنے کے لیئے چھوڑ جاتے تھے۔یہ”خدمت گار پری“ جب ان بستیوں میں پہنچی تو دیکھا کہ جگہ جگہ گٹر کا گندا پانی کھڑا تھا۔اور ہرطرف غلاظت کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ان حالات میں کوڑھی لوگ جھونپڑیوں میں بے یارومددگار پڑے ہوئے اپنی موت کا انتظار کررہے تھے۔پس انسانیت کا درد دل رکھنے والی اس خوبصورت حسینہ کا دل ایسا پگھلا کہ اس نے بھارت جانے کا ارادہ ہی ترک کردیااور جرمنی میں اپنی تنظیم کو خط لکھا کہ اس کی خدمات کی ضرورت بھارت سے زیادہ پاکستان کو ہے۔لہذا اسے کراچی میں ہی کام کرنے کی اجازت دی جائے۔جذام کی بابت اس”خدمت گار پری“ کو زیادہ علم نہیں تھا۔کیونکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ بیماری تقریباً ناہونے کے برابر تھی۔جس کے لیئے اس نے جذام کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ بھارتی شہر مدراس سے جذام کے علاج کی تربیت مکمل کر کے پاکستان واپسی پر گھر سے دور اجنبی و گرم ماحول میں، ایک جھونپڑی میں اُن کوڑھیوں کا علاج شروع کیا جنہیں لاعلاج سمجھا جاتا تھا۔اُس وقت اس”خدمت گار پری“ کی جیب میں فقط 20 روپے تھے۔

یہ کہا نی پاکستان میں خدائی تحفہ بن کر آنے والی ڈاکٹر روتھ فاؤ کی ہے۔یہ اُن نایاب انسانوں میں سے ایک کی کہانی ہے جن کی زندگی پر اساطیری داستان کا گمان ہوتا ہے۔اس عظیم خاتون کی کہانی کو الفاظ میں سمونا کوئی آسان کام نہیں ہے۔یہ بلند حوصلہ خاتون اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک پاکستان میں ابنِ مریم کی سنت پر عمل پیرا رہیں۔

ڈاکٹر روتھ کیتھرائن مارتھا فاؤ ایک جرمن نژاد خاتون تھیں جو 9ستمبر1929کو مشرقی جرمنی کے شہر ”لائپ زش“میں والتھرو فاؤ کے گھر میں پیدا ہوئیں ان کی چار بہنیں اور ایک بھائی تھا۔پانچ بہنوں میں چوتھی ڈاکٹر روتھ فاؤ کے اپنے والد سے دوستانہ روابط تھے۔اُس وقت ”لائپ زش“پبلشنگ کا مرکز خیال کیا جاتا تھا۔اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے اُن کے والد کو اس شعبے میں نمایاں مقام حاصل تھا۔جنگ عظیم دوئم انسانیت کو نگلنے کی تیاری مکمل کر چکی تھی۔4دسمبر1943 کو اتحادی فوج نے شہری آبادیوں پر فضائی حملہ کر دیا۔خوش قسمتی سے روتھ فاؤ کا خاندان محفوظ رہا۔والدین نے بگڑتے حالات کے پیش ِ نظر اپنے بچوں کو نسبتاً محفوظ علاقے میں مقیم دادی کے پاس چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔

8مئی 1945 کو جب جرمنی کی فوج نے ہتھیار ڈالے،ڈاکٹر روتھ فاؤ سولہ برس کی ہوچکی تھیں۔ظالمانہ آمریت سے آزادی حاصل کرنے والے اُن کے ملک پر اب اتحادی فوج کا قبضہ تھا۔سرد جنگ کے آغاز نے جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کردیا اور سرحد پر آہنی دیواریں بنا دیں گئیں۔روس کے زیرِ تسلط مشرقی جرمنی میں سیاسی مقاصد کے پیش نظر سخت قوانین کا اطلاق ہو گیا۔معاشی مسائل انتہائی سنگین تھے۔غذائی اجناس کا بحران تھا۔اُس زمانے میں ڈاکٹر روتھ فاؤ نے بیماروں کی تیمارداری میں کافی وقت صرف کیا۔نیشنلائزیشن کا وار سہنے کے بعد ڈاکٹر روتھ فاؤ کے والد والتھر فاؤ کے لیئے دوسرا صدمہ یہ تھا کہ بیٹی کی میڈیکل کالج میں داخلے کی درخواست رد کردی گئی۔دل برداشتہ ہوکر انہوں نے مغربی جرمنی کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا۔بہ حفاظت ”ویس بیڈن“پہنچ کر پھر پبلشنگ کا کاروبار اختیار کیا اور اپنی پیاری بیٹی کو وہاں آنے کا سندیسہ بھجوادیا۔

وہ ایک کٹھن مرحلہ تھا کہ سرحد پر روسی فوج کا کڑا پہرا تھا۔مختصر سے سامان کے ساتھ،ذہن میں ہزاروں وسوسے لیئے وہ ٹرین میں سوار ہوئی اور جنگلات،کھیت،اور دشوار گزار راستے عبور کرتے ہوئے جب سرحد پر پہنچیں تو دو ہتھیار بند فوجیوں نے اسے روک لیا جن میں سے ایک روسی اور دوسرا جرمن تھا۔روسی فوجی بے ضرر لڑکی کے خلاف انتہائی اور فوری کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔اور یہیں قدرت نے مداخلت کی جرمن فوجی نے ”معصوم مجرم“ کے خلاف کارروائی کرنے کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لیتے ہوئے ساتھ چلنے کی ہدایت کی۔اور تھوڑی دور جانے کے بعد ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر روتھ فاؤ کے کان میں سرگوشی کی”مغرب اُس طرف ہے!جلدی سے بھاگ جاؤ“۔

آہنی سرحد عبور کرنے کے بعد جب اُس نے مڑ کر دیکھا تو اس کا محسن ہونٹوں پر مسکراہٹ لیئے دوستانہ انداز میں اُسے الوداع کہہ رہا تھا۔”مغربی جرمنی“پہنچ کر تھکا دینے والا سفر تمام ہو ا۔چند دنوں بعد والد سے ملاقات ہوئی کچھ عرصے بعد باقی خاندان والے بھی ”مغربی جرمنی“پہنچ گئے۔معاشی مسائل سے مقابلہ کرتے ہوئے والد کی خواہش تھی کہ ڈاکٹر روتھ فاؤ ان کے کاروبار میں ہاتھ بٹائے لیکن اُسے اپنے والد کے کام میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔پناہ گزین اور زخمی فوجیوں کی دیکھ بھال کے تجربے نے روتھ فاؤ کو طب کی تعلیم حاصل کرنے کے لیئے اُکسایا۔”مینز یونیورسٹی“ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ”مایوگ یونیورسٹی“ کا رخ کیا۔اس دوران ڈاکٹر روتھ فاؤ کوایسے افراد سے ملنے کا موقع ملا،جنھوں نے اسے زندگی کے نئے معنی سمجھائے،اوراس کے اندر دوسروں کے لیئے جینے کی خواہش کو بیدار کیا،دھیرے دھیرے ڈاکٹر روتھ فاؤ کا مذہب کی جانب رجحان بڑھنے لگا۔”بون یونیورسٹی“ سے گائناکولوجی میں اسپیلائزیشن کرنے کے بعد اس نے ہاؤس جاب کا آغاز کردیا۔

ڈاکٹر روتھ فاؤنے اپنی زندگی کے پچاس سال جذام کے مرض کے خلاف جنگ کرتے ہوئے پاکستان میں گزار دیئے۔یہ انتہائی جاذب نظر اور توانائی سے بھرپور ایک محنتی خاتون تھی اور یہ یورپ کے خوب صورت ترین ملک جرمنی کی شہری بھی تھیں۔بظاہرزندگی کی خوبصورتیاں اور رعنائیاں اس جوان رعنا خاتون کے قدموں میں بکھری ہوئی تھیں۔لیکن زندگی کے ایک ایسے دور میں انہوں نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خلاف جنگ لڑنے کا عجیب و غریب فیصلہ کیا۔لہذا ڈاکٹر روتھ فاؤ نے جرمنی سے کراچی مستقل سکونت اختیار کی اور جذام کے خلاف اپنی جنگ کا آغاز کر دیا اور اس کے بعد ڈاکٹر روتھ فاؤ پھر کبھی اپنے ملک جرمنی لوٹ کر نہیں گئیں۔انہوں نے پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لیئے اپنی جوانی،اپنا ملک،اپنا خاندان یہاں تک کہ اپنی زندگی بھی قربان کر دی۔

پاکستان میں 1960 تک جذام کے ہزاروں مریض ہر شہر میں موجود تھے۔یہ مرض تیزی سے پھیل بھی رہا تھا۔کوڑھ کے مریضوں اور ان کے رشتہ داروں نے اس پری صفت ڈاکٹر کو حیرت سے دیکھا کیونکہ اس وقت تک لوگ جذام کو اللہ کا عذاب سمجھتے تھے۔لوگوں کی سوچ تھی کہ یہ بیماری اللہ کی طرف سے گناہوں کی سزا ہے اور لوگ اس مرض کے مریضوں کو سزا بھگتنے کے لیئے تنہا چھوڑ دیتے تھے۔

کراچی شہر میں موجود ریلوے اسٹیشن کے قریب کوڑھی بستیوں میں اناج کی بھری ریلوے بوگیوں سے بڑے بڑے چوہے نکل کر آجاتے اور سوئے ہوئے کوڑھیوں کے جسموں کو کتر کتر کر کھاتے رہتے۔جن کا سوئے ہوئے کوڑھیوں کا احساس بھی نہ ہوتا۔ان حالات میں ڈاکٹر روتھ فاؤ نے اس عظیم انسانی خدمت کا آغاز کیا،اور پھر اس کام کو پورے ملک میں پھیلا دیا۔صوبہ سرحد (اب خیبرپختونخواہ)میں یہ مرض بہت زیادہ تھا،پنجاب اور بلوچستان بھی محفوظ نہیں تھے۔کراچی کے مریض اس ”خدمت گار پری“ کی بے لوث تیمارداری سے جلد ہی ٹھیک ہونے لگے۔پھر کراچی ہی نہیں،اس ”خدمت گار پری“ نے پورے پاکستان میں جہاں جہاں کوڑھ کے مریض بے یارومددگار،سسکتے وجو دکے ساتھ زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے۔ان کا ہاتھ ہمیشہ کے لیئے اپنے دستِ شفاء میں تھام لیا۔جن مریضوں کو ان کے پیارے ہی شہر سے دور غاروں میں پھینک آتے تھے انہیں وہاں سے نکالا۔عوام میں شعور بیدار کیا کہ کوڑھ کوئی چھوت کی بیماری نہیں ہے۔ڈاکٹر روتھ فاؤ کا پہلا چیلنج اس تصور کا خاتمہ تھا۔انہیں اس بیماری کو صرف بیماری ثابت کرنے میں بہت وقت لگ گیا لیکن آخر کار یہ لوگوں کی سوچ بدلنے میں کامیاب ہوگئیں۔اس کے بعد مریضوں کے علاج کا سلسلہ شروع ہوا۔یہ عظیم خاتون اپنے ہاتھوں سے مریضوں کو دوا بھی کھلاتیں اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتیں۔ان کا جذبہ سچا اور نیت صاف تھی لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفاء دے دی۔وہ جذام کے جن بھی مریضوں کا علاج کرتیں،ان کا مرض یکسر ختم ہوجاتا۔اس دوران ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انہیں جوائن کر لیا۔

بعد ازاں ڈاکٹر روتھ فاؤ اور سسٹر بیرنس کے ساتھ امریکہ سے تعلق رکھنے والی سسٹر میری ڈوئل،پاکستانی ٹیچر لوئز ڈیسوزااور بیلجیئم سے تعلق رکھنے والی سسٹر بینئین بھی شامل ہوگئیں۔کچھ عرصہ بعد میں ماہر امراض ِ جلد زرینہ فضل بائی بھی ان کی ٹیم کا حصہ بن گئیں۔جس کے بعد کام میں تیزی آگئی۔اُس زمانے میں متعدی خیال کییئے جانے کے سبب جذام کے مریضوں کے نزدیک جانے کا تصور بھی محال تھا۔ان باہمت خواتین نے اس سوچ کا خاتمہ طبی علاج کے ذریعے کیا۔اور مریضوں کے شفایاب ہونے کے بعد ان کی طرف سے اکثر لوگوں سے سوال کیا جاتا کہ ”ایک گولی کھانے سے کیا خدا خوش ہوکر مریض کے گناہ بخش سکتا ہے؟“اس طرح مریض خود سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ یہ بھی ایک عام بیماریوں جیسی بیماری ہے۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ نے 1963 میں ”Marie Adelaide Leprosy Center“بنایا اور مریضوں کی وسیع پیمانے پر تیمارداری شروع کر دی۔ڈاکٹر روتھ فاؤ نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر پاکستانی ڈاکٹروں،پیرامیڈیکل اسٹاف اور سوشل ورکرز کی تربیت کا آغاز بھی کر دیا۔اور یہ سینٹر 1966تک باقاعدہ ہسپتال کی شکل اختیار کر گیا۔انہوں نے جذام کی آگہی کے لیئے ”سوشل ایکشن پروگرام“بھی شروع کیا ان کے دوستوں نے انہیں خوب دل کھول کر چندہ دیا لیکن اس کے باوجود بھی 70 لاکھ روپے کم ہوگئے۔ڈاکٹر روتھ فاؤ جرمنی گئیں اور جھولی پھیلا کر کھڑی ہوگئیں۔جرمنی کے شہریوں نے انہیں 70 لاکھ روپے دے دئیے اور یوں پاکستان میں جذام کے خلاف انقلاب آگیا۔80 بستروں پر مشتمل ”میری ایڈیلیڈ لپروسی سینٹر“ کے تحت ملک بھر میں جزام کے156مراکز قائم کیئے گئے۔پہلا سینٹر لاڑکانہ میں،اگلی منزل میرپورخاص، پھر پیر بابا سرحد میں قائم کیا گیا۔ اس وقت گیارہ سینٹرز صرف کراچی میں ہیں۔کراچی میں قائم سینٹرز کو چھوڑ کر دیگر کے انتظامی معاملات صوبائی حکومتوں کہ ذمہ ہیں۔جب کہ ٹریننگ اور ٹیکنیکل سپورٹ MALC ہی فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ اب جذام کے علاوہ ٹی بی، آنکھوں کے امراض،اور نشے کے عادی افراد کے لیئے بھی مختلف پروگرام پر کام کررہا ہے۔اب تک ملک بھر سے جذام کے مجموعی طور پرہزاروں مریض رجسٹر ہوچکے ہیں۔علاج میں کامیابی کی شرح98فیصد رہی ہے۔1968میں حکومت پاکستان نے ڈاکٹر روتھ فاؤ کے”لپروسی کنٹرول پروگرام“کو نیشنل پروگرام کی حیثیت دے دی تھی۔یوں اس پروگرام کی رسائی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ڈاکٹر روتھ فاؤنے اپنے کام کو صرف پاکستان تک محدود نہیں رکھا بلکہ1989میں انہوں نے پاکستانی ڈاکٹروں کی مدد سے یورش زدہ افغانستان میں بھی کام شروع کیا۔جہاں کابل کے ارد گرد ہزاروں افراد اس مرض میں مبتلا تھے۔طالبان کے کٹھن دور میں بھی اس باہمت خاتون کا کام کرنا بڑا کارنامہ تھا۔یہ ڈاکٹر روتھ فاؤ کی محنت اور لگن کا ہی نتیجہ تھا کہ1996 میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پاکستان کو لیپروسی یعنی جذام کے مرض سے پاک ملک قرار دے دیا۔بین الاقوامی کلیے کے مطابق اگر دس ہزار کی آبادی میں ایک یا ایک سے کم مریض سامنے آئے تو اسے ”کنٹرولڈ“تصور کیا جاتا ہے۔

سابق صدرِ مملکت ضیا ء الحق(مرحوم) کے دورِ حکومت میں ڈاکٹر روتھ فاؤ لپروسی کے تعلق سے صدر کی مشیر مقرر ہوئیں اور2000 تک مختلف صدور کے ساتھ مسلسل کام کرتی رہیں۔پاکستانی حکومت نے1998 میں ڈاکٹر روتھ فاؤ کو پاکستان کی شہریت دے دی۔انہیں ستارہ قائداعظم،ہلالِ پاکستان،نشان ِ قائداعظم اور جناح ایوارڈ بھی دیا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ دیا۔جرمنی کی حکومت نے انہیں آرڈر آف میرٹ سے نوازا۔جرمن زبان میں ڈاکٹر روتھ فاؤ نے9 کتابیں لکھی۔کتابیں لکھنے کا باقاعدہ آغاز1985 میں کیا اس کامقصد ابتداء میں لپروسی پروگرام کے لیئے امداد حاصل کرنا تھا۔کیونکہ ان کی کتابوں کی وجہ سے ہی بین الاقوامی تنظیمیں ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔جب پاکستان میں 2005میں زلزلہ آیا تو یہ بہادر خاتون آزاد کشمیر میں تھیں انہوں نے امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ڈاکٹر روتھ فاؤ اکثر کہا کرتی تھی کہ اگر مجھے دوبارہ زندگی ملی تو پھر پاکستان ہی آوٗں گی۔جوانی میں اپنا آبائی وطن چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے بس جانا ناقابل ِ یقین بات لگتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اگر ڈاکٹر روتھ فاؤ 8مارچ 1960کو معجزتی طور پر پاکستان نہ آتیں اور اپنی عمرِ عزیز اس ملک کے لوگوں کی خدمت کرتے ہوئے خرچ نہ کرتی تو شاید ہمارے ملک میں آج بھی لاکھوں کوڑھ کے مریض موجود ہوتے۔10،اگست2017کو پاکستان کی یہ عظیم محسنہ ہمیں بے لوث خدمت کا کبھی نہ بھولنے والادرس دے کر اس دنیاسے رخصت ہوگئیں۔زیر نظر مضمون میں ڈاکٹر روتھ فاؤ کو جگہ جگہ ”خدمت گار پری“ اس لیئے لکھا گیاہے کہ اپنی پوری زندگی کسی غیر ملک،غیر مذہب کے لوگوں کے لیئے وقف کر دینا آج کل کے انسانوں کے بس کی بات نہیں لگتی۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ کی کیو آر ویری فائیڈ قبر
پاکستان میں جزام کے مریضوں کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کردینے والی جرمن ڈاکٹر رتھ فاؤکی آخری آرام گاہ کو پاکستان کی پہلی کیو آر ویری فائیڈ قبر ہے۔کیو آر ویری فائیڈ اس لیے کہ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت پہلی ایسی قبر ہے جس پر ’کیو آر‘ کوڈ کی سہولت موجود ہے۔ یعنی اَ ب کوئی بھی ایسا شخص جو ڈاکٹر رتھ فاؤکی قبر پر زیارت کے لیئے حاضر ہوگا وہ اگرڈاکٹر روتھ فاؤ کی زندگی اور ان کی خدمات یا دیگر معلومات جاننے کا خواہش مند ہو تو، وہ اپنے موبائل فون کے ذریعے اُن کی قبر پر بنے ہوئے کیو آر کوڈ کو اسکین کرکے تمام معلومات اپنے اسمارٹ فون کی اسکرین پر حاصل کرسکتا ہے۔ یہ جدید سہولت بنیادی طور پر ڈاکٹر رتھ فاؤتھ کو یاد رکھنے کا ایک بہانہ ہے۔ حالانکہ ہم اُنہیں اور اُن کی خدمات کو کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتے لیکن آنے والے نئی نسل بھی ڈاکٹر روتھ فاؤاور ان کی عظیم خدمات کو یاد رکھے، اس کے لیے کیو آر کوڈ ٹیکنالوجی کو منفرد انداز میں استعمال کی سعی بلاشبہ ایک بہترین کوشش قرار دی جاسکتی ہے۔

حوالہ: یہ خصوصی مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 9 اگست 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں