DG Rangers Sindh Portraite

ڈی جی رینجر سندھ کی کھری کھری باتیں

اب اسے اپنی خوش قسمتی نہ کہوں تو اور کیا کہوں کہ گزشتہ کئی برسوں بعد کل پہلی بار کسی نیوز چینل پر دلائل و براہین سے مرصع ایسی پرمغز گفتگو سننے کو ملی کہ جسے سننے کے بعد بے اختیار دل کے نہاں خانوں سے صدا بلند ہوئی کہ ”کہیں یہ وہی بات تو نہیں تھی جسے سننے کی ایک زمانے سے آرزو تھی“۔بات چیت کیا تھی، سندھ کی سیاست کا ایک ایسا ”حقیقی منظر نامہ“ تھا جس نے سندھ کی سیاست پر برسوں سے چھائے شکوک و شبہات کے بے شمار مغالطے کسی حرفِ غلط کی طرح یکسرمٹا دیئے اور بالآخر ہم جیسے کوتاہ بینوں کو بھی سندھ کے سیاسی مستقبل کے اُفق پر اُمید کے کچھ ستارے ٹمٹماتے ہوئے دکھائی دینے لگے۔یقینا آپ سمجھ گئے ہوں کہ میرا اشارہ کس مردِ جلیل کی گفتگو کی طرف ہے۔جی ہاں! آپ نے بالکل درست اندازہ لگایا میری مراد ڈی جی رینجر سندھ میجر جنرل محمد سعید کے اُس انٹرویو کی جانب ہے جو انہوں نے ایک نجی ٹی وی کے مشہورو معروف اینکر جناب کاشف عباسی کو دیا۔ بلاشبہ اس اہم ترین انٹرویو پر کاشف عباسی مبارکباد کے مستحق ہیں اور ہم اُن کے سپاس گذار ہیں اُن کے ِاس حسنِ انتظام کی بدولت ہمیں ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید صاحب سے مختلف النوع حساس موضوعات پر اُن کا مدلل نقطہ نظر براہِ راست سننے کا موقع میسر آسکا۔خاص طور پر سندھ میں کرپشن کے خلاف آئے روز ہونیوالی بڑی چھاپہ مار کارروائیوں پر رینجر کے کردار کے حوالے سے مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب جو منفی پروپیگنڈہ کیا جاتاہے اُس پر ڈی جی رینجر نے سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس کے معاملہ میں سندھ رینجر کا کوئی کردار نہیں،جہاں تک اومنی گروپ کے دفتر پر چھاپہ کا تعلق ہے تو واضح رہے کہ اومنی گروپ کے دفتر پر چھاپا اسلحہ کی موجودگی کی اطلاع پر مارا گیا تھا،نیز ہائی پروفائل کیسز میں نیب یا دیگر تحقیقاتی ادارے چھاپے مارتے ہیں اور رینجرز کو ان اداروں کے ساتھ بطور اسکواڈ میں رکھاجاتا ہے، البتہ بعض حلقوں کی جانب سے رینجرزکی موجودگی کو کچھ اس طرح سے پیش کیا جاتاہے کہ جیسے رینجرز نے ذاتی حیثیت میں چھاپہ ماراہو۔ اس متنازعہ فی نکتہ کی وضاحت سے پہلی بار عام آدمی کو یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ سندھ میں رینجر اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرتی بلکہ جو بھی کارروائیاں ہوتی ہیں اُن میں رینجر بطو ر ایک سیکورٹی معاون کے متعلقہ ادارے کی درخواست پر شریک ہوتی ہے۔نیز ڈی جی رینجر کی طرف سے پیش کیئے اعداد وشمار نے بھی اپنے سننے والوں کو کافی حیران کیا مثلاً یہ کہ فرقہ ورانہ منافرت کے باعث شہر کراچی میں 1985سے لے کر1995تک 21 ہزار معصوم افراد زندگی سے محروم ہوئے اور دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ سے 31ہزار افراد کی جانیں گئیں،یوں 1985 سے لے کر ستمبر 2013 تک مجموعی طور پر 92 ہزار لوگ تاریک راہوں میں مارے،جبکہ اگر ایدھی، سی پی ایل سی اور رینجر کا ریکارڈ ایک ساتھ ملایاجائے تو مرنے والوں کی حقیقی تعداد بیان کردہ تعداد سے بھی کہیں زیادہ ہوگی۔

یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ کراچی کے باسی گزشتہ تین دہائیوں میں دہشت و بربریت کے سائے تلے جس قدر مشکل،خطرناک اور جان لیوا حالات سے گزرے ہیں اس کی درست منظر کشی ماضی میں کبھی پیش نہ کی جاسکی لیکن اچھی بات یہ ہے کہ پچھلے پانچ سال میں امن و امان کی صورت حال ماضی کے مقابلے میں زبردست حد تک بہتر ہوئی ہے،جس کا ثبوت یہ ہے کہ 2017 اور 2018میں دہشت گردی کے واقعے میں کسی کی جان نہیں گئی، لیکن بدقسمتی دیکھئے کہ کراچی میں آپریشن کرنے والی سیکورٹی فورسز کو کراچی میں امن قائم کرنے کا کریڈٹ یا داد دینے کے بجائے نام نہاد سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے مسلسل مختلف حیلوں بہانوں سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتاہے۔اس ضمن میں ڈی جی رینجر کایہ فرمانا بھی کسی انکشاف سے کم نہیں تھا کہ کراچی میں بچوں کے اغوا سے متعلق جن واقعات کا پروپیگنڈا الیکٹرانک میڈیا اورسوشل میڈیا پر زور شور سے کیا جاتا رہاہے تحقیق کے بعد وہ تمام ترواقعات جعلی ثابت ہوئے۔اس کاتو سادہ سا مطلب تو ہمارے نزدیک یہ ہی ہوا کہ کراچی میں ایک منظم سازش کے تحت سیکورٹی اداروں کے خلاف کردار کشی کی مہم چلائی جاتی ہے لیکن اس مہم کے پیچھے اصل کردار کون کون سے اگر اس طرف بھی ڈی جی رینجر کچھ اشارہ فرمادیتے تو شاید زیادہ بہتر ہوتا،تاکہ ریاستی اداروں کے خلاف منافرت پھیلانے والوں کے سہولت کاروں کے اصل چہرے عام آدمی کے سامنے بھی بے نقاب ہوجاتے۔

اب وقت آگیا ہے کہ کراچی آپریشن کی کامیابیوں کے ثمرات کا دائرہ پورے سندھ تک پھیلایا جائے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو کراچی آپریشن کی فقیدالمثال کامیابیاں ضائع بھی ہوسکتی ہیں۔بظاہر لگتا یہ ہی ہے کہ کراچی میں قانون شکن عناصر کا زور ٹوٹ گیا ہے مگر اندرون ِ سندھ میں جرائم کی بڑھتی شرح اشارہ کررہی ہے کہ کراچی میں ناکام ہونے والی بہت سی قانون شکن قوتیں اندرونِ سندھ میں اپنا اثر و نفوذ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اس ضمن میں ریاست کے مقتدر حلقوں سے گزارش ہے کہ اندرونِ سندھ میں امن و امان کی انتہائی مخدوش صورت حال پر بھی توجہ مرکوز کی جائے اور کراچی کی طرح اندرون ِ سندھ میں بھی رینجر کو خصوصی اختیارات تفویض کرکے قانون شکن عناصر اور اُن کے سہولت کاروں کے خلاف ایک بھر پور آپریشن کا آغاز کیا جائے تاکہ سندھ کی دھرتی ایک بار پھر سے امن کا گہوراہ بن سکے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 01 نومبر 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں