PTI and MQM Leadership in Karachi

سندھ میں نئے صوبہ کے قیام کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

نئے صوبوں کا مطالبہ نہ ہی غیر آئینی ہے اور نہ ہی غیر قانونی مگر یہ بات غور طلب ہے کہ جب بھی سیاسی جماعتوں کی جانب سے نئے صوبوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے انتخابات کا موسم قریب ہوتا ہے۔ جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ ہو یا بہاولپور صوبے کی بحالی کا مطالبہ، ہزارہ صوبے کا مطالبہ ہو یا اب جنوبی سندھ صوبے کا مطالبہ۔ویسے تو جمہوریت میں کسی بھی مطالبے کو ناجائز نہیں کہا جا سکتا جبکہ صوبوں کا مطالبہ کرناعوام کا جمہوری حق ہے اور اس کے لئے آئین میں طریقہ کار بھی موجود ہے اور یہ سب باتیں صرف ہم ہی نہیں ہمارے سیاستدان بھی بخوبی سمجھتے ہیں لیکن اس کے باوجودقومی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سندھ میں نئے صوبے کے معاملے پر آمنے سامنے آگئے۔دونوں نے قومی اسمبلی کے فورم پر ایک دوسرے کے خلاف دھواں دھار تقریریں کیں، فاروق ستار نے وزیراعلیٰ سندھ کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا تو خورشید شاہ جذباتی ہوئے بنا نہیں رہ سکے۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ”لوگوں میں نیا صوبہ بنانے کی سوچ آ رہی ہے، کسی شہری کی سوچ پر قدغن نہیں لگا سکتے، سوچ پرلعنت بھیجنے کے بجائے اپنی پالیسی پر لعنت بھیجیں اور چیلنج مت دیں کہ ہم نیا صوبہ نہیں بنا سکتے، وزیراعلیٰ سندھ نے جان بوجھ کر ایک طبقے کے خلاف نفرت انگیز اورتعصب سے بھری بات کی“۔ فاروق ستار نے وزیراعلیٰ سندھ سے مہاجروں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور وزیر اعلیٰ سندھ کی تقریر کے خلاف قومی اسمبلی سے ایم کیو ایم نے علامتی واک آوٹ بھی کیا۔فاروق ستار کے خطاب کے جواب میں خورشید شاہ بھی جذباتی ہوگئے اور نام لیے بغیر کہا کہ ”کبھی ادھر، کبھی ادھر بھٹکتے ہو، کبھی ن، کبھی ق، کبھی پی ٹی آئی کے قدموں میں ہوتے ہو، پہاڑ سے پتھر ٹوٹے، تم ٹھوکر بن گئے ہو، مارتے بھی ہو روتے بھی ہو۔ہم لفظ مہاجر کو نہیں مانتے، کراچی کسی کی جاگیر نہیں، جو سندھ اور پاکستان توڑنے کی بات کرے کیا وہ لعنتی نہیں ہو گا، وزیر اعلیٰ سندھ نے کسی اور تناظر میں بات کی ہو گی“۔ خیال رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سندھ کے لوگ کسی کو صوبہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، ایم کیو ایم والے کبھی صوبہ مانگتے ہیں، کبھی معافی مانگتے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ کے بیان پر ایم کیو ایم پاکستان بہادر آباد گروپ کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ فیصل سبزواری نے کہا کہ”الگ صوبے کی بات غیر قانونی اور غیرآئینی نہیں۔پیپلز پارٹی صرف صوبے کو کھائے جارہی ہے، یہ واحد صوبائی حکومت ہے جو اپنی آبادی کم گننے پرخوش ہے۔ شہری سندھ کی آبادی دیہی آبادی سے زیادہ ہے، دس سال میں پیپلز پارٹی نے کراچی میں ایک گیلن پانی نہیں دیا، زبان کی بنیاد پر بھی تفریق پیپلز پارٹی ہی کررہی ہے۔ دریائے سندھ دلوں کو جوڑتا ہواجہاں جہاں سے گزرتا ہے وہ سب ہی سندھ ہے۔ انڈس سیویلائزیشن یونہی تو نہیں کہا جاتا۔ مگر اس کا تعلق کسی سیاست سے تو ہرگز ہو نہیں سکتا“۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے وقت سندھ اور پنجاب میں یکساں پیمانے پر ہجرت ہوئی تھی لیکن مشرقی پنجاب سے آنے والے مہاجر کی جگہ پنجابی ہی کہلائے، جبکہ سندھ میں مہاجر لفظ کا لاحقہ لگانا ضروری سمجھا گیا جس کی بے شمار وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ستر کی دہائی میں چند مخصوص سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر اردو کا جنازہ ایسے اٹھا کہ سندھی کو اردو کے سامنے لا کھڑا کیا گیا۔ اسی عشرے میں پہلی بار اردو اسپیکنگ کا لفظ بطور شناخت وجود میں آیا کہ یوپی سی پی والوں کی بولی اردو ہے۔ حالانکہ اردو پورے ملک کی زبان ہے۔ اسی وجہ سے تو تحریک نفاذ اردو کے پروفیسر سلیم پنجابی اسپیکنگ ہوتے ہوئے بھی مردم شماری میں اپنی مادری زبان اردو درج کرواتے ہیں۔نفاذ اردو کی تحریک کا مرکز لاہور ہے۔ مقدمہ بھی لاہور کی عدالت میں درج کیا گیا اور وہیں اردو کو بطور زبان لاگو کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ جبکہ کراچی میں اردو صرف بولی کے طور پر جانی جاتی ہے وہ بھی یوپی اور سی پی والوں کی۔ اسی وجہ سے تو گجراتی اسپیکنگ فاروق ستارنئے پارٹی سربراہ کے طور پر آسانی سے اپنی جگہ بنا نہیں پارہے۔ایم کیو ایم پاکستان کی سربراہی صرف اس لیئے وجہ تنازعہ بنی ہو ئی ہے کہ یوپی سی پی سے تعلق رکھنے والے مہاجر ایک گجراتی اسپیکنگ مہاجر فاروق ستار کے ہاتھ میں پوری جماعت کی باگ دوڑ کسی صورت نہیں دینا چاہتے۔آپ ذرا ستم ظریفی تو ملاحظہ فرمائیں کہ مہاجر اور سندھی میں تو کیا نفرتیں ختم ہوں گی یہاں تو مہاجر کی ایک دوسرے مہاجر کے ساتھ نفرت کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔لسانی بنیاد پر سرائیکی صوبے اور مہاجر صوبے کا مطالبہ تو گزشتہ تیس سالوں سے کیا جا رہا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں اب انتظامی بنیاد پر بھی نئے صوبوں کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ فاروق ستار نے اپنی لفظی گولہ باری کے دوران ایک بات ضرور اچھی کی کہ انہوں نے لسانی بنیاد پر مہاجر صوبے کے مطالبے کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے انتظامی بنیاد پر جنوبی سندھ صوبے کا مطالبہ کیا اور اس میں تو واقعی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ انتظامی بنیاد پر نئے صوبے بننے چاہیے ناکہ لسانی بنیاد پر کیونکہ اگر لسانی بنیاد پر نئے صوبے بنیں گے تو نفرتیں اور دوریاں مزید بڑھیں گی۔بہتر ہوگا کہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے عوامی ریفرنڈم کرائیں جائیں اور عوام کے جائزمطالبات پورے کئے جاسکیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے دوہرے معیار کا یہ عالم ہے کہ وہ ایک طرف جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ کر رہی ہے مگر دوسری طرف سندھ میں نئے صوبے کا مطالبہ کرنے والوں کوگالیوں سے نواز رہی ہے۔ صوبہ پنجاب کی اکتیس فیصد آبادی جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ کر رہی ہے جس کی پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کھل کرحمایت کی ہے لیکن جب صوبہ سندھ کی چالیس فیصد آبادی سندھ میں نئے صوبے کا مطالبہ کرتی ہے تو پیپلز پارٹی کے وزیراعلی مرادعلی شاہ صوبے کا مطالبہ کرنے والوں پر لعنت بھیج کرلاکھوں لوگوں کی دل آزاری کرتے ہیں۔ ذرا سوچئے اگر یہی الفاظ پنجاب کے وزیراعلی شہباز شریف نے جنوبی پنجاب صوبے کے مطالبے پر ادا کئے ہوتے تو پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کا کیا ردعمل ہوتا؟۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 07 جون 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں