Narendra Modi and Nawaz Sharif

دلی اور جاتی امرا کا اصل دُکھ

ایک درویش جس کی دعا ہمیشہ بارگاہِ الہی میں قبول ہوتی تھی،ایک دن کسی ندی کنارے اپنے دھیان گیان میں بیٹھا تھا،کوئی چیل وہاں سے اُڑتی ہوئی گزری۔ایک چوہے کا بچہ اس کی چونچ سے چھوٹ کر اس درویش کے سامنے گر پڑا۔درویش کو اس چوہے کے بچے پر ترس آیا اور اسے اُٹھا کر اپنی گڈری میں رکھ لیا اور اپنے گھر کی جانب چل پڑا،راستے میں اس نے سوچا کہ ایسا نہ ہو کہ گھر والے چوہے کے بچے پر اعتراض کریں اور کوئی قباحت کھڑی ہوجائے۔اس لیئے درویش نے بارگاہِ الہی میں دعا مانگی کہ”اے خدا!، اسے انسان کی شکل دے دے“۔چنانچہ وہ چوہے کا بچہ فی الفور انسانی صورت اختیار کرگیا۔ درویش نے اسے اپنے عمر رسیدہ مریدوں میں سے ایک کے سپرد کیا اور تاکید کی کہ اس بچی کی اچھی طرح پرورش کی جاسکے۔جب وہ بچی بالغ ہوئی تو درویش نے کہا کہ بیٹی تیری عمر اب شادی کی ہے۔یہ تیری مرضی پر منحصر ہے کہ تو جس سے کہے اُس سے تیری شادی کر دی جائے۔لڑکی نے کہا کہ میں ایسا شوہر چاہتی ہوں جو انتہائی زور آور اور شان و شوکت میں سب سے زیادہ ہو۔درویش نے کہا کہ یہ صفتیں تو صرف چاند میں پائیں جاتی ہیں،میں اس سے پوچھوں گا۔ رات ہو ئی چاند نکلا تو درویش نے سارا ماجرا چاند کو سنایا تو اُس نے جواب دیا کہ میں اپنے سے زیادہ زور آور کا پتا تمہیں بتاتا ہوں،وہ بادل ہے۔جو میری روشنی کو ڈھانپ لیتا ہے۔درویش نے یہ ہی بات بادل سے کہی اُس نے کہا کہ مجھ سے زور آور ہوا ہے جو مجھے روئی کے گالے کی مانند اُڑائے لیئے پھرتی ہے۔ہوا سے جب درویش نے یہ ہی بات کہی تو اُس نے کہا کہ مجھ سے زیادہ زور آور پہاڑ ہے،جو مجھ سے ہلائے نہیں ہلتاہے۔جب پہاڑ کے پاس جاکر درویش اور لڑکی نے شادی کی درخواست کی تو اُس نے کہا کہ مجھ سے زیادہ زور آور چوہا ہے،جو مجھے کھود ڈالتا ہے اور میں کچھ کر نہیں پاتا۔لڑکی نے ساری بپتا سُن کر بے اختیار پکار اُٹھی کہ یہ پہاڑ اقعی سچ کہتاہے، چوہا سب سے زیادہ زور آور اور خوبصورت ہے اور میرے ساتھ شادی کے لائق بھی وہی ہے۔غرض جب لڑکی کو چوہے کے پاس لے جاکر یہ ہی بات کہی گئی تو چوہا کہنے لگا کہ میں بھی تنہائی سے تنگ ہوں اور مجھے ایک نیک سیرت بیوی کی ضرورت ہے لیکن ہونا یہ چاہیئے کہ وہ میری جنس سے ہو، اگر یہ لڑکی چوہیا بننے کے لیئے تیار ہے تو اس سے پوچھ لو۔لڑکی نے چوہے کی بات سُن کر کہا میں تو ہمیشہ سے چوہیا بننا چاہتی تھی آج جب موقع ملا ہے تو اسے بالکل ضائع نہیں کروں گی۔درویش نے جب یہ ماجرا دیکھا تو بارگاہِ الہی میں اپنے ہاتھ بلند کیئے اور لڑکی دوبارہ سے چوہیا بن گئی اور اپنی اصل فطرت کی طرف واپس چلی گئی۔درویش نے چوہیا کو چوہے کے حوالے کیا اور اپنی عبادت گاہ کو چلاگیا۔

یہ چھوٹی سی کہانی واضح کرتی ہے کہ انسان کسی بھی بلند سے بلند مقام پر پہنچ جائے لیکن وہ کسی بھی صورت اپنی فطرت کی قید سے آزادی حاصل نہیں کر سکتا، چاہے کچھ بھی ہوجائے زندگی ہر حال میں اُسے اپنی فطرت کے مطابق ہی بسر کرناپڑتی ہے۔یہ معاملہ صرف انسانوں کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ دنیا کی ہر قوم بھی ایک خاص فطری ترکیب کی حامل ہوتی ہے اور انسانوں کی طرح اقوام بھی اپنی بنیادی فطرت سے ہٹ کر زندگی بسر نہیں کرسکتیں۔ہمارا پڑوسی ملک بھارت اس بات کی ایک عملی تفسیر ہے۔بظاہر بھارت دنیا کی سب بڑی جمہوریت اور طاقتور قوم ہونے کا دعویدار ہے لیکن اپنی فطرت میں انتہائی بزدل واقع ہوا ہے۔تاریخ گواہ ہے جب بھی کسی معاملہ میں اخلاقی طاقت دکھانے کا وقت آیا ہے اس نے زبردست بزدلی کا مظاہرہ کیا اور ہمیشہ ثابت کیا کہ وہ پردہ کے پیچھے چھپ کر ”چانکیہ سیاست“ کی بدولت رنگ بدلتی،نت نئی گھٹیا سازشیں تو کرسکتا ہے لیکن کبھی بھی پیٹھ ٹھونک کسی کے سامنے بیٹھ کر بات چیت کی سیاست نہیں کر سکتا کیونکہ ”چانکیہ کے چیلے“اچھی طرح جانتے ہیں ”مذاکرت کی میز“ اِن کے لیئے کب موت کا تابوت بن جائے انہیں کچھ خبر نہیں ہوتی۔یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کا وزیراعظم نریندر مودی،پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے سامنے مذاکرت کی میز پر بیٹھتے ہوئے کسی ”ڈرپوک چوہے“ کی طرح جھینپ رہاہے۔دنیا کا ہر حکمران حیران پریشان ہے کہ آخر مودی سرکار کو ایسا کونسا خوف اور ڈر لاحق ہے کہ وہ پہلے تو وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے بھیجی گئی مذاکرت کی دعوت قبول کرتی ہے اور پھر چند لمحوں بعد ہی مذاکرات کی تردید جاری کردیتی ہے کہ ہم حکومت پاکستان کے کسی نمائندے کے ساتھ فی الحال کوئی مذاکرت نہیں کرسکتے۔ حالانکہ یہ وہ ہی مودی سرکار ہے جو میاں نوازشریف سے سرکاری و نجی ملاقات کا ایک ادنی سا موقع بھی ہاتھ سے ضائع نہ ہونے دیتی تھی اور نواز شریف کی دوستی کو اپنے ذاتی و کاروباری تعلقات کا کوہِ ہمالیہ قرار دیتی تھی اور کیوں نہ دے،میاں نوازشریف بھی تو بھارت نوازی میں آخر ساریں حدیں پار کرجاتے تھے اور پاکستانی افواج کی وہ وہ چغلیاں مودی کے آگے کر گزرتے تھے جس کا نریندر مودی خواب و خیال میں بھی نہ سوچ سکتا تھا۔شاید میاں محمد نوازشریف کی طرح نریندر مودی کو بھی اب تک اس بات کا یقین نہیں آرہا ہے کہ نوازشریف کو ”نا اہل“ قرار دے کرپاکستان کے اقتدار کے ایوانوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے بے دخل کردیا گیا ہے۔ اس لیئے جیسے ہی بھارت میں میاں نوازشریف کی اڈیالہ جیل سے عارضی رہائی کی خبر پہنچی،بھارتی سرکار بھی معصوم مسلم لیگیوں کی طرح یہ سمجھ بیٹھی کہ عمران خان کی حکومت ختم ہوگئی ہے اور میاں نواز شریف کی حکومت ایک بار پھر سے بحال ہوگئی ہے اور وفور ِ جذبات میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ دے دیا لیکن جب اِ ن کو کچھ دیر بعد پتا چلا کہ میاں نواز شریف کی یہ عارضی رہائی تو اڈیالہ جیل کی قید سے بھی بد تر ہے تو انہوں نے فوراً ہی پاکستان کے ساتھ مذاکرت نہ کرنے کا اعلان کردیا۔اب بھلا ایسے وزیراعظم پاکستان کے ساتھ کیسے بھارتی قوم مذاکرت پر آمادہ ہو سکتی ہے جسے پاکستانی افواج کی چغلی کھانے کی قبیح عادت نہ ہو یا جسے کشمیریوں کے خون کا سودا کرنا نہ آتا ہو۔ہم ”چانکیہ کے چیلوں“ کے سیاسی دُکھ کو سمجھ سکتے ہیں کہ پاکستان میں پہلی بار ”میڈ اِن پاکستان“حکومت آجانے سے ”پاکستانی افوج“ کی عزت و توقیر میں جہاں بے پناہ اضافہ ہوا ہے،وہیں خطے میں بھارتی قوم کے مفادات کو زبردست نقصان بھی پہنچا ہے،جس کی تلافی کسی صورت بھی ممکن نہیں۔ بلاشبہ عالمی سطح پر ”پاکستانی افوج“ کی فقیدالمثال پذیرائی قیام ِ پاکستان کے بعد بھارت کو لگنے والا سب سے گہراسیاسی زخم ہے،جس کا درد اتنا ناقابلِ برداشت ہے کہ ”دلی“اور ”جاتی امراء“ تکلیف کی شدت سے لرز رہے ہیں۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی 23 ستمبر 2018 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں