Children Death in Thar

تھر میں موت کا رقص اور سندھ حکومت کی بے حسی

آگ کے گولے کی مانند سوا نیزے پر آیا ہوا سورج، پیروں کے نیچے تپتی ریت، جسم جھلسا دینے والی گرمی اور آنکھوں کو اندھا کردینے والی دھوپ۔ یہ تھر کا مختصر سا تعارف ہے۔ اس ترقی یافتہ دور میں بھی تھر میں پینے کا پانی ڈھونڈنا ناممکن نہ بھی ہو لیکن مشکل ضرور ہے۔ پانی کی تلاش میں تھر کی خواتین کو ریت اور ٹیلوں کا ایک سمندر عبور کرنا پڑتا ہے، اس تلاش میں نکلنے کے بعد اگر کہیں سایہ دار درخت کی چھاؤں نصیب ہو جائے تو اس سے بڑی خوش قسمتی اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ سندھ کے وسیع العریض علاقے تھر میں، بھوک، غربت اور محرومیوں کی نا ختم ہونے والی داستان ہے۔ بدقسمتی سے ہر سال کی طرح اس سال بھی تھر ایک بار پھر سے قحط کی لپیٹ میں ہے۔ بظاہر سندھ حکومت کے تھر بدل دینے کے بڑے بڑے دعوے، بڑے بڑے وعدے، بیان، نعرے، اور کمیشن کے اعلانات اور ان کی سفارشات ہیں لیکن حقیقت میں تھر کی زمین پر وہی بھوک، ویرانہ، افلاس، قحط سالی، پیاس، وبائی امراض، ویرانے اور اداسیاں راج کر رہی ہیں۔

اب کی بار تھر سے صرف بادل، بجلی اور میگھ ملہار ہی نہیں روٹھا بلکہ سندھ کے حکمران بھی منہ پھیر چکے ہیں۔تھرپارکر سول اسپتال مٹھی میں غذائی قلت اور مختلف بیماریوں میں سات بچے انتقال کر گئے تفصیلات کے مطابق مرنے والے معصوم بچوں میں روشن سمیجو، غلام نبی، ارباب، ہرچند، کی بچیاں اور رانو رمیش بھومو کے نومولود بچے شامل ہیں۔ اب تک رواں ماہ 35 نومولود معصوم بچوں کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ رواں سال ہونے والی معصوم بچوں کی کُل ہلاکتیں 407 تک جاپہنچیں ہیں لیکن افسوس صد افسوس سندھ حکومت کے کرتا دھرتا بچوں کی اموات پر بھی اپنے دفاع میں دلیلوں کی تاویلیں باندھنے سے نہیں تھکتے۔ تھرمیں صوبائی وزیر صحت نے بچوں کی اموات کا ذمہ دار ماؤں کو قرار دے کر تھر کے باسیوں کے ساتھ ایک گھناؤنا مذاق کیا ہے۔ صوبائی وزیر صحت اور جناب آصف علی زرداری کی ہمشیرہ عذرا پیچوھو نے تھر میں بچوں کی ہلاکت کے حوالے سے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ”تھر میں بچے بھوک سے نہیں مر رہے بلکہ ماؤں کی جانب سے درست پرورش نہ ہونے کے باعث مر رہے ہیں۔میڈیا بلاوجہ آگ کی طرح بھڑک رہا ہے۔تھر میں بڑے پیمانے پر بچوں کی اموات کا اہم سبب کم عمری کی شادیاں ہیں،کم عمر مائیں کمزور بچوں کو جنم دیتی ہیں۔کمزور بچے اسپتال تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ جاتے ہیں۔ تھر میں صحت کی سہولتیں نہ ہونے کی بات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔تھر میں بچے ماؤں کی غلط پرورش کے باعث دم توڑ جاتے ہیں“۔

صوبائی وزیر صحت کے ایسے بیانات پر تھری مکینوں اور متحرک سماجی حلقوں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی وزیر صحت کو ماؤں کی غلط پرورش تو نظر آئی مگر اسپتالوں کی حالت زار کو کوئی اندازہ نہیں ہوا سندھ حکومت کی ایسی بے مہار غیر سنجیدگی ہی مسائل کو جنم دے رہی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ تھر کے صحرا میں آباد خواتین غربت و افلاس، سخت جسمانی مشقت اور غذا کی قلت کی وجہ سے جسمانی طور پر کمزور ہوتی ہیں لیکن، اس کے باوجود وہ سات سے دس بچوں کو جنم دیتی ہیں، جن میں سے بہت سے غذائی قلت اور ناصاف پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور صحت اور طبی علاج کے فقدان کے سبب پانچ سال کی عمر تک پہنچنے تک اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ تھر کی ان خواتین کو روزانہ ایک آدھ روٹی اور لسی کے چند گلاس یا جو مزید کچھ معمولی سی خوراک دستیاب ہوتی ہے اس سے وہ زیادہ سے زیادہ بارہ سو کیلوریز حاصل کر پاتی ہیں۔ اور ان کیلوریز میں سے کم از کم دو سو سے تین سو کیلوریز تو صرف اس مشقت میں خرچ ہو جاتی ہیں جو وہ روزانہ میلوں دور اپنے سروں پر پانی کے بھاری مٹکے رکھ کر ننگے پاؤں پیدل پانی لانے کے لیے کرتی ہیں۔ مشقت بھری روزانہ کی زندگی،خوراک اور غذائیت کی قلت کی شکار تھر کی عورتوں کے بچوں کی تعداد کے بارے میں کوئی مستند اعداد و شمار تو کہیں دستیاب نہیں ہیں، لیکن تھر کے لوگ بتاتے ہیں کہ یہاں کی عورتیں کم از کم سات سے گیارہ بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ تھر کی یہ کمزور مائیں کمزور بچوں کو جنم دیتی ہیں اور یہاں پیدا ہونے والے لگ بھگ 49 فیصد بچے انڈر ویٹ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان معصوم بچوں کا بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق تھر کا علاقہ دنیا کے ان علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں بچوں کی شرح اموات سب سے زیادہ ہے۔ یہاں پیدا ہونے والے بچوں میں سے تیس فیصد معصوم بچے پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے چل بستے ہیں جبکہ تھر میں زچگی کے دوران یا بعد میں عورتوں کے شرح اموات بھی بہت زیادہ ہے لیکن اس کی تمام تر ذمہ داری حکومتِ سندھ پر عائد ہوتی ہے۔جس نے کبھی بھی تھر کے اندوہناک مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔اگر سندھ حکومت تھر میں صرف پانی کا ہی مسئلہ حل کردے اور تھر کی خواتین کی زندگی سے روزانہ پانی بھرنے کی مشقت ختم کر دی جائے تو ان کی روزانہ کی حاصل شدہ دو تین سو کیلوریز بچا کر ان کی صحت کو قدرے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ جب کہ پمپس سے پانی بھرنے کے دوران ضائع ہونیوالے پانی کو محفوظ کرکے گھروں کے پاس کاشت کی جانے والی سبزیاں ان کی خوراک میں شامل ہونے سے ان کی صحت کچھ بہتر ہوسکے گی۔ اور یہ سب عوامل مل کر آخر کار تھر میں خواتین اور بچوں کی شرح اموات کم کرنے میں کچھ مدد کر سکیں گے۔مگر سندھ حکومت جو آج تک کراچی،حیدرآباد،لاڑکانہ اور نواب شاہ جیسے علاقوں میں صاف پانی کی سہولیات فراہم نہ کرسکی وہ تھر میں پانی کے مسائل کیوں،کیسے اور کب حل کرے گی؟ یہ ایک ایسا تلخ سوال ہے جس کا جواب کم از کم ہمارے پاس تو بالکل موجود نہیں ہے اگر آپ کے پاس ہو تو برائے مہربانی ضرور بتائیے گا۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور 06 ستمبر 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں