Bilawal Bhutto and Mariam Nawaz

دعوتِ افطار سے میراثِ جمہوریت تک

خدا لگتی تو یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی ”دعوتِ افطار“ بغیر کسی شک و شبہ کے الیکٹرانک میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک اچھا خاصا رونق میلہ لگانے میں پوری طرح سے کامیاب رہی، جبکہ اپوزیشن کی اِس”سیاسی افطار“ کو کئی دیگر حوالوں سے بھی ماضی میں منعقد ہونے والی سیاسی افطار پارٹیوں کے مقابلے میں سب سے منفرد اور یاد گار”دعوتِ افطار“ قرارد یا جا سکتاہے۔بلاول بھٹو زرداری کی دعوتِ افطار میں چند مناظر تو واقعی ایسے ناقابلِ یقین تھے جنہیں دیکھ کر یقیناپاکستانی عوام کا دل خوشی سے باغ و بہار ہوگیا ہوگا۔مثال کے طور پر اِس تقریب میں شرکت کے لیئے آنے کے لیئے حمزہ شہباز کا مریم نواز کی گاڑی خود ڈرائیو کر کے آنا،خبر دیتا ہے کہ آنے والے دنوں میں حمزہ شہباز کی”سیاسی حیثیت“مسلم لیگ ن میں مریم نواز کے ایک ڈرائیور سے بڑھ کر نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ پوری تقریب میں بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے مریم نواز کا قدم قدم پر استقبال کرنے کے لیئے اختیار کیئے جانے والا خصوصی اندازِ عاجزانہ بھی دیکھنے والوں کے لیئے کچھ کم متاثر کن نہیں تھا۔ یادش بخیر کہ اگر دونوں سیاسی رہنماؤں کے درمیان سیاسی جی حضوری کا سلسلہ جنبانی یونہی جاری رہا تو اُمید کی جاسکتی ہے کہ اگلے انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن پنجاب میں مشترکہ انتخابی نشان کے تحت حصہ لے سکتی ہیں۔جبکہ ایک اور چیز جو اِس دعوتِ افطار میں بار بار آنکھوں میں کسی شہتیر کی مانند رڑکتی رہی وہ یہ تھی کہ پوری دعوتِ افطار میں فقط حمزہ شریف ہی روزہ سے دکھائی دے رہے تھے بلکہ کئی مواقع پر ان کی مایوسانہ شکل وصورت دیکھ کر شدت سے محسوس ہوا کہ شاید حمزہ شہباز کو اِس”دعوتِ افطار“میں مسلم لیگ ن کی طرف سے زبردستی روزہ رکھوا کر شرکت کے لیئے لایا گیا ہے۔دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کے چہرے بشرے اور تیاریوں سے تو بالکل بھی نہیں لگ رہا تھا وہ کسی ”دعوتِ افطار“ میں شرکت کے لیئے آئے ہیں۔مولانا کی آنکھوں کی چمک، زبان کی چہک اور چال کی لہک بتا رہی تھی کہ آج کی رات اُن کے لیئے کسی چاند رات سے کم نہیں۔ انصاف کی بات تو یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی خوشی کچھ اتنی نا جائز بھی نہیں تھی،آخر عمران خان کے وزیراعظم بننے کے آٹھ ماہ بعد آج پہلی ایسی شگن والی رات آئی تھی جس میں وہ مکمل آزادی کے ساتھ سُکھ کے لمبے لمبے سانس لے پارہے تھے۔یوں سمجھ لیجئے بلاول بھٹو زرداری کی ”دعوتِ افطار“ میں جہاں 10 مختلف جماعتوں کے رہنما لذتِ کام و دہن سے لطف اُٹھا رہے تھے وہیں مولانا کے”سیاسی دل“ میں حکومت کے خلاف بننے والے اپوزیشن کے متوقع سیاسی اتحاد کے لڈو زور زور سے پھوٹ رہے تھے۔

بلاول بھٹوزرداری کی ”دعوتِ افطار“کے کامیاب انعقاد نے پاکستانی عوام پر اچھی طرح سے واضح کردیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں کم ازکم ”میراث ِ جمہوریت“ کو اگلی نسل تک منتقل کرنے اور اپنی خاندانی کرپشن بچانے کے عظیم نصب العین کے”سیاسی دفاع“ میں مکمل طور پر ایک پیچ پر ہیں اور اپوزیشن کو ”گرینڈ الائنس“ بنانے کے لیئے ایک پیج پر لانے کا تمام تر سہرا وزیراعظم پاکستان عمران خان کے سر ہی جاتاہے۔وگرنہ ”دعوتِ افطار“ میں شرکت کرنے والی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے تو ایک دوسرے سے کو اندھیرے میں رکھ کر اپنے اپنے طور پر حتی المقدور کوشش کی تھی کہ کسی طرح عمران خان کو”سیاسی ڈیل“ نہ سہی، تو چلو ہلکی سی”سیاسی ڈھیل“پر ہی منالیا جائے۔مگر عمران خان نکلے اپنی ہٹ کے پکے اور اپوزیشن رہنماؤں کے لیئے کوئی ایساچور راستہ نہ چھوڑا جس پر چل کر وہ راہی ملک ِ عدم یعنی میرا مطلب ہے کہ ملک سے باہر علاج معالجہ کے لیئے رفو چکر ہوسکیں۔اَب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ جب کوئی سنگ دل حکومت اپوزیشن رہنماؤں کو ملک سے باہر جانے کے لیئے چھوٹا سا صدارتی اجازت نامہ بھی نہیں دے تو پھر چاروناچار حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے لیئے حکومت کے خلاف ایک پیج پر جمع ہونے کے علاوہ اور دوسرا ”سیاسی راستہ“ بچتا بھی کیا ہے۔ آخر کار ہر سیاسی رہنما کے لیئے اپنی اپنی”سیاسی کشتی“ کو احتساب کے طوفان میں ڈوبنے سے بچانے کے لئے کچھ نہ کچھ ہاتھ پیر مارنا بھی تو ضروری ہے۔جبکہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے لیئے اپنے اپنے سیاسی نونہالوں کو ”میراثِ جمہوریت“ منتقل کرنے کا ”دعوتِ افطار“ جیسا متبرک اور مقدس وقت بھی تو درکار تھا۔تاکہ ”میراث ِ جمہوریت“کی آکاس بیل ماہِ رمضان کی برکتوں کے سائے میں پوری سلامتی کے ساتھ ”سیاسی منڈیر“ چڑھ سکے۔



ابتدائی طور پر بلاول بھٹو زرداری کی ”دعوتِ افطار“ سیاسی پردے پر زبردست کامیابی سمیٹ چکی،اَب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی اُفق پر عید کے بعد کیا سیاسی منظرنامہ منصہ شہود پر پاتا ہے، کیونکہ تمام اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ”دعوتِ افطار“ کے اختتام پر متفقہ طور پر اعلان کیا گیا تھاکہ حکومت کے خلاف فیصلہ کُن ”سیاسی جنگ“ شروع کرنے کے لیئے باضابطہ تاریخ کا اعلان عید کے فوراً بعد مولانا فضل الرحمن کی سرپرستی میں منعقد ہونے والے آل پارٹیز کانفرنس میں کیا جائے گا۔یعنی بلاول بھٹو زرداری کی حالیہ ”دعوتِ افطار“ موجودہ حکومت کے خلاف محض ”سیاسی روزہ کشائی“ تھی اور اَب اپوزیشن مسلسل ”سیاسی روزہ“ سے رہے گی تاآں کہ عید کے بعد منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں ”سیاسی روزہ“ کھولنے کے لیئے کسی حتمی تاریخ کا تعین نہیں ہوجاتا۔ویسے تو مجھے اپوزیشن کی کسی بھی جماعت کے ”جذبہ جمہوریت پسندی“ پر ذرہ برابر سا بھی شک نہیں ہے لیکن پھر بھی نہ معلوم کیوں دل کو بس یہ دھڑکا سا لگا ہوا ہے کہ کہیں کوئی گھر کا بھیدی اپوزیشن کے کسی رہنما کو ”سیاسی ڈیل“ یا ”سیاسی ڈھیل“ کا جھوٹا سپنا پھر سے دکھا کر ”سیاسی روزہ“ توڑنے پر مجبور ہی نہ کردے۔ یاد رہے کہ مفتیانِ سیاست کے مطابق ”سیاسی روزہ“ ٹوٹ جائے تو اُس کا کفارہ ادا کرنے کے لیئے سیاست سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے کنارا کشی اختیار کرنا پڑتی ہے۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 23 مئی 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں