Coronavirus Impact On World

کورونا وائرس کے اثرات سے بدلتی دنیا

کہا جاتاہے کہ وبائی امراض اور ہم انسانوں کی دشمنی بہت پرانی ہے۔اَب وہ طاعون ہو، خسرہ ہو،پولیو ہو یا پھر ملیریا ہمیشہ سے ہی وبائی امراض کی آفت نے انسانی معاشروں کو بُری طرح سے تلپٹ کیئے رکھا ہے۔وبائی امراض کی خون آشام طاقت اپنی جگہ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ انسانوں نے بھی کبھی وبائی امراض سے مقابلہ کرنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا چھوڑی۔یہ ہی وجہ ہے کہ وبائی امراض اپنی فطرت میں کتنے زیادہ ہی ہلاکت خیز واقع رہے ہوں بہرحال وہ انسانی وجود کو زمین سے مٹانے میں کبھی بھی کامیاب نہ ہوسکے۔ اِسی بنیاد پر یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ کورونا وائرس کو بھی ہم انسان بہت جلد ہی شکست دینے میں کامیاب ہوجائیں گے جبکہ کورونا وائرس کے نتیجے میں موذی مرض COVID-19 سے جاں بحق ہونے والے اعدادوشمار کو ملاحظہ کیا جائے تو منکشف ہوتاہے کہ یہ وبائی مرض ماضی میں زمین پر نازل ہونے والے اپنے پیشرو وبائی امراض کے مقابلے میں اَب تک بہت کم ہلاکت خیز یا اموات کا باعث بنا ہے۔ کیونکہ کورونا وائرس کا شکار ہونے والے 80 فیصد سے زائد مریض مکمل طور پر صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ذہن نشین رہے کہ کورونا وائرس کو جو چیز سب سے ہلاکت خیز اور جان لیوا بناتی ہے وہ اُس کا سرعت انگیز پھیلاؤہے۔ اِس وائرس کے پھیلاؤ کو روک پانا ایک ایسا مشکل ترین چیلنج ہے جو اِس وقت پوری دنیا کے لیئے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کورونا وائرس کی ایک پراسراریت یہ بھی ہے کہ اِس وائرس کا شکار ہونے والے مریض میں کئی کئی دن تک مرض کی ایک بھی علامت ظاہر نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ شخص بے خبری کے عالم میں وائرس کے زبردست پھیلاؤ کا سبب بنتا رہتا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوپاتی اور جب خبر ہوتی ہے تو اٹلی،سپین اور ایران والی خوف ناک صورت حال بن جاتی ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں افراد میں یہ مہلک وائرس یک دم سے ہی اچانک ظاہر ہوجاتاہے۔اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو دنیا نے آج تک کورونا وائرس سے زیادہ خوفناک وائرس کا سامنا کبھی نہیں کیاجو کہ صرف دو ماہ کے مختصر عرصے میں کم و بیش پوری زمین کو اپنی لپیٹ میں چکاہے۔اگر کہا جائے کہ کورونا وائرس فطر ت کی طرف سے ایک نیوورلڈ آرڈ رہے تو کچھ بے جا نہ ہوگا کیونکہ فی الحال دنیاکا تمام نظام ہی اِس وائرس کو مدِنظر رکھتے ہوئے خود کار انداز میں ازسرِ ترتیب پارہاہے۔ کورونا وائرس اَب تک ہماری دنیا کو کس قدر تبدیل کرچکا ہے،اِس کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ کے لیئے پیشِ خدمت ہیں۔

نوکری کرنی ہے تو گھر میں رہیں
ورلڈ اکنامک فورم کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی آمد سے پہلے امریکہ جیسے واحد سپر پاور ملک میں فقط 7 فیصد ملازمین کو ہی گھر میں بیٹھ کر دفتری کام انجام دینے کی سہولت دستیاب ہوا کرتی تھی لیکن کورونا وائر س کے عالمگیر پھیلاؤ کے بعد امریکہ میں 93 فیصد ملازمین کو اُن کے اداروں کی طرف سے گھر پر بیٹھ کر تمام دفتری اُمور انجام دینے کے باقاعدہ احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔ کورونا وائرس کی دنیا میں گھر میں بیٹھ کر کام کرنا اِس قدر ضروری قرار پایا ہے کہ وہ تمام ملازمتیں جن میں گھر پر بیٹھ کر کام کرنا ممکن نہیں ہوسکتا جیسے تعمیراتی صنعت،کان کنی،سیاحت،وغیرہ مکمل طورپر بند کردی گئی ہیں اور اُن کے ملازمین کو اُس وقت تک جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے،جب تک کورونا وائرس کی وبا کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوجاتا۔ معروف ٹیک کمپنی سسکو کے مطابق چین میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے دفتری میٹنگ کرنے کے رجحان میں 22 تک اضافہ ہوا ہے جبکہ دیگر ممالک میں یہ شرح 60 فیصد سے بھی زیادہ بڑھوتری کی طرف جارہی ہے۔ دلچسپ با ت یہ ہے کہ جن بھی اداروں نے اپنے ملازمین کو گھر بیٹھ کر دفتری اُمور نمٹانے کا کہا ہے، اُن میں سے نوے فیصد سے زائد ادارے اپنے ملازمین کے گھر بیٹھ کر کام کرنے سے انتہائی مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق گھر بیٹھ کر کام کرنے سے ملازمین کے کئے گئے کام میں بہتری اور معیار میں زبردست اضافہ ہوا ہے جبکہ یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر یہ صورت حال سال بھر جاری رہے تو ادارے اپنے ملازمین سے دفتر کے مقابلے میں گھر بیٹھ کر کام کرنے سے 16.8 فیصدتک زائد وقت بھی باآسانی لے سکتے ہیں اور اِس طرح ملازمت فراہم کرنے والے ادارے اپنے غیر ضروری دفتری اخراجات سے بھی نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ اس لیئے ہوسکتا ہے کہ کورونا وائرس کے رخصت ہوجانے کے بعد بہت سے ادارے اپنے ملازمین کو پھر سے دفتر بلانا پسند ہی نہ فرمائیں اور اپنے ملازمین کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے گھر پر بیٹھ کر دفتر کا کام کرنے کی نوکر ی دے دیں کیونکہ اِس طرح اُنہیں اعلیٰ معیار کے دفتری کام کے ساتھ ساتھ 19 فیصد سے زائد غیرضروری دفتری اخراجات سے بھی چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔



خط کے ذریعے ووٹ ڈالے گی اَب ساری دنیا
انتخابات کسی بھی ملک میں ہوں دھاندلی کا الزام تو لگتاہی ہے۔ہمارے ملک میں تو شاید ہی کوئی ایسا قومی انتخاب منعقد ہوا ہو جب ہارنے والوں کی طرف سے، جیتنے والوں پر دھاندلی کا الزام نہ لگایا گیا ہو۔ پاکستانی انتخابات کے بارے میں اکثر کہا جاتاہے کہ اِس میں امریکہ دھاندلی کرواتا ہے لیکن اِس بار تو امریکہ کے انتخابات میں بھی ہارنے والوں نے دھاندلی کے خوب الزامات لگائے۔ دنیا بھر میں انتخابات میں دھاندلی کے الزامات سے بچنے کے لیئے نت نئے طریقے اور تجربات وقتاً فوقتا کیئے جاتے رہے ہیں جیسے آن لائین انتخابات یا پھر الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے انتخابات کروانا۔ مگر کورونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر کو ایک نئے طریقہ سے انتخابات کروانے کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے اور وہ منفرد راستہ ہے خط کے ذریعے ووٹ ڈالنا۔کیونکہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کورونا کے وائرس کے ہوتے ہوئے اَب کئی برسوں تک دنیا کے کسی بھی ملک کے لیئے یہ ممکن ہی نہیں رہے گاکہ وہ لوگوں کو اجتماعی ووٹ ڈالنے کی ترغیب دے سکیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِس مستحسن کام کا آغاز بھی ہوچکا ہے اور 15 اپریل 2020 سے جنوبی کوریا میں ہونے والے قومی انتخابا ت میں خط کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے ملک گیر سرکاری احکامات بھی جاری کردیئے گئے۔ یہ احکامات جاری کرتے ہوئے حکومتی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خط کے ذریعے جنوبی کوریا میں انتخابات کروانے کا فیصلہ کورونا وائرس کے خوفناک پھیلاؤ کے انسداد کے لیئے کیا گیا ہے۔ کیونکہ پولنگ اسٹیشن میں داخلہ سے پہلے ہر ووٹر کو حفاظتی ماسک اور دستانے مہیاکرنا اور بعدازاں اُن کا بخار چیک کرکے اُنہیں پولنگ بوتھ میں بحفاظت داخل کرنے کے انتظامات کرنا حکومت کے لیئے کسی بھی صورت ممکن نہیں ہوں گے۔لہٰذا ملک بھر میں بغیر کسی عوامی اجتماع کے قومی انتخابات کا کامیاب انعقاد کے لیئے خط کے ذریعے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ جنوبی کوریا کی حکومت کے مطابق انہوں نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے ووٹ ڈالنے کے جدید اور قدیم ہر ممکنہ طریقہ کار پر مکمل غور و غوض کیا ہے اوروہ بالآخر اس حتمی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے بچتے ہوئے قومی انتخابات کروانے کا ایک ہی طریقہ کار ہے اور وہ یہ ہے کہ پورا ملک خط کے ذریعے ووٹ ڈال کر اپنی رائے کا اظہار کرے۔ واضح رہے کہ خط کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے لیئے جنوبی کوریا کی حکومت پورے ملک میں لوگوں کو گھر گھر بذریعہ ڈاک کورنا وائرس سے پاک بیلٹ پیپر کی فراہمی یقینی بنائے گی۔ کورونا وائرس سے تبدیل ہوتی دنیا میں خط کے ذریعے انتخابات کروانے والا جنوبی کوریا پہلا ملک ضرور ہوگا مگر آخری نہیں کیونکہ واحد عالمی سپر پاور نے بھی تو اِسی برس اپنے قومی انتخابات کروانے ہوں گے اور جیسی اِس وقت صورت حال جاری ہے، اُسے دیکھتے ہوئے اتنی پیشن گوئی تو ہم بھی کر ہی سکتے ہیں کہ کورونا وائرس نے امریکی عوام کے لیئے بھی خط کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں چھوڑا ہے۔

آن لائن تعلیمی نظام کتنا ضروری ہے
کورونا وائرس کی اولین تشخیص کے بعد ہر ملک نے سب سے پہلے غیر معینہ مدت کے لیئے اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا اور یقینا یہ فیصلہ بالکل درست بھی تھا کیونکہ کورونا وائرس سے متعلق ہونے والی بعد کی طبی تحقیقات اور پیش رفت نے یہ ثابت کیا ہے کہ کورونا وائرس بچوں اور بوڑھوں کے لیئے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ لیکن تعلیمی اداروں کے اچانک سے بند ہوجانے کی وجہ سے دنیا بھر میں کروڑوں طالب علموں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ بات صرف کسی طالب علم کو اگلی جماعت میں امتحان دے کر یا بغیر امتحان دیئے بھیجنے کی نہیں ہے بلکہ کورونا وائرس نے ایک طالب علم کی جاری تعلیم میں جس طرح سے رخنہ ڈالا ہے۔اُس کی وجہ سے طالب علموں کی متاثرہ ہونے والی استعداد کار کی ازسرِ نو بحالی ممکن ہوسکے گی؟۔ یہ ایک بہت سوال ہے جس کا سامنا دنیا بھر کے طالب علموں کو بھی ہے اور اُن کے والدین کو بھی۔ ویسے تو کئی ممالک میں کورونا وائرس کے نتیجہ میں ہونے والی تعطیلات کے بعد آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔لیکن کیا دنیا کا ہر طالب علم کو آن لائن تعلیم حاصل کرنے کی سہولت دستیاب ہے؟فی الحال اِس کا جواب نفی میں ہی ہے۔کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ بھلے ہی دنیا آن لائن تعلیم کی افادیت سے کماحقہ آگاہی رکھتی ہے لیکن بطور تعلیمی نظام اِسے اختیار کرنے والے تعلیمی ادارے بہت ہی کم یا یوں کہہ لیں کہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔خاص طور ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک میں تو آن لائن تعلیمی نظام سے کوئی ایک بھی تعلیمی ادارہ پوری طرح سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ کورونا وائرس کی افتاد نے پہلی بار دنیا کے ماہرین تعلیم کی توجہ بھرپور انداز میں اِس جانب مبذول کروائی ہے کہ ہر ملک کے پاس اپنا ایک آن لائن تعلیمی نظام ہونا بھی ازحد ضروری ہے۔جس تک ہر جماعت کے طالب علم کی بھرپور رسائی ہو۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جبکہ یہ بھی نہیں معلوم ہو کہ تعلیمی ادارے کب تک کھول دیئے جائیں گے۔ایک مرکزی آن لائن تعلیمی نظام نہ صرف طلبا و طالبات کے سلسلہ تعلیم کو بدستور جاری رہنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے بلکہ آن لائن امتحانات لے کر باآسانی قوم کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ و مامون بھی بنایا جاسکتاہے۔ بلاشبہ کورونا وائر س کے بعد کا دور آن لائن تعلیم کے شاندار احیاء کا دور ہوگااوراُمید کی جاسکتی ہے کہ ڈیجیٹل پاکستان کے دعوی دار اَب سب سے پہلے آن لائن تعلیمی نظام کی سمت راست پیش قدمی فرمائیں گے۔

یونیورسل ہیلتھ کیئر یا پھر آئی ایم ایف؟
معروف امریکی صحافی ڈیوڈ ویلاس نے اپنے ایک کالم میں کورونا وائرس کے متعلق لکھا ہے کہ ”یہ کتنا افسوس ناک ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں کا نظام نجی کمپنیوں اور مخیر حضرات کے ہاتھوں میں مکمل طور پر یرغمال ہو کر رہ گیا ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ میں بھی مشکل کے اِس وقت میں کورونا وائرس سے مقابلہ کے لیئے ضروری طبی امداد کے لیئے نجی کمپنیوں کے عطیہ کا انتظا ر کیا جارہاہے“۔ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں بہت سے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ انھیں محض صرف ایک ماسک ہی دیا جا رہا ہے جسے وہ صاف کر کے باربار استعمال کر رہے ہیں۔ جبکہ امریکی محکمہ صحت (سی ڈی ایس) نے یہ اعلان کیا ہے کہ ماسک کی کمی کی وجہ سے اگر ضروری ہو تو منہ کو ڈھانپنے کے لیئے آخری آپشن کے طور پر گھر کے بنائے ماسک بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں تاکہCOVID-19 کے متاثرہ مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کی جا سکے۔ کورونا وائرس کی وبائی افتاد نے صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک میں دستیاب طبی سہولیات کے بلند بانگ دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ اِس وقت ساری دنیا کو شدت سے احساس ہورہاہے کہ کاش دنیا میں عالمی بنک یعنی آئی ایم ایف کی طرز کا یونیورسل ہیلتھ کیئر کا بھی کوئی ایک ایسا بین الاقوامی ادارہ قائم ہوتا، جہاں سے دنیا کا کوئی بھی ملک کورونا وائرس سے نبرد آزما ہونے کے لیئے اپنی ضرور ت کے مطابق ماسک،دستانے،وینٹی لیٹرز،وائرس کی تشخیصی کٹس اور دیگر طبی سامان باآسانی حاصل کرسکتا۔ مگر افسوس صد افسوس کہ جب دنیا کے 180 سے زائد ممالک کو طبی آلات فوری طور پر درکار ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے آئی ایم ایف کی طرف سے امداد میں طبی آلات کے بجائے لاکھوں ڈالرز امداد دینے کے دلاسے دیئے جارہے ہیں جبکہ طبی آلات کے عطیات کی فراہمی کے لیئے فیس بک کے بانی مارک زکر برگ، علی بابا کے سی ای او جیک ما اور ٹیسلا کمپنی کے سربراہ ایلون مسک کی طرف اُمید بھری نظروں سے دیکھا جارہاہے۔بے شک یہ مخیر حضرات بھی اپنی اپنی طرف سے دنیا کے بے شمار ممالک کو مختلف طبی آلات کے عطیات فراہم بھی کررہے ہیں۔مگر اِس وقت اگر صحیح معنوں میں ضرورت ہے تو وہ مفت طبی سہولیات اور آلات فراہم کرنے والے ایک یونیورسل ہیلتھ کیئر نظام کی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ کورونا وائرس نے دنیا کو سنجیدگی کے ساتھ اس سمت غور و فکر پر مجبور کردیا ہے۔ حال ہی میں کیئے گئے سروے کے مطابق 41 فیصد امریکی شہری سمجھتے ہیں کہ یونیورسل ہیلتھ کیئر سسٹم قائم کرنے کے بعد ہی ہم سب کا مستقبل محفوظ ہوسکتاہے۔

سخت گیر حکومت بمقابلہ نرم مزاج جمہوری حکومت
اَب جب کہ چین نے کورونا وائرس پر پوری طرح سے قابو پالیاہے اور دوسری جانب مغربی و یورپی ممالک بالخصوص اٹلی،اسپین،امریکہ اور برطانیہ وغیرہ میں کورونا وائرس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قابو سے باہر ہوتا جارہاہے تو عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا چین جیسے سخت گیر اقدامات کرکے اہلِ مغرب اور یورپ بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر اُسی طرح سے قابو پاسکتے ہیں کہ جیسی کامیابی چین نے کورونا وائرس کو فقط اپنے ایک صوبے ووہان تک محدود کرکے حاصل کرلی تھی۔عالمی ذرائع ابلاغ میں اَب ایک عام رائے یہ پائی جاتی ہے کہ چونکہ چین میں طویل عرصہ سے ایک سخت گیر حکومت قائم تھی اِس لیئے چینی ریاست کے لیئے لاکھوں لوگوں کو صرف ایک حکم نامے کے ذریعے گھروں تک محدود کرنے میں آسانی ہوئی۔اس کے مقابلے میں وہ تمام ممالک جہاں نرم مزاج جمہوری حکومتیں قائم تھیں وہاں لوگوں کو اُن کے گھروں تک محدود کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر امریکہ میں کئی نجی تنظیموں نے لاک ڈاؤن کو رکوانے کے لیئے عدالتوں سے رجوع کر کے لاک ڈاؤن کے خلاف عدالتی احکامات بھی حاصل کرلیئے تھے۔جبکہ برطانیہ میں بھی کئی سماجی تنظیموں نے کورونا وائرس کے خلاف جاری کردہ احکامات کو یہ کہہ کر ماننے سے صاف انکار کردیا ہے کہ حکومت کے یہ اقدامات انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ کورونا وائرس کے عالمگیر پھیلاؤ نے نرم مزاج جمہوری حکومت قائم کرنے کے تصور کے خلاف سخت گیر حکومت کے قیام کے نظریہ کو زبردست تقویت بخشی ہے۔

حوالہ: یہ خصوصی مضمون سب سے پہلے روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں 05 اپریل 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں