Coronavirus Effects In Photos

کورونا وائرس سے سہمی دنیا۔۔۔ تصویروں کے آئینے میں

وائرس لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ”زہر“ہے۔ اِس اعتبار سے سائنسی اصطلاح میں وائرس ایک ایسا زہریلا جاندار ہوتا ہے جو اکیلا زندہ نہیں رہ سکتا بلکہ اسے خود کو زندہ رکھنے کے لیئے کسی دوسرے جاندار خلیے میں داخل ہونا پڑتاہے۔ زندہ خلیوں کے اندر پہنچ کر وائرس خوب پھلتا پھولتا ہے۔ بہت کم ہوتا ہے کہ وائرس ایک مخلوق سے کبھی دوسری مخلوق میں منتقل ہوا ہو۔یہ عموماً قریبی رابطوں،آلودہ کھانے یاپانی کے ذریعے یا پھر ہوا میں معلق بوندوں کے ذریعے پھیلتا جاتاہے۔ وائرس انسانی تاریخ میں بے شمار بار بدترین بیماریوں مثلاً ایبولا،چیچک،پولیو اور ایڈز کا سبب بن چکا ہے۔ وائرس کے خاندان کا تعین اس کی شکل، جینوم کی تشکیل اور پھیلنے کے انداز سے کیا جاتا ہے۔کرہ ارض پر وائرس کی تعداد کا تخمینہ اربوں میں لگایا جاتا ہے۔ یہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ صرف الیکٹران مائیکروسکوپ سے نظر آسکتا ہے۔ایک وائرس ہونے کی وجہ سے کورونا میں بھی یہ ہی تمام خصوصیات بدرجہ اُتم پائی جاتی ہیں۔یعنی انسانی آنکھ سے نہ دکھائی دینے والے کورونا وائرس نے دنیا بھر میں جگہ جگہ اپنی ہلاکت خیزی سے ایسی اندوہ ناک اور خوفناک خون آشام رنگ بکھیرے ہیں کہ تین ماہ پہلے تک اپنی خوب صورتی سے پوری کائنات کا دل موہ لینے والی دنیا کا سار ا رنگ و روپ ہی بگڑ کر رہ گیا ہے۔ ڈری،سہمی،مغموم، خاموش اور سنجیدہ دنیا کی تازہ ترین تصاویر میں باآسانی کورونا وائرس کا اصل بہروپ دیکھا جاسکتاہے۔ چند ماہ میں کورونا وائرس نے ہماری ہنستی،مسکراتی دنیا کی کیا حالت بنادی ہے، ملاحظہ کے لیئے دنیا بھر سے ایک تصویری جائزہ پیشِ خدمت ہے۔ یہ تصویریں جہاں ہماری دنیا کی بے بسی اور بے ثباتی کی چغلی کھارہی ہیں، وہیں اِن میں کورونا وائر س کی اصل حقیقت کو بھی صاف صاف محسوس کیاجاسکتا ہے۔

1 ۔ لاس ویگاس کی سڑکوں پر بے گھر افراد کی بھرمار
لاس ویگاس کو”گناہ کا شہر“ بھی کہا جاتا ہے۔، لاس ویگاس (جسے مختصراً ویگاس بھی کہا جاتا ہے) امریکی ریاست نیواڈا کا سب سے بڑا شہر ہے۔ جو تعطیلات کے ایام گزارنے، خریداری، تفریح اور قمار بازی کے لیے بین الاقوامی شہرت رکھتا ہے۔ 20 ویں صدی میں قائم کیا گیا امریکہ کا یہ سب سے بڑا شہر ہے۔ 1940 میں اِس شہر نے منشیات اور جوئے کے پیسوں سے بہت ترقی کی اور اِس شہر میں بڑی بڑی عمارتوں کی تعمیر نے شہر کی رونق کو چار چاند لگادیئے۔ کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کی آمد سے پہلے اگر آپ دنیا کے عالیشان شہروں کی فہرست بناتے تو یہ شہر اس میں پہلے نمبر پر آتا، آپ دنیا کے بہترین تفریحی مقامات کی فہرست بناتے تو یہ شہر اُس میں بھی اول نمبر پر موجود ہوتا اور اگر آپ دنیا کے رنگین ترین شہروں کا مقابلہ کرتے تو یہ شہر با آسانی وہ مقابلہ جیت جاتا۔ مگر کورونا وائرس نے لاس ویگاس کی سڑکوں کو پہلی بار بے گھر لوگوں سے آباد کردیاہے۔لاس ویگاس کی سڑکوں پر جہاں کبھی مہنگی اور قیمتی گاڑیاں پارک ہوتی تھیں وہاں آج کل ہزاروں بے گھر لوگ سماجی دوری کے اُصول کو مدنظر رکھتے ہوئے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سرِ شام ہی سونے کی تیاریاں کررہے ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی اِس تصویر کو لاس ویگاس کے سب سے تاریک ترین لمحہ سے تعبیر کیا جارہاہے۔ جبکہ سوشل میڈیا پر لوگ لاس ویگاس کی اِس حالتِ زار پر اپنی شدید افسردگی کا اظہار کر تے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ لاس ویگاس کی ایسی خوف ناک تصویر بھی دیکھنے کو ملے گی۔کورونا وائرس نے لاس ویگاس کو مکمل طور پر ویران کردیا ہے اور اِس شہر میں قائم ہوٹلز اور جوئے خانے مکمل طور پر بند ہوچکے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہاں رہنے والے لوگوں کی بڑی اکثریت کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے۔لاس ویگاس کی انتظامیہ کے مطابق ”گزشتہ چند دنوں میں شہر میں بے گھر لوگوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے شیلٹر ہومز کی شدید کمی ہوگئی ہے۔لہٰذا شہر کی انتظامیہ نے پارکنگ ایریا میں سماجی دوری کے اُصول کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پینٹ سے نشانات لگادیئے جہاں بے گھر افراد رات کو سو سکتے ہیں“۔



2۔ طبی عملے کے چہروں پر خدمت کے لازوال نشانات
کورونا وائرس کے نزول سے پہلے شاید کسی شخص نے کبھی این 95 ماسک کے بارے میں کچھ سُنا ہو، لیکن اَب تو ہر شخص کی زبان پر این 95 ماسک کا نام ہے۔ کیونکہ میڈیا میں صبح و شام چلنے والی خبروں کے بعد سب ہی جان گئے ہیں کورونا وائرس کے خلاف سب سے زیادہ مؤثر حفاظتی حصار این 95 ماسک ہیں۔ این 95 سے مراد ایک ایسا خصوصی ماسک ہے،جو 95 فیصد تک ہوا میں موجود دھول اور ذرات کو انسانی ناک میں داخل ہونے سے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جبکہ کورونا وائرس کے لیئے بھی این 95 ماسک کے درمیان میں سے نکل جانا کم وبیش ناممکن ہے۔ اِسی لیئے دنیا بھر میں کورونا وائرس کے خلاف صفِ اوّل میں لڑنے والے طبی عملے کو کورونا سے حفاظت کے لیئے یہ ہی ماسک فراہم کیئے جارہے ہیں۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ این 95 ماسک کو زیادہ دیر تک پہننا سخت جسمانی تکلیف کا باعث بنتاہے۔ جبکہ کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کرنے والے طبی عملے کو این 95 کئی کئی دن تک مسلسل بھی پہننے پڑسکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اُن ڈاکٹر ز اور نرسوں کے چہرے این 95 کی سختی کے باعث گلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی زینت بننے والی ایک تصویر میں این 95 ماسک کی وجہ سے طبی عملہ کے نرم و نازک چہرہ پر پڑنے والے بھیانک اور اذیت ناک نشانات کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ تصویر زبانِ حال سے بتا رہی ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے طبی عملے کو دنیا بھر میں کتنی مشکلات اور تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ این 95 ماسک کی وجہ سے بعض ڈاکٹراور نرسز کے چہرے اتنے زیادہ گل،سٹر گئے ہیں کہ شاید ہی وہ چہرے کبھی دوبارہ سے اپنی اصل حالت میں واپس آسکیں۔بلاشبہ طبی عملے کے چہروں پر ثبت ہونے والے یہ نشانات جذبہ خدمت کی وہ زریں ترین علامتیں ہیں۔ جو انہیں اپنے اردگر موجود دیگر تمام انسانوں سے ممتاز بناتی ہیں۔

3۔ ٹوائلٹس پیپر کے خالی اسٹورز
یہ تصویر امریکہ کے ایک معروف اسٹور چین کی ہے،جس میں ٹوائلٹ پیپرز کے ریک مکمل طور پر خالی نظر آرہے ہیں۔ ویسے تو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد دنیا بھر میں کھانے پینے کی اشیاء کی طلب میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے اور لوگ دیوانہ وار ان اشیا کی خریداری کر رہے ہیں ِ۔ لیکن امریکہ میں سب سے زیادہ قلت اِس وقت ٹوئلٹس پیپر ز کی ہے۔ امریکہ اور سپر مارکیٹس میں ٹوئلٹ پیپر رول کے حصول کے لیئے باقاعدہ آپس میں لڑائی جھگڑے کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی بیت الخلاؤں میں ٹوائلٹ رول کے استعمال کی ایک پوری تاریخ ہے۔کیونکہ امریکا میں ہمیشہ سے رفع حاجت کے بعد صرف ٹوائلٹ پیپر کو ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔اس کی ایک بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ امریکا میں تعمیر کیے جانے والے باتھ رومز میں جگہ کی کمی ہوتی ہے لہٰذا اس میں کوئی اضافی پلمبنگ نہیں کی جاسکتی۔اس کے علاوہ امریکیوں کی ٹوائلٹ رول کی عادت بھی دوسری بڑی وجہ ہے جس کے بغیر وہ خود کو ٹوائلٹ پیپر کے بغیر ادھورا سمجھتے ہیں اور امریکا میں کئی لوگوں کو تو علم ہی نہیں ہے کہ رفع حاجت کے لیے ٹوائلٹ پیپر کے علاوہ بھی کوئی دوسرا متبادل طریقہ ہو سکتاہے۔ امریکیوں کی یہ عادت ماحول کے لیے بھی خاصی نقصان دہ ہے،کیونکہ ایک ٹوائلٹ رول بنانے کے لیے 37 گیلن پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق امریکا میں روزانہ 3 کروڑ 40 لاکھ ٹوائلٹ پیپر استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ ایک امریکی کے پوری زندگی کے ٹوائلٹ پیپر حاصل کر نے کے لیے 384 درخت کاٹے جاتے ہیں۔حالیہ دنوں کرونا وائرس کے باعث جہاں ایک طرف دنیا ٹوائلٹ پیپر کی قلت کے پیش نظر امریکیوں کو لوٹوں کے استعمال کا مشورہ دے رہی ہے، تو دوسری جانب ماہرین طب نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹوائلٹ پیپر کی نسبت پانی کا استعمال کوروناوائرس سے بچنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔دوسری جانب امریکا کی شمال مغربی ریاست اوریگون میں پولیس نے کرونا وائرس سے پریشان شہریوں کے لیئے باقاعدہ ایک اطلاعی اشتہار شائع کیاہے کہ”جب ٹوائلٹ پیپر ختم ہوجائیں تو وہ برائے مہربانی ایمرجنسی ہیلپ لائن “911” پر فون نہ کریں،کیونکہ ہم لوگوں کو گھروں پر ٹوئلٹ پیپرز کے رول فراہم نہیں کرسکتے۔جبکہ یہ بات آپ سب لوگ اچھی طرح سے ذہین نشین کرلیں کہ ٹوائلٹ پیپرز کے بغیر بھی باآسانی زندہ رہا جاسکتا ہے“۔

4۔ ریفریجریٹر ٹرک بنے مردہ خانے
یہ تصویر امریکا کے شہر نیویارک میں بروکلین کے وائکوف اسپتال کے باہر اُس وقت کھینچی گئی جب کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے 9 افراد کی لاشیں ریفریجریٹر ٹرک میں رکھی جارہی تھیں۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ نیویارک کے کئی دیگر اسپتالوں کے باہر بھی ریفریجریٹر ٹرک قطار در قطار کھڑے ہیں جن میں کووڈ 19 بیماری سے جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشیں رکھنے کا بندوبست کیا جارہاہے۔کیونکہ روزانہ کورونا وائرس کے سے متاثر افراد اتنی بڑی تعداد میں ہلاک ہورہے ہیں کہ لاشوں کو محفوظ کرنے کے لیئے بنائے گئے سرکاری اور نجی سرد خانے کم پڑ گئے ہیں۔ اِس لیئے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیئے ریفریجریٹر ٹرک جنہیں اکثر آئس کریم یا کھانوں کی ڈلیوری کے لیئے استعمال کیا جاتا تھا،اَب اِن ٹرکوں کو عارضی مردہ خانوں میں تبدیل کیا جارہاہے۔جس کی وجہ سے گزشتہ چند ہفتوں میں ریفریجریٹر ٹرک فراہم کرنے والوں کے کاروبار میں زبردست اضافہ ہوا اور ریفریجریٹر ٹرکوں کے حصول کے لیئے اُن کمپنیوں کے دفاتر کے باہر باقاعدہ لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ ریفریجریٹر ٹرک فراہم کرنے والی ایک کمپنی کرو فیونرل ہومز کوئنز کے مالک کین بروسٹر کے مطابق”نجی مردہ گھروں کی اکثریت کے پاس اتنی تعداد میں فریج نہیں ہیں جن میں لاشیں رکھی جا سکیں، اگر جگہ نہیں ہوگی تو مجبوراً لاشیں ٹرکوں میں رکھنا پڑیں گی۔یہ ہی وجہ ہے ہم نے اپنی دیگر سروسز کو بند کرکے اپنے ریفریجریٹر ٹرک لاشوں کو محفوظ بنانے کے لیئے بُک کرنا شروع کردیے ہیں“۔ امریکہ میں کرونا وائرس کی وبا کے بارے میں وائٹ ہاؤس نے اندازہ لگایا ہے کہ اگست کے شروع تک ملک میں ایک لاکھ کے قریب افراد لقمہ اجل بن جائیں گے۔ اس پس منظر میں ماہرین سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں امریکہ کے پاس ریفریجریٹر ٹرکوں کو عارضی مردہ خانوں کے طور پر استعمال کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہوگا۔دوسری جانب بیلجیم کے سرکاری حکام نے بھی اپنے ملک میں کوروناوائرس کے سبب بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے پیش نظر مردہ خانوں کے متبادل کے طور پر ریفریجریٹڈ ٹرکوں کا انتظام کرنا شروع کردیا ہے۔اِن ٹرکوں میں بیک وقت 36 لاشوں کو رکھا جا سکتا ہے۔یاد رہے کہ بیلجیئم میں اب تک کورونا وائرس کے سبب 2523 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

5۔ روسی کارگو جہاز امریکی سرزمین پر
کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے بعد عالمی سیاسی منظر نامے میں جو سب سے بڑی اور حیران کُن تبدیلی رونما ہوئی ہے،وہ اِس تصویر میں واضح طور پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے جس میں روس کا ایک کارگو جہاز ہزاروں ٹن امدادی سامان لے کر امریکہ کی سرزمین پر اُتررہا ہے۔اِس روسی کارگو جہاز میں کورونا وائرس سے نبرد آزما ہونے کے لئے روس نے امریکہ کی طرف طبی آلات اور ضروری اشیاء کی ایک بڑی کھیپ روانہ کی ہے۔ جس میں سرجیکل ماسک اور کورونا ٹیسٹنگ کٹس شامل ہیں۔ کوروناوائرس کے بڑھتے کیسز کے باعث امریکا میں طبی آلات کی شدید قلت ہوچکی ہے اور سپرپاور امریکہ نے امداد کے لیئے دنیا بھر کی طرف دیکھنا شروع کردیا ہے۔ اِن مخدوش ملکی حالات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی ہم منصب ولادی میرپیوٹن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا تھا۔جس میں وبائی مرض کورونا وائرس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر بات چیت ہوئی جبکہ روسی صدر نے کورونا وائرس سے امریکہ میں ہونے والی اموات پر اپنے گہرے دُکھ اور رنج کا بھی اظہار کیا۔اِس اعلیٰ سطحی رابطے کے دو روز بعد ہی روسی امداد امریکہ کے لیئے روانہ کردی گئی تھی،جسے وصول کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کا شکریہ بھی ادا کیا۔ یا در ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ اور روس ایک دوسرے کے سخت روایتی حریف رہے ہیں اور یہ دونوں ممالک اَب تک ایک دوسرے کو شکست سے دوچار کرنے کے لیئے کئی جنگیں بھی لڑچکے ہیں۔اِ س وقت بھی عراق،افغانستان اور شام میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف پراکسی وار میں مصروف ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایک ماہ پہلے تک کورونا وائرس کے متعلق روس کا سرکاری موقف یہ تھا کہ اِس وائرس کو امریکی تحقیقاتی ادارے سی ٹی ٹی نے اپنی لیب میں تیار کرنے کے بعد چین کے شہر ووہان میں پلانٹ کیا تھا۔ روس اور امریکہ دہائیوں پرانی دشمنی اور پرخاش کے تناظر میں اِس تصویر کو عالمی منظر نامہ میں ”پکچر آف دا سنچری“ بھی کہا جارہاہے۔

6۔ کورونا سے جاں بحق افراد کی بے حرمتی
کورونا وائرس کے حوالے سے لوگوں میں پائے جانے والے خوف کی عکاسی اِس تصویر سے بخوبی ہوتی ہے جو اِس وقت دنیا بھر میں تیزی کے ساتھ وائرل ہورہی ہے۔ اِس تصویر میں ایک بند دُکان کے باہر دو خواتین کھڑی ہوئی ہیں جبکہ اُن کے عقب میں سڑک پر کورونا وائرس کا شکارہونے والے ایک شخص کی لاش پڑی ہے۔یہ تصویر جنوبی امریکہ کی ریاست ایکواڈور کی ہے۔جہاں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو دفنانے کے بجائے سڑک پر ہی چھوڑ دیا گیا ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایکواڈور میں اَب تک تقریباً 272 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تاہم لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے خوف کی وجہ سے ان لاشوں کو گھروں سے باہر ہی چھوڑ دیا گیا۔جب کہ مرنے والے افراد کے لواحقین اس انتظار میں بیٹھے رہے کہ سرکاری حکام ان لاشوں کو اٹھائیں گے، تاہم اسی انتظار میں لاشوں کو پڑے پڑے 3 روز سے زائد گزر گئے،لیکن جب کسی نے بھی لاشوں کو نہیں اُٹھا یا تو ایک شخص نے یہ تصویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کردی۔ چند گھنٹوں کے بعد یہ تصویر دنیا بھر میں وائرل ہوگئی۔جس کے بعد ایکواڈور کے نائب صدر اوٹو سونین ہولزنر نے اپنی عوام کو طبی سہولیات نہ دینے پر معافی مانگ لی ہے۔ لاطینی امریکہ کے اس ملک کے سب سے بڑے شہر کو کورونا وائر س وبا کے بعد عوامی صحت کے شعبے میں شدید بحران کا سامنا ہے۔ایکواڈور میں سامنے آنے والے کورونا وائرس کے 70 فیصد مریضوں کا تعلق اس خطے کے دارالحکومت گویاکویل سے ہے۔ یہ دنیا کے ان شہروں میں شامل ہے جہاں کورونا وائرس کے آبادی کے تناسب سے مریض بہت زیادہ ہیں۔یہ بحران اس قدر بڑھ چکا ہے کہ صدر لینن مورینو نے لاشیں اٹھانے اور دفنانے کے لیے اَب باقاعدہ خصوصی فورس تشکیل دے دی ہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سےپہلے روزنامہ ایکسپریس کے سنڈے میگزین میں 19 اپریل 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں