COP26: What was agreed at the Glasgow climate conference

سارے موسم بدل گئے، انسان کب بدلے گا؟

ہمارے کرہ ارض پر انسان کے علاوہ بھی اَن گنت مخلوقات بستی ہیں،جن کا اگر کوئی شخص آج کے جدید سائنسی دور میں بھی شمار کرنا چاہے تو نہیں کرسکتاہے۔ لیکن کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے کرہ ارض کے مستقبل پرمعدومی اور بربادی کے جتنے بھی سنگین خطرات منڈلارہے ہیں،اُن سب کا سبب صرف اور صرف ایک مخلوق انسان ہے۔ جی ہاں! حضرت ِ انسان کے علاوہ باقی تمام مخلوقات زمین کے تہہ میں،اُس کی گہرائیوں اور فضائے بسیط میں قدرتی ماحول پر اثرانداز ہوئے بغیر فقط اپنی زندگی بسر کرتی ہے مگرانسان اپنے طرز زندگی کو زیادہ سے زیادہ پرآسائش اور نفع بخش بنانے کے لیئے زمین کے فطری ماحول کو تباہ برباد کرنے کے درپے ہے۔ انسان کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے کرہ ارض عالمی درجہ حرارت میں بڑھوتری، فضائی آلودگی، آبی ذخیروں کی کمی، گلیشیئرز کی تباہی، جنگلی حیات کی معدومی اور موسمیاتی تنوع کے خاتمہ جیسے سنگین ماحولیاتی مسائل کا شکار ہوچکاہے۔

یہ مضمون بھی پڑھیے: جب پہاڑ زندگیاں نگل گئے

عالمی ادارہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سخت ترین موسم یعنی انتہائی گرمی کی لہریں اور تباہ کُن سیلاب اب دنیا بھر میں معمول کے واقعات بن چکے ہیں۔ 2021 کی سٹیٹ آف کلائمیٹ رپورٹ میں ماحولیاتی تبدیلی کے اشاروں کا تذکرہ کیا گیا ہے جن میں بڑھتے درجہ حرارت، شدید موسمی حالات، سمندری سطحوں میں اضافے اور سمندروں کی صورتحال شامل ہیں۔ 2002 سے اب تک 20 سالہ اوسط درجہ حرارت صنعتی دور کے آغاز سے پہلے کے مقابلے میں ایک ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ہوچکا ہے۔اس کے علاوہ 2021 میں عالمی سطح سمندر میں بھی سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔یہ بات عام طور پر کم و بیش ہم سب ہی کو معلوم ہے کہ انسانی سرگرمیوں نے دنیا بھر کے ماحول کو خطرناک حد تک متاثر کیا ہے۔

بطور خاص جس طرح ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک صنعتی ترقی کی آخری حدود کو چھونے کے لیئے جس کثرت کے ساتھ ایندھن جلارہے ہیں۔ اُس سے پیدا ہونے والی مہلک فضائی آلودگی کے سبب گرین ہاؤس گیسز یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ گرمی کو زمین کی فضا میں ہی روک لیتی ہیں جس سے ہماری دنیا کا درجہ حرارت معتدل موسم کی آمد پر بھی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے لگتاہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اسی عجیب و غریب رویے کے متعلق سوشل میڈیا پر کیا خوب پوسٹ زیر گردش ہے کہ ”پتہ نہیں پاکستان میں کون سا موسم آگیاہے، مچھر بھی کاٹ رہے ہیں،کمبل بھی اوڑھ رہے ہیں،پنکھے بھی چل رہے ہیں، نہانے کے لیئے گرم پانی، پینے کے لیئے ٹھنڈ پانی،زکام ہورہاہے، سویٹر بکسے میں بند پڑے ہیں، نومبر آچکا ہے، بارش آ نہیں رہی ہے اور مونگ پھلی بازار میں آچکی ہے“۔یاد رہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی یہ گھمبیر صورت احوال صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے اُفق پر چھائی ہوئی ہے۔

سب سے زیادہ تشویشناک صورت حال یہ ہے کہ اگر مذکورہ بالا ماحولیاتی مسائل کا بروقت تدارک نہیں کیا گیا تو یہ خوب صورت زمین جسے انسان اپنا گھر قرار دیتاہے ایک ایسے قید خانہ میں تبدیل ہوجائے گی،جہاں ہر قسم کی زندگی کے لیئے نشوونما ناممکن ہوجائے گی۔ یاد رہے کہ ماحولیاتی مسائل کے حل کی ذمہ داری کسی ایک یا دو چار ممالک پر نہیں ساری دنیا پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ کرہ ارض کو درپیش ماحولیاتی تباہی میں ہم سب کا ہی کچھ نہ کچھ منفی کردار ضرور شامل رہا ہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں اس وقت دنیا بھر سے حکومتی نمائندگان دنیا کو درپیش ماحولیاتی مسائل کا قابلِ عمل حل تلاش کرنے کے لیئے موجود ہیں۔گلاسگو، اسکاٹ لینڈ،برطانیہ میں منعقدہ کانفرنس آف پارٹیز کو مختصراً ”کوپ 26“ کا نام دیا گیا ہے۔ ”کوپ 26“کا بنیادی مقصد وحید ہماری دنیا کو درپیش سنگین ماحولیاتی چیلنجز کا سدِباب کرنا ہے۔واضح رہے کہ ”کوپ 26“ کا سلوگن ”دنیا کے درجہ حرارت میں اضافے کو ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنا ہے“۔

”کوپ 26“برطانیہ میں منعقد ہونے والا اپنی نوعیت کا اب تک کا سب سے بڑا بین الاقوامی ایونٹ ہے جس میں دنیا بھر سے 25ہزار سے زائد مندوبین گلاسگو شہر پہنچے ہیں جن میں عالمی رہنماء،سائنس دان،سماجی رہنما،دانشور، تاریخ داں اور اعلیٰ کاروباری شخصیات شامل ہیں۔ماہرین توقع ظاہر کررہے ہیں ”کوپ 26“ کا یہ بین الاقوامی اجتماع،عالمی درجہ حرارت کو 1.5C سے اوپر بڑھنے سے روکنے اور زمین اور لوگوں کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے کلیدی اقدامات اُٹھانے کا سبب بنے گا۔فی الحال ماحولیاتی بہتری کے لیئے کانفرنس کے میزبان ملک برطانیہ نے دیگر ممالک کے مقابلے کئی قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔مثال کے طور پر دنیا کی معیشت کا تقریباً 70 فیصد اب خالص صفر کے اہداف میں شامل ہے، جب برطانیہ نے COP26کی صدارت سنبھالی تھی تو یہ شرح 30فیصد سے بھی کم تھی۔

”کوپ 26“ کانفرنس کے سلوگن کے متعلق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ”اگر ہمیں بدترین ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچنا ہے تو ہمیں کسی بھی صورت عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا ہوگا اور حکومتوں کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر سختی سے قابو پانا ہوگا“۔ بعض ماہرین کی جانب سے امکان ظاہر کیا جارہاہے کہ گلاسگو میں ہونے والی یہ کانفرنس ہماری زمین کو درپیش ماحولیاتی مسائل کا تلاش کرنے میں اہم ترین کردار اداکرسکتی ہے۔ جبکہ کچھ دیگر سائنسدانوں کے خیال میں اب بہت دیر ہو چکی ہے اور”کوپ 26“ کانفرنس میں طے کیاگیا ہدف حاصل کرنا اَب ممکن نہیں رہا۔

کیونکہ اگر آپ کسی دن باہر نکلیں تو درجہ حرارت میں آدھے ڈگری سینٹی گریڈ کا فرق شاید آپ کو محسوس بھی نہ ہو مگر اس کے ہمارے عالمی ماحول پر بہت بڑے اور ممکنہ طور پر تباہ کُن اثرات ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ انیسویں صدی کے اختتام پر دنیا جتنی گرم تھی، اب اس سے 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ہو چکی ہے اور اس موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات پوری دنیا پر صاف محسوس کیے جا رہے ہیں۔اگر عالمی درجہ حرارت کو سنہ 2100 تک صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھا گیا تو قطبی علاقوں میں موجود برف کی تہیں اور گلیشیئرز پگھلنا تو جاری رکھیں گے۔مگر اس سطح تک درجہ حرارت کو محدود رکھنے کا فائدہ یہ ہو گا کہ ہم بڑے پیمانے پر آنے والے سیلابوں کی شدت کم کر سکیں گے اور سطحِ سمندر میں اضافے کے باعث کروڑوں لوگوں کو بے گھر ہونے سے بھی بچا سکیں گے۔علاوہ ازیں ہم دنیا بھر میں پانی کا ضیاع بھی 50 فیصد تک کم کر سکیں گے۔

سائنس دانوں کا اصرار ہے کہ اگر ”کوپ 26“ کانفرنس میں طے کیے ہدف جلد حاصل نہ کیئے جاسکے تو دنیا بھر میں گرم سمندروں میں موجود مرجان کی تمام چٹانیں برباد ہو جائیں گی اور سیلاب پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور مہلک ہو جائیں گے۔جس کی وجہ سہے بڑی تعداد میں جانور اور پودے اپنا قدرتی ماحول کھو دیں گے اور کئی ممالک ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے میں زیادہ گرمی کا سامنا کریں گے۔واضح رہے کہ تین ڈگری اور اس سے زیادہ گرمی کا ہمارے سیارے پر تباہ کُن اور خوفناک اثر ہو گا۔بظاہر چیزیں ایک سادہ سی وجہ کے باعث اتنی حوصلہ افزا نہیں لگ رہیں، اور وہ یہ کہ گذشتہ 25 کوپ کانفرنسیں بھی عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بننے والی گرین ہاؤس گیسز کا اخراج روکنے میں ناکام رہی تھی اور گزشتہ تین دہائیوں میں تمام تر کوششوں اور عالمی گفت و شنید کے باوجود ہمارا سیارہ صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ہو چکا ہے۔رواں سال جرمنی میں سیلابوں کے باعث 200 افراد ہلاک ہوئے، سرد ترین ممالک میں سے ایک کینیڈا میں ہیٹ ویو آئی اور یہاں تک کہ سائیبیریائی آرکٹک میں بھی موسم گرم رہا۔ سائنس دان اس حوالے سے واضح مؤقف رکھتے ہیں کہ اگر ہم نے زمین کو تباہ کُن درجہ حرارت سے بچانا ہے تو 2030 تک لازماً کاربن گیس کے اخراج کو نصف کرنا ہوگا۔

دوسری جانب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات کا پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے شکار ہونے کا قوی اندیشہ پایا جاتاہے۔بالخصوص پاکستان کے سب بڑے شہر کراچی کے متعلق عالمی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے ایک رپورٹ کے مطابق انکشاف کیا گیاہے کہ ”اگر سطح سمندر میں اضافے کا موجودہ سلسلہ جاری رہا تو کراچی 2060تک مکمل طور پر زیر آب آ سکتا ہے“۔ یاد رہے کہ کراچی میں رواں برس درجہ حرارت پہلے ہی 74 سال میں سب سے زیادہ رہا ہے۔درجہ حرارت میں اضافہ کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہا تو 2030 تک ساحلی طوفان کی وجہ سے املاک کو پہنچنے والے نقصانات اور سمندر کی سطح میں اضافہ دس گنا بڑھنے کا امکان ہے۔ چونکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے دنیا کا آٹھواں سب سے زیادہ خطرے کا شکار ملک ہے۔اس لیئے 2100تک بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا مطلب یہ ہے کہ ہندوکش اور ہمالیائی رینج کے ساتھ 36فیصد گلیشیئر ختم ہو جائیں گے۔ نازک صورتحال کا مطلب ہے کہ پاکستان کو اب باقی عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: خطروں کے ملازم

خوش آئند بات یہ ہے کہ ”کوپ 26“ موسمیاتی تبدیلی سمٹ کی میزبانی کرنے والے ملک برطانیہ پہلے ہی پاکستان کے ساتھ مل کر کرہ ارض کے سرسبز مستقبل کام کرنے لیئے متفق ہوچکے ہیں۔ یعنی برطانیہ اور پاکستان نے یہ مشترکہ ہدف طے کیا ہے کہ 2030 تک پاکستان میں خدمات انجام دینے والی کمپنیوں کو کاربن گیس کا اخراج نصف کرنے اور 2050 تک صفر درجے تک پہنچانے پر آمادہ کردیا جائے گا۔ حیران کن طور پر دونوں ممالک کی کوششوں سے اَب تک 28 بڑی ملٹی نیشنل اور مقامی کمپنیاں اس مہم کا حصہ بننے پر کامل اتفاق بھی کرچکی ہے۔رواں برس برطانیہ 7ملین پاؤنڈ گرانٹ فنانسنگ اور تکنیکی مدد بھی پاکستان کو فراہم کرے گا تاکہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے مقاصد حاصل کرنے میں خاطر خواہ مدد مل سکے۔

جبکہ اس سال کے شروع میں برطانیہ نے لاہور میں صاف ستھری اینٹوں کی پیداوار کے طریقوں کو فروغ دینے کے لیے ایک نیا پروگرام شروع کیا تھا جس سے ہوا کے معیار کو بہتر بنانے، سموگ کو کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑنے میں مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں برطانیہ پاکستان کو جدید موسمیاتی فنانسنگ آلات تیار کرنے بشمول نیچر پرفارمنس بانڈزمیں مدد کے لیے فنڈز دینے کے ساتھ اگلے 5سالوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے لیئے مزید سرمایہ کاری کرنے کا بھی ارادہ رکھتاہے۔یقینا اِن مستحسن اقدامات سے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے میں کافی آسانی میسر آسکے گی۔ نیز وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے پاکستان بھر شجر کاری کی جو قومی مہم شروع کی ہے۔ اُسے بین الاقوامی سطح پر خوب سراہتے ہوئے کہا جارہاہے کہ ”پاکستان عالمی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیئے عملی طور پر قائدانہ کردار بحسن و خوبی ادا کررہاہے“۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 08 نومبر 2021 کی اشاعت میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں