CM Punjab Usman Buzdar

وزیراعلی پنجاب کے ڈوبتے ستارے

وزیراعلی پنجاب کے زائچہ پیدائش میں سب ہی ستارے بہترین مقامات پر اچھے درجات پر سعد نظرات کے تحت ہیں،سوائے ستارہ عطار دکے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عثمان بزدار کے پاس ظاہری سیاسی حمایت نہ ہونے باوجود بھی، اُنہیں کہیں سے اچانک غیر معمولی ”کواکبی امداد“ حاصل ہوگئی اور یوں محترم سردار عثمان علی بزدار گوشۂ بے نامی سے ایک لمبی سی جست لگا کر پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے منصبِ جلیلہ پر متمکن ہوگئے۔ شہباز شریف کے تین بار وزیراعلیٰ رہنے کے ریکارڈ کے بعد عثمان بزدار جیسی شریف النفس،بھولی بھالی صورت اور سیاسی چالبازیوں کے اسرار و رموز سے بالکل نابلد شخصیت کا وزیراعلیٰ پنجاب بننا پاکستانی سیاست کے معروضی و پیچیدہ حالات کے مطابق تقریباً سب ہی کے لیئے ایک معجزہ سے کم نہ تھا لیکن کواکبی علم کے کسی ادنیٰ سے طالب علم کے لیئے بھی یہ واقعہ کوئی اچنبھے کی بات بالکل نہ تھا کیونکہ علم ِ نجوم سے ذرہ برابر بھی واقفیت اور شغف رکھنے والے احباب بخوبی جانتے ہیں کہ آسمانی کونسل کے طے کیے ہوئے اُصولوں کے مطابق زائچہ پیدائش میں بہت زیادہ ستاروں کا اچھی جگہ،سعد نظرات کے تحت اجتماع کرنا۔ صاحبِ زائچہ کو انتہائی نامساعد اور نامواقف حالات میں بھی اقتدار کی راہ داریوں تک پہنچا کر ہی دم لیتا ہے۔پس وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو اقتدار بھی ایسا منفرد و لاجواب حاصل ہوا کہ جس کی پشت پر وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کی غیر مشروط ”سیاسی حمایت“ بھی ہمہ وقت اور ہمہ حال پوری طرح سے موجود ہوکہ جس کا خواب کبھی عمران خان کے قریب سے قریب تر رہنے والے کسی فردِ واحد نے نہ دیکھا ہو۔

یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ عمران خان کی طرف سے ایسی ناقابلِ یقین اور غیر متزلزل حمایت تو کبھی کرکٹ کے میدان میں سلطا ن کہلانے والے اصلی وسیم اکرم کے حصے میں بھی نہیں آئی ہوگی۔ جیسی سیاسی حمایت کے حقدار عمران خان کی سیاسی نظروں میں جناب عثمان بزدار المعروف وسیم اکرم پلس قرار پائے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے آپ کو ابتداء میں ہی خبر دار کر دیا تھاکہ عثمان بزدار کے زائچہ پیدائش میں سب ہی ستارے فقط سوائے منشی فلک عطارد کے اچھی نظرات کے تحت مستقیم تھے۔اِس لیئے غیر متوقع اقتدار کی اِس خوب صورت کہانی کا خلاصہ آنے والے نحس کواکبی ایام میں کچھ یوں بنتا دکھائی دیتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار کو پنجاب کا اقتدارِ اعلیٰ جس طرح اچانک سے ملا تھا بالکل عین اُسی طریق پر عنقریب اُن کے ہاتھوں سے پھسل کر واپس بھی جاتا صاف صاف دکھائی دے رہاہے۔کیونکہ ستارہ عطار دجو کسی بھی صاحب اقتدار کی حکومت و اقتدار کو قائم و دائم اور مستحکم رکھنے میں سب سے کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔بدقسمتی سے جوڑ توڑ اور سیاست کا وہی ستارہ عطارد نہ صرف وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے زائچہ پیدائش میں بُری نظرات کے تحت چاروں طرف سے گھر اہو ہے بلکہ حالیہ کواکبی نقشہ میں بھی ستارہ عطارد نے وبال کی جانب تیز رفتاری کے ساتھ پیش قدمی کرنا شروع کردی ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا اقتدار والاگھر اپنی بُری نظروں سے دیکھنا شروع کردیا ہے۔



لیکن اِس کا مطلب یہ ہر گز بھی نہیں ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار،پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے لیئے عمران خان کا ایک بُرا انتخاب تھے۔ بلاشبہ عثمان بزدار اِس لحاظ سے عمران خان کا بہت اچھا انتخاب کہے جاسکتے تھے کہ اُن میں وہ تمام خوبیاں بہ درجہ اتم پائی جاتیں ہیں جو کسی بھی اچھے انسان میں ہونے کے لیئے لازمی قرار دی جاسکتی ہیں۔ لیکن ستارہ عطار ہ کے ناقص ہونے کی وجہ سے اُن میں زیرک سیاستدان اور طاقتور حکمران کے روپ میں رنگ جانے کی ایک بھی”سیاسی خوبی“نہیں پائی جاتی۔ اِس لیئے جتنی وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کی صوبہ پنجاب چلانے کے بارے میں نیت اچھی ہے بالکل ویسے ہی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی بہت ہی اچھے بلکہ اچھے اچھوں سے بھی لاکھ درجے اچھے ہیں۔ مگر پنجاب جیسا بڑا صوبہ سیاسی بنیادوں پر چلانے کے لیئے منوں یا ٹنوں کے حساب سے اچھائیوں کی بہ نسبت چھٹانک،دو چھٹانک ”سیاسی چالاکیوں“ اور ”سیاسی سفاکیوں“ کی ضرورت تھی اور مصیبت یہ ہی بن آئی ہے کہ ستارہ عطار د جس سے علم ِ نجوم میں دنیا بھر کی ساری سیاست،چال بازیاں، مکاریاں، عقل مندیاں اور ڈرامے بازیاں منسوب کیں جاتیں ہیں۔ وہی ستارہ عطارہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ دو قدم بھی ساتھ ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہے۔

ستارہ عطارد کی یہ بے رخی و بے اعتنائی ہی عنقریب وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے اچانک و ناگہانی اقتدار سے رخصت ہونے کا سبب بننے والی ہے۔ لیکن یہاں اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے لیئے عثمان بزدار کو وزاتِ اعلیٰ کے منصب سے ہٹانے کے لیئے یہ مناسب وقت ہوگا؟۔علم فلکیات کے مطابق یقینا جواب ایک بہت بڑی ”ہاں“ میں ہی دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ سیاسی بساط پر اگر آپ کا اہم ترین پیادہ، ہی اگر اپنی فطری سادہ لوحی کے باعث مخالفوں کی شطرنجی چالوں کے عین نشانے پر آجائے تو پھر زیادہ مستحسن تو یہ ہی سیاسی حکمت عملی ہو سکتی ہے کہ کھیل میں آخری وقت تک برقرار رہنے کے لیئے خودہی اپنے پیادہ کو راہ سے ہٹا کر اُس کے متبادل کے طور پر کوئی دوسرا تازہ دم شہسوار سیاسی بساط پر اگلی چالیں چلنے کے لیئے اُتار دیا جائے۔ تاکہ کھیل میں کھلاڑی کے کئے گئے پرانے سیاسی فیصلوں کا بھرم شہہ کو مات ہونے تک پوری طرح سے سلامت رہ سکے۔ بصورت دیگر آسمانی چالیں بھی مختلف کواکب کی مدد سے یہ سب کام خود کرنے پر بھی پوری طرح سے قدرت رکھتی ہیں۔ بہر کیف وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے زائچہ میں غروب ہونے والے ستاروں سے دوبارہ”سیاسی اُفق“پر طلوع ہونے کی اُمید رکھنا تو اقتدار کے سارے کھیل کو ہی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ اِس لیئے اُمیدتو یہ ہی کی جاسکتی ہے کہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان بہر صورت ”سیاسی خطرے“ کی اِس انتہا تک پہنچنے سے ہرممکن حد تک گریز کریں گے تاکہ آسمانی کونسل کے تما م ستارے اُن کے اقتدار کے گھر پر بدستورسایہ فگن رہ کر چمکتے دمکتے رہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔

حوالہ: یہ کالم سب سے پہلے روزنامہ جرات کراچی کے ادارتی صفحہ پر 23 جنوری 2020 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں