Pakistani and Chines Marriges

چینی کم، مٹھاس زیادہ

جہاں یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ بین الاقوامی تعلقاتِ عامہ کے اُفق پر پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بھی بلند تر ہے،وہیں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستانی اور چینی عوام کو ایک دوسرے کے تاریخی پس منظر،ثقافتی مسائل اور ایک دوجے کے طرزِ بودو باش سے متعلق رائی کے دانے کے برابر بھی معلومات یا آگہی حاصل نہیں ہے۔چینیوں کی پاکستانیوں سے متعلق اور پاکستانیوں کی چینیوں کے بارے میں پائی جانے والی یہ ہی ”سماجی اجنبیت“ آنے والے دنوں میں اِن دونوں ملکوں کے مشترکہ دشمن کا سب سے بڑا ہتھیار بننے جارہی ہے۔جیسے جیسے ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان میں سی پیک کا عظیم الشان منصبوبہ پایہ تکمیل کو پہنچتا جارہا ہے ویسے ویسے چینیوں اور پاکستانیوں کے مابین رابطوں کا سلسلہ بھی تیز تر ہوتا جارہا ہے، اُصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان تیزی کے ساتھ بڑھنے والے اِن معاشرتی،تجارتی،ثقافتی و تہذیبی روابط سے کوئی خیر کا پہلو برآمد ہوتا لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا کہ جوں جوں چینی اور پاکستانی عوام تہذیبی طور پر ایک دوسرے کے نزدیک آتے جارہے ہیں توں توں سماجی مسائل اور شکوک و شبہات کا ایک طومار ہے جو اِن دونوں تہذیبوں کے مابین پیدا ہوتا جارہا ہے اور اِن سب کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دونوں ملکو ں کے عوام کی اکثریت ایک دوسرے کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتیں۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ گزشتہ پچاس سالوں سے دن رات پاک چین دوستی کے نعرے بلند کرنے والے حکمرانوں نے بھی اپنی دانست میں بھولے سے کبھی کوئی ایسی سنجیدہ منصوبہ بندی یا کاوش نہیں کی کہ جس سے چین اور پاکستان کی عوام کو ایک دوسرے کی تاریخ،ثقافت، سماج، مذہب یا عادات و اطور کے متعلق جان کاری حاصل کرنے میں خاطر خواہ مدد حاصل ہوسکے۔ بلاشبہ اِس تناظر میں پاک چین دوستی کو عوامی سطح پر ایک ایسی ”بلائنڈ ڈیٹ“ یا ”اندھی محبت“ قرار دیا جاسکتاہے۔ جس میں اِن دونوں ملکوں کی عوام کے درمیان قائم ہونے والے نئے سماجی تعلقات مکمل طور اجنبیت کے گہرے اندھیرے میں تشکیل پارہے ہیں۔

جب صورت احوال اِس قدر بھیانک ہوگی تو پھر چینیوں اور پاکستانیوں کے مابین قائم ہونے والے ازدواجی رشتوں کا انجام بھی کچھ اُس سے مختلف نہ ہوگا جیسا کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے خبروں میں انکشاف ہوا ہے کہ بے شمار چینی باشندے پاکستانی لڑکیوں سے شادیاں کرکے اُنہیں چین لے جاتے ہیں اور پھر وہاں اُن کا جسمانی و جنسی استحصال کرتے ہیں۔ان خبروں کے آنے کے بعد پاکستان کے قانون ساز اداروں نے ایک درجن سے زائد ایسے چینی افراد کو گرفتار کرلیا جن پر الزام ہے کہ وہ پاکستانی لڑکیوں کو شادیوں کا جھانسا دے کر چین لے جانا چاہ رہے تھے۔اس حوالے سے پاکستان میں چینی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ”چین کی طرف سے دھوکہ دہی پر مبنی کی جانے والی شادیوں کا سختی سے نوٹس لے لیا گیا ہے کیونکہ چین میں انسانی سمگلنگ اور اعضا کی خریدوفروخت قانونی طور پر جرم ہے، اس لیئے یقین رکھا جائے اِس طرح کی مکروہ سرگرمیوں میں ملوث چینی افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ جبکہ چینی شہریوں کی پاکستانی لڑکیوں سے شادیوں کی آڑ میں انسانی سمگلنگ کی شکایات کے بعد پاکستان میں چینی سفارتخانہ حد درجہ محتاط ہوگیا ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران 140 کے قریب ویزا درخواستیں موصول ہونے پر صرف 50 پاکستانی دلہنوں کو ہی چین کے ویزے جاری کیئے گئے ہیں جبکہ 90 کے قریب نوبیاہتا پاکستانی’’دلہنوں‘‘کو ویزہ کا اجراء روک دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت ِچین اعلان کرتی ہے کہ وہ جعلی شادیوں کے مراکز کیخلاف کارروائی کیلئے پاکستان سے ہر قسم کا تعاون بدستور جاری رکھا جائے گا“۔
جعلی شادیوں کے معاملہ پر چین کی طرف سے تحقیقات میں بھر پور تعاون کے واضح اور غیر مشروط اعلان کے بعد اُمید کی جاسکتی ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین یہ متنازعہ فی معاملہ جلد ہی انتہائی خوش اسلوبی سے طے پاجائے گا۔ لیکن یاد رہے دونوں ملکوں کے درمیان اچانک پیدا ہونے والی اِس گھمبیر صورتحال کا یہ منطقی انجام ہر گز نہیں ہوگا کیونکہ سی پیک منصوبہ اپنے حتمی مراحل میں داخل ہوچکا ہے اور اِس منصوبہ کی کامیاب تکمیل کے ساتھ ہی چین اور پاکستان کی عوام کے مابین زبردست قسم کے تجارتی و سماجی روابط بہر صورت پیدا ہوں گے اور اِن نئے بننے والے سماجی تعلقات کے آگے بند باندھنا شاید دونوں ملکوں کی حکومتوں کے لیئے انتظامی سطح پر ممکن نہ ہوسکے۔ اِس لیئے چین اور پاکستان کی حکومتوں کو اِس مسئلے کا انتظامی یا قانونی حل پیش کرنے کے بجائے کوئی پائیدار سماجی حل تلاش کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر حکومتی سطح پر ددونوں ملکوں کی عوام کو ایک دوسرے کے بارے میں تاریخی،ادبی، ثقافی و سماجی مسائل سے متعلق کماحقہ آگاہی فراہم کرنے کے لیئے زبردست قسم کی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

ابتدائی طور پر دونوں ملک ایک دوسرے کے بارے میں سماجی آگاہی فراہم کرنے والی کتابوں کے تراجم اپنی اپنی قومی زبان میں فی الفور کروا سکتے ہیں جبکہ چینی و پاکستانی فلموں اور ڈراموں کا بھی وسیع پیمانے اور زبردست انداز میں تبادلہ ہونا چاہئے۔تاکہ چین اور پاکستان کے عوام کو ایک دوسرے کے سماجی ڈھانچے اور اُس کے پیچیدہ مسائل کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل ہو سکیں۔ میرے خیال میں اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیئے چین اور پاکستان کو جلد ازجلد باہم مل کر ایک کثیرالجہتی ”ادبی و ثقافتی سی پیک“ منصوبہ کا آغاز کردینا چاہئے۔بصورت دیگر چین اور پاکستان کے دشمن دونوں ممالک کے مابین پیدا ہونے والے ایسے ہی چھوٹے موٹے سماجی و ثقافتی مسائل کو میڈیا میں غیر ضروری طور پر ہوّا بنا کر پیش کرتے رہے گے، جس سے مستقبل میں چین اور پاکستان کے عوام کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف شکوک و شبہات اور رنجشیں جنم لے سکتیں ہیں اور یہ تشکیک زدہ صورت حال کسی بھی صورت پاک چین دوستی کے لیئے نیک شگون قرار نہیں دی جاسکتی۔میرے خیال میں جس طرح چائے میں چینی کی زیادتی،چائے کے ذائقہ کو بدمزہ بنا دیتی ہے بالکل اُسی مصداق اگر ہمیں پاک چین دوستی کے ذائقہ کو کڑوے،کسیلے پن سے بچانا ہے تو پھر آپسی تعلقات میں محبت،تجارت،جذبات اور والہانہ پن کی درست مقدار کا استعمال جاننا ہوگا۔یعنی پاک چین دوستی کچھ ایسی ہونی چاہیئے کہ جس میں چینی کم اور مٹھاس زیادہ محسوس ہو۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور کے شمارہ میں 30 مئی 2019 کی اشاعت میں شائع ہوا

راؤ محمد شاہد اقبال

چینی کم، مٹھاس زیادہ” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں