Chines Dragan And Indian Elephant

ڈریگن، ہاتھی اور شاہین کی معرکہ آرائی

گزشتہ برس اکتوبر میں چین کے صد شی جن پنگ نے اپنے دورہ بھارت کے دوران کہ تھا کہ ”’ڈریگن اور ہاتھی کو آپس میں مل کر ہی ناچنا چاہیے۔ یہی دونوں ممالک کے لیے بہتر راستہ ہے“۔ہمارے خیال میں چینی ڈریگن نے لداخ میں ہی بھارتی ہاتھی کو ساتھ مل کر رقص کرنے کی دعوت دی ہوگی لیکن ٹھیک 9ماہ بعد اَب یہ ہی رقص بھارتی ہاتھی کے لیئے موت کے بھیانک ناچ میں کیسے تبدیل ہوگیا ہے؟اور وادی لداخ میں چینی ڈریگن اور بھارتی ہاتھی کے رقص میں غلطی آخر کس سے سرزد ہوئی؟ اِن سوالات کے جوابات معروضی صورت حال کا تجزیہ کرنے کے بجائے ماضی کے جھروکے میں جھانکنے سے ہی حاصل ہو ں گے۔ کہا جاتاہے کہ جہاں آج کل چین کا شہر ہانگ کانگ موجود ہے،عین اُسی مقام پر 19 وی صدی میں ”تائی ہینگ“ نامی گاؤں ہوا کرتاتھا۔ ایک دفعہ یہاں آنے والے شدید سمندری طوفان نے گاؤں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ساتھ ہی ایک اژدھے نے حملہ آور ہوکر گاؤں والوں کے مال مویشی ملیا میٹ کر دیے۔ رہی سہی کسر مہلک وبا طاعون کی آمد نے پوری کر دی اور آدھے سے زیادہ گاؤں والے جب طاعون کے مرض میں مبتلا ہوکر مرنے لگے تو ”تائی ہینگ“ میں بسنے والے لوگوں کی پوری طرح سے بس ہوگئی۔تب گاؤں کے سب لوگ مل کر آبادی سے بہت دور ایک غار میں برسہا برس سے تنہا رہنے والے بزرگ کی خدمت میں حاضرہوئے اور اُن سے گاؤں کومسائل و مصائب سے نکالنے کا درست راستہ معلوم کرنا چاہا تو بزرگ نے انھیں مشورہ دیا کہ”گاؤ ں کے سب لوگ تین دن اور تین راتوں تک ڈریگن کے ساتھ رقص کر کے اپنے گاؤں کی پھوٹی قسمت سنوار سکتے ہیں مگر خیال رہے کہ ڈریگن کے ساتھ صرف رقص کرنا ہے اور دورانِ رقص ڈریگن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی سخت ممانعت ہوگی“۔

گاؤں کے لوگوں نے بزرگ کی تجویز کے مطابق ہمالیہ پہاڑ کی چوٹی پر رہنے والے دیو ہیکل ڈریگن کو دعوتِ رقص دے ڈالی، جسے ڈریگن نے بھی بخوشی قبول کرلیا۔یوں گاؤں کے لوگ تین دن اور تین راتوں تک اِس ڈریگن کے ساتھ ناچتے رہے، جس کے بعد ان کی قسمت بدل گئی۔ یعنی طاعون کا زور بھی ٹوٹ گیا، طوفان سے ہونے والی تباہی کا بھی ازالہ ہو گیا اور پھر کبھی گاؤں پر کسی اژدھا نے حملہ بھی نہیں کیا۔ تب سے ”ڈریگن رقص“ چین میں ہر برس ایک تہوار کے طور پر منایا جاتاہے۔کہا جاتاہے کہ چینی ڈریگن کو رقص کی دعوت کوئی بھی دے سکتا ہے لیکن رقص کے دوران چینی ڈریگن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا سخت ممنوع ہے۔ بھارتی ہاتھی نے لداخ کی وادی میں جب چینی ڈریگن کے ساتھ رقص کرنا شروع کیا تو وہ برسوں پرانی احتیاطی تدبیر کو یکسر فراموش کربیٹھا اور اپنے اتحادی یعنی امریکی ہاتھی کے کہے میں آکر چینی ڈریگن سے چھیڑ چھاڑ کی غلطی کر بیٹھا۔ جس پر چینی ڈریگن کو سخت غصہ آگیا ہے اور اَب وادی لداخ میں بھارتی ہاتھی مکمل طور پر چینی ڈریگن کے رحم و کرم پر آیا ہواہے۔



چینی ڈریگن کو رام کرنے کے لیئے بھارتی ہاتھی اپنی دانست میں تین روزتک روسی ریچھ کی منت سماجت بھی کرآیا ہے لیکن افسوس! وہاں سے بھی اُسے کوئی خاطر خواہ یقین دہانی حاصل نہ ہوسکی۔ بھارت کے وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت فتح کی 75 ویں برسی کی یاد میں روس میں ہونے والی ایک عظیم فوجی پریڈ میں بھی شرکت کے”سفارتی بہانہ“کی آڑ میں روس کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ مختلف ملاقاتوں میں دست بدست درخواست بلکہ منت سماجت تک کی کہ روس کسی طرح بھی،چین کو قائل کرے کہ چینی افواج وادی لداخ میں بھارتی افواج پر سے دباؤ کم کردے لیکن ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ روسی عہدیداروں نے بھارتی وزیردفاع راج ناتھ کی درخواست کو بالکل بھی درخو اعتنا نہیں سمجھا اور روس نے بھارتی وزیر دفاع پر اچھی طرح سے واضح کردیا ہے کہ وہ لداخ میں ایل اے سی پر چین کے ساتھ جاری کشیدگی کے معاملے پر چین کو کسی بھی قسم کا سفارتی مشورہ دینے کی خواہش نہیں رکھتا جبکہ رو س کے اعلیٰ عہدیداروں نے ڈھکے چھپے لفظوں میں بھارت کو چین کے ساتھ اپنے سرحدی تنازعات کو امریکی آشیر باد سے مزید بڑھانے پر اپنے سخت ترین تحفظات کا اظہار بھی کردیاہے۔

نیز روس نے کووڈ 19 کی وبا کا بہانہ بنا کر بھارت کو اسلحہ اور دیگر دفاعی ساز و سامان فوری طور پربھارتی افواج کے حوالے کرنے سے بھی صاف صاف انکار کر دیا ہے۔خاص طور پر ایس۔400 دفاعی نظا م کی فراہمی کی تاریخ کو آگے بڑھانے کی روسی ضد بھارت کے لیئے سخت تشویش و پریشانی کا باعث ہے۔ کیونکہ ایس۔400 دفاعی نظام کے لیئے بھارت روس کو مکمل مالی ادائیگی بھی کرچکا ہے لیکن اِس کے باوجود دفاعی نظام فراہم کرنے میں روس کی جانب سے روا رکھی جانے والی غیر ضروری لیت و لعل اور تاخیری حربوں سے بھارت روس کے متعلق اپنے پرانے دوستانہ تعلقات پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔روس کے بدلتے ہوئے تیور کو دیکھتے ہوئے بھارت کے کچھ دفاعی تجزیہ کار تو یہ تک کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ روس بھارت کو ایس۔400 دفاعی نظام اُس وقت نہیں دے گا جب تک کہ وہ بھارتی سرکار سے یہ گارنٹی نہیں حاصل کرلیتا کہ یہ دفاعی نظام چین کے خلاف جنگ میں کسی بھی صورت استعمال نہیں ہوگا۔اس کے علاوہ بھارت میں کچھ حلقوں کی یہ بھی رائے ہے کہ بھارت کو یہ دفاعی نظام روس سے خریدنا ہی نہیں چاہئے کیونکہ اِس دفاعی نظام میں چینی ساختہ آلات نصب کیئے گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے چین اِس دفاعی نظام کو بھارت کے خلاف دورانِ جنگ جاسوسی کے لیئے بھی استعمال کرسکتاہے۔

ماضی میں ضرور روس بھارت کا ایک زبردست دفاعی اتحادی رہا ہے لیکن گزشتہ چند برسوں میں جس تیزرفتاری کے ساتھ بھارت امریکہ کے قریب سے قریب تر ہوا ہے۔بھارت کی اِس”سفارتی حرکت“نے روس کی نظروں میں بھارت کو انتہا درجے کا”مشکو ک دوست“ بنادیا ہے۔ روس سمجھتا ہے کہ خطے میں امریکہ کی بالادستی قائم کرنے کے لیئے جو منافقانہ کھیل بھارت، اپنے پڑوسی ممالک چین اور پاکستان کے خلاف کھیلنا چاہ رہا ہے۔ اِس مذموم کھیل کے براہ راست نتائج بعد ازاں روس کو ہی بھگتنے ہوں گے۔ دوسری جانب امریکہ کے خلاف عالمی بالادستی حاصل کرنے کی جدو جہد میں روس اور چین میں مکمل طور پر ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور یہ دونوں ممالک اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ امریکہ بھارت کو چین اور روس کے خلاف استعمال کررہاہے۔ لہٰذا خطے میں امریکی پیش قدمی کو روکنے کے لیئے انتہائی ضروری ہے کہ امریکہ کے اتحادیوں کو مشکل سے مشکل حالات سے دوچار کیا جائے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جیسے ہی چین نے وادی لداخ میں بھارتی افواج کی شہ رگ پر اپنا پاؤں رکھا ویسے ہی روس نے بھی دفاعی سازو سامان بھارت کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ اِس وقت بھارتی وزیراعظم نریندر مودی گلوان کی وادی میں چینی فوج کے ہاتھوں بھارتی فوجیوں کی بننے والی درگت پر سخت عوامی دباؤ میں ہیں اور روز بہ روز بڑھتا ہوا یہ عوامی دباؤ تقاضا کرتا ہے کہ گلوان میں محدود پیمانے پر ہی سہی بہرحال چینی افواج کے خلاف عسکری کارروائی ضرورکی جائے۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ چین کے خلاف ہلکا پھلکا محاذ جنگ کھولنے کے لیئے بھی بھارتی افواج کو حفظ ماتقدم کے طور پر ایس۔400 دفاعی نظام لازمی درکار ہوگا،اس کے بغیر چین کے خلاف عسکری کارروائی کرنے سے پہلے بھارت کی جنونی قیادت کو ہزار بار سوچ و بچار کرناہوگی۔

ذہن نشین رہے کہ وادی لداخ میں چینی افواج کی پیش قدمی کی حالیہ کارروائی محض ایک ٹریلر ہے،پوری فلم کا ریلیز ہوناابھی باقی ہے اور قرائن یہ بتارہے ہیں چینی افواج وادی لداخ میں بھارت کے زیر تسلط سرحدی علاقے میں مزید پیش قدمی کرنے کا سنجیدہ ارادہ رکھتی ہیں۔ جس کے بارے میں کچھ اندازے اور خفیہ اطلاعات صرف بھارت ہی نہیں بلکہ امریکہ اور اس کے دیگر اتحادیوں کے پاس بھی تواتر کے ساتھ پہنچ رہی ہیں۔ ویسے تو چینی قیادت 2040 سے پہلے کسی بھی ملک کے خلاف جنگ نہیں چھیڑنا چاہتی تھی۔ لیکن امریکہ اور اس اتحادیوں کی جانب سے ہر محاذ پر چین کے ہونے والے گھیراؤ نے بالآخر چین کو مقررہ وقت سے پہلے ہی جنگی محاذ کھولنے پر مجبور کردیا ہے۔ اہم با ت یہ ہے کہ چین یہ لڑائی اپنی سرحدوں سے شروع تو کررہاہے مگر آنے والے وقت میں یہ جنگ صرف چین سے ملحقہ سرحدوں تک ہی محدود رہے گی۔اِس متعلق بس اتنا ہی عرض کیا جاسکتاہے کہ چین ہر اُس محاذ پر اپنے دشمنوں کے خلاف صف آراء ہونے کی کوشش کرے گاجہاں بھی اُس کا عسکری اثرو رسوخ پایا جاتاہے۔ اِس لیئے یہ سوچنا کہ امریکہ اور اِس کے اتحادی چین کو اُس کے سرحدی علاقوں میں ہی اُلجھانے میں کامیاب ہوجائیں گے، ایک بہت بڑی خام خیالی اور خوش فہمی ہوگی۔ ہمارا اندازہ تو یہ ہے کہ چین صرف بھارت کو ہی اُس کے ملک کے اندر گھس کے مارنے کی پالیسی پر عمل پیرا نہیں ہے بلکہ چین امریکہ کو بھی امریکہ میں ہی گھس کر شکست سے دوچار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چین نے اس سمت اپنی عملی کوششوں کا آغاز بھی کردیا ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ چند ہفتوں سے امریکہ میں رونما ہونے والے پرتشدد واقعات اور شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا میں موجود 40 ہزار امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے کے دھمکی آمیز بیانات سے اگر کوئی چین کے عزائم کے بارے میں سمجھنا چاہے تو بہت کچھ باآسانی سمجھ سکتاہے۔

یاد رہے کہ فقط چینی ڈریگن اور روسی ریچھ ہی بھارتی ہاتھی پرنظریں جمائے ہوئے نہیں ہیں بلکہ کہیں دورافتادہ کسی بلند و بالا پہاڑ کی چٹان پر موجود ایک پاکستانی شاہین بھی تاک میں بیٹھا ہے کہ کب اُسے سنہری موقع ملتاہے اور وہ بھارتی ہاتھی کے ساتھ اپنا برسوں پرانا حساب بے باک کرتاہے۔بھارتی قیادت اور بھارتی افواج خوب اچھی طرح سے جانتی ہے کہ چین اور روس تو پھر بھی ایک حد تک ہی بھارت کو سبق سکھانا چاہے گے لیکن پاکستان جو بھارت کا روایتی حریف بھی ہے وہ ہندوستان کے حصہ،بخرے کرنے میں اپنی آخری حد تک ضرور جائے گا۔لہٰذا ایک بات طے ہے کہ جنگ کا آغاز چین کی طرف سے ہو یا بھارت کی طرف سے،بہرحال اِس متوقع جنگ کا اختتام پاکستان کی جانب سے ہی ہوگا۔یعنی اَب سب کو انتظار اُس لمحہ کا ہوگا کہ جب چینی ڈریگن اور بھارتی ہاتھی کے رقص میں کب پاکستانی شاہین شامل ہو تاہے؟۔بس پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 02 جولائی 2020 کے شمارہ  میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال

اپنا تبصرہ بھیجیں