China In Red Mode

چین کے بدلتے ہوئے سُرخ ،سُرخ تیور

چین کا پرچم سُرخ رنگ کا ہے،جس پر بائیں کونے میں اُوپری جانب زرد رنگ کے پانچ ستارے بنے ہوئے۔ چین کے پرچم میں سُرخ رنگ خونی انقلاب کی علامت ہے،جبکہ پرچم پر موجود پانچ ستارے چینی معاشرہ میں پائے جانے والے مختلف عوامی طبقات کی نمائندگی کرتے ہیں۔چین نے یہ پرچم 01 اکتوبر 1949 کو بطور اپنی قومی پہچان کے اختیار کیاتھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ چین نے اپنے پرچم سے عیاں ہونے والے انقلابی و خونی مزاج کے یکسر برعکس ہمیشہ ہی سے دنیا بھر میں اپنا تاثر ایک اُمن پسند،صلح جواور تنازعات سے کوسوں دُور رہنے والی معصوم قوم کا قائم کرنے کی کوشش کی۔ گزشتہ چاردہائیوں سے جب دنیا بھر کے اکثر قابل ذکر ممالک پراکسی وار، سفارتی سازش اور جاسوسی کے ذریعے ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے میں مصروف عمل تھے۔وہیں فقط چین ہی ایک ایسا ملک تھا جس نے اقوام عالم میں سیاسی و سماجی رُسوخ حاصل کرنے کے لیئے دیگر ممالک کی طرح مذموم ہتھکنڈے استعمال کرنے کے بجائے تجارت اور صرف تجارت بڑھانے کا بالکل جداگانہ راستہ اختیار کیا۔ عالمی تنازعات سے دُور رہنے کی پالیسی نے چین کے بارے میں اکثر اقوام کو یہ رائے قائم پر مجبور کردیا کہ ”چین تو کسی بھی ملک کے ساتھ عسکری محاذ پر اُلجھنے کی نہ تو کوئی خواہش رکھتا ہے اور نہ ہی صلاحیت،بلکہ وہ صرف عالمی تجارت کی بنیاد پر ہی سپرپاور بننے کا خواب دیکھ رہاہے“۔اِس فکری مغالطہ نے بے شمار ممالک کو چین کے داخلی و سرحدی معاملات میں جارحانہ مداخلت کرنے پر اُکسایا اور کئی ممالک نے تو چین کی پراسرار خاموشی سے شہہ پاکر کھلے،دبے لفظوں میں چین کو تجارتی و سفارتی میدان میں شکست فاش دینے کی دھمکیاں بھی دینا شروع کردیں۔

قبل اس کے کہ یہ گیڈر بھبھکیاں،چین کے خلاف کسی بھی قسم کی عملی کارروائیوں میں بدل جاتیں کہ اچانک ہی چین نے اپنا برسوں پرانا مزاج بدلنا شروع کردیا اور انقلاب کا سُرخ رنگ جو کل تک صرف چین کے پرچم پر ہی نظر آتا تھا،آج کل اُسی انقلاب کی خون آشام سُرخی چینی قیادت کی آنکھوں میں بھی صاف صاف دکھائی دینے لگی ہے۔چینی قیادت کے نئے اور جارحانہ تیور عالمی منظر نامے کا جو متوقع مستقبل دکھارہے ہیں، اُس کے وسوسے اور اوہام چین کے حریفوں کی نیندیں مکمل طور پر اُچاٹ کرچکے ہیں۔چینی رہنماؤں کی گفتگو جو کبھی شیریں قوام کا مرقع ہوا کرتی تھی،آج کل اُس میں میں طنز کی کاٹ اور تلخ نوائی کے اظہار کرنے والے جملے در آئے ہیں۔گزشتہ دنوں ایک چینی رہنما سے سوال کیا گیا کہ چین کی سب سے بڑی موبائل فون کمپنی ہواوے اور امریکہ کی سب سے بڑی کمپنی ایپل کا معاملہ کیا ہے؟“۔ تو اِس سوال کے جواب میں چینی رہنما انتہائی معصومیت سے گویا ہوئے کہ ”اپیل کسی بھی صورت ہواوے کا مقابلہ ہی نہیں کرسکتی کیونکہ ہواوے کا تو شناختی نشان ہی ایک ایسا سیب ہے،جس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے ہیں،اَب آپ خود ہی اندازہ لگالیں کہ ہووائے مستقبل میں اپیل کے ساتھ کیا کچھ کرنے والا ہے“۔یعنی طنز و ترشی میں ڈوبے ہوئے جملہ کا مفہوم سادہ لفظوں میں ہم یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ آج سے 33 برس قبل ہی ہواوے کمپنی کے قیام کا بنیادی مقصد ہی چین کے نزدیک امریکہ کی سب سے بڑی موبائل کمپنی ایپل کے شناختی نشان سیب کی قاش قاش بکھیرنا تھا اور ہواوے یہ کام انتہائی خاموشی کے ساتھ کم و بیش مکمل ہی کرچکی ہے۔ خاص طور پر 5 جی کے استعمال نے تو اپیل فون کمپنی کے مستقبل میں قائم رہنے پر ہی سنجیدہ قسم کے سوالات اُٹھادیئے ہیں۔

چینی پرچم پردکھائی دینے والے سُرخ رنگ کی انقلابی و جارحانہ سُرخی چینی قیادت کی آنکھوں اور لہجے میں ہی نہیں اُترچکی ہے بلکہ چین کے عملی اقدمات میں بھی انقلاب ِ چین کا خونی رنگ صاف چھلکتا ہوا نظر آرہاہے۔ جس کی گہری شدت اور حدت کو اگر صحیح معنوں میں محسوس کرنا ہے تو ذرا ایک نظر چین اور بھارت کے سرحدی علاقہ لداخ پر ڈال لیجئے۔ جہاں چینی افواج کے جذبوں میں موجود انقلابی سُرخی کی تاب نہ لاتے ہوئے ہزاروں بھارتی فوجی اپنے مورچے چھوڑ کر کم و بیش 60 میل تک اُلٹے قدموں پیچھے ہٹ کر محفوظ بنکروں میں دُبک کر آبیٹھے ہیں۔یعنی چین بھارت میں 60 میل تک اندر گھس آیا ہے اور بھارتی افواج بینر اُٹھائے چینی افواج سے اپیلیں کر رہی ہے کہ ”آپ ہمارے علاقہ میں بہت دُور تک آچکے ہیں،اگر یہاں سے واپس چلیں جائیں تو آپ کی بہت بہت مہربانی ہوگی“۔اَب بھلا بے وقوف بھارتی سورماؤں کو کون سمجھائے کہ اگر چینی افواج نے واپس ہی جانا ہوتا تو وہ یہاں تک آنے کی زحمت ہی کیوں کرتے۔ اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ چین بھارت کے جس علاقہ کو اپنے قبضہ میں لے چکا ہے،اَب وہ وہاں ایسی عظیم الشان عسکری تعمیرات کررہا ہے،جنہیں تسخیر کرنا بھارت کی 45 لاکھ افواج کے لیئے ہمالیہ کی چوٹی سَر کرنے سے بھی زیادہ مشکل ہوگا۔یہ وہ بدیہی حقیقت ہے جو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہم سے بھی زیادہ بہتر جانتے ہیں۔لہٰذا انہوں نے اور اُن کے سپہ سالاروں نے چین کی اِس جارحانہ حرکت کو تقدیر کا لکھا مان کر صبر کا کڑوا گھونٹ بھر لیاہے۔

واقفانِ حال تو یہ بھی بتاتے ہیں کہ گزشتہ دو،چار ہفتوں سے امریکہ میں بپا ہونے والے شورش زدہ حالات کی بھیانک تصویر میں بھی چین کے پرچم میں موجود سُرخ رنگ سے ہی رنگ آمیزی کی جارہی ہے۔کیونکہ چین ماضی قریب میں ہانگ کانگ میں روا رکھے جانے والے امریکی کے اسپانسر شدہ فسادات کا حساب کتاب بھی مع سُود فوری طور پر بے باک کرنا چاہتاہے اور ساتھ ہی اپنے اِس نئے وغیر متوقع جارحانہ طرزِ عمل سے امریکہ کو یہ بھی باور کروانا چاہتاہے کہ ہانگ کانگ میں امریکی مداخلت سے جتنی تکلیف چین میں محسوس کی جائے گی،اُس سے کئی گنا زیادہ تکلیف دہ حالات کا سامنا جوابی طور پر امریکہ کو اپنے ملک میں بھی کرنا پڑے گا۔علاوہ ازیں امریکی حلقوں میں بھی یہ تجزیے پیش کیئے جارہے ہیں امریکہ کے داخلی معاملات میں چین کا اثرو رسوخ خطرناک حد بڑھتا جارہاہے اور آنے والے امریکی انتخابات کو چین کے اثرات سے بچانا امریکی اسٹیبلیشمنٹ کے لیئے کم و بیش ناممکن ہوگیاہے۔ اِس لیئے بعض تجزیہ کار امریکی انتخابات کو چین کی مداخلت سے بچانے کے لیئے انہیں اُس وقت تک ملتوی کرنے کے مشورہ بھی دے رہے ہیں جب تک کہ امریکہ داخلی طور پر انارکی خطرناک صورت حا ل سے مکمل طورپر باہر نہیں نکل آتا۔قصہ مختصر یہ ہے کہ چین کے پرچم میں موجود سُرخ رنگ آہستہ آہستہ ساری دنیا کے اُفق پر پھیلتا جارہاہے۔

حوالہ: یہ مضمون سب سے پہلے ہفت روزہ ندائے ملت لاہور میں 18 جون 2020 کے شمارہ میں شائع ہوا۔

راؤ محمد شاہد اقبال
Latest posts by راؤ محمد شاہد اقبال (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں